کلمہ گو ۔ يا ۔ مسلمان

زندگی ميں بارہا بار يہ فقرہ سُننے ميں آيا “ميں کلمہ گو ہوں” يا “ميں مسلمان ہوں”

ہاں ۔ کلمہ [دِل سے] پڑھا جائے تو آدمی مسلمان ہو جاتا ہے ۔ مگر بات يہاں ختم نہيں ہوتی بلکہ شروع ہوتی ہے

کلمہ اسی طرح ہے جيسے بچہ سکول ميں داخل ہونے کيلئے ابتدائی لوازمات پورے کر لے ۔ سکول میں داخل ہونے کے بعد اصل مرحلہ شروع ہوتا ہے ۔ پڑھنا لکھنا سيکھا جاتا ہے ۔ کچھ یاد کيا جاتا ہے ۔ کئی امتحانات دیئے جاتے ہيں ۔ 10 سال کی محنت کے بعد میٹرک پاس کی سند ملتی ہے

میٹرک کی بنیاد پر پيٹ پالنے کيلئے شايد ہی کوئی ملازمت ملے چنانچہ مزيد پڑھا اور ياد کيا جاتا ہے اور اسے جاننے کے ثبوت کے طور پر امتحانات دے کر اِن ميں کاميابی حاصل کی جاتی ہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ پڑھائی اور امتحان مشکل ہوتے جاتے ہيں اور بعض اوقات رات کی نیند اور دن کا چین حرام ہو جاتا ہے ۔ پھر کہيں جا کر ايک خاندان پالنے کيلئے مناسب ملازمت کی توقع بنتی ہے ۔ مگر ملازمت حاصل کرنا بھی کوئی آسان کام نہيں ہوتا ۔ ملازمت مل جانے کے بعد بھی محنت جاری رکھنا پڑتی ہے اور ڈانٹيں بھی برداشت کرنا پڑتی ہيں

عجیب بات ہے کہ یہ سب کچھ جانتے ہوۓ بھی يہ سمجھا جائے کہ والدین مسلمان ہونے یا صرف کلمہ طیّبہ پڑھ لینے کی بنیاد پر آدمی مسلمان ہو جاتا ہے اور جنت کا حقدار بھی چاہے نماز روزہ کی پابندی نہ کرے ۔ سچ نہ بولے ۔ انصاف نہ کرے ۔ کسی کی مدد یا احترام نہ کرے ۔ دوسروں کا حق مارے ۔ ظُلم کرے ۔ وغيرہ

افسوس کہ ہمارے ہاں عام طور پر کچھ ايسا ہی عقيدہ پايا جاتا ہے ۔ کچھ لوگوں کا خيال ہے کہ مسلمان تھوڑی سزا کے بعد جنت ميں چلے جائيں گے

کلمہ طیّبہ جسے پڑھ کر مسلمان ہوتے ہیں اس یقین کا اظہار ہے کہ میں سواۓ اللہ کے کسی کو معبود نہیں مانتا اور محمد صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم اس کے پیامبر ہیں ۔ چنانچہ جسے معبود مان ليا اُس کا ہر فرمان کے مطابق حاضر دماغی کے ساتھ عمل فرض بن جاتا ہے ۔ اگر کلمہ اس طرح پڑھا جائے جیسے ناول پڑھتے ہیں تو اس کا کیا فائدہ ؟

مسلمان کون ہوتا ہے ؟ اس کی تشريح قرآن شريف ميں جا بجا موجود ہے ۔ اختصار کی خاطر قرآن شريف کے صرف وہ حوالے جہاں مسلمان کے کچھ اوصاف اکٹھے رقم کئے گئے ہيں

سورت ۔ 4 ۔ النّسآء ۔ آيت ۔ 36 ۔ اور اللہ تعالٰی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ سلوک و احسان کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسائے سے اور پہلو کے ساتھی سے اور راہ کے مسافر سے اور ان سے جن کے مالک تمہارے ہاتھ ہیں (غلام، کنیز) ۔ یقیناً اللہ تعالٰی تکبّر کرنے والے اور شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا

سورت ۔ 9 ۔ التوبہ ۔ آيت ۔ 112 ۔ وہ ایسے ہیں جو توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے (یا راہ حق میں سفر کرنے والے) رکوع اور سجدہ کرنے والے، نیک باتوں کی تعلیم کرنے والے اور بری باتوں سے باز رکھنے والے اور اللہ کی حدوں کا خیال رکھنے والے ۔ اور ایسے مومنین کو خوشخبری سنا دیجئے ‏

سورت ۔ 23 ۔ المؤمنون ۔ آيات ۔ 1 تا 9 ۔ یقیناً ایمان والوں نے فلاح حاصل کر لی ۔ جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں ۔ جو لغویات سے منہ موڑ لیتے ہیں ۔ جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں ۔ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔ بجز اپنی بیویوں اور ملکیت کی لونڈیوں کے یقیناً یہ ملامتیوں میں سے نہیں ہیں ۔ جو اس کے سوا کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کر جانے والے ہیں ۔ جو اپنی امانتوں اور وعدے کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں

علامہ اقبال نے سچ کہا ہے

زباں سے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں
اور
عمل سے زندگی بنتی ہے جنّت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

This entry was posted in پيغام, دین, ذمہ دارياں, روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

One thought on “کلمہ گو ۔ يا ۔ مسلمان

  1. Pingback: کلمہ گو ۔ يا ۔ مسلمان | Tea Break

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)