گمان ۔ ۔ ۔ ؟

میرے ہموطنوں کی اکثریت کافی گمان کرتی ہے ۔ ہر گمان بُرا فعل نہیں ہوتا ۔ مثال کے طور پر ایک مسافر اپنی گاڑی پر کہیں جا رہا ہے جہاں جانے کے دو راستے ہیں ۔ ایک راستے پر وہ ماضی بعید میں گذر چکا ہے لیکن وہ لمبا ہے ۔ دوسرا راستہ چھوٹا ہے مگر اس میں سے کئی راستے نکلتے ہیں ۔ مسافر گمان کرتا ہے کہ اگر وہ چھوٹے راستے سے گیا تو ناواقف ہونے کی وجہ سے وہ بھٹک جائے گا ۔ اسلئے طویل راستہ ہی اختیار کرتا ہے ۔ یہ گمان بُرا نہیں ہے ۔ لیکن کئی گمان بُرے ہوتے ہیں اور کچھ دین کے لحاظ سے گناہ بھی ہیں ۔ میرے ساتھ بیتا گمان کرنے کا تازہ ترین تجربہ کچھ یوں ہے

جب سے ہم لاہور سے واپس آئے (ایک سال سے) ہمارے گھر کی پانی کی سپلائی کا مسئلہ بنا ہوا تھا یعنی کبھی پانی آتا ہی نہ تھا اور کبھی تھوڑا آتا تھا ۔ آئے دن قیمتاً پانی کا ٹینکر منگوانا پڑتا تھا جو ایک مہم سے کم نہ ہوتا تھا ۔ کیپٹل ڈویلوپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے پانی کے ڈائریکٹر سے لے کر نیچے ڈپٹی ڈائریکٹر ۔ سب انجنیئر ۔ فورمین اور آپریٹر تک بار بار سب کی خدمت میں درخواست کی ۔ تب کہیں پیر مورخہ 12 مارچ 2012ء کو سی ڈی اے کے آدمی آئے اور اُنہوں نے میرے گھر کا پانی کا کنکشن کا معائینہ کرنے کیلئے زمین کی کھُدائی شروع کی

شروع ہی میں ایک پائپ نظر آیا جو میری معلومات کے مطابق ہمارے ایک ہمسائے کا تھا ۔ سی ڈی اے کے آدمیوں نے اس سے ہٹ کر کھدائی جاری رکھی ۔ تین فٹ کھدائی کے بعد پانی رسنا شروع ہوا ۔ جو میرے گھر کی پانی کی سپلائی والی پائپ سے نکل رہا تھا اور دوسری طرف کے ہمسائے کے گھر کی طرف سے بھی آ رہا تھا ۔ میں از راہِ ہمدردی اُنہیں بتانے گیا ۔ میرے بتاتے ہی انہوں نے کہا “آپ نے اپنا کام ٹھیک کرا کے ہمارا خراب کر دیا”۔

رات ساڑھے نوبجے میں بستر پر دراز ہوا تو مجھے یاد آیا کہ پہلے والے ہمسائے جن کے گھر کا پانی کا پائپ نظر آیا تھا نے چند سال قبل اپنی پانی سپلائی کی پائپ کی ایک جگہ سیمنٹ سے مرمت کروائی تھی ۔ میں نے اُنہیں ٹیلیفون پر پوچھا کہ اُنہوں نے پائپ کی کونسی جگہ مرمت کرائی تھی تا کہ معلوم ہو سکے کہ وہاں سے پھر پانی نکلنا شروع تو نہیں ہو گیا ۔ اُنہوں نے میری پوری بات سُنے بغیر کہا ” کام کرنے والوں نے گینتی مار کے ہمارا پائپ توڑ دیا ہو گا”۔ میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ ان کا پانی کا پائپ سطح سے صرف چھ انچ نیچے ہے اور محفوظ ہے ۔ پانی پانچ فٹ گہرائی پر ہمارے دوسرے ہمسائے کے مکان کی طرف سے آ رہا ہے ۔ مگر اُن کا کہنا تھا “اب کل ہی پتہ چلے گا جب ہمارے گھر پانی نہیں آئے گا”

یہ ہیں نیکی کرنے کے نتیجہ میں ایک ہی وقت میں گمان کرنے کے دو واقعات ۔ اللہ محفوظ رکھے

يَا أَيُّھَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ (سورت ۔ 49 ۔ آیت ۔ 12)

اے اہل ایمان ۔ بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)