What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

کِنّے کِنّے جانا بِلو دے دے گھر

348 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Jan 12 2012

عمران خان کی سونامی کا حصہ بننے کيلئے تيار نوجوانو ۔ نواز شريف کے قدم بڑھانے والے جوانو ۔ جماعتِ اسلامی کے جلسے کو رونق بخشنے والے پِير و جواں اور اس ملک پاکستان سے محبت رکھنے والے باقی جوانو اور بزرگو

السلام عليکم

اين آر او عملدآمد کيس کے فيصلے ميں عدالتِ عظمٰی نے ايک اختيار يہ بھی رکھا ہے کہ اس ملک پاکستان کی قسمت کا فيصلہ اس ميں بسنے والے 8 کروڑ بالغ عورتيں اور مرد کريں

ايسا وقت اس سے پہلے مسلمانانِ ہند پر آيا تھا تو اُنہوں نے اپنا فرض احسن طريقہ سے نبھاتے ہوئے اپنی جانوں اور مال کی پرواہ نہ کی اور ہميں يہ ملک عطا کر گئے

اب اس ملک کی حفاظت اور پرورش ہم آپ کے ہاتھ ميں ہے

يہ امتحان ہم آپ پر آيا ہے ۔ آپ اگر چاہتے ہيں کہ آئين و قانون کی حکمرانی ہو تو ميدان ميں اُتريں اور حکمرانوں پر ثابت کر ديں کہ پچھلے کئی سالوں کی لوٹ مار اور ملکی اداروں کی بگڑتی ہوئی حالت کو مزيد برداشت نہيں کيا جا سکتا

مت بھوليں کہ يورپ کے ايک ملک ميں 35 ہزار افراد نے بغير ايک ٹہنی بھی توڑے اور بغير کسی کاغذ کو بھی آگ لگائے اپنے لُٹيرے صدر کو بھاگنے پر مجبور کر ديا تھا

ايسے مواقع بار بار نہيں آيا کرتے ۔ يہ وقت نکل گيا تو پھر اپنے ہاتھوں اپنی ہی تباہی کے سوا کچھ نہ ملے گا

4 تبصرے to “کِنّے کِنّے جانا بِلو دے دے گھر”

  1. MyAvatars 0.2 یاسر خوامخواہ جاپانی کا کہنا ہے کہ:

    پاکستان کا مستقبل آٹھ کروڑ بالغوں کے ہاتھ میں ہے۔
    آٹھ کروڑ میں عاقل کتنے ہو سکتے ہیں؟ :oops: :oops: :oops:

  2. MyAvatars 0.2 کِنّے کِنّے جانا بِلو دے دے گھر | Tea Break کا کہنا ہے کہ:

    [...] کِنّے کِنّے جانا بِلو دے دے گھر [...]

  3. افتخار اجمل بھوپال کا کہنا ہے کہ:

    ياسر صاحب
    قومی معاملات ميں زيادہ تر عقل بند ہی ہيں ورنہ ملک کا يہ حال نہ ہوتا

  4. MyAvatars 0.2 علی کا کہنا ہے کہ:

    دل تو کر رہا ہے لکھ دوں کہ ہمارے ہاں بالغ کبھی بالغان کے لیے لگنے والی فلم نہیں دیکھنے گئے وہ بھی نا بالغان کو دیکھنا پڑتی ہےووٹ کیا خاک ڈالیں گے لیکن آپ کے سنجیدہ بلاگ کو خراب نہیں کرنا چاہ رہا لہذا نہیں لکھتا

اپنی رائے دیجیے

درج ذیل خانوں میں آپ اردو لکھ سکتے ہیں ۔ انگریزی لکھنے کے لیے Control اور Space کے بٹن ایک ساتھ دبائیے

اہم اطلاع :- غیر متعلق اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے ۔ مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق ۔رکھتا ہے ۔ مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

XHTML: ان ٹیگز کے استعمال کی اجازت ہے: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)