پاکستان ؟

3,465 بار دیکھا گیا

سلطنتِ خدا داد پاکستان قائم رہنے کیلئے بنا اور اِن شاء اللہ قائم رہے گا

پاکستان کے کل اور آج کے متعلق اگر آپ یہ تقریر ٹی وی نیوز 1 پر پہلے نہیں سُنی تو اب ضرور سُنیئے تاکہ آپ جان سکیں کہ پاکستان معرضِ وجود میں آنے کے بعد سے کیسے کیسے دشوار وقتوں سے نبُرد آزما رہا مگر اللہ نے کامران کیا کیونکہ اکثریت محبِ وطن اور مخلص تھی ۔ پچھلی ایک دہائی سے پاکستان کا جو حال کیا گیا ہے ایسا ماضی میں نہ تھا

https://www.facebook.com/photo.php?v=104302499612263

This entry was posted in تاریخ, روز و شب, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

7 thoughts on “پاکستان ؟

  1. نورمحد

    اکثریت محبِ وطن اور مخلص تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    آپ نے بالکل درست کہا ہے ۔ ۔۔اور حال میں اسی چیز کی کمی ہے :cry: :cry:

  2. نعمان

    پاکستان کی ناکامی ایک ایسی ریاست کے طور پر جہاں کے رہنے والے امن و سکوں سے رہ سکیں اس کی ایک سے زیادہ جہتیں ہیں …

    جو جس مکتبہ فکے سے تعلق رکھتا ہے اسے ..اسی سے متعلق وجوہات نظر آتی ہیں …

    آج کل اوریا مقبول جان صاحب ، علامہ اسد ر ح کا ذکرخیر پھر سے کر رہے ہیں … کچھ تاریخ کے اوراق پھر سے کھل کے سامنے آ رہے ہیں … بات سادہ ہے .. اگر نئے ملک یعنی موجودہ پاکستان کا نظام چاہے وہ حکومتی ہو، تعلیمی ہو، عدالتی ہو، فوجی ہو یا قانون نافذ کرنے کا یعنی پولیس کا …اگر ووہی رکھنا تھا جو 1947 سے پہلے کا تھا یعنی انگریزوں کا …. تو نیا ملک بنا نے کی ضرورت ہی کیا تھی …

    انگریز نے ہم کو غلام بناۓ رکھنے کے لئے جو مختلف نظام system دے وہ اس سے مختلف تھے جو انگلینڈ میں تھے یا ہیں … کیا وجہ ہے کے ہم آج تک فوج کا نظام نہیں بدل پاۓ..
    حالانکہ یہ تو ظاہر سی بات ایک عقل کا اندھا بھی سمجھ سکتا ہے … کے 1947 سے پہلے اور بعد میں فوج کا رول مختلف ہے …تو اس کے لئے الگ نظام بنانا پڑے گا یا کم از کم فوج کے کنٹونمنٹ اور DHAs ختم کر کے انکو عوام کے ساتھ رہائش رکھنی پڑے گی …..

    فوج کا نظام تو ایک مثال ہے ..

    اسی طرح بنیادی تعلیم یعنی primary education کا نظام ہے … جب 75 % بچے پڑھیں گے ہی نہیں یا صحیح نہیں پڑھے گے تو ملک میں ترقی کہاں سے ہو گی … اور یہ نظام بالادست طبقے کے لئے ضروری ہی کیونکہ انکی آنے والی نسل کا مستقبل محفوظ ہے .. کیونکے کا انکا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے .. اگر ہے تو کس سے ان 75 % عوام کے بچوں سے جن کی بنیاد ہی ٹیڑھی ہے …جو اپنے ہی ملک کی universties کے لئے misfit ہیں …

    آپ لکھتے رہیے، کیا پتہ کل ہمیں کوئی ایسا لیڈر مل جاۓ جو ہمارے ملک کو اس رہ پر دل سکے جس کے لئے علیحدہ ملک بنایا تھا

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    نعمان صاحب
    بات آپ کی درست ہے کہ پاکستان بنایا تو اسلئے گیا تھا کہ برِ صغیر کے مسلمان اپنے دین کے مطابق اپنی سیاسی ۔ معاشی اور معاشرتی زندگی گذار سکیں ۔ یہی وہ جواز ہے جس کی بنا پر قائد اعظم نے مسلمانانِ ہند کیلئے ایک علیحدہ ملک کا مقدمہ لڑا اور جیتا تھا ۔ بعد میں کیا ہوا یہ ایک لمبی کہانی ہے جو تبصرے میں بیان کرنا مناسب نہیں
    آپ نے چھاؤنیوں کے ساتھ ڈی ایچ اے کا ذکر کیا ہے ۔ ھونا تو چاہیئے تھا کہ چھاؤنیاں ختم کی جائیں مگر ان کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا۔ ڈی ایچ اے کی پنیری تو پاکستان بننے کے بہت بعد میں لگائی گئی ۔ اس کے خالق کراچی والے ہیں ۔ لاہور اور راولپنڈی میں ڈی ایچ اے کراچی ہی کے پروردہ پرویز مشرف نے بنائے ۔ آپ شاید یقین نہ کریں ۔ فوجی افسروں کو پلاٹوں اور کالونیوں کا چسکا ذوالفقار علی بھٹو نے لگایا تھا تاکہ وہ مصروف رہیں اور اُس کی طرف نظر نہ کریں لیکنعوام کے خلاف ایک بڑی اور گھناؤنی سازش بے نقاب ہونے پر اس فوجی جرنیل کے ہاتھوں مارا گیا جسے اُس نے بے ضرر سمجھتے ہوئے آرمی چیف بنایا تھا
    البتہ خیال رہے کہ عقل کے اندھوں کو نہ سُجھائی دیتا ہے اور نہ سمجھ آتا ہے

  4. نعمان

    اجمل صاحب ،

    بات پاکستان کی ہو رہی ہے … اور آپ کراچی بمقابلہ لاہور پنڈی کو لے آئے.

    جناب غلطی سب کی ہے … کس نے شرو ع کیا اور اب کون فائدہ اٹھا رہا ہے سب کو دیکھیں ….

    خیر آپ کی عصبیت آپ کو مبارک ہو …..

    میں نے پچھلے تبصرہ میں صرف چند مثالیں لکھیں تھیں .. فوج کو بطور ادارہ نشانہ نہیں بنایا تھا .. لیکن آپ نے پنجابی ہونے کا ثبوت دیا …

    اور عام پنجابی کی طرح کراچی اور سندھ کی بات شروع کر دی ……آخر آپ پنجاب کے رہنے والے اتنے متعصب اور دوسروں سے نفرت کرنے والے کیوں ہوتے ہو …

    اب یہ نہیں کہیے گا کے پنجابی یا آپ متعصب نہیں ہوتے … متعصب تو فلاں اور فلاں ہوتے ہیں …

    آپ کسی بھی غیر پنجابی سے پوچھ لیں ١٠٠% لوگ کہیں گے پنجابی متعصب ہوتا ہے .. ثبوت کے طور پہ آپ جیسے بہتر آدمی کا تبصرہ حاضر ہے …. سوال گندم، جواب چنا

  5. افتخار اجمل بھوپال Post author

    نعمان صاحب
    چھاؤنی تو انگریز حکمرانوں نے ہر بڑے شہر میں بنائی تھی ۔ آپ کا ضیال درست ہے کہ پاکستان بننے کے بعد انہیں ختم کر دینا چاہیئے تھا مگر اُلٹ ہوا ۔
    آپ نے طرح لگائی ہے “سوال گندم، جواب چنا”۔ لگتا ہے کہ تعصب کا خیال آتے ہی آپ کو میرا جواب اصل کی بجائے کچھ اور نظر آنا شروع ہو گیا ۔ ذرا پھر سے میرے جواب پر نظر ڈالئے اور دیکھیئے کہ میں نے آپ کے لکھے سے کھُلے الفاظ میں اتفاق کیا تھا ۔
    اب جس طرح کراچی میں کئی چھاؤنیاں اور کئی ڈی ایچ اے بن چکے ہیں راولپنڈی کے چاروں طرف فوجیوں کی کالونیاں ہیں ۔ لاہور میں چھاؤنی کے علاوہ ایک کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی تھی جسے پرویز مشرف کے دور میں ڈی ایچ اے بنا دیا گیا ۔ یہ پنیری لگنے کے بعد ایک اور ڈی ایچ اے پھوٹ پڑی جو زرداری حکومت کے بل بوتے افزائش پا رہی ہے
    آپ کا فقرہ “غیر پنجابی سے پوچھ لیں ١٠٠% لوگ کہیں گے پنجابی متعصب ہوتا ہے” ۔ ہی ثابت کرتا ہے کہ متعصب کون ہے ۔ خیر مجھے اس پر بحث نہیں کرنا صرف ایک اور حقیقت واضح کرنا ہے کہ اگر پنجابی ہی کی بحث چھیڑنا ہے تو سندھ میں جتنے بھی بھٹی اور بھٹو ہیں وہ پنجاب ہی سے کوچ کر کے گئے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جسے مُغلوں نے پنجاب کا نام دیا موجودہ پنجاب (بھارت والا ملا کر) اُس کا ایک حصہ ہے ۔ سرائیکی علاقے جو اب سندھ اور خیبر پختونخوا کا حصہ ہیں یہ پنجاب میں شامل تھے ۔ اس کے علاوہ جس علاقے کو صوبہ ہزارہ بنانے کی کچھ لوگ بات کر رہے ہیں یہ بھی پنجاب میں تھا
    کیا کراچی میں لاکھوں پنجابی اور پٹھان نہیں رہتے ؟
    کیا آپ نہیں جانتے کہ کراچی پاکستان کا میٹروپولٹن شہر اور کمرشل ہب بن چکا ہے اور اس طرح کے شہر مُلکی معاشرت پر بہت اثر رکھتے ہیں ۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ مجھے پنجابی قرار دے رہے ہیں ۔ ہاں میں اس لحاظ سے پنجابی ہوں کہ میرا ڈومیسائل اسلام آباد کا ہے اور رہائش بھی اب اسلام آباد میں ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ آپ کے اتنے رشتہ دار کراچی میں نہ رہتے ہوں جتنے میرے بہت قریبی رہتے ہیں

  6. نعمان

    جناب بھوپال صاحب السلام و علیکم ،

    مجھے آپ سے نہ پنجاب کی بحث کرنی ہے اور نہ کراچی کی …

    بات سادہ سی ہے … میں نے ایک کمنٹ کیا بحثیت پاکستانی کے …

    کیونکے آپ کو میرے بیک گراونڈ کا پتا ہے آپ اسے کراچی اور سندھ میں الجھانے لگے ….

    میں اس قسم کی کسی تقسیم کا قائل نہیں ہوں جو انسانوں میں اور خاص طور پہ مسلمانوں میں دوری یا نفرت پیداہ کرے …

    جہاں تک موجودہ صوبائی تقسیم کا تعلق ہے .. یہ میری سمجھ میں نہیں آتی …. اب یہ جیسی بھی ہے اس کو قبول کرنا مجبوری ہے …

    پنجاب کتنا بڑا تھا اور سندھ کتنا چھوٹا تھا … اردو بولنے والے کہاں سے آے … یہ سب حالات کا تسلسل ہے …

    ورنہ اگر صرف منظر نامے کو بدلتے رہے تو سب بدلتا رہتا ہے …

    اردو بولنے والے پاکستان میں اجنبی -… اگر 50 سال کی تاریخ کو دیکھا جاۓ…

    200 سال پہلے بھٹو بھٹی سندھ میں اجنبی …

    2500 سال پہلے آریا جن سے آجکل پاکستان اور ہندوستان کی نسلیں ہیں وہ بھی اجنبی …دراوڑ اصل مقامی

    آپ پنجابی نہیں ہیں مجھے یہ پتا ہے …لیکن آپ بسا اوقات حقائق کو توڈ مروڈ کر پیش کرتے ہیں یہ غلط ہے …

    خلاصہ یہ ہے کہ پنجاب کے رہنے والے دوسرے لوگوں کی طرح جب بات فوج کی آتی ہے … تو آپ کی فوج سے محبت جاگتی ہے …

    آپ کو فوج کے دفاع میں کچھ اور نہیں سوجھتا تو … سامنے والے کی بات کو گھومنا شروع کر دیتے ہیں …

    پاک فوج زندہ باد،

  7. افتخار اجمل بھوپال Post author

    نعمان صاحب
    آپ کے تصرے پڑھ کر میں بعض اوقات مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ رسول اللہ سیّدنا محمد ﷺ کی حدیث ہے کہ ایک صحابی ؓ کسی شخص کی سفارش لے کر آئے تو سیّدنا محمد ﷺ نے پوچھا “کبھی اس کے ساتھ ایک گھر میں رہے ہو ؟” جواب دیا “نہیں”۔ پھر پوچھا “اس کے ساتھ کبھی سفر پر گئے ہو ؟” جواب ملا “نہیں”۔ اس پر سیّدنا محمد ﷺ نے فرمایا “تم اسے نہیں جانتے”۔
    درست کہ ایک اچھا رھنما اچھائی کی طرف لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ قائدِ اعظم کی مثال دوں گا ۔ انہوں نے کبھی کسی کو بُرا نہ کہا تھا ۔ صرف اپنا مقصد بار بار سمجھانے کی کوشش کی تھی ۔
    ویسے آپ کو یہ کیسے خیال ہوا کہ میں ووٹ عمران کو نہیں دوں گا ؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)