ایک معذرت ۔ ایک وضاحت

2,462 بار دیکھا گیا

معذرت
میرے بلاگ کا سرور کل یعنی 29 مارچ بروز جمعرات صبح 6 بجے سے شام سوا 6 بجے تک بوجہ مینٹننس بند رہا

جن خواتین و حضرات کو اس بندش کے باعث کوفت کا سامنا کرنا پڑا ہو اُن سے غیر مشروط معافی
گر قبول اُفتَد زہے عز و شرف

وضاحت
میں نے عید میلادالنبی کے متعلق ایک کتبہ اور اللہ کا فرمان نقل کئے تھے ۔ اس پر ایک تبصرہ قابلِ اہم وضاحت آیا تو سوچا کہ سب قارئین و قاریات کی رائے سے مستفید ہونے کیلئے تبصرہ اور اس کا میری طرف سے جواب سرِ ورق پر شائع کر دوں

قاری کا تبصرہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے، اور ظاہر ہے کسی کو بھی نہیں‌ہوگا۔ اور قرآن کی ایک ایک آیت پر ایمان لانا فرض ہے، لہذا سورہ ضحیٰ میں جو اللہ رب کائنات نے فرمایا “واما بنعمت ربک فحدث ’’اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو‘‘ تو اس آیت کو بیان کرنے میں‌کوئی حرج نہیں ہے، مزید تفصیل کے لیے اس آیت کی تفسیر پڑھ لیجیے۔
دوسری بات یہ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا ہے، بعد میں‌اس کے مختلف مترجمین نے ترجمہ کیے، تو کچھ لوگ ترجمہ کرنے میں بھٹکے بھی ہیں اور کچھ عالم نہ ہوکر بھی ترجمہ کر بیٹھے اور صحیح ترجمہ نہیں کرپائے لہذا ترجمہ کے معنی و مفہوم میں کچھ ذرا سی تبدیلی پیدا ہوگئی، میری نظر میں امام احمد رضا کا ترجمہ ایک اچھا ترجمہ ہے کیوں کہ اُس میں ایک ایک چیز کا خیال رکھ کر ترجمہ کیا گیا ہے۔ ایک آیت بطور مثال مختلف تین مترجمین سے پیش کر رہا ہوں،

سورۃ البلد کی آیات ملاحظہ کریں أَلَمْ نَجْعَل لَّہُ عَیْنَیْنِO وَلِسَاناً وَّشَفَتَیْنِO وَہَدَیْنَاہُ النَّجْدَیْنِO (البلد:8 تا 10)

ترجمہ: ”کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہ بنائیں۔ اور زبان اور دو ہونٹ۔ اور اسے دو ابھری چیزوں کی راہ بتائی۔ (کنز الایمان، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا)
کیا ہم نے اس کو دو آنکھیں۔ اور زبان اور دو ہونٹ نہیں دیئے۔ اور پھر ہم نے ان کو دونوں دونوں رستے (خیر و شر کے) بتلادیئے۔ (مولوی اشرف علی تھانوی)
بھلا ہم نے نہیں دیں اس کو دو آنکھیں۔ اور زبان اور دو ہونٹ۔ اور دکھلادیں اس کو دو گھاٹیاں۔ (مولوی محمود الحسن دیوبندی)۔
مولوی اشرف علی تھانوی نے ”نجد” کے معنی خیر و شر کے رستے بتادیئے جبکہ مولوی محمود الحسن دیوبندی نے ”النجد” کے معنی دو گھاٹیاں (وادیاں) بتادیں۔
آیات بتارہی ہیں کہ اس کو اللہ نے دو آنکھیں دیں، ایک زبان اور دو ہونٹ، اگلی آیت میں راہ کا تعین ہے اور وہ ہے دو ابھری ہوئی جگہیں۔ یہ اصل میں اشارہ ہے اس گود کے بچے کی طرف کہ جب وہ اپنے ان دو ہونٹوں سے ماں کے سینے پر دو ابھری جگہوں میں اپنی غذا کی راہ پاتا ہے۔ ماں کا یہ پستان گھاٹیاں نہیں ہیں اور نہ ہی خیر و شر کے دو راستے بلکہ یہ اس کے سینے پر دو ابھری چیزیں ہیں جس کو ہم پستان کہتے ہیں اور عربی میں لفظ ”نجد” کے معنی ہی بلند جگہ کے ہیں اور عربی میں Plateauیعنی ابھری ہوئی زمین کو نجد کہتے ہیں۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا ترجمہ کرتے وقت ایک ایک بات کا خیال رکھتے ہیں اور یہاں لفظ پستان بھی نہیں لائے بلکہ دو ابھری چیزوں کے ساتھ ترجمہ کرکے فصاحت و بلاغت کو بھی قائم رکھا اور شرم و حیا کا بھی پاس رکھا اور حسن سلاست بھی قائم ہے جبکہ دیگر مترجمین ”نجد”کی اصطلاح کی گہرائی تک ہی نہ پہنچ سکے۔ (ماخوذ از، اردو تراجم قرآن کا تقابلی مطالعہ، پروفیسر مجید اللہ قادری)

میرا جواب
میرے بلاگ پر تشریف لانے اور اپنی مفید رائے سے مستفید کرنے پر مشکور ہوں
قرآن شریف کی کسی آیت کا بغیر سیاق و سباق ترجمہ لے کر رائے قائم کرنا درست نہیں ہے ۔ سورت الضحٰی کی متذکرہ آیت کو باقی آیات کے ساتھ ملا کر پڑھیئے تو وہ مطلب نہیں نکلتا جو کتبہ لکھنے والے اور آپ نے لیا ہے ۔ یہ خیال رہے کہ مخاطب سیّدنا محمد ﷺ ہیں

سورت ۔ 93 ۔ الضحٰی ۔ آیات ۔ 6 تا 11 ۔ أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَى 0 وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَھَدَى 0 وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَی 0 فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْھَرْ 0 وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْھَرْ 0 وَأَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ 0

ترجمہ ۔ بھلا اس نے تمہیں یتیم پا کر جگہ نہیں دی؟ 0 اور راستے سے ناواقف دیکھا تو سیدھا راستہ دکھایا 0 اور تنگدست پایا تو غنی کر دیا 0 تو تم بھی یتیم پر ستم نہ کرنا 0 اور مانگنے والے کو جھڑکی نہ دیں 0 اور اپنے پروردگار کی نعمتوں کا بیان کرتے رہنا 0

اب دوسرا مسئلہ جو آپ نے احمد رضا بریلوی صاحب کے نام منسوب کیا ہے
“نجد” کے معنی عورت کے پستانوں کی مانند ” اُبھری ہوئی چیز” کیسے بنے میری سمجھ میں نہیں آ رہا
” نجد” فعل اور اسم دونو طور پر استعمال ہوتا ہے ۔ سورت ۔ 90 ۔ الْبَلَدِ ۔ آیت ۔ 10 میں ” نجدین” آیا چنانچہ بطور اسم استعمال ہوا ہے ۔ ” نجد” اسم ہو تو اس کے معنی ہیں “سطح مرتفع” یا “بلند ہموار مقام” جسے انگریزی میں plateau کہتے ہیں ۔
فعل کے طور پر نجد کے معنی ہیں ۔ جان بچانا ۔ چھڑانا ۔ نجات دلانا ۔ رہا کرانا
عورت کے سینے کے اُبھاروں کو “سطح مرتفع” یا “بلند ہموار مقام” نہیں کہا جا سکتا
محمود الحسن اور اشرف علی تھانوی صاحبان کے تراجم عربی لفظ ” نجد” کے قریب ترین ہیں
سورت ۔ 90 ۔ الْبَلَدِ کی آیات ۔ 5 تا 11 پڑھیں تو عورت کے سینے کے اُبھار کسی طرح فِٹ نہیں ہوتے
نیچے طاہر القادری صاحب کا ترجمہ نقل کر رہا ہوں جو فی زمانہ بریلوی مسلک کے سب سے بڑے عالم ہیں ۔ انہوں نے بھی “دو راستے” لکھا ہے

سورت ۔ 90 ۔ الْبَلَدِ ۔ آیات ۔ 5 تا 11 ۔ 5 ۔ أَيَحْسَبُ أَن لَّن يَقْدِرَ عَلَيْہِ أَحَدٌ
کیا وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اس پر ہرگز کوئی بھی قابو نہ پا سکے گا؟
6 ۔ يَقُولُ أَہْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًا
وہ (بڑے فخر سے) کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال خرچ کیا ہے
أَيَحْسَبُ أَن لَّمْ يَرَہُ أَحَدٌ7 ۔
7. کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے (یہ فضول خرچیاں کرتے ہوئے) کسی نے نہیں دیکھا
8 ۔ أَلَمْ نَجْعَل لَّہُ عَيْنَيْنِ
کیا ہم نے اس کے لئے دو آنکھیں نہیں بنائیں
9 ۔ وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ
اور (اسے) ایک زبان اور دو ہونٹ (نہیں دئیے)
10 ۔ وَہَدَيْنَاہُ النَّجْدَيْنِ
اور ہم نے اسے (خیر و شر کے) دو نمایاں راستے (بھی) دکھا دیئے
11 ۔ فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃَ
وہ تو (دینِ حق اور عملِ خیر کی) دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہی نہیں ہوا

This entry was posted in ذمہ دارياں, روز و شب, معاشرہ, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

9 thoughts on “ایک معذرت ۔ ایک وضاحت

  1. نعمان

    انکل بھوپال صاحب ،،

    آپ کے اس سرور نے تو بہت پریشان کیا .. میں تو سمجھا site ہی ہیک ہو گئی اب کوئی نیا ویب ایڈریس بنائیں گے آپ .

    کیونکے بات عید میلاد کی بحث سے شروع ہوئی تھی تو میں یہ بھی ذکر کرنا ضروری سمجھوں گا .. کے عام طور پر ایسی بحث کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا …

    مسلمان کو الله اور اسکے حبیب و رسول صلی الله علیہ وسلم کی بات پر عمل کرنا چاہیے .. اور ان باتوں پر عمل ایسے کرنا چاہیے جیسے آپ صلی الله علیہ وسلم نے کر کے دکھایا اور صحابہ کرم رضی الله عنہم نے سیکھ کر کے عمل کر کے دکھایا …

    اب ایسے لوگ بھی یا نام نہاد عالم بھی نظر آتے ہیں جو قران اور حدیث کے ایسے مطالب نکالتے ہیں جو نہ الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم نے بتاۓ اور نہ ہی صحابہ کرم رضی الله عنہم نے سیکھے اور نکالے …
    رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
    خير القرون قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم
    ”سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے پھر وہ جو ان کے قریب ہوں ، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں ”

    لہذا بہتر یہی ہے کہ جو مسائل فرقہ واریت بڑھائیں مسلمان ان میں الله کے رسول رسول صلی الله علیہ وسلم کے عمل کو دیکھے اور اگر امتی کے عمل کو دیکھنا ہو تو صحابہ کرام رضی الله عنہم کے عمل کو.
    ویسے یہ اتنا آسان بھی نہیں ہے کیونکہ بعض لوگ اپنے خود ایجاد کردہ اعمال اور عقائد کے تحفظ کے لئے صحابہ کرام رضی الله عنہم کا نام لینا بھی گناہ سمجھتے ہیں … ہاں کوئی 14 ویں صدی کے نام نہاد عالم ہوں تو انکے نام کے ساتھ القاب ہی اتنے ہوں گے کے اگر کوئی غیر مسلم پڑھے تو سمجھے شاید یہ (عالم معاذ الله) نبی و رسول سے بھی اونچی چیز ہیں …

  2. ﺳﻌﻴﺪ

    ﺁﭖ ﮐﮯ ﺗﺒﺼﺮﮮ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻧﺎﻗﺺ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﮨﮯ … ﺩﻭ ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﻔﺴﻴﺮ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ ﺭﺿﯽ ﷲ ﻋﻨﮭﻤﺎ ﺳﮯ ﻣﻨﻘﻮﻝ ﮨﮯ….. ﺻﺎﻭﯼ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﻴﮟ: ﻫﺬﺍ ﻗﻮﻝ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ و ﺍﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ…… ﺁﻳﺖ ﮐﮯ ﺫﻳﻞ ﻣﻴﮟ ﺻﺎﻭﯼ ﺩﻳﮑﮭﻴﮟ

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    نعمان و سعد صاحبان
    میں آج تک صرف یہی سمجھ پایا ہوں کی اوّل قرآن شریف پھر حدیث پھر صحابہ ؓ پھر اُن کے شاگرد ۔ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد جو چیز معروف طریقہ سے 300 سال تک نہ ہوئی اور بعد میں پیدا کی گئی وہ درست نہیں مانتا

  4. وھاج الدین احمد

    شکر ہے اجمل بھائی آپ نے مشکل رفع کردی۔ میں نے زندگی میں پہلی دفعہ یہ “تفسیر” سنی نجد کے معانی کی
    اللہ ہمیں سب کو سیدھے راستے پہ قائم رکھے میں تو پڑھ کے بہت پریشان ہو گیا تھا

  5. افتخار اجمل بھوپال Post author

    مرزا صاحب
    آپ بلا وجہ اپنا قیمتی وقت ضائع کر رہے ہیں ۔ میں نے کونسی خانقاہ کا ذکر کیا ہے جو آپ اسے لے بیٹھے ہیں اور دوسرے قصے لے بیٹھے یہن جن کا میری تحریر سے کوئی تعلق نہیں ؟ شائع شدہ اصول کے مطابق آپ کا یہ تبصرہ حذف کیا جانا چاہیئے تھا

  6. مرزا

    اگر آپ کو لگتا ہے کہ میرا تبصرہ اس قابل نہیں ہے تو آپ بالکل حذف کردیجیے، بات یہ ہے کہ آپ خود کہتے ہیں کہ جو چیز بعد میں‌شروع کی گئی میں نہیں مانتا تو میں تو فقط یہ ہی سمجھانے کی کوشش رہا ہوں کہ پھر تو سینکڑوں ایسی چیزیں ہیں جو آج ہو رہی ہیں اور حضور کے زمانے میں نہیں تھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں‌تو بخاری شریف بھی نہیں تھی۔ اللہ سمجھنے کی توفیق دے۔
    یہ میرا آخری تبصرہ ہے کسی بھی بات کو میری طرف سے برا لگنے پر معذرت۔ الحمدللہ کہ میں نے اپنی جان کے لیے کسی کو کچھ نہیں کہا، ہاں البتّہ شریعت کے احکام کو سمجھانے میں اگر میں نے شدّت کو اختیار کیا ہے تو وہ اللہ اور اللہ کے رسول کے حکم کے مطابق اختیار کیا ہے اُس میں اگر کسی کا دل دُکھّا ہو تو مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ میں اللہ کی رِضا چاہتا ہوں؛ اللہ کے بندوں کی رِضا سے مجھے کوئی بحث نہیں۔ مَا عَلَیْنَآ اِلَّا الْبَلٰغُ۔

  7. افتخار اجمل بھوپال Post author

    مرزا صاحب
    بات صرف اتنی سی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی محبت کا تقاضہ اللہ کے احکامات کی مکمل پابندی ہے نہ کہ رسول اللہ ﷺ کے نام پر جلوس نکالنا یا ایسی محفلیں جمانا یا گانا یا دھمال ڈالنا جس میں اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی ہوتی ہے ۔ قبروں پر چڑھاوے اور منتیں ماننا دین اسلام کا حصہ نہیں ہیں
    مسلمان جب خوش ہوتا ہے تو اللہ کو یاد کر کے شکر ادا کرتا ہے اور جب غمگین ہوتا ہے تو بھی اللہ کو یاد کر کے اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)