آدمی کی پہچان

جو نہ جانے اور نہ جانے کہ وہ نہ جانے
وہ بيوقوف ہے ۔ اس سے دُور رہيئے

جو جانے مگر نہ جانے کہ جانے ہے
وہ سويا ہے ۔ اسے جگا ديجئے

جو نہ جانے اور جانے ہے کہ وہ نہ جانے
سادہ طبيعت ہے ۔ اسے تعليم ديجئے

جو جانے ہے اور جانے ہے کہ جانے ہے
وہ عقلمند ہے ۔ اس کی تقليد کيجئے

This entry was posted in روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

9 thoughts on “آدمی کی پہچان

  1. Pingback: آدمی کی پہچان | Tea Break

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    تحريم صاحبہ
    آپ نے اتنی پڑھاکو فلسفی عالِم ہوتے ہوئے کيا کہہ ديا ۔ آدمی اولادِ آدم کو کہتے ہيں جو مرد اور عورت دونوں ہيں ۔ آج ميں نے مرد اور عورت کو الگ الگ لکھا ہے ذرا اس پر بھی غور کيجئے

  3. Beenai

    جناب افتخار اجمل صا حب،
    السلام و علیکم،
    جناب ،
    آدمی کی پہچان کے معاملے میں تو سدا ہم کورے رہے۔
    جس کو اچھا سمجھا وہ برا نکلا جس کو برا سمجھا وہ کسی موقعے پہ مدد کر گیا۔
    جس کو دوست سمجھا وہ محض کلاس فیلو نکلی
    جس کو کلاس فیلو سمجھا اس نے دوست بن کے دکھا دیا۔
    جس کو سید ھا سادا سمجھے وہ عیار و مکار نکلا
    جس کو گھنا سمجھے وہ سادہ نکلا۔
    خیر۔
    اب آپ کے اس فارمولے کے تحت لوگوں کو پہچاننے کی کوشش کر یں گے۔
    انشا ءاللہ۔ :)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)