انسان بھی کیا چیز ہے

دولت کمانے کیلئے اپنی صحت کھو دیتا ہے
پھر صحت بحال کرنے کیلئے دولت لگاتا ہے

مستقبل کی فکر میں مبتلا رہتا ہے
حال میں مستقبل کیلئے کچھ کرنے کی بجائے
ماضی کی یاد میں حال کو ضائع کرتا ہے

جِیتا ایسے ہے جیسے کبھی مرنا نہیں
مر ایسے جاتا ہے کہ کبھی جِیا ہی نہ تھا

کیوں نہ ایسے رہا جائے کہ
نہ فشارِ خون پیدا ہو ۔ نہ احتلاجِ قلب
نہ کوئی اُنگلی اُٹھائے ۔ نہ بد دعا دے
اور جب مر جائے تو لوگ یاد کریں تو دعا دیں

اللہ اللہ کیا کر
خود بھی جی اور دوسروں کو بھی جینے میں مدد دیا کر

This entry was posted in روز و شب, طور طريقہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

2 thoughts on “انسان بھی کیا چیز ہے

  1. دہرا حے

    کہ مرکے بھی کسی کو یاد آییں گے
    کسی کے آنسوںمیں مُسکراییں گے
    کہے گا پھول ہر کلی سے بار بار
    جینا اسی کا نام ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)