معیشت کی بربادی اور کراچی میں قتل و غارتگری کا اصل سبب

یومیہ 5 ارب روپے کا نقصان
چیئرمین نیب ایڈمرل فصیح بخاری کے مطابق مُلکی معیشت کے صرف 3 شعبوں ہی میں کرپشن سے5 ارب یومیہ یعنی ایک کھرب 50 ارب روپے ماہانہ یا18 کھرب (1800000000000) روپے سالانہ نقصان ہوتا ہے

اس انکشاف سے ٹرانپیرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کی توثیق ہو گئی ہے جس میں کہاگیاتھا کہ پاکستان کے 94 ارب ڈالرز وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے 4سالہ حکومت میں ہونے والی بد انتظامی ،کرپشن اور ٹیکس چوری کی نذر ہو چکے ہیں

مزید یہ کہ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق مُلکی معیشت کوگذشتہ 4 برسوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یومیہ 3ارب یعنی ماہانہ 90 ارب یا سالانہ 10 کھرب 50 ارب سے زائد کا نقصان ہوا ہے

چیئرمین نیب کا کہنا ہے کہ کرپشن پر قابو پانے کیلئے انتہائی ضروری ہے کہ سویلین بیوروکریسی کو سیاست سے پاک کیا جائے تاکہ سرکاری ملازمین بغیر کسی خوف و لالچ کے اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں

چیئرمین نیب نے حال ہی میں وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے 4 سیکریٹریوں کی برطرفی کا ذکر کیا جن کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے بیوروکریسی کو سیاست سے پاک کرنے کا ایجنڈا پیش کیا تھا اور یہ بات قائم علی شاہ جو ناگوار گذری ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال پر کارروائی کرینگے تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا

فصیح بخاری نے وضاحت کی کہ نیب کی اختیارات بڑے پیمانے پر محدود کر دیئے گئے ہیں ایک اندازے کے مطابق نیب کی جو طاقت پرویز مشرف کے دور میں تھی وہ اب صرف30فیصد ہی رہ گئی ہے

مفاہمت کے باعث مجرموں کی سرکوبی نہیں ہوتی
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق بدھ کو چیف منسٹر ہاؤس میں منعقد ہونے والے اجلاس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے بالآخر وہ بات کہہ دی جو وہ کسی باقاعدہ اجلاس میں اب تک نہیں کہہ سکے تھے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بعض افسروں نے یہ کہہ دیا کہ مفاہمت کی پالیسی کی وجہ سے جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کی سرکوبی نہیں ہو سکتی ۔ انہوں نے یہ بھی درخواست کی کہ حکومت کی اتحادی جماعتیں مشاورت کرکے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واضح پالیسی دی جائے تا کہ وہ جرائم پیشہ اور دہشت گرد عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جاسکے

بعض افسروں نے یہ بھی شکوہ کیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے شرپسندوں کو گرفتار کرتے ہیں لیکن بعدازاں سیاسی دباؤ پر انہیں چھڑا لیا جاتا ہے ۔ اس طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور کارروائی سے گریزاں رہتے ہیں

This entry was posted in روز و شب, سیاست, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

2 thoughts on “معیشت کی بربادی اور کراچی میں قتل و غارتگری کا اصل سبب

  1. عا مر معراج

    اپ کا تبئزابعر داست ھعے اند ےہے ھاطع گہہد کنہولیگع تھانکس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)