مصائب کا حل ؟

اگر انڈہ بيرونی طاقت سے ٹوٹے تو اس ميں زندگی کی اُميد نہيں رہتی

اگر انڈہ اندرونی طاقت سے ٹوٹے تو زندگی شروع ہوتی ہے

معاملہ ايک فرد کا ہو يا پوری قوم کا
ہميشہ اندر سے شروع ہونے والی تبديلی فعال ۔ مفيد اور پائيدار ہوتی ہے

This entry was posted in تجزیہ, روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

4 thoughts on “مصائب کا حل ؟

  1. افتخار راجہ

    مگر ہوشیار اگر اندر والے بھی باہر والوں سے نہ ملے ہوئے ہوں، جیسے میمو گیٹ کیس، اسامہ کی گرفتاری کے دوسرے دن صدر معظم کا مضمون اور خفیہ معاہدے، پنجابی میں کہتے ہیں کتی چوروں سے ملی ہوئی ہے۔

  2. مرزا علام عباس

    بہت خوبصورت بات کی ہے سر جی آپ نے مجھے بھلے شاہ یاد آ گئے
    عمر گوائی وچ مسیتی
    اندر بھریا نال پلیتی
    ایک اور جگہ فرماتے ہیں
    میری بکل دے وچ چور
    پھر کہتے ہیں
    پڑھ پڑھ لکھ لکھ لاویں ڈھیر
    ڈھیر کتاباں چار چفیر
    گردے چانن وچ ہنیر
    پچھو راہ تے خبر نہ سار
    یہ اندر کا اندھیرا دور ہو گا تو بات بنے گی۔ معاملہ بہرحال اندر کا ہی ہے۔ علامہ صاحب کہتے ہیں
    افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
    ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
    فرد کی تبدیلی اندر سے ہی ہو گی اور جب فرد تبدیل ہو گا تو قوم بھی بدل جائے گی۔
    (میں نے کئی دفعہ آپ کے بلاگ پر آنے کی ناکام کوشش کی شاید کوئی تکنیکی خرابی تھی اس لیے نہ آ سکا)

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    مرزا غلام عباس صاحب
    حوصلہ افزائی کا شکريہ ۔ ميرا بلاگ جس سرور پر ہے وہ وسيع اور قابل اعتماد ہے ۔ مشکل يہ ہے کہ پی ٹی سی ايل والے کسی ناپسنديدہ ويب سائٹ کو بند کرنا چاہتے ہيں تو آسان کام کرتے ہيں کہ پورا سرور ہی بلاک کر ديتے ہيں ۔ اس سلسلے ميں ميرے ساتھ ساتھ کئی قارئين بھی اُن سے شکايات کرتے رہتے ہيں ۔ بلاکنگ ہٹا دی جاتی ہے اور پھر لگ جاتی ہے ۔ اب ميں کوشش کر رہا ہوں کہ کسی ايسے سرور پر ہوسٹنگ مل جائے جو پاکستان ميں چل رہا ہو ۔ ايک مہربان نے وعدہ تو کيا ہے ۔ اِن شاء اللہ اس ماہ کے آخر تک ميرا يہ بلاگ اُس ويب سائٹ پر منقل ہو جائے گا اور پھر اِن شاء اللہ سب آسانی سے ميرا بلاگ کھول اور پڑھ سکيں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)