ہم سا ہو تو سامنے آئے

ساری عمر سُنتے آئے تھے
نئیں رِیساں شہر لاہور دِیاں
ایہہ کندھاں کہن پشور دیاں

لیکن پشور (پشاور) نے تو وہ کر دیا ہے جو کیا لاہور کیا کراچی کیا کوئٹہ نہ کر سکا ہے نہ کرنے کا سوچ سکتا ہے ۔ عمران خان صاحب کی تائید کرتے ہوئے وزیرِ اعلٰی خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے ایک خط وزیرِ اعظم کو اور دوسرا وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف کو لکھے ہیں کہ بجلی کی پیداوار ۔ ترسیل اور تقسیم (Generation, Transmission and Distribution) کا مکمل کنٹرول خیبر پختونخوا کی حکومت کے حوالے کیا جائے جس کی (ہماری من پسند) 11 شرائط ہوں گی
ان شرائط کا ترجمہ نیچے لکھ رہا ہوں (مکمل متن یہاں کلک کر کے پڑھا جا سکتا ہے)
خلاصہ یہ ہے کہ پچھلا اور آئیندہ 7 سال تک ہونے والا نقصان اور قرضے وفاقی حکومت ادا کرے ۔ منافع خیبر پختونخوا کی حکومت لے اور جو چاہے سو کرے

1 ۔ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کے ذمہ اس وقت جتنے قرضے و دیگر واجبات ہیں وہ وفاقی حکومت ادا کرے اور اگر ماضی میں کوئی اس کی ترقی میں کوئی کمی رہی ہے تو اسے بھی پورا کرے
2 ۔ خیبر پختونخوا کی حکومت جب تک پیسکو کے موجودہ 56 فیصد نقصانات کو 18 فیصد تک کم نہیں کرتی جس میں کم از کم 5 سال لگیں گے تمام نقصابات وفاقی حکومت برداشت کرے
3 ۔ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں بجلی کی پیداوار کرنے والے تمام پلانٹ فوری طور پر بین الاقوامی معیار کے مطابق بہتر بنائے
4 ۔ اس وقت چلنے والے تمام توسیعی منصوبوں کے موجودہ اور مستقبل کے تمام اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے
5 ۔ سردیوں میں پن بجلی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے کم از کم 7 سال تک دوسرے ذرائع سے بننے والی کم از کم 1000 میگا واٹ بجلی وفاقی حکومت مہیاء کرے
6 ۔ تھرمل ذرائع سے بجلی بنانا شروع کرنے کیلئے وفاقی حکومت فوری طور پر یومیہ 200000000 سٹینڈرڈ مکعب فٹ گیس مہیاء کرے
7 ۔ ماضی میں خیبرپختونخوا میں بجلی کے سیکٹر میں جو مالی کمی رہی اُسے وفاقی حکومت اگلے 5 سال تک پورا کرے
8 ۔ بجلی کے پیداوار ۔ ترسیل اور تقسیم کرنے والے اداروں کو چلانے میں خیبرپختونخوا کی حکومت کو مکمل آزادی ہو ۔ جسے چاہے ملازم رکھے جسے چاہے فارغ کر دے اور جو ملازمین فارغ کئے جائیں اُنہیں وفاقی حکومت متبال نوکریاں خیبرپختونخوا سے باہر مہیاء کرے
9 ۔ بجلی کے سلسلے میں خیبرپختونخوا میں نیپرا کا عمل دخل بالکل ختم کر دیا جائے
10 ۔ خیبرپختونخوا کی حکومت کو بجلی کا مکمل اختیار دینے کیلئے قوانین میں تبدیلیاں کی جائیں
11 ۔ این ایف ۔ سی سی آئی وغیرہ نے جو سفارشات کی ہوں وہ تمام رقوم خیبرپختونخوا کی حکومت کو فوری طور پر ادا کی جائیں

This entry was posted in خبر, سیاست, طور طريقہ, عجوبہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

2 thoughts on “ہم سا ہو تو سامنے آئے

  1. منیر عباسی

    کچھ شرائط تو لگتا ہے “کنٹرول نہ لینے ” کے لئے شامل کی گئی ہیں۔
    نہ نو من تیل ہوگا، نہ رادھا نا چے گی۔

    البتہ یہ بات دل کو لگتی ہے کہ اگر اختیار دینا ہی ہے تو پھر مکمل اختیار دیا جائے۔ بجلی کی پیداوار پر بھی اختیار دیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ پیداوار اور اس سے متعلق تمام فوائد تو وفاقی حکومت لے اور ترسیل سے متعلق تمام گالیاں صوبائی حکومت کو پڑیں۔

    لیکن، یہ سب کچھ کہنے کے باوجود میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ خطوط کا یہ کھیل صرف عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے ہے۔ اور ظآہر ہے ہم میں سے اکثر بے وقوف بننے کے اہل ہیں۔

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    منیر عباسی صاحب
    عمران خان اسمبلی حال میں تو کچھ کہتا نہیں نہ لکھ سوال پوچھتا ہے نہ اس موضوع پر بحث کیلئے تحریک جمع کراتا ہے ۔ باہر مطالبات ہی مطالبات ہوتے ہیں ۔ مطلب صرف ایک ہے سستی شہرت بدیاتی انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کیلئے ۔ اُن سے جن کے متعلق آپ نے درست کہا ہے ۔ بغیر پہلے بات چیت کئے وزیرِ اعلیٰ کا وفاقی حکومت کو لکھنا تو کسی صورت بنتا ہی نہیں ۔ جہاں تک متذکرہ معاملہ ہے ۔ عمران خان نے مطالبہ کیا تھا اور جو مطالبہ کیا تھا اُس کا اسی وقت جواب آ گیا ۔ راہِ فرار اختیار کرنے کیلئے بات بدل دی گئی ۔ کیا خیبر پختونخوا میں بجلی کی چوری پکڑنے کیلئے بجلی کا مکمل کنٹرول ضروری ہے ؟ وہ تو انتظامی معملہ ہے جو ڈی سی او اور پولیس نے وزیرِ اعلٰی کے حکم پر کرنا ہے ۔ خود مانتے ہیں کہ 58 فیصد بجلی چوری ہوتی ہے جبکہ لوگ زیادہ بتاتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)