تعصب کی تلاش

میرے زمینی حقائق بیان کرنے پر چند قارئین نے کبھی کبھار مجھے پنجابی قرار دے کر مجھ پر تعصب کا سرنامہ (Label) لگایا کہ پنجابی ہوتے ہی متعصب ہو

جب پہلی بار 4 سال قبل مجھ پر سرنامہ لگایا گیا تو میں اس امر اور اس کی وجوہات کی کھوج میں لگ گیا ۔ ایک دلچسپ حقیقت آشکار ہوئی کہ عام طور پر دوسروں پر تعصب کا سرنامہ چسپاں کرنے والے شاید غیرارادی طور پر خود تعصب کا شکار ہوتے ہیں جس کا سبب اُن کا ماحول ۔ معاندانہ انتظامِ نشر و اشاعت (Biased propaganda) یا طرزِ تربیت ہوتا ہے یا پھر اُن کو کسی ایک شخص سے زِک پہنچی ہوتی ہے اور اس بناء پر وہ اُس کی پوری برادری پر سرنامہ لگا دیتے ہیں

درحقیقت تعصب کی بنیاد کا اصل سبب دین سے دُوری اور خودپسندی ہوتے ہیں ۔ دین میرِٹ کی تلقین کرتا ہے اور اگر دین سے مُبرّا بھی غور کیا جائے تو میرٹ ہی ایک جواز ہے کسی کے اعلٰی عہدے پر پہنچنے کا ۔ ہمارے مُلک میں میرٹ کی بجائے اقرباء پروری زوروں پر ہے لیکن یہ حقیقت نطر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پنجاب میں کئی اہم تعلیمی ادارے پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے پہلے سے موجود تھے ۔ نتیجہ ظاہر ہے یہی ہو گا کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے عہدیدار باقی صوبوں کے رہائشیوں کی نسبت زیادہ ہوں گے

جملہ معترضہ ۔ اگر جموں کشمیر سارا 1947ء میں پاکستان میں شامل ہوتا تو آج اعلٰی عہدوں پر ہر طرف جموں کشمیر کے باشندے نظر آتے کیونکہ 1947ء میں جموں کشمیر میں شرح خواندگی 80 فیصد سے زائد تھی

یہ بھی حقیقت ہے کہ پنجاب کی آبادی ملک کی کُل آبادی کا 65 فیصد سے زائد ہے مزید یہ کہ پنجاب میں بسنے والے ایسے لوگ بھی ہیں جو پنجاب کے رہائشی نہ تھے ۔ اُردو بولنے والے کچھ 1947ء میں بھارت سے ہجرت کر کے آئے اور پنجاب کو رہائش کیلئے منتخب کیا ۔ پشتو یا سندھی بولنے والے اور باقی اُردو بولنے والے 1972ء کے بعد بالخصوص 1990ء کے بعد سندھ ۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں اپنے گھروں کو چھوڑ کر پنجاب میں آباد ہوئے ۔ ان لوگوں کی خوبصورتی یہ ہے کہ اکثریت نے پنجابی زبان اور ثقافت کو ایسا اپنا لیا ہوا ہے کہ کوئی کہہ نہیں سکتا کہ کسی اور صوبے یا مُلک سے آئے تھے

دسمبر 2011ء میں خبر شائع ہوئی کہ وفاقی اعلٰی عہدیداروں میں پنجابیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ ان کا تعلق وفاق سے ہونے کے باعث پنجاب کی حکومت کو کوئی دسترس حاصل نہیں ۔ وفاقی اداروں میں تعیناتی کے ذمہ دار صدر زرداری اور وزیر اعظم گیلانی بنتے ہیں ۔ گو گیلانی صاحب پنجاب کے رہنے والے ہیں لیکن کچھ عرصہ سے اپنے آپ کو پنجابی کی بجائے سرائیکی کہتے ہیں ۔ عملی صورتِ حال یہ ہے کہ اختیارات زرداری صاحب کے پاس ہیں جو کہ پنجابی نہیں ۔ یہ کون نہیں جانتا کہ زرداری صاحب کیسے لوگوں کو اعلٰی عہدوں سے نوازتے ہیں ۔ رحمٰن ملک اور بابر عوان جو دونوں پنجابی ہیں اہم مثال ہیں

اللہ کوشش کا پھل دیتا ہے میں اپنی سی کوشش کر رہا تھا کہ 27 مارچ 2012ء کو پنجاب میں تعینات اعلٰی عہدیداروں کے اعداد و شمار شائع ہوئے جن کے مطابق پنجاب میں دوسرے صوبوں کے 13 اعلٰی عہدیدار تعینات ہیں
مندرجہ ذیل فہرست پر نظر ڈالنے کے بعد قارئین و قاریات بتائیں کہ دوسری صوبائی حکومتوں نے کتنے اعلٰی عہدیدار پنجابی تعینات کئے ہوئے ہیں ۔ اُن کو شامل نہ کیجئے گا جو وفاقی حکومت نے تعینات کئے ہوئے ہیں ۔ وفاقی حکمرانوں کا اپنا ذاتی نظام العمل (agenda) ہے جس کا ایک مظہر روشنیوں کے شہر کراچی کا موجودہ حال ہے سُنا تھا “بغل میں چھُری منہ میں رام رام”

فاٹا سے ایک
شیر عالم محسود ۔ کمشنر ۔ سوشل سکیوریٹی

آزاد جموں کشمیر سے ایک
محمد دین وانی ۔ سیکریٹری انفارمیشن

بلوچستان سے پانچ
نور الامین مینگل ۔ڈی سی او ۔ لاہور
داؤد برائچ ۔ سپیشل سیکریٹری ہیلتھ
ثاقب عزیز ۔ سپیشل سیکریٹی ۔ لوکل گورنمنٹ
اسلم ترین ۔ ایڈیشنل انسپیکٹر جنرل
اسفندیار ۔ ایڑیشنل سیکریٹری ہیلتھ

خیبر پختونخوا سے تین
شوکت علی ۔ کمشنر ۔ سرگودھا
جودت ایاز ۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر ۔ لیپ ٹاپ پروجیکٹ
اکرام اللہ خان ۔ ایڈیشنل ہوم سیکریٹری

سندھ سے تین
ساجد یوسفانی ۔ چیف ایگزکٹو آفیسر ۔ پنجاب انویسٹمنٹ بورڈ
ہارون احمد خان ۔ ڈائریکٹر جنرل آرکیالوجی ۔ پنجاب
مؤمن آغا ۔ چیف ایگزکٹو آفیسر ۔ آشیانہ ہاؤسنگ سکیم

This entry was posted in روز و شب, معاشرہ, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

5 thoughts on “تعصب کی تلاش

  1. نعمان

    اگر آپ کو اپنے آپ کو مبرہ کرنا ہے تو بات علیحدہ ہے .. ورنہ عام پنجابی بہت تعصب کرتا ہے …

    اب آپ اپنی بات منوانے پر بضد ہیں تو آپکی مرضی .. آپ بزرگ ہیں ….

    ورنہ میں تو ہمیشہ کہتا ہوں .. جب بارش ہوتی ہے تو سب بھیگتے ہیں … لہذا یہ کہنا کے پنجابی تعصب نہیں کرتا کیبرہ جھوٹ ہے …

    مثالیں دینے کا دل تو بہت چاہ رہا ہے .. لیکن بھینس کے آگے بین بجانے کا کیا فائدہ ..

    آپ اپنی جنت میں خوش رہیں :) :wink:

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    نعمان صاحب
    میں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ پنجابی تعصب نہیں کرتے ۔ آپ بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ کی کمیونٹی تعصب نہیں کرتی یا کوئی اور کمیونٹی تعصب نہیں کرتی ۔ آپ نے مجھے تو بھینس سے تشبیہ دے دی مگر گستاخی معاف ۔ آپ کا اپنے متعلق کیا خیال ہے ؟ مجھے زبردستی پنجابی قرار دیتے ہیں اور پھر اسی بناء پر متعصب بھی ۔ آپ مجھے کتنا جانتے ہیں ؟ یہی بلاگ کی حد تک نا ؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ میں ہوں کون ؟
    اگر آپ کہتے ہیں کہ پنجابی کے سوا کوئی متعصب نہیں ہوتا تو لکھیئے نا میرے سوال کا جواب ۔ کتنے پنجابی اعلٰی عہدیدار مقرر کئے ہوئے ہیں سندھ ۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں نے ؟ خیبر پختونخوا نام ہی تعصب کی بناء پر رکھا گیا ہے ۔ کیا آپ جانتے ہین کہ مغلوں نے جس علاقے کا نام پنجاب رکھا تھا وہ پانچ دریاؤں کی زمین تھی جس کے دریا تھے ستلج ۔ راوی ۔ چناب ۔ جہلم اور سندھ ۔ جب انگریز قابض ہوئے تو اُنہوں نے پنجاب کو چھوٹا کرنے کیلئے ستلج کی ایک شاخ بیاس کو گن کر سندھ کو نکال دیا ۔ میرا کام حقائق لکھنا ہے کوئی مانے یا نہ مانے مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا

  3. نعمان

    میں نے کب کہا کے میری کمیونٹی تعصب نہیں کرتی … بلکہ MQM تو بذات خود تعصب کی سب سے بڑی علمبردار ہے یا بہت سوں میں سے ایک ہے …
    میرا تبصرہ صرف اس جانب تھا کے یہ جو آپ لوگ ڈھول پیٹنا شروع ہو جاتے ہیں کے پنجابی تعصب نہیں کرتا یہ ایک کبیرہ جھوٹ ہے .. اس حمام میں سب الف ننگے ہیں …

    سر میں آپکو بلاگ کے thru ہی جانتا ہوں اور یہ بھی معلوم ہے کے آپ پنجابی نہیں ہیں …

    میرا آپ سے مباحثہ اسی بات پہ ہوتا ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ پنجابی تعصب نہیں کرتا باقی سب کرتے ہیں …

    جب کے میں کہتا ہوں پنجابی بھی کرتا ہے .. اور اتنی ہی شدّت سے کرتا ہے جس سے سب کرتے ہیں …

    اب آپ لوگ کیونکہ اکثریت میں ہیں لہذا .. چور کی گواہ گرہ کٹ سے . کے مصداق.. ہزار گواہیاں لے آتے ہیں ….

    باقی آپکا حالیہ بلاگ پڑھ کر ایسا لگا جیسے .. کوئی امریکی شہری ..اپنی فوج کے عراق اور افغانستان پہ حملہ کو جائز ثابت کر رہا ہو … یعنی بات میں دم نہیں ہے :
    ع

    یارب وہ نہ سمجھیں ہیں نہ سمجھیں گے میری بات

    دے اور دل انکو جو نہ دے مجھکو زبان اور

    ویسے بھی اس رپورٹ کے مندرجات سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ باقی صوبوں میں پنجابی افسران نہیں ہوتے …

    اور یہ بات بھی صحیح ہے کے کچھ بلکہ اکثر سیاستدان اپنی نا اہلیوں کو اس بات کے پردے میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں …
    لیکن عام زندگی کی مثالوں کا کیا کریے … یہ تو صبح شام کا ساتھ ہے …

    سر میں نے فیڈرل گورنمنٹ میں گریڈ ١٨ میں جاب کی ہے .. لہذا بہت پنجابیوں سے ملا ہوں اور ہفتے نہیں مہینے اور سال ساتھ گزارے ہیں …

    لہذا جب بھی کوئی کہتا ہے کہ “پاکستان میں سب تعصب کرتے ہیں لیکن پنجابی نہیں کرتا ”

    اسے میں دنیا کا سب سے بڑا جھوٹا کہتا ہوں …
    پنجابی میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو تعصب نہیں کرتے ….لیکن بات یہاں اکثریت کی ہو رہی ہے .. معدود چند مثالوں کی نہیں

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    نعمان صاحب
    آپ کے اس تبصرے نے تو وہ ثابت کر دیا جو میں نے لکھا ہے ۔ ویسے میں سوئے ہوئے کو تو جگا سکتا ہوں لیکن آپ کو جگانا میرے بس کی بات نہیں ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)