پيار کرتے کرتے ۔ ۔ ۔

ميں نے ساری عمر معلوم کرنے کی کوشش کی کہ محبت کيا ہوتی ہے ؟ اور کہاں پائی جاتی ہے ؟
جہاں محبت کا نام سُنا وہاں انجام دھوکہ ہی نظر آيا ۔ مووی فلميں ۔ افسانے ۔ ناول ۔ قصے کہانياں سب محبت کی بجائے نفرت پھيلاتے نظر آئے ليکن پھر بھی خواہش تھی کہ

پيار کرتے کرتے ميری عمر بيت جائے

کسی لڑکی يا لڑکے کو غلط فہمی يا خوش فہمی ميں مبتلاء ہونے کی ضرورت نہيں ہے
مجھے کسی لڑکی سے پيار ہونے نہيں جا رہا ہے
بلکہ ميں نے فيصلہ کيا کہ کيوں نا پيار اپنے آپ سے کيا جائے ۔ نہ جنس کا عمل دخل ہو اور نہ ماديّت کا جو ابليس کو راستہ دينے کا مُوجب بنتے ہيں ۔ سو ساری زندگی اپنے آپ سے پيار کيا ہے اور اسی طرح اپنے سے پيار کرتے عمر بیتانے کی خواہش ہے
ايک فلسفی نے کہا تھا

اپنے من ميں ڈوب کر پا جا سُراغِ زندگی
تو اگر ميرا نہيں بنتا نہ بن ۔ اپنا تو بن

آدمی اپنا بنے گا ہی تو زندگی کے راز کو پائے گا ورنہ خيالاتِ غير ميں بھٹکتا رہے گا اور جب ہوش آئے گا پانی سر سے گذر چکا ہو گا
جس نے اپنے آپ کو پا ليا اس نے اُس خالق کو پا ليا جس کی وہ مخلوق ہے
اپنے خالق کو پا ليا تو سب کچھ پا ليا ۔ اتنا کہ کوئی حسرت باقی نہ رہے

آدمی اگر کسی کی خدمت کرتا ہے تو اپنے پر احسان کرنے کيلئے
کسی کو اچھا مشورہ ديتا ہے تو اپنی زندگی سنوارنے کيلئے
دوسروں کے حقوق دلانے کيلئے کو شش کرتا ہے تو اپنے اطمينان کيلئے
گويا
آدمی سب کچھ اپنے لئے کرتا ہے ۔ کسی پر احسان کيلئے نہيں

اگر يہ خود غرضی ہے تو پھر ميں بھی ايسے خود غرضوں ميں شامل ہوں
تمنا صرف اتنی ہے کہ اللہ اپنے بندوں جيسے کام مجھ سے لے لے اور مجھے اپنا بندہ بنالے
ايسا ہو جائے تو ميں کامياب ہو گيا
يا اللہ سب تيرے اختيار ميں ہے ۔ مجھ سے راضی ہو جا مجھ سے راضی ہو جا مجھ سے راضی ہو جا

This entry was posted in تجزیہ, روز و شب, طور طريقہ, یادیں on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

3 thoughts on “پيار کرتے کرتے ۔ ۔ ۔

  1. Pingback: پيار کرتے کرتے ۔ ۔ ۔ | Tea Break

  2. غلام مرتضیٰ علی

    آمیییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییییین یا رب العالمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)