کیا یہ سچ ہے ؟

میں نے بھی کہا تھا ۔ کیا یہ سچ ہے ؟
جی ہاں ۔ جب تک چھان بین نہ کی جائے دماغ میں یہی خیال اُٹھتا ہے

اب آپ خود بھی دیکھ لیجئے اور بتایئے کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ۔ کمال یہ ہے کہ کسی کو خبر ہی نہ ہوئی
وفاقی وزیرِ داخلہ جو سب کچھ معلوم ہونے کا دعوٰی آئے دن کرتے رہتے ہیں نہ اُنہوں نے کچھ بتایا
اور نہ ہمارے ذرائع ابلاغ نے کچھ کہا ۔ وہ ذرائع ابلاغ جن کے دانشور آنے والے واقعات کی مہینوں پہلے پیشگوئی کرنے کے دعویدار ہیں

ملالہ کی اعلٰی امریکی حکام سے ملاقاتیں

ایک وِڈیو جو نیو یارک ٹائمز کی ویب سائٹ پر موجود ہے

This entry was posted in روز و شب, سیاست on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

9 thoughts on “کیا یہ سچ ہے ؟

  1. مبین قریشی

    امریکی حکام سے ملنا اور ان سے یہ التجا کرنا کہ خدا را اسلام کے نام پر جو یہ غنڈے اور وحشی درندے دندناتے پھر رہے ان سے ہمیں نجات دلائی جائے تاکہ ہم اپنے اسکول جاسکے، اگر ایسا کرنا جرم ہے اوراگر اس بات پر میرے غیرتمند پاکستانی بھائیوں کو غیرت آتی ہے تو پھر یہ تمام غیرت پاکستانی شرم سے خود کشی کیوں نہیں کر لیتے جو گزشتہ چھ سات دہائیوں سے امریکہ سے قرض کے نام پر ملی ہوئی خیرات کا رزق کھا رہیں ہیں۔

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    مبین قریشی صاحب
    تشریف آوری کا شکریہ ۔ آپ کافی بھولے بھالے لگتے ہیں ۔ اپنے مُلک میں غیر وطن کی مداخلت کو دعوت دینا کسی بھی مُلک میں غداری سمجھا جائے گا ۔ پاکستان نے چھ سات دہایئوں سے نہیں صرف چار دہائیاں قبل قرضے لینے شروع کئے یعنی ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے اور سب سے زیادہ قرضے پرویز مشرف اور موجودہ حکومت کے دور میں لئے گئے ۔ غالباً آپ جرمنی کے باسی ہیں اس لئے تاریخ سے واقف نہیں

  3. عبدالرؤف

    اسلامُ علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ

    محترم اجمل صاحب ، نیویارک ٹائمز والی خبر سن 2010 کی ہے، یعنی تقریبا 2 سال سے زیادہ پرانی خبر! اب یہاں‌ سوال یہ ہے کہ ہمارے میڈایائی شیر تو خیر سے سرکس کے شیروں‌ سے بھی گئے گذرے ہیں، مگر آج تک یہ خبر ہمارے یعنی عوام کے علم میں کیوں نہیں آئی؟ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ صرف مخصوص‌ وقت اور حالات میں‌ ہی ہم کو ایسی باتوں کا ادراک ہونا شروع ہوتا ہے؟

    کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے چاہے جو بھی نظریات ہوں یا جس کسی کے ساتھ بھی جذباتی لگاؤ ہو، ہم کو اور ہمارے جذبات کو باہر والے جس سمت میں چاہتے ہیں باآسانی موڑ دیتے ہیں اور ہم بھی موم کی ناک کی طرح‌ مُڑ‌ کر اسی سمت میں‌ پوری طاقت اور پورے خلوص کے ساتھ دوڑنا شروع کردیتے ہیں۔ ہم کو اپنی اس روش پر جلد از جلد قابو پانے کی ضرورت ہے۔ جسکے لیئے ہمیں دوسروں‌پر انحصار کرنے کے بجائے خود سے ہی ہر وقت باعلم و باہوش رہنا ہوگا۔

    بحرحال ملالہ پر حملے کے حوالے سے کچھ لوگوں کا تو کہنا ہے کہ 9/11 کی طرز پر ملالہ پر بھی حملہ امریکی ایماء پر خود پاکستانی حکام نے ہی کروایا ہے، جس کا مقصد عوام میں طالبان کو ظالمان ثابت کرکے شمالی وزیرستان میں‌ حملے کا قانونی جواز حاصل کرنا ہے، مزید اس ربط سے خود ہی ملاحظہ فرمالیں: http://willyloman.wordpress.com/2012/10/11/the-staged-malala-yousafzai-story-neoliberal-near-martyr-of-the-global-free-market-wars/

  4. کارپینٹر

    امریکہ کے ایک یہودی فلم میکر کی طرف سے ملالہ اور اس کے والد کے ساتھ رہ کر بنائی گئی ڈاکیو مینٹری میں ملالہ اور اس کے والد سوات آپریشن کے بعد پاکستانی فوج کو بر ا بھلا کہتے دکھائی دے رہے ہیں اور ملالہ کہتی ہے کہ اسے اس فوج پر شرم آتی ہے ۔ واضح رہے کہ ملالہ کو طالبان حملے کے بعد سے پاک فوج ہی تمام تر طبی سہولیات فراہم کررہی ہے اور وہی اس خاندان کو تحفظ بھی فراہم کررہی ہے۔ یہ ویڈیو 2009 اور 2010 میں تیار کی گئی تھی اور اسے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی ویب سائٹ پر نشر کیا تھا۔ یہ ویڈیو اب بھی موجود ہے اور اس میں ملالہ اور اس کے والد کے ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ اس ویڈیو میں ملالہ کے والد الزام لگا رہے ہیں کہ پاک فوج نے ان کے اسکول کو تباہ کیا اور وہ لوگوں کی املاک چوری کرنے میں بھی ملوث ہے۔ یہودی فلم ساز سے اسی دوران انٹرویو ملالہ اسے بتا رہی ہے کہ پاکستان آرمی نے ان کے اسکول کو اپنے مورچے میں تبدیل کررکھا تھا اور اس کے ہم عمر دوست کی ایک کاپی پر ایک فوجی نے اس کو عشقیہ شعر لکھ کر دئے حالانکہ وہ ایک چھوٹی سی بچی ہے۔ ملالہ اس دوران یہودی فلم میکر کو کچھ ثبوت بھی دکھا رہی ہے کہ پاکستانی فوج نے ان کے اسکول میں مورچے بنائے اور سامان تباہ کیا جب کہ بچیوں کی کاپیوں میں غلط جملے لکھے۔ملالہ اس ویڈیو کے آخری حصے میں کہہ رہی ہے کہ اسے پاکستانی فوج پر شرم آتی ہے۔ ویڈیو میں ملالہ یہ بھی کہہ رہی ہے کہ پاکستانی فوجیوں کو لکھنا تک نہیں آتا۔ واضح رہے کہ اس پوری ویڈیو میں پاکستان فوج کی سوات مین قربانیوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے نا ہی پاک فوج کے کسی عہدے دار سے گفتگو کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ سوات آپریشن پاک فوج نے کیا تھا اور بے شمار قربانیوں سے یہ علاقہ واپس حاصل کیا گیا تھا مگر اس ڈاکیو مینٹری میں اس کا کوئی ذکر نہیں اور سارا کریڈٹ امریکی حکام کو دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ سوات مین امن کی بحالی امریکی کارنامہ تھا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستانی فوج کو شرمناک الفاظ میں یاد کیا گیا ہے۔.
    اس ویڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ ملالہ اور اس کا والد پاک فوج کو گھٹیا کردار کا مالک قرار دے رہے ہیں اور ملالہ کہتی ہے کہ پاکستانی فوجیوں پر اس کو فخر تھا مگر اب اسے ان پر شرم آتی ہے اور وہ گندے لوگ ہین۔ ملالہ کی یہ گفتگو ویڈیو میں دیکھی جا سکتی ہے جب کہ وہ یہ بھی بتا رہی ہے کہ پاکستان فوجی لوٹ مار کرتے ہیں لڑکیوں سے غیر مہذب گفتگو کرتے ہیں۔.

    یہ ویڈیو اس لنک پر دیکھی جا سکتی ہے:
    http://www.nytimes.com/video/2009/10/10/world/1247465107008/a-schoolgirl-s-odyssey.html

    Video: A Schoolgirl’s Odyssey.
    http://www.nytimes.com
    A documentary by Adam B. Ellick follows a Pakistani girl through a perilous six…See more.

  5. کارپینٹر

    ملالہ کے والد ضیا الدین کے بھائی نے انکشاف کیا ہے کہ ملالہ کے والدضیا الدین یوسف زئی کو ان کے دیندار والد نے جوانی میں ہی کافر قرار دے کرگھر سے نکال دیا تھا۔جے یو آئی کے مقامی رہنما، بیٹے کی سیکولر نظریات کی حامل طلبہ تنظیم میں شمولیت پر سخت ناراض تھے۔ اب تک آبائ گھر میں داخلہ بند ہے۔ ملالہ کے والد دور طالب علمی سے ہی شہرت کے بھوکے ہیں۔ ملک میں ماہر ڈاکٹرز اور جدید سہولیات ہونے کے باوجود حکومت نے ملالہ کو بیرون ملکی منتقل کیا۔ ملالہ یوسف زئی کو علاج کیلئے برطانیہ روانہ کر دیا گیا ہے، جبکہ والد، والدہ اور چھوٹے بھابی کے بھی ساتھ جانے کی کی اطلاع ہے۔ تاہم پاکستان میں موجود دو بھائی اور دیگر رشتہ دار نا معلوم مقام پر منتقل ہو گئے ہیں۔ اور انہوں نے اپنے ٹیلی فون بھی بند کر رکھے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کی ملالہ پر حملے کی آڑمیں بعض این جی اوز نے اسلامی شعائر پر تنقید اور دینی مدارس اور طالبان کے خلاف ناز یبا کلمات استعمال کر کے پورے واقعہ کو متنازعہ بنا دیا ہے جس کی وجہ لوگ اب ملالہ یوسف زئی کے والد ضیائ الدین کو اس واقعہ کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ کہ انہوں نے اپنی بیٹی کو اپنے مقاصدکیلئے استعمال کیا، جس کا نقصان پورے معاشرے کو اٹھانا پرا ہے۔ زرائع کے مطابق ضیاء الدین یوسف زئی کے والد کا تعلق ضلع شانگلہ کے علاقے کا نگڑہ شا پور سے ہے۔ اور ان کے دادا والی سوات کی عدالت میں قاضی تھے۔ ضیاء یوسف زئی کے دور طالب علمی میں کمیونسٹ نظریات کی حامل عوامی نیشنل پارٹی کی ذیلی تنظیم پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں شامل ہو گئے تھے. جس پر ان کے والد نے ناراض ہو کر انہیں گھر سے نکال دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ کافر ہو گیا ہے۔ بعدازاں ضیاء الدین نے سوات میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ اس دوران ضیاء الدین کا عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ تعلق تو رہا لیکن وہ انے این پی کی سیاسی سر گرمیوں میں فعال نہیں رہے، بلکہ اپنے خوشحال پبلک اسکول و کالج کے معاملات کو ہی دیکھتے رہے، یہ اوسط درجے کا ایک پبلک اسکول ہے۔ اس اسکول کو سوات آپریشن تک نہ تو طالبان نے کوئی دھمکی دی اور نہ اسے بند رکھا۔ تاہم بعدازاں آپریشن کے دوران یہ اسکول بند رہا اور ضیاء الدین خاندان سمیت اپنے آبائی گاؤں چلے گئے تھے تاہم وہاں بھی لوگ ان سے زیادہ تعلق نہیں رکھتے اور انہیں ملحد کافر سمجھتے ہیں۔ آپریشن ختم ہونے کے بعد واپس سوات آگئے۔ تاہم بعد کے حالات اور بی بی سی پر ملالہ یوسف زئی کی ڈائریوں سے ان کی بیٹی کو شہرت ملی اور ضیاء الدین نے اس شہرت کو ہر طرح سے استعمال کرنا شروع کر دیا، جس کے خطرناک نتائج سامنے آئے۔ ذرائع کے مطابق ضیاء الدین کے خاندان کے دیگر افراد کا تعلق آج بھی جے یو آئی کے ساتھ ہے۔اور والد کی جانب سے گھر سے بے دخل کئے جانے کے بعد آج تک ضیاء الدین کا اپنے آبائی گھر میں داخلہ منع ہے کیونکہ خاندان والے انہیں مسلمان ہیں سمجھتے۔حالا نکہ ان کے والد کا 2007ء میں انتقال ہو چکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے۔ کہ ضیاء الدین زمانہ طالب علمی سے ہی شہرت کے بھوکے ہیں۔ اپنے خیالات اور نظریات کی وجہ سے وہ آج بھی اپنے سے دور ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے، کہ سوات آپریشن میں 25 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے۔ اپنے گھر بار، کھیت کھلیان اور کاروبار چھوڑ کر مہینوں کیمپوں میں مصیبتیں جھیلیں ، لیکن اپنا دکھ درد پختون روایات کے مطابق اپنے سینوں میں چھپائے رکھا، اسے مال منفعت اور شہرت کیلئے استعمال نہیں کیا۔ جبکہ اس کے برعکس ضیاء الدین نے شہریت کے حصول کیلئے اپنی بچی ملالہ یوسف زئی کے ذریعے مختلف اداروں، این جی اوز اور میڈیا تک رسائی حاصل کی لی۔ سوات آپریشن کے خاتمے کے بعد متاثر ین واپس آکر اپنے گھروں کی مرمت اور کاروبار کی بحالی میں مصروف ہو گئے اور ان کے بر عکس ضیاء الدین اپنے اسکول کیلئے فنڈ ز اکٹھے کرنے اور این جی اوز سے پیسے بٹورنے لگے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ضیاء الدین نے محض دولت و شہریت کیلئے اپنی بیٹی کی زندگی داؤ پر لگا دی ہے۔ ضیاء الدین کے ایک قریبی رشتہ دار کا کہنا ہے کہ ملالہ یوسف زئی کے علاج کیلئے بیرون ملک روانگی کے بعد ضیاء الدین کی فیملی سے ہمارا کوئی رابطہ نہیں ہے۔ کیونکہ ان کے فون نمبر بند مل رہے ہیں۔ شاپور میں مقیم ضیاء الدین کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ وہ صرف سوات آپریشن کے دوران یہاں آئے تھے۔ ان کا یہاں آنا جانا نہیں ہے۔ کیونکہ طویل عرصے سے خاندان کے تمام افراد کو ضیاء الدین سے میل جول رکھنے سے سختی سے منع کیا ہو تھا کیونکہ انہیں کوئی بھی مسلمان نہیں سمجھتا۔ دوسری جانب ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملے کے بعد جانبدانہ میڈیا کوریج پر پاکستان کے سیکولر اور مذہبی طبقات کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے جبکہ جھڑپیں ہونے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ ملالہ یوسف کے خلاف بولنے پر جماعت اسلامی اور اے این پی کے کارکنوں میں اس وقت جھڑپ ہو گئی۔ جب جندول لوئر دیر میں ایک جنازے کے موقع پر جماعت اسلامی کے سابق ضلعی امیر مولانہ گلاب نے ملالہ کے ساتھ زخمی ہونے والی بچیوں کو نظر انداز کرنے پر حکومت تنقید کی تو وہاں موجود اے این پی کے کارکن مشتعل ہو گئے، جس پر اے این پی کے سابق ناظم حاجی عنایت اور تحصیل منڈا کے صدر فضل محمود نے مولانہ گلاب کو تقریر سے روک دیا۔ اس دوران دونوں جماعتوں کے کارکن ایک دوسرے سے لڑ پڑے تھے تاہم علاقے مشران نے معاملہ رفع دفع کر دیا۔ ادھر میڈیا یکطرفہ رپورٹنگ کے حوالے سے طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی بات سننے کیلئے کوئی تیار ہی نہیں ہے۔ اور جو لوگ اس مسئلے کی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یا طالبان ترجمانوں کی باتیں شائع یا نشر کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں طالبان کا حامی قرار دیا جا تا ہے۔ ادھر ملالہ کی بیرون ملک روانگی سے قبل اس کی صحت کے حوالے سے آئی ایس پی آر کے ذرائع کا کہنا تھا کہ اس کی حالت خطرے سے باہر نہیں تھی۔ اب تک اسے مصنوعی تنفس پر زندہ رکھا گیا تھا۔ ملالہ کو بیرون ملک منتقل کرنے کے اخراجات پاکستان نے برداشت کئے ہیں۔ جانب ملالہ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے۔ کہ جب ملالہ کو سوات سے پشاور سی ایم ایچ منتقل کیا گیا تو سی ایم ایچ کے ڈاکٹروں ملالہ کو بتایا تھا۔ کہ یہاں بین الا قوامی معیار کی تمام سہولتیں میسر ہیں۔ اب یہ آپ پر منحصر کہ اپنی بیٹی کا علاج یہاں کراتے ہیں یا اسے بیرون ملک لے جاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بعض حلقوں کی جانب سے اس وقت بھی ملالہ کے خاندان پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔ کہ ملالہ کا بیرون ملک علاج کروایا جا ئے۔ بھر فوری طور پر ملالہ کو آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی راولپنڈی منتقل کیا گیا۔ جہاں پشاور سے بھی زیادہ جدید سہولیات تھی۔ اور درجنوں ڈاکٹر ز لمحہ بہ لمحہ ملالہ کی حالت کا جائزہ لے رہے تھے۔ اسے احتیاطاً مصنوعی تنفس دیکر بے ہوشی کے عالم میں رکھا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق کو ایک مرحلے پر ہوش میں لایا گیا تھا تاکہ اس کی دماغی حالت کا اندازہ لگایا جا سکے، کیونکہ گولی لگنے سے ملالہ سر کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ اور اس کے دماغ میں خراش آئی تھی۔ ذرائی کے مطابق “ٹمپرول” دماغ کا وہ حصہ ہوتا ہے۔ جو جسمانی حرکات کو کنٹرول کرتا ہے۔

  6. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبدالرؤف صاحب
    لوگوں نے نیویارک ٹائمز کی ویب سائٹ دیکھی ہوئی ہو گی تبھی واقعہ کے بعد جلد تلاش کر لی ۔ دوسرے بند میں آپ نے جو لکھا ہے اس سے میں متفق ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)