لاجواب يا لاثانی ؟ ؟ ؟

1 ۔ صوبہ سندھ کے سرکاری ملازمين ؟

صوبہ سندھ جس ميں عوام دوست ہونے کی دعويدار پی پی پی ۔ ايم کيو ايم اور اے اين پی کی حکومت ہے کے کُل401388 سرکاری ملازمين ہيں ۔ ان کی پڑتال کے پہلے مرحلے ميں معلوم ہوا ہے کہ 108545 يعنی 27 فيصد سے زائد بھوت پريت [Ghost] ہو سکتے ہيں مگر انسان نہيں
اس طرح قوم کا 100000000 [10 ارب] روپيہ سالانہ ضائع ہو رہا ہے
دوسرے مرحلے ميں کيا ہو گا کچھ کہا نہيں جا سکتا

ابتدائی مرحلے کی تفصيل کچھ يوں ہے

ابتدائی مرحلے ميں 21438 افراد کا کمپيوٹر اندراج [کمپيوٹرائزڈ ڈيٹا] جعلی [Bogus] نکلا

دستور العمل [Manual] ميں 20456 ملازمين کا اندراج [Registration] ہی نہيں ملا

381 ايسے ملازمين ہيں جو انتقال کرگئے ليکن ان کی تنخواہيں دی جارہی ہيں

1264 ملازمين دوہری ملازمت يعنی ايک وقت ميں 2 ملازمتيں کر رہے ہيں

60000 سے 65000 ملازمين نے ملازمت کيلئے اپنی عمريں غلط لکھوائی ہوئی ہيں

يہ سب کچھ حکومتِ سندھ کی وزير شازيہ مری نے بتايا ہے کسی پنجابی نے نہيں بتايا :lol:

2 ۔ بينظير بھٹو انکم سپورٹ پروگرام

بينظير انکم سپورٹ فنڈ کے تحت مستحق افراد کو 1000 روپيہ ماہانہ ديا جاتا ہے ۔ اس کيلئے کچھ رقم يو ايس ايڈ ديتا ہے ۔ يو ايس ايڈ نے آڈيٹ کيا تو معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو ماہانہ 1000 روپيہ ادا کيا جا رہا ہے ان ميں سے 4200000 [42 لاکھ] کا اس دنيا ميں وجود ہی نہيں ۔ اس طرح صرف پچھلے ايک سال ميں 50400000000 [50 ارب 40 کروڑ] روپے مستحقين کے نام پر خُرد بُرد کئے گئے يعنی پيپلز پارٹی کی حکومت کے پچھلے ساڑھے 3 سالوں ميں 176400000000 [1 کھرب 76 ارب 40 لاکھ] روپے خُرد بُرد کئے گئے

This entry was posted in روز و شب, معاشرہ, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

5 thoughts on “لاجواب يا لاثانی ؟ ؟ ؟

  1. علی

    بھائی جی جمہوریت کی سوغاتیں ہیں ۔ ہم نے اگلی بار پھر انہی کو ہی ووٹ دینا ہے یہ مر گئے تو ان کے بچوں کو۔غریب کے لیے ہزار روپے اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے پر بیالس لاکھ ضرب ایک ہزار کچھ رقم بنتی ہے۔۔۔۔

  2. Pingback: لاجواب يا لاثانی ؟ ؟ ؟ | Tea Break

  3. نعمان

    لاجواب يا لاثانی ؟ ؟ ؟

    يہ سب کچھ حکومتِ سندھ کی وزير شازيہ مری نے بتايا ہے کسی پنجابی نے نہيں بتايا ۔۔۔۔ مصنف : افتخار اجمل بھوپال

    جناب بھوپال صاحب ،

    بیہ گئے نا آپ بھی حالات کے ریلے میں ،،،

    اب آپ کے دماغ میں بھی یہی چلتا ہے کے غیر پنجابیوں کو نیچا دکھاؤ …

    ویسے اس سے یہ بات تو پتہ چلتی ہی ہے .. کہ پنجابی بھی باقی صوبوں کے لوگوں کی طرح ہی سوچتے ہیں … یعنی قوم پرستی .. یہ الگ بات ہے کہ پنجابی اکثریت میں ہیں لہذا انکا موقف پاکستانی بن جاتا ہے اور غیر پنجابی کا علاقائی.

    سب ایک ہی تھالی کے چ ٹے بٹے ہیں …

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    نعمان صاحب
    ميں کسی ميں نہيں بہہ گيا ۔ آپ نے ميرے جملے کے آخر ميں مسکراتے ہوئے چہرے پر شايد غور نہيں کيا کہ بطور مزاح متعلقہ فقرہ لکھا گيا تھا ۔ آپ کی اطلاع کيلئے عرض کر دوں کہ ميں پنجابی نہيں ہوں ۔ ہاں اگر الطاف حسين سندھی ہونے کا دعوٰی کرتا ہے تو ميں بھی پنجابی ہونے کا دعوٰی کر سکتا ہوں کيونکہ جتنا عرصہ الطاف حسين سندھ ميں رہا ہے ميں بھی اُس لگ بھگ پنجاب ميں رہا ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)