گھر کی مرغی ؟

اس سلسلہ کی 2 تحاریر ”گفتار و کردار“ اور ”پارسل“ لکھ چکا ہوں

سوال ہے کہ ” تعلیم یافتہ ذہین اور زِیرک جوان مُلک کیوں چھوڑ جاتے ہیں ؟“

محاورہ ہے ”گھر کی مرغی دال برابر“۔ ہونا چاہیئے تھا ”گھر کی دال باہر کی مُرغی کے برابر“۔
اپنے مُلک کے حکومتی نظام کو پَرکھیں تو گھر کی مُرغی دال سے بھی بہت کمتر درجہ میں چلی جاتی ہے ۔ 30 سالہ سرکاری اور 5 سالہ غیرسرکاری ملازمت میں میرے ساتھ کئی حوصلہ شکن واقعات پیش آئے ۔ بات سمجھنے کیلئے اُمید ہے کہ صرف ایک واقعہ کافی ہو گا

پس منظر
پاکستان نے 1966ء میں جرمن مشین گن المعروف مشین گن 42 بنانے کا فیصلہ کیا ۔ اس کی منصوبہ بندی ۔ نشو و نما اور پیداوار (Planning, development and production) کیلئے مجھے مقرر کیا گیا ۔ منصوبہ بندی کے دوران زمینی حقائق (ground realities) کا مطالعہ کرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ جرمن مشین گن کی نالی کے سوراخ (Barrel bore) میں جھَریاں (grooves) بنی تھیں جن پر سخت کروم پلیٹنگ (hard chrome plating) کی جاتی تھی جس سے اس کی برداشتی زندگی (endurance life) زیادہ سے زیادہ 16000 کارتوس تک ہو جاتی تھی ۔ اگر سخت کروم پلیٹنگ نہ کی جائے تو برداشتی زندگی زیادہ سے زیادہ 6000 رہ جاتی تھی ۔ سوراخ میں کروم پلیٹنگ کرنا نہائت مشکل کام ہوتا ہے اور اس میں جرمنی کی ایک دوسری کمپنی مہارت رکھتی تھی جسے نالیاں تیار کرنے کے بعد بھیج دی جاتی تھیں ۔ مشین گن کی تیار نالیاں (finished barrels) کروم پلیٹنگ کے بعد 30 فیصد تک ناکارہ (reject) ہو جاتی تھیں ۔ سب سے بڑی بات کہ یہ کمپنی سوراخ میں کروم پلیٹنگ کی ٹیکنالوجی بیچنے کو تیار نہ تھی

ہم اگر ان کا پلانٹ پاکستان میں لگاتے تو ہر وقت اُن کے رحم و کرم پر ہوتے ۔ مزید یہ کہ کسی خرابی کی صورت میں اُن کے ماہرین کو جرمنی سے بُلانا پڑتا ۔ اس طرح خرچہ بھی بہت ہوتا اور وقت بھی ضائع ہوتا ۔ میں نے جرمن انجنئیروں سے بات کی کہ وہ کیوں دوسری کمپنی کے محتاج بنے ہوئے ہیں اور اس کا کوئی بہتر حل نہیں نکالتے ؟ اُنہوں نے بتایا کہ 25 سے 30 فیصد بنی بنائی نالیاں بیکار ہونا اُنہیں بہت کھلتا ہے اسلئے وہ پچھلے 5 سال سے سوراخ کا ڈیزائین بدل بدل کر تجربے کر چکے ہیں مگر کامیابی نہیں ہوئی البتہ کوشش جاری ہے

میں نے اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی دی ہوئی صلاحیت اور عِلم کو استعمال کرتے ہوئے سوراخ کا ایک ڈیزائن بنایا جس میں جھریوں کے کنارے ختم ہو گئے ۔ اس ڈیزائین کا نام میں نے پولی گون پروفائل (Polygon Profile) رکھا ۔ یہ ڈرائینگ میں نے جرمنی بھیجی کہ اس کے مطابق ایک کھونٹی (Mandrel) بنا کر بھیج دیں ۔ کچھ ماہ بعد اُنہوں نے کھونٹی بنا کر بھیجی اور اس سے بنی ہوئی چند نالیاں بھیجیں کہ ہم اُنہیں مشین گن میں لگا کر امتحانی فائرنگ (Test firing) کریں ۔ ہم نے خود بھی اس کھونٹی کے مطابق چند نالیاں بنائیں اور ان سب نالیوں کی امتحانی فائرنگ کروائی

امتحان لینے والے سینئر انسپکٹنگ آفیسر (ایس آئی او) میجر منیر اکبر ملک تھے جو مکینیکل انجنیئر تھے ۔ 2 روز بعد بہت خوش خوش آئے ۔ بڑے تپاک سے میرے ساتھ ہاتھ ملایا اور بولے ” آپ کو تو سونے میں تولا جانا چاہیئے ۔ وَنڈر فُل وَنڈر فُل ۔ اچھا بتاؤ کتنے کارتوس فائر کئے ہوں گے ؟”۔ میں جو اس وقت شَشدر کھڑا تھا ڈرتے ڈرتے بولا ”12000 ؟” میجر صاحب بولے ”بس س س ؟؟؟ ادھر آؤ ۔ گلے ملو“۔ مجھے بھینچ کر فارغ ہوئے تو بولے ”18000 پلس“۔ اللہ کے فضل سے بغیر سخت کروم پلیٹنگ کے ہم نالی کی 3 گنا زندگی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے جو کرومیئم پلیٹِڈ سے بھی 2000 زیادہ تھی

جرمنی کی جس کمپنی سے پاکستان نے مشین گن بنانے کا لائسنس لیا تھا اُن کے سربراہ اور ٹیکنیکل چیف پاکستان پہنچ گئے ۔ پاکستان آرڈننس فیکٹریز کے چیئرمین جنرل اُمراؤ خان اُنہیں ساتھ لئے میرے پاس آئے اور مجھے کہا ” بھوپال یہ آپ کو لینے آئے ہیں ۔ میں نے ان سے کہا ہے کہ آپ کے پاس تو کئی ایسے آدمی ہیں ۔ ہمارے پاس صرف ایک ہے وہ بھی آپ لیجائیں گے تو ہم کیا کریں گے ۔ تمہارا کیا خیال ہے ؟“ میں کہا ” آپ نے درست کہا ہے ۔ میں کہیں نہیں جاؤں گا“۔ میرا بنا ہوا ڈیزائین ہمیں لائسنس دینے والی کمپنی نے بھی اپنا لیا اور جرمن افواج کو میرے بنائے ڈیزائین کی مشین گن سپلائی ہونے لگی

اصل کہانی اب شروع ہوتی ہے

میں نے کمانڈنٹ آئی ڈی اے (Inspection Depot Armament) کے نام معرفت سینئر انسپکٹنگ آفیسر خط لکھا ۔ جس میں ساری روئیداد لکھ کر درخواست کی کہ چیف انسپکٹر آرمامنٹ سے اس ڈرائینگ کی منظوری حاصل کی جائے ۔ کمانڈنٹ آئی ڈی اے نے اس خط کو زبردست قسم کی سفارش (recommendation) کے ساتھ آگے بھیجا ۔ ہفتہ بعد ایس آئی او ”جاہل نالائق” اور پتہ نہیں کیا کیا بولتے ہوئے بڑے پریشان میرے دفتر میں داخل ہوئے ۔ میں نے کھڑے ہو کر پوچھا ”خیریت ؟ کیا ہوا ؟ کسے گالیاں دے رہے ہیں ؟“۔ جواب ملا ”وہی جاہل جو آجکل چیف انسپکٹر آرمامنٹ ہے“۔ پھر ایس آئی او نے بتایا کہ ڈرائینگ اس اعتراض کے ساتھ واپس آ گئی تھی کہ صرف جرمنی کی کمپنی جن سے لائسنس لیا ہے کی ڈرائینگ کی منظوری دی جائے گی

ایک طرف میری محنت یا عزت تھی اور دوسری طرف ملک و قوم کا مفاد ۔ میں نے وہ ڈرائینگ جرمنی بھیج دی کہ اپنی طرف سے مجھے بھیجیں ۔ 2 ہفتے بعد جرمنی سے ایک انجنیئر پاکستان آ گیا ۔ وہ مجھے ملنے آیا اور کہا ”یہ ڈیزائین آپ نے بنایا ہے تو اسے اپنے نام سے کیوں رجسٹر نہیں کراتے ؟” میں نے بڑی مشکل سے اسے سمجھایا تو اُس نے اپنی کمپنی کے نام سے بنی ہوئی وہی ڈرائینگ مجھے دے کر کہا ” کاش آپ جرمنی میں پیدا ہوئے ہوتے”۔

سال کے آخر میں میرے باس نے میری سالانہ رپورٹ میں لکھا
Not yet fit for promotion

This entry was posted in آپ بيتی, طور طريقہ, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

14 thoughts on “گھر کی مرغی ؟

  1. یاسرخوامخواہ جاپانی

    ایسے واقعات سے صرف دکھ ہوتا ہے جناب۔۔
    ایک وقت ہم نے جاپان کی فیکٹریوں یہ بھی دیکھا تھا کہ
    جاپانی فیکٹری مالکان صرف اور صرف پاکستانی مزدوروں کو ملازم رکھنے پر ترجیع دیتے تھے۔
    وجہ یہ بتاتے تھے کہ کام میں سخت جان۔۔۔۔۔۔۔۔اور کام کی کوالٹی اعلی ہوتی ہے۔
    محنتی مخلص،قابل تو اپنے ہی ملک میں سفارش اور رشوت سے بھرتی ہونے والوں کے ہاتھوں ذلیل کر دیئے جاتے ہیں۔

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    یاسر صاحب
    آپ نے درست کہا ہے ۔ میں جب 1976ء سے 1983ء تک لبیا میں بطور ایڈوائزر کام کر رہا تھا تو وزارتِ خارجہ نے مجھے بغیر تنخواہ بغیر الاؤنس چیف کوآرڈینیٹر مقرر کیا ہوا تھا ۔ میرے پاس بیلجیئم کی ایک بڑی کمپنی پی آر بی کے ڈائریکٹر کمرشل آئے اور کہا ،”مجھے پاکستان سے لیبر منگوادیں“۔ میں نے کہا ”پاکستان کی حکومت سے کہیں“۔ وہ بولے ”وہ اپنے سفارشی دیں گے جو اچھے نہیں ہوں گے“۔ میں نے کہا ”بھارت سے لے لو“۔ بولے ”وہ تو صرف مٹی کھونے کے قابل ہوتے ہیں ۔ دماغ استعمال نہیں کرتے“۔

  3. نعمان

    بے شک آپکی قابلیت قابل رشک ہے …

    جو لوگ انجینر ہیں وہ جانتے ہیں کے پاک فوج نے انجینرنگ کی فیلڈ میں کیسے کارنامے انجام دئے ہیں …

    خوشی ہوئی ایک ایسے ہی گمنام انجینیر سے تعارف ہوا …

    آپ کی استقامت ہے کہ آپ ایسے دھچکوں کو برداشت کر گئے .. ورنہ ایسے موقعے پر نئی نسل جو کرتی ہے وہ آپکو بتا ہی چکا ہوں …

  4. محمد سلیم

    آپ کی عظمت کو سلام – آپ کے بلاگ بنانے کا مقصد (ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے) بدرجہ اُتم پورا ہو رہا ہے۔ اللہ تبارک آپ کو جزائے خیر دے، آمین

  5. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محمد بلال اعظم صاحب
    حوصلہ افزائی کا شکریہ ۔ یہ تو دیگ میں سے ایک چمچہ ہے ۔ ”مُشکلیں اتبی پڑیں کہ آساں ہو گئیں“ میں نے عملی طور پر نبھایا ہے ۔ اللہ کی کرم نوازی ہے کہ ثابت قدم رکھا

  6. م۔ش۔ا

    میرے محترم ہم ملت بزرگ جناب افتخار اجمل بھوپال صاحب!
    اللہ کے لیے کئے گئے کسی عمل کا اجر تو صرف اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی ہی عطا کر سکتا ہے۔ تا ہم آپ کا شکریہ ادا کرنے کا قرض ہم پر ہے۔ میں آپ کی اس قربانی پر آپ کو سراہتا ہوں اور شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی آپ پر اور ان تمام لوگوں پر جنہوں نے اسلام کی بہتری کے لیے کچھ بھی کام کیا ہے، اپنی رحمتوں اور برکتوں کا نزول فرمائے۔ آمین!

  7. م۔ش۔ا

    بصد احترام:
    حالانکہ میں تکنیکی تفصیلات سے واقف نہیں ہوں، اس لیے درج ذیل تجویز غلط بھی ہو سکتی ہے۔ تا ہم میرے مطابق
    “مشین گن کی تیار نالیاں (finished barrels) کروم پلیٹنگ کے بعد 30 فیصد تک ناکارہ (reject) ہو جاتی تھیں۔”
    کی بجائے
    “کروم پلیٹنگ کے دوران 30 فیصد تک مشین گن کی تیار نالیاں (finished barrels) مسترد (reject) کر دی جاتی تھیں۔”
    لکھنا زیادہ بہتر ہوتا۔

  8. افتخار اجمل بھوپال Post author

    م۔ش۔ا صاحب
    نوازشات کیلئے مشکور ہوں ۔ اللہ جزائے خیر دے ۔ آپ نے درست کہا ہے کہ اجر صرف اللہ ہی دیتا ہے ۔ میں اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کروں وہ کم ہے
    دوسرے تبصرہ میں آپ کی تجویز ایک لحاظ سے درست ہے ۔ میں نے سکرَیپ نہیں لکھا تھا کہ شاید عام قاری سمجھ نہ پائیں ۔ متذکرہ نالیاں پھر کاٹ کر یعنی ٹکڑے کر کے بطور فولاد بیچ دی جاتی تھیں اسلئے ناکارہ ہی کہلائیں گی

  9. Pingback: بابائے مشین گن | میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ What Am I

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)