بجلی کہاں جاتی ہے ؟

حسبِ وعدہ حاضر ہے مطالعاتی تحقیق کا نتیجہ
عوام پریشان کہ حکمرانوں کے مطابق بجلی پیدا کرنے والوں کو 360 ارب روپے سبسڈی دی جاتی ہے ۔ گو وہ بھی عوام سے وصول کردہ ٹیکس ہی کا پیسہ ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ عوام بھاری بھرکم بل بھی عطا کرتے ہیں ۔ محترمہ بجلی صاحبہ پھر بھی کم ہی درشن کراتی ہے ۔ آخر یہ بجلی جاتی کہاں ہے ؟

وفاقی وزراء اور ان کے لواحقین کے ذمہ ایک کھرب 20 ارب (120000000000) روپے کے بجلی کے بل واجب الادا ہیں
حکومتِ سندھ کے ذمہ 50 ارب (50000000000) روپے کے بجلی کے بل واجب الادا ہیں
حکومتِ پنجاب کے ذمہ 19 ارب (19000000000) روپے کے بجلی کے بل واجب الادا ہیں
حکومتِ بلوچستان کے ذمہ 18 ارب (18000000000) روپے کے بجلی کے بل واجب الادا ہیں
حکومت خیبر پختونخوا کے ذمہ 16 ارب (16000000000) روپے کے بجلی کے بل واجب الادا ہیں
حکومتِ آزاد جموں کشمیر کے ذمہ 15 ارب (15000000000) روپے کے بجلی کے بل واجب الادا ہیں
نجی اداروں کے ذمہ ایک کھرب 27 ارب روپے بجلی کے بل واجب الادا ہیں جس میں زیادہ رقم اُن لوگوں کے ذمہ ہے جو بارسُوخ سیاستدانوں کے رشتہ دار یا قریبی دوست ہیں

واجب الادا بلوں کے ساتھ ساتھ مُلک میں ہر سال 50 ارب روپے کی بجلی چوری کی جاتی ہے ۔ چوری کی بجائے کہا جاتا ہے کہ سِلکیہ نقصانات (Line Losses) 35 سے 40 فیصد ہیں ۔ چین میں سلکیہ نقصانات 6 فیصد ہوتے ہیں جبکہ فلپین جو کرپٹ مُلک جانا جاتا ہے میں 11 فیصد ہوتے ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستان میں بھی کم از کم 1970ء تک سِلکیہ نقصانات 6 فیصد ہو جائیں تو آڈٹ اوبجیکشن ہو جاتا تھا اور تحقیقات شروع ہو جاتی تھیں

اس بجلی چوری کے حصہ داران ہیں
کراچی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 38.5 فیصد یعنی سالانہ 19 ارب 25 کروڑ روپے
پشاور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 31.2 فیصد یعنی سالانہ 15 ارب 60 کروڑ روپے
لاہور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 12.8 فیصد یعنی سالانہ 6 ارب 40 کروڑ روپے
فیصل آباد ۔ ۔ ۔ 9.1 فی صد یعنی سالانہ 4 ارب 55 کروڑ روپے

دوسرے علاقے ۔ 4 ارب 20 کروڑ روپے

یہیں بات ختم نہیں ہوتی
ہر بڑے شہر میں چوری کئے ہوئے سرکاری ٹرانسفارمر اور بجلی کی تاروں کے ڈھیر لگے ہیں جو اندر کھاتے سستے داموں فروخت ہوتے ہیں
نیپرا رپورٹ کے مطابق بجلی کی صرف 3 سرکاری کمپنیوں نے 26 ارب روپے کا فرنس آئل چوری کیا

اگر صرف واجب الادا بل ہی ادا کر دیئے جائیں تو مُلک میں لوڈ شیڈنگ بالکل بند ہو جائے اور فاضل بجلی برآمد بھی کی جا سکتی ہے

ایسی بات نہیں کہ مندرجہ بالا کاروائیاں حکمرانوں کے علم میں نہیں ۔ حقیقت واضح ہے کہ اس میں بارسُوخ حکمرانوں کا مفاد ہے ۔ اسی لئے اسے جاری و ساری رکھا گیا ہے

گھی مہنگا ۔ تیل مہنگا ۔ آٹا مہنگا ۔ چاول مہنگے ۔ پھل مہنگا ۔ سبزیاں مہنگی ۔ دالیں مہنگی ۔ پٹرول مہنگا ۔ گیس مہنگی اور بجلی یہ تحریر لکھنے اور شائع کرنے کے درمیان مزید (more over) مہنگی ۔ عوام صرف غم کھائیں اور جان بنائیں

This entry was posted in تجزیہ, روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

2 thoughts on “بجلی کہاں جاتی ہے ؟

  1. نعمان

    بہت شکریہ آپ کی تحقیق کا ….

    ان سب واجب الادا روپوں کو دیکھ کر یہ سمجھ لینا آسان ہے … کے یہ ادا کے جا سکتے ہیں اگر نیت ہو …

    اس سارے معاملے میں چوھدری شجاعت صاحب کا مشورہ یا حل خاصی حد تک قابل عمل ہے ….

    ویسے حل تو ہزار ہیں .. لیکن مسلۂ یہ ہے کے یہاں حکمرانوں کی نیت ہی نہیں ہے …

    جب تک ان کے محلوں میں بجلی آتی رہے گی .. اس وقت تک یہ لوگ عوام کا درد نہیں سمجھیں گے اور نہ ہی کوئی حل نکالیں گے …

    ویسے بھی حکمرانوں کی نیت اور انکی اہلیت … گیلانی صاحب کے حالیہ CNN کو دیے گے انٹرویو سے بھی معلوم کی جا سکتی ہیں ….

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    نعمان صاحب
    حقیقت یہ ہے کی یہ سب مال جمع کرنے کا دھندہ ہے ۔
    گیلانی اگر کسی اہل ہوتا تو زرداری اُسے وزیرِاعظم بنا تا ؟ سی این این کی صحافیہ نے تو گیلانی کو سب کے سامنے ننگا کر کے رکھ دیا لیکن جس نے غیرت ہی بیچ کھائی ہو اس سے اور کیا توقع ہو سکتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)