Monthly Archives: February 2014

ایک اور اوّل

1,953 بار دیکھا گیا

حال ہی میں متحدہ عرب امارات میں 2013ء کے دوران ہونے والے ٹریفک حادثات کے اعداد و شمار شائع ہوئے ہیں ۔ اس سال بھی اُنہی 5 ممالک کے باشندے سب سے زیادہ حادثات کا باعث بنے جو سال 2012ء میں حادثات کا سبب بنے تھے

سال 2013ء میں کُل 1567 حادثات ہوئے جن میں سے 1128 کا سبب انہی 5 ممالک کے باشندے بنے

کُل 160 اموات ہوئیں جن میں سے 101 اموات کے ذمہ دار انہی 5 ممالک کے باشندے ہیں

کُل 2344 لوگ زخمی ہوئے جن میں 1702 لوگوں کے زخمی ہونے کے ذمہ دار انہی 5 ممالک کے باشندے ہیں

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستانی ۔ ۔ ۔ ۔ بھارتی ۔ ۔ ۔ اماراتی (مقامی) ۔ ۔ ۔ ۔ بنگلادیشی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مصری

حادثات ۔ ۔ 373 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 314 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 298 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 78 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 65

اموات ۔ ۔ ۔ 33 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 28 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 30 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 5 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 5

زخمی ۔ ۔ ۔ 577 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 432 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 467 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 111 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 115

آئین اور ہم

1,695 بار دیکھا گیا

آئینِ تمام قوانین کا منبع ہے لیکن میرے ہموطنوں کی بھاری اکثریت آئین کا مطالعہ کرنے کو غیرضروری سمجھتی ہے البتہ آئے دن شور و غوغا ہوتا ہے کہ پاکستان کو سیکولر ریاست ہونا چاہیئے ۔ مطالبہ کرنے والے ایک لمحہ کیلئے بھی نہیں سوچتے کہ اُن کا مطالبہ آئین کی خلاف ورزی ہے
اس کے برعکس کچھ کہتے ہیں کہ پاکستان کا آئین غیر اسلامی ہے
یہ احوال ہے پڑھے لکھے لوگوں کا ۔ جو سکول ہی نہیں گیا اُس سے کیا شکوہ

آئینِ پاکستان میں کچھ ایسی شقات ہیں جو شاید کسی اور مُلک کے آئین میں نہیں ۔ اس میں دین اسلام کے متعلق کیا کہا گیا ہے جاننا ہر پاکستانی پر فرض ہے ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ عوام بہتری کی کوشش نہیں کرتے اور اپنا کام صرف مطالبہ کرنا سمجھ رکھا ہے حالانکہ جب تک عوام بہتری کی کوشش نہیں کریں گے تب تک کچھ بہتر نہیں ہو گا بلکہ مزید ابتر ہوتا جائے گا
تمہید آئین

وفاقی شرعی عدالت کا دائرہءِ اختیار

شرعی  عدالت 1

شرعی عدالت 2

شرعی عدالت 3

Preamble

Whereas sovereignty over the entire Universe belongs to Almighty Allah alone, and the authority to be exercised by the people of Pakistan within the limits prescribed by Him is a sacred trust;
And whereas it is the will of the people of Pakistan to establish an order :-

Wherein the State shall exercise its powers and authority through the chosen representatives of the people;

Wherein the principles of democracy, freedom, equality, tolerance and social justice, as enunciated by Islam, shall be fully observed;

Wherein the Muslims shall be enabled to order their lives in the individual and collective spheres in accordance with the teachings and requirements of Islam as set out in the Holy Quran and Sunnah;
Wherein adequate provision shall be made for the minorities freely to profess and practise their religions and develop their cultures;

Wherein the territories now included in or in accession with Pakistan and such other territories as may hereafter be included in or accede to Pakistan shall form a Federation wherein the units will be autonomous with such boundaries and limitations on their powers and authority as may be prescribed;
Therein shall be guaranteed fundamental rights, including equality of status, of opportunity and before law, social, economic and political justice, and freedom of thought, expression, belief, faith, worship and association, subject to law and public morality;

Wherein adequate provision shall be made to safeguard the legitimate interests of minorities and backward and depressed classes;

Wherein the independence of the judiciary shall be fully secured;

Wherein the integrity of the territories of the Federation, its independence and all its rights, including its sovereign rights on land, sea and air, shall be safeguarded;

So that the people of Pakistan may prosper and attain their rightful and honoured place amongst the nations of the World and make their full contribution towards international peace and progress and happiness of humanity :

Now, therefore, we, the people of Pakistan,
Cognisant of our responsibility before Almighty Allah and men;
Cognisant of the sacrifices made by the people in the cause of Pakistan;
Faithful to the declaration made by the Founder of Pakistan, Quaid-i-Azam Mohammad Ali Jinnah, that Pakistan would be a democratic State based on Islamic principles of social justice;
Dedicated to the preservation of democracy achieved by the unremitting struggle of the people against oppression and tyranny;
Inspired by the resolve to protect our national and political unity and solidarity by creating an egalitarian society through a new order;
Do hereby, through our representatives in the National Assembly, adopt, enact and give to ourselves, this Constitution.

203D Powers, Jurisdiction and Functions of the Court.

(1) The Court may, 501[either of its own motion or] 501 on the petition of a citizen of Pakistan or the Federal Government or a Provincial Government, examine and decide the question whether or not any law or provision of law is repugnant to the injunctions of Islam, as laid down in the Holy Quran and Sunnah of the Holy Prophet, hereinafter referred to as the Injunctions of Islam.

502[
(1A) Where the Court takes up the examination of any law or provision of law under clause (1) and such law or provision of law appears to it to be repugnant to the Injunctions of Islam, the Court shall cause to be given to the Federal Government in the case of a law with respect to a matter in the Federal Legislative List 503[] 503, or to the Provincial Government in the case of a law with respect to a matter not enumerated 504[in the Federal Legislative List] 504, a notice specifying the particular provisions that appear to it to be so repugnant, and afford to such Government adequate opportunity to have its point of view placed before the Court.

] 502
(2) If the Court decides that any law or provision of law is repugnant to the Injunctions of Islam, it shall set out in its decision:
(a) the reasons for its holding that opinion; and
(b) the extent to which such law or provision is so repugnant; and specify the day on which the decision shall take effect 505[:] 505

506[Provided that no such decision shall be deemed to take effect before the expiration of the period within which an appeal therefrom may be preferred to the Supreme Court or, where an appeal has been so preferred, before the disposal of such appeal.] 506

(3) If any law or provision of law is held by the Court to be repugnant to the Injunctions of Islam,
(a) the President in the case of a law with respect to a matter in the Federal Legislative List or the Concurrent Legislative List, or the Governor in the case of a law with respect to a matter not enumerated in either of those Lists, shall take steps to amend the law so as to bring such law or provision into conformity with the Injunctions of Islam; and
(b) such law or provision shall, to the extent to which it is held to be so repugnant, cease to have effect on the day on which the decision of the Court takes effect.

میری کہانی 5 ۔ کرے کوئی بھرے کوئی

1,679 بار دیکھا گیا

یہ خبر تو زبان زدِ عام ہے کہ وطنِ عزیز میں اقرباء پروری زیادہ ہو گئی ہے ۔ اقرباء پروری کے کچھ عام سے طریقے بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ مشتہر ہوتے رہتے ہیں ۔ آج میں اپنے ساتھ بیتے ایک ایسے طریقہءِ کار کا خاکہ پیش کرنے جا رہا ہوں جو شاید قارئین کے علم میں نہ ہو ۔ لیکن پہلے پرٹ اور سی پی ایم کی مختصر تعریف

PERT is Program Evaluation Review Technique۔

CPM is Critical Path Method for network analysis of flow models of a set of operations consisting of definite start and end nodes and fixed activities in between.

1986ء میں وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان آرڈننس فیکٹریز بورڈ (پی او ایف بورڈ) کو ایک خط موصول ہوا کہ ایک سِنیئر افسر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والے آپریشنز ریسرچ اینڈ کوانٹِیٹیٹِو ٹیکنیکس (Operations Research and Quantitative Techniques) کورس پر بھیجا جائے ۔ میں اُن دنوں جنرل منیجر ایم آئی ایس تھا ۔ مجھے پوچھا گیا ۔ میں ٹھہرا عِلم کا بھوکا ۔ بلاتوقف ہاں کہہ دیا ۔ 3 ماہ بعد کورس مکمل کر کے واپس لوٹا تو اُس وقت کے ممبر پی او ایف بورڈ برائے پیداوار (”جرمن زبان کا سرٹیفیکیٹ اورمکاری“ والے باس) نے کہا کہ فلاں فیکٹری کا مطالعہ کر کے سفارشات دو کہ اس فیکٹری کی پیداوار کیسے بڑھائی جائے ؟ میں نے اپنے دفتر کے کام کو جاری رکھتے ہوئے اوقاتِ کار کے بعد رات گئے تک کام کر کے ایک ماہ کے عرصہ میں اس فیکٹری میں ہونے والے کام اور تمام مشینوں کا مطالعہ کیا ۔ پَرٹ اور سی پی ایم کے استعمال سے چارٹ بنایا اور سفارشات تیار کر کے موصوف ممبر بورڈ کو پیش کر دیا ۔ یہ سب کچھ نہ تو مجھے واپس ملا اور نہ اس کے متعلق کسی نے مجھ سے بات کی

کچھ ماہ بعد معلوم ہوا کہ موصوف ممبر پی او ایف بورڈ نے اپنے ایک منظورِ نظر افسر کو وہ سب کچھ دے کر متعلقہ فیکٹری میں عارضی طور پر تعینات کر دیا ۔ اُس شخص نے میرے بنائے ہوئے چارٹ اور سفارشات کے مطابق عمل کیا تو اُس فیکٹری کی پیداوار میں 15 فیصد اضافہ ہو گیا ۔ اس کے بعد موصوف ممبر بورڈ نے چیرمین پی او ایف بورڈ کو اُس فیکٹری میں لیجا کر دکھایا کہ اُس شخص نے محنت کر کے قلیل وقت میں اتنی زیادہ پیداوار بڑھا دی ہے اور خرچہ بھی نہیں بڑھا ۔ چنانچہ اُس شخص کو اُس فیکٹری کا ایم ڈی لگا دیا گیا

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ پریشانی

1,644 بار دیکھا گیا

پریشانی وقت کا ضیاع ہے
پریشان ہونے سے کوئی چیز تبدیل نہیں ہوتی

البتہ پریشانی خوشیاں چھین لیتی ہے
اور آدمی کو بے فائدہ مصروف رکھتی ہے

یہاں کلک کر کے پڑھیئے ” A Shambles

پہلی ملاقات

2,044 بار دیکھا گیا

پہلی ملاقات ایک اچھوتا تجربہ ہوتی ہے ۔ کبھی باتیں کر کے بھی کچھ پتہ نہیں چلتا اور کبھی بِن بات کئے بہت کچھ حاصل ہو جاتا ہے ۔ میں ڈراموں یا فلموں کی بات نہیں کر رہا جنہوں نے پہلی ملاقات کا تصور ہی گہنا دیا ہے ۔ میرے مدِ نظر اصلی ملاقات ہے جو دبئی میں کاشف صاحب سے ہوئی ۔ نہیں نہیں کاشف نصیر صاحب نہیں اور نہ ہی محمد کاشف صاحب قرآن مع تفسیر کا آسان مگر اعلٰی سافٹ ویئر بنا کر فی سبیل اللہ بانٹنے والے ۔ یہ صاحب ہیں جوانی پِٹّے کا بلاگ والے

میرے دبئی آنے کا اعلان 22 جنوری کو شائع ہوا تھا لیکن اپنا کمپیوٹر میں 21 جنوری کی شام کو بند کر چکا تھا ۔ کاشف صاحب نے تبصرہ میں دبئی ایئر پورٹ پر ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا ۔ میں نے دبئی پہنچنے کے اگلے دن بعد دوپہر لیپ ٹاپ کھولا تو پڑھ کر افسوس ہوا ۔ لیکن کاشف صاحب دھُن کے پکے نکلے پہلے بلاگ پر تبصرے کی جگہ مکالمے ہوتے رہے ۔ پھر ای میلز کا تبادلہ ہوا ۔ میں نے بتایا کہ میں مرسی دبئی (Dubai Marina) میں ہوں اور ایک ہفتہ بعد الروضہ (The Greens) چلا جاؤں گا جہاں ایک ھفتہ قیام کے بعد واپسی ہو گی

بدھ 5 فروری کی صبح ٹیلیفون آیا کہ ”آج ہی مِل سکتا ہوں“۔ میں نے اھلاً و سہلاً مرحبا کہا ۔ بالآخر اُس شام کو کاشف صاحب نے خوشگوار شام بنا دیا ۔ پونے پانچ بجے الروضہ میں ہماری رہائشگاہ کے استقبالیہ پر پہنچ کر اطلاع دی ۔ میں 3 منزلیں اُتر کر اُن کی گاڑی میں بیٹھا اور قریبی سُپر مارکیٹ کے ایک ریستوراں (Restaurant) میں جا بیٹھے ۔ کاشف صاحب آئے تو میرے پاس تھے لیکن میزبان بن کر مجھے چائے پلا دی ۔ کافی پلانا چاہ رہے تھے لیکن سوا تین سال سے اسے میرے لئے ممنوع قرار دیا جا چکا ہے ۔ گپ شپ ہوئی ۔ کاشف صاحب نے اپنا تو کچھ نہ بتایا بس مجھ سے پوچھتے رہے

مغرب کی اذان ہوئی تو ساتھ ہی مسجد تھی وہاں فرض سے فارغ ہوئے اور آئیندہ ملتے رہنے کے وعدہ کے ساتھ مجھے گھر چھوڑ کر چلے گئے ۔ آئیندہ ملاقات اِن شاء اللہ مرسی دبئی میں ہو گی ۔ کاشف صاحب کے بلاگ کے عنوان سے تاءثر اُبھرتا ہے کہ کچھ سڑیل سے ہوں گے لیکن اس عنوان کے برعکس خوش دِل اور پُرعزم محسوس ہوئے