ہم ترقی چاہتے ہيں ؟؟؟

آج بلکہ يوں کہنا چاہيئے کہ پچھلی کئی دہائيوں سے ہم لوگ مُلک و قوم کے دن بدن رُو بتنزل ہونے کا ہر محفل ميں رونا روتے ہيں ۔ تنزل کا مُوجب کوئی سياستدانوں کو قرار ديتا ہے تو کوئی فوجی آمروں کو اور کچھ ايسے بھی ہيں جو مُلا يا مُلا کے پڑھائے ہوئے اُن 18 فيصد افراد کو قرار موردِ الزام ٹھہراتے ہيں جنہوں نے مُلک ميں خواندگی کی شرح کو 17 سے 35 فيصد بنايا ہوا ہے ۔ آخرالذکر ميں اپنے کو زيادہ ذہين سمجھنے والےکچھ ايسے افراد بھی ہيں جو مروجہ بدحالی کا سبب دين اسلام کو قرار ديتے ہيں

ہموطنوں ميں پڑھے لکھوں سميت اکثريت کا يہ حال ہے کہ انہيں مطالعہ کا شوق نہيں ۔ وہ صرف نصاب کی کتب پڑھتے ہيں اسناد حاصل کرنے کيلئے اور بعض تو نصاب کی کُتب بھی پوری نہيں پڑھتے ۔ تعليميافتہ بننے يا اچھی عملی زندگی گذارنے کيلئے نصابی کُتب کے ساتھ ساتھ تاريخ ۔ معاشرتی اور معاشی علوم کا مطالعہ ضروری ہوتا ہے اور يہ عادت نمعلوم کيوں ہموطنوں کی بھاری اکثريت ميں نہيں ملتی ۔ ہماری قوم کی ريخت و ناکامی کا يہی بڑا سبب ہے

دُور کيوں جايئے ۔ پڑھے لکھے ہموطنوں کی بھاری اکثريت کو 6 دہائياں پرانی اپنے ہی مُلک کی تاريخ کا ہی عِلم نہيں تو اور کيا توقع کی جائے ۔ اسی لئے يہ لوگ شکائت کرتے ہيں کہ مُلک ميں کسی نے 64 سال سے کچھ نہيں کيا ۔ صرف معاشی پہلو ہی کو ديکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ہماری دِگرگوں حالت ہموطنوں کی بلاجواز شاہانہ عادات کا نتيجہ ہے ۔ آج کے دور ميں کسی سرکاری دفتر ميں چلے جائيے اور صرف قلم اور کاغذ کے استعمال کا تخمينہ لگايئے ۔ پھر اس کا مقابلہ کيجئے اُن لوگوں کے طريقے سے جنہوں نے اس مُلک کو حاصل کيا اور ترقی کی راہ پر ڈالا تھا

ميں نے پاکستان آرڈننس فيکٹريز ميں يکم مئی 1963ء ميں ملازمت شروع کی ۔ مجھے اُس وقت کے سمال آرمز گروپ [جو 1967ء ميں ويپنز فيکٹری بنا] ميں تعينات کيا گيا ۔ سمال آرمز گروپ کے سربراہ ورکس منيجر تھے جن کے ماتحت ميرے سميت 2 اسسٹنٹ ورکس منيجر اور ايک سيکشن آفيسر ايڈمن تھے ۔ سيکشن آفيسر کے برابر عہدے کے 8 فورمين متذکرہ 2 اسسٹنٹ منيجرز کے ماتحت تھے پھر اُن کے ماتحت اسسٹنٹ فورمين ۔ چارجمين ۔ سپروائزر اور ورکمين وغيرہ تھے

ميں نے ديکھا کہ ہمارے دفاتر ميں کوئی ايسا کاغذ جس کے ايک طرف لکھا ہوا ہو اور اس کی ضرورت نہ رہی ہو تو اُسے ضائع نہيں کيا جاتا تھا بلکہ لکھائی پر صرف ايک کاٹا لگا کر اس کے دوسری طرف لکھنے کيلئے استعمال کی جاتی تھی ۔ اسی طرح جو لفافہ ڈاک ميں موصول ہو اُس پر جہاں پتہ لکھا ہوتا تھا ايک پرچی چپکا کر لفافہ دوبارہ استعمال کيا جاتا تھا ۔ کاغذوں کو نتھی کرنے کيلئے لوہے کے پِن کی بجائے کانٹے استعمال کئے جاتے تھے جو قريب ہی اُگے کيکر کے درخت سے اُتارے جاتے تھے ۔ ہماری فيکٹری ميں صرف ايک ٹائپسٹ تھا اور ايک ہی ٹائپ رائٹر اسلئے کئی خطوط نب ہولڈر يا پکی پنسل سے ہی لکھے جاتے تھے

گليوں اور سڑکوں پر لگی بتياں کوئی توڑتا نہيں تھا ۔ نہ کوئی دوسری املاک کو نقصان پہنچاتا تھا ۔ طلباء اور طالبات اپنی چھٹيوں کے دوران دشمن کے ہوائی حملے سے بچنے اور اس کے بعد پيدا ہونے والی صورتِ حال سے نپٹنے ۔ ابتدائی طبی امداد اور دوسرے فلاحی کورس کرتے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ معلوماتِ عامہ کے امتحاں پاس کرتے تھے

ہماری فيکٹری ميں سيکشن آفيسر ايڈمن 50 سالہ اشرف علی صاحب تھے جو 1947ء ميں وسط بھارت سے ہجرت کر کے آئے تھے ۔ چونکہ وہاں پر وہ سرکاری سيکرٹيريئٹ کے ملازم تھے اسلئے پاکستان پہنچنے پر اُنہيں کراچی ميں سيکرٹيريئٹ ميں ملازمت دی گئی ۔ وہاں سے 1953ء ميں اُن کا تبادلہ پاکستان آرڈننس فيکٹريز ميں ہوا تھا ۔ ميں نے اشرف علی صاحب کو ديکھا کہ ردّی کاغذ کی نلکی بنا کر ايک چھوٹی سی پنسل کے پيچھے لگا کر اسے لمبا کيا ہوا تھا کہ لکھنے کيلئے ہاتھ ميں آ سکے ۔ مجھے کام شروع کرنے کيلئے ايک ماہ کيلئے 2 پنسليں ملی تھيں ۔ ميرے پاس لکھنے کا کام کم تھا سو ميں نے ان ميں سے ايک اشرف علی صاحب کو پيش کی تو اُنہوں نے مسکراہٹ کے ساتھ يہ کہا “بھائی ميں چند سال ميں ريٹائر ہونے والا ہوں اور اپنی عادت خراب نہيں کرنا چاہتا کہ ريٹائرمنٹ کے بعد مجھے صرف پنشن پر گذر کرنا ہے”۔

اس کے بعد اُنہوں نے جو کچھ کہا وہ دورِ حاضر کے ہموطنوں کو اگر ہوش ميں نہ لائے تو پھر وہ اسی کے مستحق ہيں جو کچھ آجکل ہو رہا ہے ۔ اور عمران خان تو کيا شايد کوئی فرشتہ بھی آ کر اس مُلک و قوم کو درست نہ کر سکے ۔ اشرف علی صاحب نے مجھے جو بتايا تھا اُس کا خلاصہ يہ ہے

“جب پاکستان بنا تو ہم سی پی سے لُٹے پُٹے کراچی پہنچے سرحد پر نام اور دوسرے کوائف درج کئے جاتے تھے سو ہم نے لکھوا ديا ۔ کچھ دن ہميں کراچی مہاجرين کيمپ ميں رکھا گيا ۔پھر جوں جوں ضرورت ہوتی آدميوں کو ان کی تعليم اور تجربہ کے مطابق چھوٹی موٹی ملازمت دے دی جاتی سو ہميں بھی سيکرٹيريئٹ ميں ملازمت مل گئی ۔ وہاں نہ کوئی کرسی تھی نہ کوئی ميز ۔ کچھ کاغذ جن کی ايک طرف کچھ لکھا تھا اور ايک پکی پنسل دے دی گئی ۔ ايک ساتھی جو پہلے سے موجود تھے اور ايک پيٹی [wooden crate] کو ميز بنائے بيٹھے تھے کہنے لگے کہ آج چھٹی کے بعد ميرے ساتھ چليں ۔ وہ چھٹی کے بعد مجھے کيماڑی لے گئے ۔ وہاں خالی پيٹياں پڑی تھيں ۔ ہم نے ايک چھوٹی اور ايک بڑی اُٹھا لی ۔ اگلے روز ہم دفتر ميں ميز لگا کر کرسی پر بيٹھے ۔ ہميں 3 ماہ تنخواہ پيسوں ميں نہيں ملی بلکہ چاول ۔ آٹا اور دال وغيرہ دے ديا جاتا تھا اور سب خوش تھے ۔ اپنا کام بڑے شوق اور انہماک سے کرتے تھے ۔ ايک دوسرے کا خيال بھی رکھتے تھے ۔ کسی کو کوئی پريشانی نہ تھی ۔ ہم پيدل ہی دفتر آتے جاتے تھے ۔ جن لوگوں کی رہائش دور تھی وہ صبح تڑکے گھر سے نکلتے تھے ۔ ہميں جو پنسل ملتی تھی اُسے ہم آخری حد تک استعمال کرتے تھے ۔ کوئی 6 ماہ بعد ہميں سياہی کا سفوف ۔ دوات ۔ نب اور ہولڈر مل گئے ۔ ليکن پکی پنسل ساتھ ملتی رہی کيونکہ نب سے کاپياں نہيں بن سکتی تھيں”۔

يہاں يہ ذکر بے جا نہ ہو گا کہ پاکستان بننے کے بعد بھارت ميں گندم کی شديد قلت پيدا ہوئی تو مہاتما کرم داس موہن چند گاندھی نے پورے بھارت کا دورہ کيا اور خود آلو کی روٹی کھا کر عوام کو بھی آلو کی روٹی کھانے کی ترغيب دی تھی جو آج کی اُن کی ترقی کا پيش خيمہ ثابت ہوئی

ملک فيروز خان نون 1957ء ميں پاکستان کے وزير اعظم رہے ہيں ۔ اُن کا گھر ميں دفتر ايک چھوٹی سی ميز اور ايک کرسی پر مشتمل تھا جو اُنہوں نے اپنے سونے کے کمرے ہی ميں لگائی ہوئی تھی ۔ ايک دن ان کی بيوی بيگم وقارالنساء نون نے ذاتی خط لکھا اور اُسی ميز پر رکھ ديا ۔ جب وقت کے پاکستان کے وزير اعظم گھر آئے تو بيوی نے کہا يہ خط ڈاکخانے ميں ڈال آئيں
وزير اعظم نے پوچھا “يہ کاغذ کہاں سے ليا ہے ؟”
بيوی “آپ کی ميز سے”
وزير اعظم “اور يہ سياہی”
بيوی ” آپ کی ميز سے”
وزير اعظم غصے ميں” نہ يہ کاغذ تمہارے خاوند کا ہے اور نہ سياہی ۔ يہ دونوں بلکہ يہ دفتر وزيرِ اعظم پاکستان کا ہے ۔ اب يہ کمی پوری کرنا ہو گی”

کاش کہ تيرے دِل ميں اُتر جائے ميری بات

This entry was posted in تاریخ, تجزیہ, ذمہ دارياں, روز و شب, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

12 thoughts on “ہم ترقی چاہتے ہيں ؟؟؟

  1. یاسر خوامخواہ جاپانی

    خواص و عوام یہ باتیں محفل میں کرکے واہ واہ سمیٹ لیں گے۔
    لیکن اپنا رویہ تبدیل نہیں کریں گے۔
    کئی حضرات کو اچھی اچھی باتیں کرتے دیکھا لیکن عمل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    ياسر صاحب
    علامہ فرما گئے ہيں
    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
    يہ خاکی اپنی فطرت ميں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

    ميں اب بھی ايک طرف پرنٹ کئے ہوئے کاغذ دوبارہ استعمال کرتا ہوں ۔ ميرا اصول ہے “وہ بات مت کہو جو خود نہيں کرتے ہو” اور اللہ کا فرمان بھی يہی ہے

  3. ڈاکٹر جواد احمد خان

    بہت عمدہ مضمون ہے۔ تبدیلی کا راستہ ناممکن حد تک مشکل نظر آتا ہے اور صرف اور صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ذات سے ہی کرم کی امید کی جاسکتی ہے۔ تاریخ کے جھرونکوں سے جھانکتی یہ تحریر بہت عمدہ لگی۔افسوس تو یہ ہے کہ نا اب وہ دور واپس آنے والا ہے اور نا ہی وہ لوگ۔۔۔

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب
    اُن لوگوں ميں سے ميرے سميت صرف چند ہی باقی رہ گئے ہيں اور اُن مين سے بھی انٹرنيٹ پر شايد ميں اکيلا ہی اپنی نحيف آواز سے بيداری کا پيغام دينے کی کوشش کر رہا ہوں ۔ نمعلوم ميری آواز کسی کے کان تک پہنچتی بھی ہے يا نہيں ۔ چھٹے بند [پيراگراف} ميں لکھے سب کورسز ميں نے اور ميرے ہمجماعت سب لڑکوں نے کئے تھے ۔ ميں آج بھی ايک طرف ٹائپ کئے ہوئے کاغذ گھر کے سودا لانے کی فہرست يا کسی کو پتہ وغيرہ لکھ کر دينے کيلئے پرچياں بنانے اور دوسرے رَف کام کيلئے استعمال کرتا ہوں

  5. محمد سعد

    ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ آپ کے ہم عمر تو چھوڑیں، آپ سے بیس تیس سال چھوٹوں میں سے بھی اکثر لوگ انٹرنیٹ کو پتہ نہیں کیا سمجھ بیٹھے ہیں۔ کہ جس سے ہر حال میں دور ہی رہنا ان کو بہتر لگتا ہے۔ ورنہ ہمیں سیکھنے کے لیے کتنا کچھ مل سکتا تھا ان سے۔ :-?

  6. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محمد سعد صاحب
    کوئی چيز ازخود خراب نہيں ہوتی ۔ اس کا استعمال اسے خراب بناتا ہے ۔ کمپيوٹر پر جو بُری چيز ہے اُسے نہ کھوليں اور اچھے رہيں

  7. نعمان

    عمل سے ہی سب کچھ ہوتا ہے ..لیکن ایک چیز ہوتی ہے جمود …جو آج کل ہماری قومی زندگی میں آیا ہوا ہے …

    ایک ایسے نظام کو ہم نے سینےسے لگایا ہوا ہے جسے قابض لوگوں نے مقبوض لوگوں کو غلام رکھنے کے لئے بنایا تھا … یہ سب نظام چاہے وہ عدلیہ کا ہو یعنی PANEL CODe یا انتظامیہ کا ہو کمشنری یا ہماری ہر دفعہ کی ہاری ہی فوج کا … یہ سب ہمارے لئے بنے ہی نہیں تھے …

    یہ جن کے فائدے کے لئے بنے تھے انہوں نے اس سے فائدہ اٹھایا اور اب سواۓ چند فیصد لوگوں یعنی جرنیلوں اور سرکاری افسران کے عام لوگ بھگت رہے ہیں …
    جس طرح ببول کے درخت پی عام نہیں لگتے اسی طرح انگریز کے نظام سے عام لوگوں کا فائدہ نہیں ہو سکتا

    اغییار نے جانے سے پہلے یہاں انڈے بچے دے ہی دیے
    باطل نے وراثت بھی چھوڑی اور ساتھ ہی وارث چھوڑ دے
    ہم اسکے پجاری ہیں اب تک ، وہ جا بھی چکے معمار اسکے

  8. افتخار اجمل بھوپال Post author

    نعمان صاحب
    جو لوگ پاکستان بننے کے بعد پيدا ہوئے وہ بھی اب دادے نانے بن چکے ہيں ۔ کيا انگريز خون ميں زہر ملا گئے تھے ؟ جوان نسل ميرا مطلب ہے 50 سال عمر سے کم کے لوگ کيا کرتے رہے ہيں اور کيا کر رہے ہيں ؟ يہ نظام بدلنے کيلئے کوئی باہر سے تو نہيں آئے گا اور نہ ہی اب کوئی نبی آنا ہے

  9. نعمان

    بھوپال صاحب آپ عام لوگوں کی بات کرتے ہیں .. یہاں تو پڑھے لکھ لوگ بھی یہی سمجھتے ہیں کے ممبر قومی اسمبلی کا کام سڑکیں بنوانا ہے ..
    مجھے اپنے جاننے والوں کو یہ سمجھانے کے لئے ہی ٦ مہینے لگ گئے بلدیاتی اداروں کا کام پاکستان میں prime minister کر رہا ہے …
    ادھر لوگ غلط طریقے سے صحیح کام ہوتا دیکھتے ہیں تو اسے ہی صحیح طریقہ سمجھ لیتے ہیں … اب مشرف کی دشمنی میں بلدیاتی انتخابات نہ کروانا کہاں کی عقلمندی ہے
    .. اور شہباز شریف کا سڑکیں بنوانا اچھا کام ہی صحیح ، لیکن یہ بہتر نہ ہوتا کے یہ کام ایک شہر کا مئیر کرتا جس کا کام ہی یہی اور اسی طرح کے دوسرے کام ہوتے …

  10. افتخار اجمل بھوپال Post author

    نعمان صاحب ۔ السلام عليکم
    آپ نے درست کہا کہ بدلياتی اداروں کو کام وزيرِ اعظم صاحب کر رہے ہيں اور لوگ بھی يہی سمجھتے ہيں ۔ لوگ تو وہی سمجھيں گے نا جو وہ ہوتا ديکھيں گے ۔ جہاں بھاری اکثريت نے آج تک نماز کو سمجھ کے نہيں پڑھا وہاں آئين کيا قانون کيا ۔ ويسے ہمارے ہاں تو ہر کام صدر صاحب کے حُکم سے ہو رہا ہے ۔ پنجاب ميں اُن کی حکومت نہيں ہے تو جو کام صوبوں کے وفاق کے ذمہ ہيں اُن ميں جس قدر ہو سکے رخنہ اندازی کی جاتی ہے ۔ يہی ديکھ ليجئے کہ کراچی ميں صنعتی اداروں کو ہفتہ ميں 6 دن اور فيصل آباد ميں 4 دن گيس مہياء کی جا رہی تھی اور اب 3 دن يا ڈھائی دن مہياء کی جائے گی ۔ اس سے پنجاب کا تو نقصان ہو گا ہی مگر مُلک کو بھی خاصہ نقصان ہو گا يعنی نہ ٹيکس مليں گے جو وفاق ليتا ہے اور نہ برآمدات ہوں گی ۔ جس طرح ہمارے ہاں سڑکيں بن رہی ہيں ميں اس سے متفق نہيں ہوں ۔ مضافات ميں ضروری سڑکوں کا کوئی پُرسانِ حال نہيں اور بڑے شہروں ميں انڈر پاس اور فلائی اوور بن رہے ہيں ۔ يہ مرض کراچی سے شروع ہوا ۔ اسلام آباد پہنچا پھر لاہور ۔ باقی جگہوں کا پتہ نہيں ليکن اسلام آباد ميں جو 3 نئی سڑکيں ۔ انڈر پاس اور فلائی اوور پرويز مشرف صاحب بنوا گئے ہيں انہوں نے چند بڑوں کيلئے تو آسانی کر دی ہو گی مگر عام رہائشيوں کے راستے بہت صويل ہو گئے ہيں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)