سیاست ۔ جھوٹ ۔ تبدیلی ؟

صرف وطنِ عزیز ہی میں نہیں ساری دنیا میں سیاستدانوں کی تقاریر اور وعدوں پر نظر ڈالی جائے اکثریت جھوٹ بولتی محسوس ہوتی ہے ۔ الیکشن 2013ء کے سلسلہ میں زیادہ تر سیاسی جماعتیں تبدیلی کی بات کر رہی ہیں ۔ تبدیلی کیسے آئے گی ؟

تبدیلی لانے کا مؤثر طریقہ یہ ہے کہ عوام میں اچھے اور بُرے کا شعور پیدا کیا جائے اور سمجھایا جائے کہ اپنی اور مُلک و قوم کی ترقی کیلئے مَل جُل کر خلوصِ نیت سے محنت کے ساتھ کام کیا جائے ۔ حکمرانی کے ذریعہ تبدیلی لانے کیلئے لازم ہے کہ تبدیلی لانے والی سیاسی جماعتقومی اسمبلی کی کم از کم 172 نشِستیں حاصل کرے ۔ پھر اس کے پاس کم از کم ایک درجن باشعور مخلص اور محنتی وزراء ہوں

تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے فاروق عالم انصاری کی ایک تحریر میں بھی دکھائی دی ہے۔ اقتباس ملاحظہ فرمائیں

گوجرانوالہ ایشیا کا گندہ ترین شہر سہی لیکن تحریک ِ انصاف کی ٹکٹوں کی کہانی میرے شہر کی گندگی سے بھی بڑھ کر ہے۔ دوگنی، چوگنی اور کتنے گنا ہوگی؟ بھئی انت شمار سے باہر ہے۔ ہمارے چیئرمین تحریک ِ انصاف کہہ رہے ہیں کہ ہم سے ٹکٹو ں کے معاملے میں کچھ غلطیاں ضرور ہوئی ہیں۔ یہ بے خبری اور بھولپن کی انتہا ہے کہ اسے ”محض“ سمجھا جائے۔ کیا یہ غلطی ہے؟ خود ہی جواب تلاش کریں۔ میں صرف چند واقعات لکھ کر بری الذمہ ہوتاہوں۔ وما علینا الا البلاغ المبین
(1) گوجرانوالہ میں چیئرمین کے 2مئی کے منسوخ شدہ جلسہ کے لئے ایک امیدوار صوبائی اسمبلی سے چندہ مانگا گیا تو وہ کہنے لگا کہ 42 لاکھ دے کر ٹکٹ لیا ہے اب مجھ سے اور کیا مانگتے ہو ؟
(2) وزیرآباد سے ایک امیدوار صوبائی اسمبلی اسی جلسہ کے لئے چندہ مانگنے پر پھٹ پڑا ”جتنے روپے آپ مانگ رہے ہیں اس کے آگے کئی صفرے لگانے پر وہ رقم بنتی ہے جو دے کر میں نے ٹکٹ خریدا ہے، اب مجھ میں ادائیگی کی اور کوئی سکت نہیں رہی“ یاد رہے کہ اس سے چیئرمین کے جلسہ کے لئے ڈیڑھ لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا
(3) گوجرانوالہ پی ٹی آئی کے سابق ضلعی صدر اظہر چیمہ کو ایک امیدوار نے بتایا کہ اس نے یہ ٹکٹ 50لاکھ روپے میں خریدا ہے۔ اظہر چیمہ بڑے بھولپن سے پوچھ بیٹھا کہ ”آپ تو پی ٹی آئی کے ممبر بھی نہیں تھے“ اس نے جواب دیا ”پی ٹی آئی کی ممبرشپ انتخابی ٹکٹ کے
ساتھ خود بخود ہی مل جاتی ہے۔“ اب یہ خبر جو میں ابھی بتانے والا ہوں پی ٹی آئی پنجاب کے صدر اعجاز چودھری کے لئے بڑی تکلیف دہ ہوگی۔ خبریوں ہے کہ اس موقع پر اظہر چیمہ کف افسوس ملتے ہوئے بولا ”مجھے علم نہیں تھا کہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ فروخت ہو رہے ہیں ورنہ میں اس ٹکٹ کا ایک کروڑ روپے بھی ادا کرنے کو تیار تھا“
(4) میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہو رہا تھا۔ موضع کوہلو والہ تحصیل گوجرانوالہ کے بلال سانسی کو پچاس لاکھ روپے لے کر پہنچنے کاحکم ملا۔ اس نے نوٹوں کی گڈیوں سے تھیلا بھرا اور اسلام آباد کی طرف چل پڑا۔ میریٹ ہوٹل کے قریب پولیس چیک پوسٹ پر سپاہی نے ڈگی کی تلاشی لیتے ہوئے پوچھا ”اس تھیلے میں کیا ہے؟ بلال سانسی نے جواب دیا”کرنسی نوٹ ہیں“ سپاہی بے ساختہ بولا ”اچھا تو آپ بھی میریٹ ہوٹل جارہے ہیں؟ وہاں جوبھی جارہا ہے نوٹوں سے لدا پھندا جارہا ہے نجانے وہاں کیا کاروبار ہو رہاہے؟“ اب بلال سانسی کی بدقسمتی کہ اس کے حلقے کا ٹکٹ اس کے پہنچنے سے پہلے فروخت کیا جاچکا تھا
(5) ایک امیرزادہ بڑا کایاں نکلا اسے رقم کا کوئی مسئلہ نہیں تھا اس نے بیک وقت ملتان کے دونوں سیاسی آڑھتیوں کو رقم کی ادائیگی کردی زیادہ سے زیاد ہ کیا ہوا؟ ٹکٹ تو دوگنی قیمت کا ہو گیا لیکن اس کاملنا تو یقینی ہوگیا
(6) میں پوری ذمہ داری سے لکھ رہا ہوں کہ ٹکٹ کی مد میں ہمارے عزت مآب ضلعی صدر رانا نعیم الرحمن خان صاحب سے بھی ایک معقول رقم بٹوری گئی ہے اس بیچارے کو آخری دم تک خواجہ محمد صالح کے بھوت سے ڈرایا جاتا رہا تھا
(7) گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والا سنٹرل پنجاب پی ٹی آئی کا ایک نوجوان عہدیدار ٹکٹوں کے بیوپار میں مالامال ہوگیا ہے۔ ٹکٹوں کی دلالی کوئلوں کی دلالی نہیں کہ اس میں منہ کالا ہو جائے بڑا صاف ستھرا کام ہے۔ اس نفیس کام میں رنگت کچھ اور نکھر آتی ہے۔ اسے تین ضلعوں کے ٹکٹوں کے سودے کروانے کی سعادت نصیب ہوئی
(8) پی ٹی آئی کاایک امیدوار مجھے یہ کہتے ہوئے بات ختم کرنے کی تلقین کرنے لگا کہ ضلع گوجرانوالہ میں کون ہے جسے تحریک ِ انصاف کا ٹکٹ مفت ہاتھ آیا ہو؟
میں اس بات کاحلف دینے کو تیار ہوں کہ میرے اس کالم میں کوئی ایک بات بھی کسی شخص سے غلط طور پر منسوب نہیں کی گئی۔ میں سوچتا ہوں کہ ایسے امیدوار جو اپنے وافر مال منال کے باعث پی ٹی آئی کے ٹکٹ خریدنے میں کامیاب ہوگئے
ہیں اگر منتخب ہونے میں بھی کامیاب ہوگئے تو بھلا کیا تبدیلی آجائے گی
شب گزرتی دکھائی دیتی ہے
دن نکلتا نظر نہیں آتا

This entry was posted in روز و شب, سیاست, طور طريقہ, منافقت on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

10 thoughts on “سیاست ۔ جھوٹ ۔ تبدیلی ؟

  1. م۔ش۔ا

    میرے مطابق آپ نے جناب عطاالحق قاسمی صاحب کے کالم سے یہ اقتباس نقل کیا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مخصوص میڈیا (الیکٹرونک/پرنٹ) کاکوئی اعتبار نہیں۔ اور اگر کوئی میڈیا کا نمائندہ کھے عام کسی جماعت کی حمایت کر رہا ہو، تو غیر جانبداری کے لیے مخالفین کے متعلق اس کی بات کو تحقیق کے بغیر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے فاروق عالم انصاری کی اصل تحریر کہیں سے میسر ہو سکے تب ہی قابل قبول ہو گی، اس لیے میری محترم بھوپال صاحب سے درخواست ہے،کہ براہ مہربانی اصل تحریر کے متن کا ربط مہیا کریں،نا کہ قاسمی صاحب کے کالم کا۔
    اور اب اگلی بات اس مفروضے پر مبنی ہے کہ یہ تحریر مصنف سے درست طور پر منصوب ہے:۔
    اگر فاروق عالم انصاری کے بیان کردہ حقئق درست ہیں۔ تو اب ان حقائق کی بنا پر یہ توقع رکھنا کہ ملک مٰیں کوئی تبدیلی آ رہی ہے، محض افسوسنا ک ہے۔ یہ باتیں تو ایسے ہی ہیں، جیسے کسی نے پاکستانی سیاست میں بم مار دیا ہو، اور تحریک انصاف کی ساکھ پر ایٹم بم۔ کیا اسقدر گندگی کے بعد بھی تبدیلی آنے کا کوئی امکان ہے۔۔۔؟ جناب افسوس کے ساتھ مجھے کھلے عام لکھنا پڑ رہا ہے کہ ہرگز ہرگز نہیں۔ تحریک انصاف تبدیلی کے لیے قطعی طور پر اپنے مخلص لیڈر (جو بھی ہو محترم عمران خان صاحب کے اخلاص پر کوئی شبہ نہہں) پر انحصار کر رہی ہے۔ اور ان کا اخلاص ہی لوگوں کو اپنی طرف کھینچنے کا موجب ہے۔ اب انہوں نے ٹکٹوں کی تقسیم کے وقت انہوں نے اپنے آپ کو بالکا الگ تھلگ رکھ کر بظآہر بہت اچھی مثال قائم کی ہے۔ لیکن افسوسناک صورتحال ہے۔ کہ
    جن پر تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے۔
    اب مجھے قابل احترام اور غیر جانبدار (یہ میرا اندازہ ہے) لکھاری خالد مسعود خان کی وہ تحریریں یاد آ رہی ہیں۔ جن میں انہوں نے تحریک انصاف ٹکٹ کمیٹی کے دو ملتانی بادشاہوں شاہ محمود قریشی اور جاوید ہاشمی پر بات کرتے ہوئے لکھا، کہ شاہ محمود کا تو نسلی کام ہی منافقت ہے، لیکن جاودید ہاشمی اس کے ساتھ مل کر آج کل جو کر رہا ہے وہ اس کی پچھلی زندگی کی جدوجہد کے بر عکس ہے۔ اور محترم مصنف کا واضح طور پر اشارہ جنوبی پنجاب میں اپنے چہیتوں، دھڑوں اور عزیزوں میں غیر منصفانہ طور پر تحریک انصاف کی ٹکٹوں کی تقسیم پر تھا، اس کےلیے اگر وہ تحریک کے ممبر نہیں بھی تھے، تو بھی عجلت میں انہیں ممبر بنایا گیا، اس کے مقابلے میں پرانے نظریاتی کارکنوں کو کئی جگہوں پر مظبوط امیدواروں کو بھی یکسر نظر انداز کیا گیا۔
    دوسری طرف تحریک انصاف کے سکہ بند لکھاری ہارون الرشید بار بار یہ دھائی دیتے رہے کہ چند ایک سیٹوں پر ایماندار، شفاف اور مضبوط ترین امیدواروں کو چھوڑ کر حیران کن طور پر نوجوانوں کو ٹکٹ دیئے گئے (حالانکہ دانشمندی یہ ہے کہ ایماندار اور شفاف امیدواروں کو قطعاََ نہیں چھوڑا جانا چاہیے، نوجوانوں کے لیے اور حلقے بھی ہیں۔) اس بنا پر ہی عمران خان اپنے قدیم ترین سیاسی دوست یعنی ہارون الرشید سے آج کل شدید ناراض ہے۔ (میرے خیال میں ایک مخلص رہنما کا یہ عمل درست ہے)۔
    میرا تجزیہ یہ ہے کہ اس ساری صورتحال کا فائدہ ان گھاگ سیاسی لوگوں اور تحریک انصاف کے ٹکٹ کے بادشاہوں شاہ محمود قریشی اور جاوید ہاشمی نے اٹھایا۔ خوب لوٹا خوب لوٹا اور کچھ جگہ پر اپنے دھڑے بنا لیے اور کہیں منافقت اور دھوکہ دہی کا ارتکاب کرتے ہوئے مظبوط امیدواروں کو بھی محروم رکھا۔ اور یو ں اپنے سب سے پڑے رہتما کو چکر دینے میں کامیاب رہے۔
    اس بدترین صورتحال کا الیکشن کے بعد عمران خان صاحب کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔ لیکن اگلی صورتحال زیادہ خوفنا ک ہے کہ ان حقائق کا علم ہونے پر سب لٹیرے مل کر محترم عمران خان صاحب کے درپے ہوجائیں گے، اور انہیں نہایت نفاست اور سیاست سے پارٹی سے پالائی پر پڑی مکھی کی طرح دیس نکالا دے دیں گے۔ لیکن اس سے زیادہ خوفناک خدشہ یہ ہے کہ اب وہ جان گئے ہیں کہ کس طرح اس ہڈی کو نگلا جا سکتا ہے۔۔۔۔!

    لکین اگر ہم خلاصہ بیان کریں، کہ پاکستانی عوام کو کیا فائدہ ہوا۔۔۔۔؟ تو جواب ہے قطعی ناں۔ ہاں البتہ لیٹروں میں ایک اور گروہ کا اضافہ ہو گیا۔ تو پھر تبدیلی کے لیے کہاں جائیں،۔۔۔۔؟ تو جواب یہ ہے کہ کیا موجودہ نظام میں حد درجہ کوشش کے بعد تبدیلی لانی جا سکی ہے۔۔۔۔؟؟؟ میرا جواب بالکل واضح ہے کہ بالکل نہیں، لہذا جب تک عوام کے اجتمائی مزاج میں تبدیلی نہ لائی جا سکے گی۔ اور انہیں پاکستان کی اساس سے وابستہ نہیں کر دیا جائے گا، انہیں درست غلط کا نہیں بتایا جائے گا، کہ پاکستان کیوں حاصل کیا گیا، اس کا مقصد کیا ہے، بحثیت پاکستانی ہماری کیا زمہ داری ہے۔ وہ تب تک تبدیلی نہیں پا سکیں گے، اور موجودہ جہالت اور تعلیم کی غیر موجودگی(تعلیم سے “سکول، کالج، یونیورسٹیوں وغیرہ کی اصلی ڈگریاں” مراد نہیں ہیں) میں ہم پاکستان کے بنانے کے مقصد سے قطعی نابلد رہیں گے۔

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محترم م ش ا صاحب
    عطاء الحق قاسمی نے سچ لکھا ہے یا جھوٹ اس کا وہ ذمہ دار ہے ۔ میں نے اُس کا بیان صرف نقل کیا ہے اور ربط دے دیا ۔ اگر اس نے جھوٹ لکھا ہے تو فاروق عالم انصاری اور تحریکِ انصاف کو عطا الحق قاسمی کی پکڑ کرنا چاہیئے ۔
    آپ اس بات سے متفق ہیں یا نہیں کہ اچھی تبدیلی نعروں سے نہیں بلکہ کسی اور طریقہ سے آئے گی جو میری تحریر کا بنیادی مقصد ہے
    اب آتے ہیں عمران کی طرف ۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ دیانتدار آدمی دیانتدار آدمیوں کو دوست رکھتا ہے اور دیانتداروں کو ہی اپنا ساتھی بناتا ہے ۔ عمران خان کے اردگرد جو لوگ ہیں اور جو پارٹی الیکشن میں منتخب ہوئے ہیں اور جنہیں عمران خان نے الیکشن 2013 کے ٹکٹ دیئے ہیں ۔ ان میں سے کتنے دیانتدار ہیں ؟ باقیوں کو میں زیادہ نہیں جانتا لیکن جسے ٹیکسلا واہ چھاؤنی وغیرہ کا ٹکٹ دیا ہے اُسے میں 1970ء سے جانتا ہوں ۔ وہ قبضہ گروپ کا سردار ہے اور اس کے سارے خاندان کی آمدن کا ذریعہ یہی ہے ۔ کمال یہ ہے اُس علاقے میں عمران خان کے شیدائی اس شخص کے ماضی سے اچھی طرح واقف ہیں
    عمران خان نے جو زبان اپنے جلسوں میں اختیار کی کیا وہ کوئی دیانتدار شریف آدمی استعمال کرتا ہے ؟ حد یہاں تک پہچی کہ میرے جیسا عام سا آدمی بھی کانپ گیا (پڑھیئے میری 28 اپریل کی تحریر)۔ لاہور گُلبرگ میں 7 مئی کا جلسہ بغیر حکومت سے اجازت لئے یا مطلع کئے کیا گیا ۔ کیا دیانتدار آدمی غیرقانونی کام کرتے ہیں ؟
    اصل صورتِ حال تو اُس وقت معلوم ہو گی جب عمران خان کے پاس حکومت کی طاقت ہو گی ۔ ماضی میں عمران خان کا طور طریقہ کبھی قابلِ تعریف نہیں رہا

  3. fikrepakistan

    عطا الحق قاسمی صاحب اور عرفان صدیقی صاحب، کی باتوں کو اسلئیے اہمیت نہیں دی جاسکتی کیوں کے یہ دونوں ہی نواز شریف کے پھینکے ہوئے ٹکڑوں پر پلنے والے بکاو مال انسان ہیں۔

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    فکرِ پاکستان صاحب
    میں نے اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی عطا کردہ توفیق سے وسط 1947ء سے آج تک 66 سالوں میں بہت سی مُشکلات اور بڑے بڑے جھوٹوں کا مقابلہ کیا لیکن مجھ میں اتنی ہمت آج تک پیدا نہیں ہو سکی کہ وہ الفاظ استعمال کروں جو آپ نے کئے ہیں ۔ عطا الحق قاسمی نے جو کچھ لکھا ہے اُس کی سچائی کا وہ ذمہ دار ہے ۔ میں نے اس کی تصدیق کی کوشش نہیں کی ۔ ویسے جو زبان عمران خان اپنے جلسوں میں استعمال کرتا رہا ہے وہ سوائے پیپلز پارٹی کے اور کسی نے آج تک استعمال نہیں کی تو کیا سمجھا جائے کہ عمران خان اور پیپلز پارٹی والے سچے ہیں باقی سب بشمول جماعتِ اسلامی جھوٹے ہیں ؟

  5. fikrepakistan

    عمران خان کے اندر ایک لاکھہ برائیاں ہوسکتی ہیں۔ لیکن وہ باقی لوگوں کی طرح کرپٹ انسان نہیں ہے مالی بدعنوان ہرگز نہیں ہے۔ اور اس وقت پاکستان کو ایسے ہی ایماندار انسان کی ضرورت ہے۔ نواز شریف ہو پیپلز پارٹی ہو جماعتِ اسلامی ہو۔ یہ سب متعدد بار اقتدار کے مزے لوٹ چکے ہیں انہیں آزمانہ بے وقوفی ہوگی۔ عمران خان سے مجھے بھی ایک ہزار اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن میں تمام اختلافات کے باواجود کہتا ہوں کے عمران خان بدعنوان نہیں ہے۔ باقی سب کو حق ہے جسے چاہیں ووٹ دیں، آزمائے ہووں کو ایک بار پھر آزمائیں۔ عرفان صدیقی اور عطا الحق قاسمی صاحب کے بارے میں ساری دنیا جانتی ہے کہ یہ دونوں نواز شریف کے پے رول پر ہیں۔ عطا صاحب تو نواز شریف صاحب کی مہربانی سے ناروے کی سفارت کے مزے بھی لوٹ چکے ہیں تو وہ نمک حلالی نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔

  6. افتخار اجمل بھوپال Post author

    فکرِ پاکستان صاحب
    آج آپ سے معلوم ہوا کہ جماعتِ اسلامی بھی اقتدار کے مزے لُوٹ چکی ہے ۔ میرے ناقص عِلم میں اضافہ فرمائیں گے کہ جماعتِ اسلامی کس دور میں اور کہاں اقتدار میں رہی ؟ دیگر میرے علمِ میں تو صرف یہی ہے کہ عمران خان کرکٹ کا کپتان بنا تھا اور پھر اُس نے لوگوں کے چندے اور زکٰوۃ سے ایک ہسپتال بنایا ۔اور جب ڈینگی وائرس پھیلی تو پنجاب حکومت نے عمران سے کہا کہ ویکسین کی قیمت کم کر دیں تو اُس نے انکار کر دیا تھا ۔ عمران خان نے کب کسی عوامی ادارے کی سربراہی کی جو ثابت ہو گیا کہ وہ کرپٹ نہیں ہے ؟ آپ اگر میرے عِلم میں اضافے کیلئے یہ بھی بتا دیں کے تحریکِ انصاف میں کون کونسی فیکلٹی کے ماہرین موجود ہیں کہ جو کرپٹ بھی نہیں اسلئے اُن کی مدد سے نظام کو درست کیا جائے گا؟

  7. عبد اللہ نور

    حضور فکر پاکستان صاحب ۔۔۔۔ آپ نے فرمایا
    “عطا الحق قاسمی صاحب اور عرفان صدیقی صاحب، کی باتوں کو اسلئیے اہمیت نہیں دی جاسکتی کیوں کے یہ دونوں ہی نواز شریف کے پھینکے ہوئے ٹکڑوں پر پلنے والے بکاو مال انسان ہیں۔”
    اب ان اصحاب کے بکے ہونے کے بہتان کا ثبوت تو دینا تو آپ پر واجب ہے۔ عطا الحق قاسمی کو اگر نواز شریف نے کہیں سفیر لگا دیا تو اس سے یہ کیسے ثابت ہو گیا یہ وہ بکا ہوا ہے۔ اس نے تو اور بھی بے شمار لوگوں کو سفیر ، وزیر، مشیر اور نجانے کیا کیا کچھ لگایا تھا۔ اس میں اس کی سابقہ اتحادی، آپ کی محبوب جماعت ایم کیو ایم کے لوگ بھی شامل تھا۔ عطا الحق بعض حوالوں سے بڑا باصلاحیت آدمی ہے۔ اس کی صلاحیتوں کا ثبوت اس کی سربراہی لاہور آرٹس کونسل کی عمدہ کارکردگی بھی ہے۔ اگر یقین نہ آئے تو کراچی سے تعلق رکھنے والے نامور اہل قلم مثلا زاہدہ مرزا حنا، عقیل عباس جعفری اور پروفیسر رئیس فاطمہ کی ان تحریروں سے ہی لگا لیں جو انھوں نے حالیہ لاہور ادبی میلے اور پاک ٹی ہاوئس کی بحالی کے حوالوں سے لکھی ہیں۔ لیکن لگتا ہے بغض معاویہ کی وجہ سے آپ ان قابل قدر لوگوں کی گواہی کو بھی قبول نہ فرمائیں گے۔
    رہے عرفان الحق صدیقی صاحب تو انھوں نے غربت میں آنکھ کھولی، بمشکل تعلیم مکمل کی، ساری زندگی درس و تدریس سے وابستہ رہنے کے بعد صحافت سے تعلق جوڑا۔ اور اپنی سوچ سمجھ کے مطابق جو درست سمجھتے ہیں لکھتے ہیں۔ آج بھی بصد مشکل تعمیر کیے ہوئے دس بارہ مرلے کے ایک سادہ سے گھر میں مقیم ہیں۔ بیٹے کی دوبئی ملازمت اور کالم نگاری و پنشن کی رقم پر گھر چلا رہے ہیں۔۔ اگر وہ نواز شریف کے پھینکے ہوئے ٹکڑوں پر پلنے والے بکاو مال ہوتے تو کم از کم ان کے رہن سہن میں کوئی تو فرق آتا۔ ادھر اور کسی کا کیا ذکر کروں ۔۔ صرف ایک مثال لے لیں۔ ایم کیو ایم کے مایہ ناز غریب طبقے کے وزیر بابر غوری صاحب کے امریکی مہنگی جائیداد کی تفصیلات نیٹ پر دستیاب ہیں جس کی موصوف تردید کر نہیں سکتے کیونکہ امریکی سرکاری ادارے کی ویب سائٹ پرموجود ہے۔ ان کی صاحبزادی کی شاہانہ منگنی کی تفصیلات بھی میڈیا میں چھپ چکی ہیں۔ ارے بھائی کچھ کہنے سے پہلے سوچ تو لیا کرو۔
    اب بات ہو جائے تحریک انصاف کے گوجرانوالہ سے پرجوش بزرگ کارکن فاروق عالم انصاری کی تحریر کی۔ یہ بالکل جینوئن تحریر ہے اور ٹکٹوں کا نیلام گھر یا سونامی کے عنوان سے چھے مئی کے نوائے وقت مں چھپ چکی ہے۔ عطا الحق قاسمی نے وہیں سے اٹھائی ہے۔ لنک حاضر ہے۔ اب کیا فرماتے ہیں حضور تحریک انصاف کے انصاف و دیانت داری کے بارے میں۔ ارے صاحب جو اپنے مخلص ساتھیوں سے انصاف نہ کر پایا وہ پوری قوم کے ساتھ کیا کر پائے گا۔ ابھی تو پارٹی ٹکٹون کی نیلامی ہوئی ہے پھر بچے کھچے قومی خزانے کی لوٹ سیل کا سونامی آئے گا۔
    واللہ اعلم بالصواب
    http://www.nawaiwaqt.com.pk/mazamine/06-May-2013/200343

  8. fikrepakistan

    حضرت صیاءالحق کی مجلس شوریٰ میں جماعتِ اسلامی شامل رہی ہے نیز ایم ایم اے کے ساتھہ مل کر مشرف دور میں پورے صوبہ سرحد پر پانچ سال حکومت کرتی رہی ہے، کونسے دودھہ و شہد کی نہریں بہا دیں انہوں نے وہاں پانچ سال میں؟ الٹا مشرف کو وردی میں دوبارہ منتخب کروا دیا ہر طرح سے مشرف کا ساتھہ دیا۔ رہی عمران خان کی بات تو اسکی ایمانداری ثابت کرنے کے لئیے تو انتا ہی کافی ہے کہ اس نے قوم سے پیسہ لے کر کھایا نہیں بلکے اسپتال بنا کر دکھا دیا۔ جبکہ نواز شریف صاحب نے قرض اتارو ملک سنوارو کے نام پر قوم سے پیسہ لے کر خود کو سنوار لیا ملک گیا بھاڑ میں۔

  9. افتخار اجمل بھوپال Post author

    فکرِ پاکستان صاحب
    آپ سے بحث مُشکل ہے کیونکہ آپ حقائق کی بجائے پی پی پی وغیرہ کے پروپیگنڈہ کی بنیاد پر بات کر رہے ہیں ۔ آپ نے پرویز مشرف کی بات کی ہے ۔ عمران خان کے ساتھیوں میں جہانگیر ترین ۔ خورشید محمود قصوری اور غلام سرور خان سمیت کم از کم 7 پرویز مشرف کے دستِ راست تھے ۔ انہیں عمران خان نے اس الیکشن کے ٹکٹ بھی دیئے ہیں ۔ عمران خان نے راولپنڈی کے شیخ رشید کے ساتھ تعاون کیا ہے ۔ شیخ رشید نے 2002ء کے الیکشن کیلئے یہ کہہ کر ووٹ لئے تھے کہ وہ سیٹ جیت کر نواز شریف کو دے دے گا اور پرویز مشرف کے ساتھ مل گیا تھا اور اُس کا اہم ساتھی رہا ۔ میں ضیاء الحق کا حامی نہیں رہا کیونکہ مجھے کوئی آمر پسند نہیں ۔ وردی میں ہو یا بغیر وردی۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ ضیاء الحق کے دور میں اشیاء خوردنی کی قیمتیں کم ہوئیں اور اُس کے 11 سالہ دور میں 10 فیصد بھی نہ بڑھیں

  10. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبداللہ نور صاحب
    آپ کا تبصرہ نمعلوم کیوں سپیم میں چلا گیا تھا ۔ شاید اسلئے کہ آپ پہلی بار تبصرہ کیا ہے یا بہت عرصہ بعد کیا ہے ۔ آپ نے درست لکھا ہے ۔ میں آپ کا شکر گذار ہوں نے اصل مضمون کا حوالہ لکھ دیا ہے ۔ مجھے مصروفیت کے باعث تلاش کرنے کا وقت نہیں ملا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)