لڑکپن کی باتيں قسط 3۔ افسانہ يا حقيقت

اس سلسلے کی پہلی قسط باد نما اور دوسری قسط وطن لکھ چکا ہوں
مجھے انجينئرنگ کالج ميں اپنے طالب علمی کے زمانہ کا لکھا ہوا ايک افسانہ بھی ان کاغذات ميں ملا جو نقل کر رہا ہوں

ايک صبح

دھند معمول سے کچھ زيادہ تھی پھر بھی ميں اپنی عادت سے مجبور سير کو نکل پڑا ۔ جونہی دروازے سے باہر قدم رکھا سردی کاٹتی ہوئی محسوس ہوئی سارا بدن ٹھٹھر کر رہ گيا ليکن ميں ارادہ کر چکا تھا اور اس کا التواء مُشکل تھا ۔ برفانی ہوا نتھنوں کو چيرتی ہوئی پھيپھڑوں کی گہرائی تک پہنچنے لگی ۔ ہوا کے يخ آلودہ جھونکوں سے آنکھوں سے آنسو اُبھر آئے ۔ کُہر نے سبزے پر سفيد چادر تھی اور ہر طرف سيميں فرش بچھا تھا مگر ميں بڑھتا گيا ۔ ميں آگے بڑھتا گيا ۔ ہاتھ پاؤں اب سُن ہو چکے تھے اسلئے سردی کا احساس کم ہو گيا تھا ۔ صبح صادق ہو چکی تھی اور بڑھتی ہوئی روشنی آفتاب کے اُبھرنے کا پيغام دے رہی تھی

ميں بے خيالی ميں مشرق کی جانب چل ديا کہ جيسے ميں نے آفتاب کا استقبال کرنا ہو ۔ سردی کی شدّت سے بے نياز دماغ ميں قلعے بناتا اور مسمار کرتا نمعلوم ميں کتنا دور جا چکا تھا ۔ ايک عجيب سی ادھيڑ بُن تھی جس ميں محو ميں گرد و پيش کو بھول چکا تھا ليکن خيالات تھے کہ ايک تانتا بندھا آ رہا تھا ۔ زمہرير ميں بھی تخيّل تيز رفتاری سے کام کر رہا تھا ۔ خيالات ذہن پر آ آ کر محو ہو رہے تھے

ديکھتا کيا ہوں کہ ميں ندی کے کنارے پہنچ گيا ہوں جو برفانی پہاڑوں سے نکل کر يخ بستہ چٹانوں کے بيچ رينگتی چلی آ رہی ہے اور اپنے ساتھ برف کے تودے جھاگ کی طرح بہائے لئے جا رہی ہے ليکن ندی کی روانی ميں موسمِ گرما کے برعکس سکوت ہے ۔ برف کے تودے گاہ بگاہ ايک دوسرے سے ٹکرا کر مدھم آواز پيدا کر ديتے ہيں ليکن فضا ميں وہ ارتعاش نہيں جو پہاڑی ندی کو پيدا کرتے سنا تھا ۔ سکون ہے اور ہر طرف ہُو کا عالم ہے ۔ کوئی ذی روح چرند پرند دکھائی نہيں پڑتا ۔ ايک شہرِ خموشاں ہے جہاں نہ شہنائی کی مدھر آواز نہ پہاڑی لوگوں کی دلربا تانيں ۔ گڈريا بھی اپنی بانسری پھينک کر گھاس پھوس پر دبکا پڑا ہے ۔ غزالوں کی چاپ اور چکوروں کے راگ کا نام و نشان نہيں ۔ ہاں کبھی کبھی برف کا تودا ندی ميں گر کر سکون کو چند لمحوں کيلئے مکّدر کر ديتا ہے

چلتا جا رہا تھا کہ کچھ دور نيچے کی طرف سے ندی ميں ہلکا سا شور سنائی ديا ۔ ميں اپنے خيالات سے چونک اُٹھتا ہوں اور کان لگا کر سنتا ہوں پھر تيزی سے قدم اُٹھانے لگتا ہوں ۔ آواز جو لگاتار آ رہی تھی کچھ واضح ہوتی ہے ۔ “کسی کے تيرنے کی آواز معلوم ہوتی ہے” ميں اپنے آپ سے مشورہ کرتا ہوں ۔ “ليکن اتنی سردی اور پھر برفانی پانی ميں تيرنا ناممکن ہے” ميرا ذہن جواب ديتا ہے اسی طرح کی سوچيں لئے ہوئے ميں آگے بڑھتا ہوں اور ديکھ کر ميری حيرت کی انتہاء ہو جاتی ہے اور اپنی آنکھوں پر يقين نہيں آتا ۔ ايک شخص بڑی جد و جہد کے ساتھ پانی کے بہاؤ کے خلاف تير رہا ہے ۔ تيز بہتی ہوئی ندی کی لہريں اسے پيچھے کو دھکيل رہی ہيں ۔ برف کے تودے اسے اپنے آگے بہا کر لے جانے کی کوشس ميں ہيں ۔ ليکن وہ تودوں کو اِدھر اُدھر کر کے پوری جاں فشانی سے اپنی منزل کی طرف بڑھنے کی تگ و دو ميں ہے ليکن اس کی آگے بڑھنے کی رفتار سُست پڑ چکی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ سُست تر ہوتی جا رہی ہے ۔ وہ شخص ہار ماننے کو تيار نظر نہيں آتا کيونکہ بجائے کنارے کی طرف آنے کے ندی کے بہاؤ کے خلاف اُوپر جانے کی کوشش ميں ہے ۔ تمامتر دِقتوں کے باوجود وہ بلند حوصلگی اور اولالعزمی کے ساتھ تگ و دو جاری رکھے ہوئے ہے

ميں سوچتا ہوں “نجانے کب سے وہ اس کاروبار ميں مصروف ہے”۔ مجھ سے رہا نہيں جاتا اور ميں اپنی پوری قوت مجتمع کر کے آواز ديتا ہوں
“تم کون ہو جو اتنی سردی ميں بھی پيراکی کی مشق کر رہے ہو ؟”

“اے تماشائی ۔ تو نے مجھے مذاق سمجھا ہے ۔ ميں بہت بڑا پيراک تھا ۔ ميرے بازوؤں ميں لامتناہی قوت تھی ليکن اب ميرے بازو شل ہو گئے ہيں ۔ ميں طاقتور تھا ليکن زمانے نے مجھے نحيف اور کمزور بنا ديا ہے ۔ ليکن اے بنی آدم ۔ مجھے ديکھ اور عبرت پکڑ کہ اس عالَم ميں بھی ثابت قدمی کا دامن نہيں چھوڑتا ہوں”

ميں پوچھتا ہوں “آخر تمہارا نام کيا ہے ؟”

” ميرا نام پوچھتے ہو ؟ ميرا نام ہے نيکی اب جو کمزور ہے جس کے بازو شَل ہيں اور اب اس دنيا سے رُخصت ہونے کو ہے ۔ اور اے بنی آدم ۔ يہ ندی سيلِ زمانہ ہے جس کے بہاؤ کے خلاف جد و جہد ميری قسمت ميں لکھی جا چکی ہے ۔ ليکن ميں اپنے ارادہ کا پکا ہوں ۔ مجھے بڑی سے بڑی لہر بھی ميرے مقصد سے عليحدہ نہيں کر سکتی ۔ اس جد و جہد ميں جان دے دوں گا مگر ہتھيار ڈالنا ميرے لئے مشکل ترين کام ہے”

يہ جواب پا کر ميں نے اُسے اس کی حالت پر چھوڑ ديا مگر اس خيال نے ميرے ذہن کو مضبوطی سے پکڑ ليا اور اب ميرا دماغ مختلف خيالوں کی بجائے صرف اس ندی ۔ اس کے بہاؤ اور اس کے خلاف جد و جہد ميں اُلجھ کر رہ گيا ۔ اور ميں پھر سے ان خيالات ميں گم گھر لوٹ رہا تھا ۔ سردی کتنی تھی ؟ ميں بھول چکا تھا ۔ ميرے ذہن ميں خيالات اور تصورات کا تانتا بندھا چلا آ رہا تھا ليکن اب ميری سوچ اور غور و فکر ايک مختلف نہج پر تھے ۔ بالکل مختلف ۔ برفانی ندی ۔ بہاؤ ۔ پيراکی

اب جب بھی کبھی تنہائی ميسّر آتی ہے تو اپنے آپ کو اسی صبح ميں گم پاتا ہوں ۔ ندی ميں اس کے بہاؤ کے خلاف جد و جہد کا منظر سامنے آ جاتا ہے

This entry was posted in آپ بيتی, روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

2 thoughts on “لڑکپن کی باتيں قسط 3۔ افسانہ يا حقيقت

  1. نعمان

    واہ جناب ماشا الله آپ تو اچھے مصنف بھی ہیں …
    کیا خوبی سے منظر کشی کی ہے .. اور جب قاری حسن بیان میں ڈوب جاتا ہے تو نصیحت کا بیان شروع ہو جاتا ہے …

    نئی حج پالیسی پہ بھی روشنی ڈالیں .کمزور ہوتی ہی نیکی کے تناظر میں

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    نعمان صاحب
    مجھے حج پالیسی میں نہ اُلجھایئے کیونکہ میں اُلجھنا پسند نہیں کرتا ۔ ویسے بھی یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی میں ببانگِ دُہل کہہ دیا ہے کہ اُسے پارلیمنٹ یا اسپیکر ہٹا سکتا ہے اور کوئی نہیں ہٹا سکتا ۔ سب ادارے اس کے ماتحت ہیں ۔ آپ جانتے ہی ہون گے کہ کس کمال سے اُس نے اپنے بیٹے عبدالقادر گیلانی کو حج سکینڈل سے بری کروا دیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)