چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ سِینے پر مُونگ

میں اُن دنوں پروڈکشن منیجر ویپنز فیکٹری تھا [1969ء] ہفتہ کا دن تھا مہینہ مجھے یاد نہیں البتہ موسم خوشگوار تھا ۔ اُس زمانہ میں ہمیں سوا چار بجے سہ پہر چھٹی ہوتی تھی ۔ چھٹی ہونے والی تھی کہ ٹیلیفون کی گھنٹی بجی اور ساتھ ہی چھٹی کا ہُوٹر بھی ہو گیا ۔ ٹیلیفون اُٹھایا تو میرے باس کے باس “م” تھے جو چند ماہ پیشتر میرے باس تھے ۔ فرمایا “کل مینا بازار ہو رہا ہے ذرا جا کر جھنڈیاں لگوا دو”۔ پوچھا “جھنڈیاں کہاں ہیں ؟” جواب ملا “ص صاحب کے پاس”۔ میں نے “ص” صاحب کے گھر ٹیلیفون کر کے پوچھا تو جواب ملا “ميرے پاس جھنڈیاں تو نہیں ہیں ۔ مجھے گُڈی کاغذ منگوانے کا کہا تھا ۔ آپ لے لیں اور جھنڈیاں بنوا لیں”۔

جھنڈیاں بنوانے کیلئے ڈوری اور بنانے والے چاہئیں تھے ۔ سوچا گُڈی کاغذ لے کر کلب چلتا ہوں وہاں لوگ ہوں گے ۔ اپنا بائیسائیکل پکڑا اور چلاتا ہوا کلب پہنچا ۔ وہاں آدمی کُجا کوئی جانور بھی نہ تھا اور نہ کوئی آثار کہ یہاں مینا بازار لگنے والا ہے ۔ بڑے باس “م” صاحب کے گھر ٹیلیفون کیا تو جواب ملا “سِینئر منیجر ہو بندوبست کر لو”۔ بندوبست کیا کروں اور کہاں سے کروں یہ اُنہیں بھی معلوم نہ تھا ۔ اِدھر اُدھر مارا مارا پھر رہا تھا کہ اسٹیشن انجيئر صاحب ایک پِک اُپ پر آئے اور کہنے لگے “میں قناتیں اور شامیانے لے آیا ہوں” ۔ لگانے کیسے ہیں یہ اُنہیں بھی معلوم نہ تھا ۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ “مینا بازار کا منتظم کون ہے ؟” وہ کہنے لگے “خواتین کا معاملہ ہے اُن کی صدر مسز “ش” ہیں اُن سے معلومات لے لو ۔ میں نے “ش” صاحب کے گھر ٹیلیفون کر کے مسز “ش” کا پوچھا تو بتایا گیا کہ غسل کر رہی ہیں ۔ چنانچہ ہم نے اپنی مرضی سے قناتیں اور شامیانے لگوا دیئے

قناتیں شامیانے لگنے کے بعد اسٹیشن انجنیئر چل پڑے ۔ میں نے کہا “اپنے آدمیوں کو روکئے باقی کام کون کرے گا ؟”اُنہوں نے کہا یہ تو شامیانے والے ہیں ۔ اِنہوں نے اپنا کام کر دیا ہے ۔ پھر مسز “ش” کیلئے ٹیلیون کیا تو بتایا گیا کہ غسل کر چکی ہیں تیار ہو کر خود کلب آئیں گی ۔ اسی اثناء میں مجھے کلب کا ایک کلرک نظر آیا ۔ بھاگ کر اس کو پکڑا اور پوچھا کہ “کلب کے ملازم کیوں نہیں آئے”۔ اُس نے بتایا “مینا بازار کی وجہ سے آج اور کل کلب کی چھٹی ہے”

جھنڈیاں بنوانے کیلئے ایک ساتھی سے رابطہ کیا ۔ اُنہوں نے جھنڈیاں تیار کروانے کا وعدہ کیا بشرطیکہ میں گُڈی کاغذ جہاں وہ بتائیں وہاں پہنچا دوں اور دوسرے دن صبح دس بجے وہاں سے جھنڈیاں اُٹھوا لوں ۔ ابھی سٹال لگانے باقی تھے جن کیلئے میزیں اور کرسیاں چاہئیں تھیں ۔ قریب ہی ایک سکول تھا اُس کے پرنسپل صاحب سے رابطہ کر کے منت سماجت کی تو وہ میزیں دینے پر راضی ہوئے اس شرط پر کہ ان کی پالش خراب نہیں ہو گی اور کل صبح سکول سے اُٹھوائی جائیں اور پرسوں صبح سویرے واپس پہنچائی جائیں ۔ شام ساڑھے سات بجے کے قریب مسز “ش” تشریف لائیں اور کہا کہ “میں تو معائینہ کرنے آئی ہوں اور یہاں ابھی صرف قناتیں اور شامیانے ہی لگے ہیں”۔ عرض کیا ” آپ پلان دیجئے تو اُس کے مطابق بندوبست کردیں گے”۔ کہنے لگیں “وہ تو مسز “ع” کے پاس ہے ۔ مسٹر “ع” کے گھر فون کیا مگر کسی نے نہ اُٹھایا ۔ پھر مسز “ش” نے کہا ” اتنے سٹال لگنے ہیں جس طرح بھی ہو لگا دیں”۔ اور وہ چلی گئیں ۔ رات کے آٹھ بج چکے تھے اور کوئی مدد کہیں سے نہ مل رہی تھی چنانچہ میں گھر چلا گیا

رات کے دوران اپنے دوستوں ساتھیوں سے مدد کے وعدے لئے ۔ دوسرے دن صبح سویرے کلب پہنچ گیا ۔ تھوڑی دیر میں آٹھ آدمی مدد کیلئے آ گئے ۔ ایک کو جھنڈیاں لینے بھیجا اور سات کو ساتھ لیجا کر سکول سے میزیں لانا شروع کیں ۔ خود بھی ساتھ مزدور بن کر ۔ سب بندوبست کر کے ابھی فارغ ہی ہوا تھا کہ ایک گروہ افسران کا آتا دکھائی دیا ۔ ان میں چیئرمین اور دیگر افسران تھے میرے باس کے باس “م” صاحب بھی تھے اور اُن کے باس “ح” صاحب بھی ۔ “م” صاحب نے چار افسروں کو ایک قطار میں کھڑا کیا جن میں اسٹیشن انجنیئر ۔ گُڈی کاغذ والے “ص” صاحب کے علاوہ دو اسسٹنٹ منیجر تھے جنہیں دو دن کے دوران ہم نے کلب میں نہ دیکھا تھا اور نہ ہی انتظامات کرنے میں اُن کا کوئی کردار تھا ۔ میں صرف چند فُٹ کے فاصلہ پر کھڑا دیکھتا رہا ۔ چیئرمین صاحب سے “ح” صاحب نے ان چار حضرات کا تعارف کرایا کہ اُنہوں نے مینا بازار کا سارا بندوبست کیا ہے ۔ اسٹیشن انجنیئر نے تو قناتیں اور شامیانے لگوا دیئے تھے ۔ باقی نے تو کچھ نہ کیا تھا

ایک سال بعد میرے اسی باس نے مجھے پھر مینا بازار کا انتظام کرنے کو کہا تو میں نے کہا “پچھلے سال کے تجربہ کے تحت میں اب ایسی جراءت نہیں کر سکتا” ۔
مسکرا کر بولے “تم انعام کیلئے کام کرتے ہو”۔
میں نے کہا “میں کام انعام کیلئے نہیں کرتا مگر مجھے پسند نہیں کہ کوئی میرے سِینے پر مُونگ دَلے “۔

This entry was posted in آپ بيتی, طور طريقہ, معاشرہ, منافقت on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

4 thoughts on “چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ سِینے پر مُونگ

  1. نورمحمد

    جب اپنی محنت کا پھل کوئی دوسرا اڑا رہا ہو تب تو :twisted: :twisted: :twisted: ۔۔ ہاہا ہا۔۔۔۔۔

    خیر آپ ایک سال کے بعد نا کہنے کی ہمت تو کر پائے۔۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں ( اتنے مجبور ہوتے ہیں ( کہ نا بھی نہیں کہ پاتے ۔۔ ۔

    شکریہ

  2. نعمان

    یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہر جگہ کی ایک ہی داستان ہے …خاص طور پر سرکاری محکموں میں …

    میرے لئے سب سے دکھی حصہ یہ ہے
    “ایک سال بعد میرے اسی باس نے مجھے پھر مینا بازار کا انتظام کرنے کو کہا تو میں نے کہا “پچھلے سال کے تجربہ کے تحت میں اب ایسی جراءت نہیں کر سکتا” ۔
    مسکرا کر بولے “تم انعام کیلئے کام کرتے ہو”۔”

    یعنی کہ غلطی آپکی ہی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ….

    اچھی بات یہ ہے کہ آپ نے ہمّت کی اور غلط کو غلط kahaa ..

    شئیر کرنے کا شکریہ

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    نعمان صاحب
    اسی شخص نے کچھ ماہ بعد ایک بڑے معاملہ میں سچ بولنے پر مجھے دھمکی دی تھی
    “I will send you where you have come from”
    اس نے دو بار میری ترقی روکی غلط رپورٹ لکھ کر ۔ پہلی بار تو اس کے باس نے رپورٹ واپس کرا دی مگر دوسری بار وہ خود بڑا باس تھا ۔ میری ترقی پھر اس کی ریٹائرمنٹ کے بعد ہوئی ۔ میری تیسری ترقی اس کے دوست نے دوستی نباہتے ہوئے روکی تو میں نے پونے باون سال کی عمر میں ریتائرمنٹ مانگ لی ۔ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ جھیلہ ملازمت کے دوران۔ بس اللہ کو مجھے بچانا منظور تھا ورنہ میرا نام بھی غائب شدہ آدمیوں میں ہوتا جس کا کسی کو علم بھی نہ ہوتا ۔ آجکل تو عدالتِ عظمہ نے ایسے لوگوں کی کافی مشہوری کر دی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)