احوالِ قوم ۔ مايوسی گناہ ہے

خواجہ الطاف حسين حالی صاحب نے مسلمانانِ ہِند کی حالتِ زار بيان کرنے کے بعد اُنہيں مايوس ہونے سے بچانے اور ترقی کی راہ پر چلنے کا راستہ بھی بتايا ۔ مسدسِ حالی کے اس حصہ کا نام ” ضميمہ ” ہے

بس اے نااُمیدی نہ یوں دل بُجھا تُو ۔ ۔ ۔ جھلک اے اُمید اپنی آخر دکھا تُو
ذرا نا امیدوں کی ڈھارس بندھا تو ۔ ۔ ۔ فسردہ دلوں کے دل آکر بڑھا تو
ترے دم سے مردوں میں جانیں پڑی ہیں ۔ جلی کھیتیاں تو نے سر سبز کی ہیں

بہت ڈوبتوں کو ترایا ہے تو نے ۔ ۔ ۔ بگڑتوں کو اکثر بنایا ہے تونے
اکھڑتے دلوں کو جمایا ہے تونے ۔ ۔ ۔ اجڑتے گھروں کو بسایا ہے تونے
بہت تونے پستوں کو بالا کیا ہے ۔ ۔ ۔ اندھیرے میں اکثر اجالا کیا ہے

نہیں فکر تو دل بڑھاتی ہے جب تک ۔ دماغوں میں بو تیری آتی ہے جب تک
یہ سچ ہے کہ حالت ہماری زبوں ہے ۔ عزیزوں کی غفلت وہی جوں کی توں ہے
جہالت وہی قوم کی رہنموں ہے ۔ ۔ ۔ تعصب کی گردن پہ ملت کا خوں ہے
مگر اے امید اک سہارا ہے تیرا ۔ ۔ ۔ کہ جلوہ یہ دنیا میں سارا ہے تیرا

This entry was posted in روز و شب, سبق, طور طريقہ, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

2 thoughts on “احوالِ قوم ۔ مايوسی گناہ ہے

  1. الف نظامی

    جزاک اللہ۔ اس وقت جبکہ ہمیں عالمی میڈیا پر منفی نفسیاتی پروپگنڈا کے ذریعے مایوسی کا شکار کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں وہاں ہمیں وطن عزیز کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنے کردار ادا کرنے کا پختہ عزم کرنا اور اللہ تعالی کی ذات پر توکل کرنا ہے۔
    اس حوالے سے ایک مضمون سے چند اقبتاسات آپ کی‌ خدمت میں پیش ہیں:
    جب تم عزم کرلو ، جب تم پختہ نیت کرلو ، جب تم پختہ ارادہ کرلو تو اس کو “عزم” کہتے ہیں۔ جب تک تم اس کے لیے عزم کی کیفیت پیدا نہیں ہوگی تم اس کو سرانجام نہیں دے سکو گے۔ کون سا کام ایسا ہے جس کے راستے میں رکاوٹیں نہ ہوں؟ کون سا راستہ ایسا ہے جس میں پھول کی پتیاں ہی بکھری ہوں اور کانٹا کوئی نہ ہو؟ کوئی ایسا راستہ بھی نہیں ہے کہ جہاں ہولناک گرداب نہ آئیں ، جہاں طوفان برپا نہ ہوں ، جہاں مخالفوں کے پتھروں کی بارش نہیں ہوتی، زندگی ہے ہی آلام کا نام ، اس کو کہتے ہیں دار المحن، یہ مصیبتوں کا گھر ہے ، یہ آلام کا گھر ہے۔
    تو جب تک انسان اتنا پختہ ارادہ نہیں کرتا ، جب تک اپنی سوچ سے اپنی خداداد عقل سے کام لیکر اس کے نتائج پر غور نہیں کرلیتا ، جب تک ہر قسم کے انجام سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار نہیں ہوجاتا اس کے ارادے کو اس وقت تک عزم نہیں کہا جاسکتا۔

    عزم کس کو کہتے ہیں؟ جوش میں آکر کوئی کام کرنا؟ اس کو عزم نہیں کہتے، کسی کے کہنے سے منزل کی طرف رخ کرکے چل پڑنا ، اس کو عزم نہیں کہتے۔ “عزم” کہتے ہیں سوچ سمجھ کر ، عقل خداداد سے پوری طرح کام لے کر ، اس کے عواقب و نتائج سے پوری طرح آگاہی حاصل کرنے کے بعد کمرِ ہمت باندھ کر اس کی طرف قدم اٹھانا اس کو “عزم” کہتے ہیں۔

    مومن کی زندگی کمزور ارادوں سےعبارت نہیں ہوتی کہ کوئی چلے ، اس کی طرف چلنا ہے ، اس راستے پر کوئی پہاڑ آگیا ، کوئی گھاٹی آگئی ، کوئی دلدل آگیا ، کوئی کیچڑ آگیا ، کوئی اور طرح کی تکلیف آگئی ، تو کسی اور طرف چل نکلے۔سارا وقت اسی طرح گزر گیا۔ یہ مومن کی زندگی نہیں ہے۔ مومن کی زندگی اس قسم کے کمزور ارادوں سے مبّرا ہوا کرتی ہے۔ مومن جب قدم اٹھاتا ہے تو عزم کرکے قدم اٹھاتا ہے۔ پختہ ارادہ کرکے قدم اٹھاتا ہے ، وہ کسی تکلیف کو خاطر میں نہیں لاتا۔ بلکہ وہ پوری طرح تیاری کرکے ، پوری طرح اپنا عزم مصمم کرنے کے بعد منزل متعین کرتا ہے ، منزل متعین کرنے کے بعد پھر عواقب و نتائج سے بے نیاز ہوکر جب اس کی طرف قدم اٹھاتا ہے تو اللہ تعالٰے کی مدد اس کےشاملِ حال ہوتی ہے۔ منزل چل کر اس کے قدموں میں حاظر ہوتی ہے۔

    انسان کتنا ہی پختہ ارادے والا ہو اور کتنی ہی سوچ بچار رکھتا ہو، انسان کتنا ہی دوررس ذہن کا مالک کیوں نہ ہو، اس کے وسائل محدود ، اس کا علم محدود ، اس کے اسباب محدود ، اس کی ساری چیزیں محدود ہیں۔ یہ پیکر خاکی کائنات کی وسعتوں اور گہرائیوں کا کیونکر مقابلہ کرسکتا ہے؟
    وہ ان سے کیونکر عہدہ برآ ہو سکتا ہے؟ تو اس کے لیے ایک اور طریقہ بتایا کہ پہلے عزم کرو ، پختہ ارادہ کرلو ، پختہ نیت باندھ لو اور اس کے بعد کیا کرو؟
    “توکل علی اللہ”

    اپنے رب پر بھروسہ کرلو!
    سمجھو کہ میں پار اتر جاوں گا۔ اللہ پر بھروسہ کرو کہ وہ میری مدد فرمائے گا۔ جہاں میری طاقتیں جواب دے جائیں گی ، چراغِ عقل بجھ جائے گا، جہاں میرا حوصلہ ہمت ہار دے گا ، وہاں میرا رب میری دستگیری فرمائے گا۔ جہاں تمام وسائل ساتھ چھوڑ جائیں گے ، جہاں تمام دوست آنکھیں پھیر لیں گے ،جہاں مصائب و آلام میرے لیے محاصہ تنگ کر دیں گے۔ اس وقت میرا ایک رب ہے جس کو میں نے اپنا مالک اور خالق تسلیم کیا ہوا ہے ، اس کی نصرت آئے گی اور میری دستگیری کرے گی۔
    تو پہلے کیا ہے :”عزم” ، اس کے بعد کیا ہے : “توکّل”۔

    ملاحظہ کیجے مکمل مضمون : عزم اور توکل
    http://auraq.urdutech.com/2009/06/%d8%b9%d8%b2%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%aa%d9%88%da%a9%d9%91%d9%84/

  2. Pingback: احوالِ قوم ۔ مايوسی گناہ ہے | Tea Break

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)