دیر نہ کیجئے

23 مارچ 2013ء کو دوپہر کے 12 بجنے کو تھے کہ میرے موبائل فون کی گھنٹی بجنا شروع ہوئی ۔ اُٹھایا تو آواز آئی ”میں الف نظامی بول رہا ہوں ۔ بلاگ کے حوالے سے آپ سے بات کرنا ہے“۔ میرے کان ہی نہیں رونگھٹے بھی کھڑے ہو گئے کہ شاید میں نے انجانے میں کوئی گستاخی کردی ہے ۔ لیکن اُنہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے بڑی پتے کی بات کہی جو میرے لئے ایک امتحان ہی بن گئی ۔ فرمانے لگے ”درخت انسانی زندگی کیلئے بہت اہمیت رکھتے ہیں مگر ہمارے ہاں لوگ درخت کاٹنے پر تُلے رہتے ہیں ۔ آپ اپنے بلاگ پر شجرکاری کی صلاح دیں“۔

الف نظامی صاحب تحمکانہ فرمائش کر کے چلے گئے اور مجھے یوں محسوس ہونے لگا کہ میرے سامنے ایک اُونچا پہاڑ ہے جسے میں نے اس بڑھاپے میں سر کرنا ہے

میں مضمون کا سِرا تلاش کر رہا تھا تو یاد آیا کہ میں جس سرکاری کوٹھی میں اکتوبر 1984ء سے اگست 1994ء تک رہائش پذیر رہا ۔ اس کے ساتھ 4 کنال کے قریب خالی زمین تھی جس میں کناروں پر باٹل برش کے 2 ۔ سوہانجنا کا ایک اور امرود کے 3 درخت تھے ۔ میں نے ان میں ایک لوکاٹ کا ۔ 2 آلو بخارے کے 3 خوبانی کے درختوں کا اضافہ کیا جو عمدہ قسم کے تھے اور دور دور سے منگوائے تھے ۔ میرے بعد وہاں گریڈ 20 کے جو افسر آئے وہ بھی انجنیئر تھے ۔ میں 1995ء میں کسی کام سے اُن کے ہاں گیا تو میدان صاف تھا ۔ بولے ”بہت گند تھا ۔ میں نے سب درخت کٹوا دیئے ہیں“۔ مجھے یوں لگا کہ کسی نے میرا دل کاٹ دیا ہے ۔ موصوف کو اتنا بھی فہم نہ تھا کہ سُوہانجنا ایک کمیاب درخت ہے اور درجن بھر ایسے امراض کا علاج مہیاء کرتا ہے جو ایلوپیتھتک طریقہ علاج میں موجود نہیں

متذکرہ واقعہ ایک نمونہ ہے میرے ہموطنوں کی عمومی ذہنی حالت کا ۔ جدھر دیکھو درخت کاٹنے پر زور ہے

آج دنیا کی ترقی یافتہ سائنس ماحولیات پر سب سے زیادہ زور دیتی ہے اور ساتھ ہی شجر کاری کو صحتمند ماحول کا لازمی جزو قرار دیا جاتا ہے ۔ دین اسلام کے حوالے سے بات کریں تو سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کا فرمان ہے کہ ”اگر مسلمان ایک درخت لگائے یا فصل بوئے جس میں سے ایک پرندہ یا انسان یا درندہ بھی کھائے تو اس خیرات کا بڑا اجر ہے (صحیح بخاری 2320 ۔ صحیح مُسلم 1553)

درخت گرمی کی حدت کو کم اور بارش برسانے میں کردار ادا کرتے ہیں جبکہ بارش اپنے اندر کئی صحتمند فوائد لئے ہوتی ہے
درخت ہوا میں اُڑتے کئی قسم کے ذرّات کو روک کر فضا کو صحتمند کرتے ہیں
کئی درخت انسان کو مختلف بیماریوں سے محفوظ کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر اگر گھر کے ارد گرد نِیم کے درخت لگا دیئے جائیں تو مچھروں اور کئی اور پتنگوں سے نجات مل سکتی ہے ۔ اگر دیسی سفیدے کے درخت گھر کے گرد لگا دیئے جائیں تو زکام سے نجات کا ذریعہ بنتے ہیں

مارچ کا مہینہ درخت لگانے کیلئے موزوں ترین ہے درخت لگایئے اپنی اچھی صحت کیلئے اور ساتھ اللہ سے انعام بھی حاصل کیجئے

دوسرے ممالک میں درخت لگانے کا حال کچھ اس طرح ہے کہ میں پہلی بار 1975ء میں متحدہ عرب عمارات گیا تو صرف العین میں ایک کیلو میٹر لمبی سڑک پر کچھ درخت نظر آئے تھے ۔ ابو ظہبی ۔ دبئی شارقہ وغیرہ میں کہیں درخت نظر نہ آئے ۔ مگر سُنا تھا کہ کوشش ہو رہی ہے ۔ اُنہوں نے درخت اُگانے کیلئے مٹی تک دوسرے ملکوں سے بحری جہازوں پر درآمد کر کے بچھائی ۔ پھر ماہرین نے بتایا کہ درختوں کی افزائش کیلئے چڑیاں اور دوسرے چھوٹے پرندے ضروری ہیں تو اُنہوں نے چڑیاں اور چھوٹے پرندے ہزاروں کی تعداد میں درآمد کئے ۔ شروع میں چڑیاں مرتی رہیں مگر اُنہوں نے ہمت نہ ہاری ۔ میں 2008ء سے اب تک 4 بار دبئی جا چکا ہوں ۔ اب تو وہاں ہر طرف ہریالی اور درخت نظر آتے ہیں

جس زمانہ میں میں جرمنی میں تھا تو معلوم ہوا کہ اگر کوئی ایک درخت کاٹ دے تو اُسے جرمانہ ادا کرنے کے علاوہ ایک کے بدلے 10 درخت لگا کر اُن کی حفاظت بھی کرنا ہو گی

ہم لوگ غیرملکیوں کی برائیاں تو اپنانے میں بڑے تیز ہیں ۔ اپنانا تو اُن کی اچھایاں چاہئیں

This entry was posted in روز و شب, سائنس, طور طريقہ, گذارش, معاشرہ, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

13 thoughts on “دیر نہ کیجئے

  1. احمر

    واقعی اس طرف توجہ دلانے بلکہ مھم چلانے کی ضرورت ہے

    کیا آپ حساب کتاب لگانے میں ہماری مدد کر سکتے ہیں کہ ایک انسان اپنی ساٹھ سال کی زندگی میں جو آکسیجن استعمال کرتا ہے
    اسے واپس نظام میں لانے کےلیے کتنے درخت درکار ہوں گے

    اور اگر اسی حساب کتاب کو آگے بڑھایا جاے تو ہم اپنی گاڑی کے ذریعے جتنا کاربن خرچ کرتے ہیں،
    کھانا پکانےمیں جتی آکسیجن جلا ڈالتے ہیں اگر وہ سب ہم واہس کرنا چاہیں تو ایک فرد کو کتنے درخت لگانے ہوں گے؟

    الف نظامی صاحب اور آپ کا بہت شکریہ

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    احمر صاحب
    خوش آمدَید ۔ بہت مُشکل حساب کتاب پوچھ لیا ہے آپ نے ۔ جتنی آکسیجن ایک آدمی روزانہ استعمال کرتا ہے اس کیلئے ایک درخت کی ضرورت ہے ۔ اگر ہر شخص اپنی عمر کے ہر 10 سال میں ایک درخت لگائے تو صورتِ حال بہتر ہو سکتی ہے

  3. یاسر خوامخواہ جاپانی

    جناب آپ اپنے آپ کو بوڑھا مت لکھا کریں!
    دو ہفتے پہلے مراتھن ریس میں دوڑ رہا تھا کہ 42 کلو میٹر شروع سے آخر تک ایک بزرگ کو “اوور ٹیک” نہ کر سکا۔
    گول کے بعد پوچھنے پر معلوم پڑا بزرگوار 72 سال کے ہیں۔!!
    یہ بھی بتا دوں کہ یہ ریس مکمل پہاڑی علاقے میں تھی ۔میرے تو گٹے گوڈے جواب دے گے تھے۔

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    یاسر صاحب
    آپ ابھی ادھر ہی ہیں یعنی اسلام آباد میں یا ایبٹ آباد چلے گئے ہیں ؟ بزرگ گویا میرے زمانے کے ہوئے ۔ مجھے 8 سال قبل ورزش چھوڑنا پڑ گیا ورنہ میں بھی دوڑ رہا ہوتا ۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اب بھی لاکھوں سے بہتر ہوں ۔

  5. ارتقاءِ حيات

    عوام پر ایک نئی ذمہ داری ڈال رہے ہیں
    محکمہ شجر کو دیکھئے
    فٹ پاتھ پر لگے درختوں کو ٹھیکے پر کٹوائے جا رہے ہیں
    ہمارے علاقے کے سب درخت جو فٹ پاتھ پر تھے سب غائب اور صرف لکڑیاں دکھائی دے رہی ہیں جو6ماہ تک کچھ بھی پتے نکالنے کے قابل نہیں

  6. افتخار اجمل بھوپال Post author

    اُم تحریم صاحبہ
    میں محکمہ شجرکاری اور سرکاری کی بات نہیں کر رہا بلکہ اپنے اور آپ جیسوں کی بات کر رہا ہوں ۔ میرے ہموطن ہر ذمہ داری سرکاری محکموں پر ڈال کر فارغ البال ہو جاتے ہیں ۔ کبھی یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ ہم نے اس وطن کو کیا دیا ہے اور کچھ دینا بھی چاہیئے ۔ پاکستان کو اپنا وطن کہہ کر پاکستان پر احسان نہیں ہوتا
    ہم جس مکان میں رہ رہے ہیں اس کی قریبی دو سڑکوں پر ہم نے کم از کم دو درجن صحتمند درخت لگائے ہیں اور سڑک کے ساتھ پھولوں کی کیاریاں بھی لگائی ہوئی ہیں اور ان سب کی دیکھ بال بھی کرتے ہیں
    میری یہ عادت ہے کہ ایسا کوئی کام دوسرے کو نہیں کہتا جو میں خود نہ کرتا ہوں

  7. محمد سلیم

    آپ جناب اور جناب الف نظامی صاحب کا بہت شکریہ۔ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے (الدال على الخير كفاعله)۔ اچھائی کی طرف راغب کر دینے والے والا بھی اچھائی کرنے والے جتنا ہی (صلے اور اجر) کا حقدار ہوتا ہے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پاک کا ایک مفہوم یہ بھی ہے اگر قیامت بھی برپا ہو جائے تو جو پودا لگا رہا ہو اسے چاہیئے کہ پودا لگانا جاری رکھے۔
    میں چین کے جس شہر میں رہتا ہوں وہاں سبزہ اور ہریالی کا یہ عالم ہے کہ کہیں زمین نظر نا آئے۔ مگر درختوں کی قدر کا یہ عالم کہ میرے سامنے ایک نئی سڑک بنی، سڑک کے درمیان میں لگی باڑھ تک بھی با حفاظت اکھاڑ کر ٹرکوں پر لاد کر لے گئے جب کہ درختوں اور پودوں کی حفاظت کا عالم تو دیکھنے لائق تھا۔
    مزیداری کی بات یہ ہے کہ اس کے بعد پرانے درختوں کی بجائے آم لگا دیئے گئے جنہوں نے دو تین سالوں میں پھل دینا شروع کیا اور سڑکوں کو باغوں میں بدل کر رکھ دیا۔ کچھ سڑکوں پر چلتے ہوئے تو ایسا گمان ہوتا ہے کہ ٹریفک باغوں کی بھول بھلیوں میں پھنسی گئی ہے۔
    ہمارے وہ حکمران جو آئے دن دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اپنے شہر کو پیرس بنا دیں گے، اللہ کرے وہ پاکستان کو گوانگ ڈونگ صوبے کے کسی دیہات جیسا ہی بنا دیں تو تاریخ میں امر ہو جائیں گے۔

  8. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محمد سلیم صاحب
    اللہ آپ کو جزائے خیر دے ۔
    آپ کے لکھنے سے یہ بھی یاد آیا کہ ہمارے گھر سے کوئی 225 میٹر کے فاصلے پر سڑک اور فاطمہ جناح پارک (ایف۔ 9) کے درمیان 100 میٹر سے زائد چوڑی خالی زمین پر پھلدار درخت لگے ہوئے تھے جن میں مالٹے اور کینو کے زیادہ تھے ۔ انہیں ہر سال پھل لگتا تو راہگذر دیکھ کر خوش ہوتے ۔ پرویز مشرف نے وہاں سڑک بنوا دی جس کے نتجے میں وہ پھلوں کا باغ ختم ہو گیا

  9. چھوٹا غالب

    بہت زبردست جناب
    آپ کی تحریر پڑھ کے میں بھی سوچ رہا ہوں کہ اس موضوع پر کچھ لکھوں

    ویسے یہ اپنے الف نظامی صاحب تک میرا سلام پہنچا دیا جائے
    اگر میرا نام کہیں ان کی یاداشت میں ہوا تو(شاید) پہچان ہی لیں

  10. Darvesh Khurasani

    عمران خان کی کال تو آئی تھی ،لیکن اب پتہ چلا کہ الف نظامی صاحب کی کالیں بھی سننے کو مل سکتی ہیں۔

  11. الف نظامی

    محترم افتخار اجمل بھوپال صاحب ،شجر کاری کے موضوع پر لکھنے کا بہت شکریہ۔
    چھوٹا غالب: وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ۔
    درویش خراسانی :
    :-(

    اگر اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں میں سے ہر ایک 20 درخت لگائے تو 5 سال کے اندر ہم پانی کی قلت ، گلوبل وارمنگ عالمی حدت ، اور ماحولیاتی مسائل سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔
    یعنی ہمیں
    180000000 * 20 = 3600000000
    پاکستان میں تین ارب ساٹھ کروڑ درخت اگانے ہیں۔

    you can plant any of the following trees:
    نیم — Azadirachta indica
    شیشم یا ٹاہلی — Dalbergia sissoo
    املتاس — Cassia fistula
    سکھ چین — Millettia pinnata
    کیکر , چیڑ , دیودار , چنار , پیپل ، کاہو ، ارجن ، آم , مالٹا , سیب
    جامن — Syzygium cumini
    سرس — Albizzia lebbeck
    کچنار — Bauhinia variegata
    زیتون — Olive
    بکائن یا دھریک — Melia azedarach
    آملہ — Phyllanthus emblica
    شہتوت
    بیری
    برگد
    جنڈ
    کریر
    سنبل ، پھلاہی ، كیل، پڑتل ، صنوبر ، اخروٹ ، مازو، چلغوزہ

    بلوچستان میں شجر کاری کے لیے موزوں درخت:
    نیم ، کیکر ، کنڈی ، پیلو ، گوگل، بیر ، جنگلی جلیبی ،املی، امریکی کیکر ،
    tropical almond

    ساحلی علاقوں میں سمندر کے ساتھ ساتھ تمر یا مینگروز کے پودے لگانا سمندری ماحولیات کے لیے بہت بہتر ہے۔

    صوبہ سندھ کا سرکاری درخت نیم ہے۔
    صوبہ پنجاب کا سرکاری درخت شیشم ہے۔

    Tree Plantation season:
    موسم بہار: جنوری فروری مارچ
    Jan-Feb-March (spring)
    18 Aug: National Tree Plantation Day
    موسم برسات: وسط جولائی تا وسط ستمبر

    آپ مندرجہ ذیل جگہوں پر درخت لگا سکتے ہیں
    گھر میں
    پارک میں
    اپنے ادارے میں
    سکول کالج یونیورسٹی گراونڈ میں
    ہسپتال گراونڈ میں
    سڑک کے کنارے اور درمیان میں موجود خالی جگہ میں
    دریا ، نہر ، ندی ، نالے ، سمندر کے کنارے
    موٹر وے کے اطراف میں
    کھیت کے کنارے
    جنگل میں
    شاملات دیہہ میں
    بنجر زمین میں
    ریلوے لائن کے اطراف میں
    قبرستان میں

  12. افتخار اجمل بھوپال Post author

    الف نظامی صاحب
    تفصیل کا شکریہ ۔ کاہو میرے خیال میں جنگلی زیتون ہوتا ہے ۔ اس کا ایک خاص فائدہ ہے کہ ریتلی زمین کو پیوستہ کرتا ہے

  13. abuabdullah

    بہت اہم مسلہ کی طرف آپ نے توجہ دلائی ہے- ہم لوگ درخت لگانا تو دور کی بات اگر کسی نے درخت لگائے ہوئے ہوں ان کو بھی تباہ کرنے پر لاشعوری طور تیار رہتے ہیں-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)