مقتدر کون اور استثنٰی کس کو ہے ؟

کچھ عرصہ سے حکمران کہہ رہے ہيں کہ پارليمنٹ مقتدر [sovereign] ہے ۔ جواز يہ پيش کيا جاتا ہے کہ آئين کی تشکيل اور ترميم پارليمنٹ کرتی ہے ۔ مطلب يہ ہوا کہ سب کو پارليمنٹ کی اطاعت يا تابعداری کرنا ہو گی

اس تصور يا بيان کی عملی صورت پر غور کيا جائے تو بات يوں بنتی ہے کہ پارليمنٹ يعنی اس کے ارکان کی اکثريت جو فيصلہ کر دے وہ اٹل ہے اور سب اس فيصلے پر عمل کے پابند ہوں گے ۔ گويا پارليمنٹ اگر کوئی فيصلہ ملک يا عوام کے خلاف بھی کر دے تو عوام اُسے ماننے کے پابند ہوں گے ۔ کيا يہ عقل ميں سمو سکتا ہے ؟

دوسری بات جو کہی جا رہی ہے يہ ہے کہ صدر کسی بھی معاملہ ميں کسی بھی عدالت کو جواب دہ نہيں ہے يعنی وہ کوئی بھی جرم کرے اُس کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی نہيں کی جا سکتی

گويا صدر چاہے ڈاکہ ڈالے يا قتل کرے تو بھی اُسے کچھ نہ کہا جائے ۔ پھر پرانے زمانہ کی بادشاہت اور دورِ حاضر کی جمہوريت ميں کيا فرق ہے ؟

آئين کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ آئين ميں کچھ باب ايسے ہيں کہ جنہيں پوری پارليمنٹ نے متفقہ طور پر منظور کيا ہوا ہے ۔ يہ باب آئين کی بنياد يا اساس ہيں اور انہيں تبديل نہيں کيا جا سکتا ۔ ان ميں سے چند شقات درج ذيل ہيں

آئين کی تابعداری ہر شخص [خواہ وہ وزيرِ اعظم يا صدر ہی ہو] کی ناقابلِ خلاف ورزی ذمہ داری ہے [شق 5 ۔ 1 ]

5. Loyalty to State and obedience to Constitution and law.
(1) Loyalty to the State is the basic duty of every citizen.
(2) Obedience to the Constitution and law is the inviolable obligation of every citizen wherever he may be and of every other person for the time being within Pakistan.

اردو کيلئے ديکھيئے صفحہ 4 کا عکس

باب اول ۔ بنيادی ۔ آئين کی شق 25 [1] کے تحت تمام شہری قانون کی نظر ميں برابر ہيں اور قانونی تحفظ کے مساوی طور پر حقدار ہيں ۔

25. Equality of citizens.
(1) All citizens are equal before law and are entitled to equal protection of law.

[اُردو کيلئے ديکھيئے صفحہ 15کا عکس]

آئين کی شق 2 الف بھی ناقابلِ خلاف ورزی ہے جس ميں قرار دادِ مقاصد کو آئين کا بنيادی جزو بتايا گيا ہے ۔ اس کے مطابق تمام قوانين اور طرزِ زندگی اللہ کے احکام کے تابع قرار ديا گيا ہے ۔ [اُردو کيلئے نيچے ديکھيئے صفحات 1 ۔ 2 اور 3 کے عکس]

2A. The Objective Resolution to form part of substantive provisions.
The principles and provisions set out in the Objectives Resolution reproduced in the Annex are hereby made substantive part of the Constitution and shall have effect accordingly.

ANNEX [Article 2(A)] The Objectives Resolution

Whereas sovereignty over the entire universe belongs to Allah Almighty alone and the authority which He has delegated to the State of Pakistan, through its people for being exercised within the limits prescribed by Him is a sacred trust;

This Constituent Assembly representing the people of Pakistan resolves to frame a Constitution for the sovereign independent State of Pakistan;

Wherein the State shall exercise its powers and authority through the chosen representatives of the people;
Wherein the principles of democracy, freedom, equality, tolerance and social justice as enunciated by Islam shall be fully observed;

Wherein the Muslims shall be enabled to order their lives in the individual and collective spheres in accordance with the teachings and requirements of Islam as set out in the Holy Quran and the Sunnah;

Wherein adequate provision shall be made for the minorities to profess and practice their religions and develop their cultures;
Wherein the territories now included in or in accession with Pakistan and such other territories as may hereafter be included in or accede to Pakistan shall form a Federation wherein the units will be autonomous with such boundaries and limitations on their powers and authority as may be prescribed;

Wherein shall be guaranteed fundamental rights including equality of status, of opportunity and before law, social, economic and political justice, and freedom of thought, expression, belief, faith, worship and association, subject to law and public morality;

Wherein adequate provisions shall be made to safeguard the legitimate interests of minorities and backward and depressed classes;

Wherein the independence of the Judiciary shall be fully secured;

Wherein the integrity of the territories of the Federation, its independence and all its rights includ-ing its sovereign rights on land, sea and air shall be safeguarded;

So that the people of Pakistan may prosper and attain their rightful and honored place amongst the nations of the World and make their full contribution towards international peace and progress and happiness of humanity.



يہ بھی پڑھ ليجئے “صدارتی عہدے کی اہليت کے متعلق درخواست ۔ عدالت نے امريکی صدر اوبامہ کو طلب کر ليا

This entry was posted in روز و شب, سیاست, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

4 thoughts on “مقتدر کون اور استثنٰی کس کو ہے ؟

  1. Pingback: مقتدر کون اور استثنٰی کس کو ہے ؟ | Tea Break

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)