کيا ہر کام کيلئے امريکا جانا پڑتا ہے

کہيں وسليے کی شکائت ہے تو کہيں دولت کی کمی کی ليکن اصل بات ہے ہمت اور محنت کی مگر حرام سے بچتے ہوئے ۔ پاکستان بلند ترين گليشيئروں ۔ بلند ترين پہاڑوں ۔ درميانے پہاڑوں ۔ سطح مرتفع ۔ ميدان اور صحرا کا مجموعہ ہے اور اس کے بطن ميں چٹيل پہاڑ ۔ سرسبز پہاڑ ۔ صحرا اور سرسبز ميدان پائے جاتے ہيں ۔ ايسے جغرافيے اور ايسی آب و ہوا والا قطع زمين ہو تو اس ميں بسنے والے ذہين اور جفاکش ہوتے ہيں ہماری خود غرضی اور نا اتفاقی نے ہميں ناکارہ بنا ديا ہے ۔ پھر بھی “ذرا نم ہو تو يہ مٹی بڑی زرخيز ہے ساقی” کے مصداق غبار ميں چھپے لعل گاہ بگاہ اپنی چمک دکھاتے رہتے ہيں

This entry was posted in روز و شب, سبق, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

One thought on “کيا ہر کام کيلئے امريکا جانا پڑتا ہے

  1. Pingback: کيا ہر کام کيلئے امريکا جانا پڑتا ہے | Tea Break

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)