تازہ خبر ۔ آخر کار

پاکستان کي فضائی حدود ميں غير قانونی طور پر داخل ہو نے والے غير ملکی فوجی جہاز کو پاکستانی ہوائی فوج نے جبری کراچی ايئر پورٹ پر اُتار لیا ہے

فوجی طيارہ بگرام ايئر بيس سے متحدہ عرب امارات کے المکتوم ايئر پورٹ جارہاتھا ۔ ايئر پورٹ ذرائع کے مطابق طيارہ انتانوف 124 اور پرواز نمبر وی ڈی اے 1455 ہے

ذرائع کے مطابق بگرام سے المکتوم ايئرپورٹ جانيوالے طيارے نيٹو رسد کيلئے استعمال ہوتے ہيں ۔ مذکورہ غيرملکی فوجي مال بردار طيارے کو بعض خفيہ اطلاعات پر کراچی ميں اتارا گيا اور اس کی چيکنگ کی جارہی ہے.

This entry was posted in خبر on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

8 thoughts on “تازہ خبر ۔ آخر کار

  1. افتخار اجمل بھوپال Post author

    یاسر صاحب
    اتنا بھی بہت ہے ۔ زرداری کے گدی نشین ہونے کے بعد سے امریکی پاکستان میں آنے اور جانے کیلئے اسلام آباد ایئر پورٹ کا وہ دروازہ استعمال کرتے تھے جہاں سے کیٹرنگ کی گاڑیاں اندر باہر آتی جاتی ہیں اور کوئی پوچھتا نہیں تھا کہ کون ہو اور کیا لے کر آ یا جا رہے ہو ؟ جب لاہور میں ریمنڈ ڈیوس نے دو پاکستانی جوان ہلاک کر دیئے تو فوجی حکام کو اس بارے معلوم ہوا تھا

  2. نعمان

    سر آپ نے فرمایا کہ امریکیوں کے بلا روک ٹوک آنے کا فوجیوں کو دیر سے پتہ چلا …

    تو جناب یہ ڈھیر ساری فوج کی ایجنسیاں اور فوج کس کام کے لئے ہیں ….جب ہر بات میڈیا نے ہی آشکار کرنی ہے …

    ویسا کہاں یہ بھی جاتا ہے کہ …..

    جس وقت امریکی پاکستان میں دندنا رہے تھے (ابھی بھی دندنا رہے ہیں ) اس وقت پاک فوج پاکستان میں پاکستانیوں کو پکڑنے اور انھیں لاپتہ کرنے اور بیچنے میں مصروف تھی …

    وہ تو بھلا ہو میڈیا کا جس نے فوجی حکام کی اس ملی بھگت کا راز فاش کیا … ظاہر سی بات ہے جنرل مشرف کا لگایا ہوا DG آئ ایس آئ کر بھی کیا سکتا ہے (بھاگ ان بردہ فروشوں سے کہاں کے “محافظ “…..)…

    اور اگر فوج کو پتہ ہی نہیں تھا .. تو نا اہلی کا کوئی ایوارڈ پاک فوج کو ضرور ملنا چاہیے ….(یاد رہے کے فوج کی بنیادی ذمہ داری یعنی PRIME RESPONSIBILITY کیا ہے )

    امید ہے آپ (بھی) قوم فروش کیانی کا مقابلہ صلاح الدین ایوبی سے نہیں کرتے ہوں گے .. جیسا کہ کیا جا رہا ہے

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    نعمان صاحب
    آپ بہت دُور نکل گئے ۔ ایک بات واضح رہے کہ فوج حکومت کے تابع ہوتی ہے حکومت فوجی جرنیل کی ہو یا جمہوریت کا راگ الاپنے والے بے وردی شخص کی ۔ مگر یہ درست ہے کہ فوج تک یہ خبر لاہور میں دو ماہ کے اندر ہونے والے چار واقعات کے سلسلے میں تفتیش کے دوران عیاں ہوئی کہ زرداری دور میں امریکن بلا روک ٹوک آ جا رہے ہیں ۔ بلاشُبہ پرویز مشرف نے امریکا کی تابعداری میں پاکستانیوں اور پاکستان کے ساتھ نہ صرف غداری کی بلکہ قوم و مُلک کو ڈالروں کے عِوض بیچ دیا لیکن موجودہ حکومت تو اُس سے چار ہاتھ آگے ہے ۔ یہ لمبی کتھا ہے ۔ ویسے اگر آپ کو غلط فہمی ہے کہ میں فوجی جرنیلوں کی حمائت کرتا ہوں تو اسے دُور کر دیجئے ۔ زیادہ بات کرنا مناسب نہیں کہ بات ذاتیات پر آ جائے گی ۔ آئی ایس آئی کا ادارہ بڑا فعال ہوا کرتا تھا ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس میں سیاسی وِنگ یعنی مخالفین کو قابو کرنے کی شاخ بنا کر اس ادارے کی تباہی کی بنیاد رکھی تھی ۔ میڈیا کی آپ نے بات کی جو اس مُلک کی جڑیں کاٹنے میں برابر کا شریک رہا ۔ پھر جب اپنا بزنس ٹھنڈا ہوتے دیکھا تو انکشافات شروع کر دیئے ۔ کیا وہ میڈیا نہیں تھا جس نے 2007ء میں لال مسجد کے خلاف زہر آلود جھوٹا پراپیگنڈا کر کے پرویز مشرف کے ہاتھ مضبوط کئے اور اس نے مسجد کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے جولائی 2007ء میں درجنوں بے قصور نمازیوں اور سینکڑوں معصوم بچیوں کو فاسفورس بموں سے بھُون کر رکھ دیا تھا ۔ لال مسجد کے خطیب پر 29 جعلی مقدمات بنائے گئے تھے جن میں سے کسی ایک کا بھی آج تک کوئی ثبوت پیش نہ کیا جا سکا ۔ کیا سارا میڈیا آجکل پورے مُلک میں عُریانی اور فحاشی نہیں پھیلا رہا ؟ کیا یہ قومی خدمت ہے ؟

  4. نعمان

    بالکل بجا فرمایا آپ نے …

    میں نہ کلی طور پر میڈیا ، یا فوج یا سیاستدانوں کا حامی ہوں …. سب کی اپنی domain ہے اور اگر سب ایک بات پہ متفق رہیں یعنی پاکستان اور پاکستانیوں کی فلاح .. تو سب ٹھیک ہے ..

    ویسے آپ نے صحیح اندازہ لگایا کے میرا تبصرہ یہ سوچ کر لکھا گیا تھا کے آپ کے دل میں (نا اہل) جرنیلوں کے لئے نرم گوشہ ہے …اس کے لئے معذرت …

    خیر میڈیا کی زہر افشانیوں پہ آپکا تبصرہ بجا ہے …. میرا تو میڈیا سے تب ہی اعتماد اٹھ گیا تھا جب اس نے حدود آرڈیننس کے لئے ایک ہو کر مہم چلائی تھی سواۓ معدودے چند میڈیا کے لوگوں کے …

    اب تو صرف یہ دیکھ رہا ہوں کے میڈیا کی پستی کی کچھ حد ہے یا نہیں … چند مستثنیات تو سب جگہ ہوتی ہیں ….

    جہاں تک بھٹو کی بات ہے .. تو آپ اور کچھ اور حضرات جیسے ڈاکٹر صفدر محمود اور دوسرے لوگوں کے بیان کے مطابق … موجودہ پاکستان کی اکثر خامیوں کی بنیادی وجہ بھٹو ہی ہے …خیر فی زمانہ تو ہر کوئی بھٹو کی تعریف ہی کر رہا ہے دیکھتے ہیں .. پورا سچ کب عام لوگوں کی سمجھ میں آتا ہے ..

    اور وہ بھٹو (اسکی غلطیوں ) اور اسکے چھوڑے ہوئے عفریت یعنی PPP سے چھٹکارہ حاصل کرتے ہیں

  5. افتخار اجمل بھوپال Post author

    نعمان صاحب
    سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے آئین اور قانون کی دھجیاں اُڑا کر کل قومی اسمبلی میں اپنی مجرمانہ ذھنیت کا جو کھُل کر اظہار کیا وہ سُنا آپ نے ؟ آج تک ساری دنیا میں یہ ہوتا آیا ہے کہ صرف الزام لگنے پر وزیر ہو وزیر اعظم ہو یا صدر فوراً مستعفی ہو جاتے ہیں ۔ آصف علی زرداری سوِس کورٹ میں مجرم قرار دیا جا چکا ہے مگر صدر بنا بیٹھا ہے اور قوم سے نچوڑے ہوئے پیسوں سے اُس کا دفاع کیا جا رہا ہے ۔
    قومی اسمبلی کا کل کا اجلاس جوانی کے زمانے میں دیکھی ایک انگریزی فلم کا سین لگ رہا تھا جس میں مجرم پیشہ لوگ اپنی بہادری (جرائم) کی رو داد سناتے ہیں اور باقی مجرم اسے داد و تحسین دیتے ہیں

  6. نعمان

    بالکل سر ، سنا بھی اور افسوس بھی کیا …

    آپ کی بات بجا … لیکن آپ یہ بھی تو دیکھیں پاکستان میں جمہوریت اپنی روح کے مطابق آئ ہی کب تھی ….

    ہماری سیاسی جماعتیں …سیاسی ہے ہی کہاں ..یہاں کوئی مظلومیت کا ووٹ لے رہا ہے … کوئی مظلوموں کی مخالفت کا (یعنی مسلم لیگ )… کوئی عصبیت کا ووٹ لے رہا ہے (مندرجہ بالا کے علاوہ ہر جماعت )

    تو کوئی مذہبی فرقہ کا .. ایک وقت تھا کے میں سمجھتا تھا کے جماعت اسلامی ، فرقہ واریت کے خلاف ہے ….

    لیکن جب قریب سے مشاہدہ کیا تو اندازہ ہوا ،،، کے یہ لوگ تو خود ایک فرقہ بن گے ہیں .. اپنا مدرسوں کا وفاق ..اپنے مدرسے ، اپنا نصاب ،، اپنی مساجد (کم از کم کراچی کی حد تک ،،، باہر کا مجھے معلوم نہیں )

    ہونا تو یہ چاہیے کہ عوام ان کو ووٹ نہ دیں اور یہ خود بھی ووٹ اپنے منشور اور اپنے کاموں پہ مانگیں …. لیکن نہ ہم لوگ یعنی عوام سدھرتے ہیں اور نہیں ہی ہماری سیاسی جماعتیں …

    دیکھیں آگے آگے کیا پردہ غائب سے ظہور میں آتا ہے ….

    یہ سارے سیاستدان کم و بیش آپس میں ملے ہوئے ہیں …. ابھی رحمان ملک ہی چند دن پہلے دھمکی دہ رہے تھے شریفوں کو زبان بند رکھنے کی … ورنہ انکے خلاف بھی لاتعداد مقدمات کھل جایں گے …

    الله ہمیں نیک اور ایک بناۓ.. اور ہمیں ہماری نیکیوں کے مطابق نہیں … بلکہ اپنی لا متناہی رحمت کے مطابق اچھے حکمران دے … آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)