نتھی کر ديا گيا

ميں اپنے احساسات کو چھپائے پھر رہا تھا ليکن خرم شہزاد خرم صاحب نے نتھی کر ديا اور کچھ کہنا پڑ ہی گيا

2012ء میں کیا خاص یا نیا کرنا چاہتے ہیں؟
نيا اُسے کہتے ہيں جو پہلے نہ ہوا ہو ۔ وہ تو ايک ہی ہے ” آخری سفر”

2012ء میں کس واقعہ کا انتظار ہے؟
نيکی کے فرشتے کا ۔ بصورتِ ديگر اللہ کے قہر کا

2011ء کی کوئی ایک کامیابی؟
بقائمی ءِ ہوش و حواس اللہ پر يقين کے ساتھ زندہ رہنا ميرے نزديک بہت بڑی کاميابی ہے

2011ء کی کوئی ایک ناکامی؟
وہی جو کئی سال سے ہوتی چلی آ رہی ہے ۔ ہموطنوں کی عقلوں پر پڑے پردے اُٹھا نہ سکنے کی

2011ء کی کوئی ایک ایسی بات جو بہت یادگار یا دل چسپ ہو؟
موٹر سائيکلس سوار کا مجھے تيز رفتاری سے ٹکر مارنے کے بعد موٹر سائيکل کے ساتھ اس طرح گھسيٹنا کہ ميرا سر سڑک پر ہتھوڑے کی طرح ٹکراتا رہے ۔ جو بقيہ زندگی کيلئے ميری ياد داشت مجروح کر گيا اور قوتِ شامہ سے محروم کر گيا

سال کے 2012ء کے آغاز پر کیسا محسوس کررہے ہیں؟
انسان کو عمر نہيں ملکی حالات بوڑھا کر ديتے ہيں ۔ اس جمہوريت سے لبيا ميں معمر قذافی کی آمريت اچھی تھی جہاں انسانی حقوق سب کے يکساں تھے اور سب کو ملتے تھے

کوئی چیز یا کام جو 2012ء میں سیکھنا چاہتے ہوں؟
وہ علم يا عمل جس سے منافق ننگے نظر آئيں

ميں کسی اور کو نتھی نہيں کر رہا جس کيلئے خرم شہزاد خرم صاحب سے درگذر کا طلبگار ہوں

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

5 thoughts on “نتھی کر ديا گيا

  1. افتخار اجمل بھوپال Post author

    ياسر صاحب
    خرم شہزاد خرم صاحب نے 8 جنوری کو نتھی کيا تھا ۔ ميں نے اسے 10 جنوری کو پہلی بار پڑھا اور جواب لکھ کر محفوظ کر ليا کيونکہ سوائے خبروں کے ميں تحرير کو لکھ کر محفوظ کر ليتا ہوں ۔ 1 يا 2 دن بعد اُسے دہراتا ہوں پھر شائع کرتا ہوں ۔ ميری بيٹی کو بخار تھا جو تيز ہو گيا ساتھ اسہال بھی ہو گيا 11 جنوری کو اُسے ہسپتال داخل کرايا ۔ 3 دن ميرے بھی ہسپتال ميں گذرے ۔ سو آج شائع کيا ۔ آپ نے شايد آج ہی لکھا ہے

  2. Pingback: نتھی کر ديا گيا | Tea Break

  3. علی

    افتخار صاحب اللہ آپکو لمبی عمر عطا فرمائے اور آپکو صحت و تندرستی عطا فرمائے۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)