مانگنے والے ۔ جو ياد رہ جاتے ہيں

مانگنے والوں کی لاتعداد اقسام ہوں گی ميں صرف اُن اچھے يا بُرے مانگنے والوں کی بات کر رہا ہوں جو اپنی کسی حرکت يا عمل کی وجہ سے ياد رہ جاتے ہيں ۔ اِن ميں بھيک مانگنے والے بھی ہيں اور مسجد کے نام پر مانگنے والے بھی ۔ پہلے ناپسنديدہ واقعات پھر وہ جو اپنے پيچھے ايک اچھا تاءثر چھوڑ گئے

ہم جھنگی محلہ راولپنڈی ميں رہتے تھے ۔ مغرب کے بعد ايک بہت مسکين اور نحيف آواز آتی “مائی جی ۔ روٹی”
ايک جھُکا ہوا آدمی اپنے سر اور جسم پر کمبل ڈالے ہوئے بھيک مانگ رہا ہوتا تھا ۔ ايک دن ميں مغرب کے بعد گھر واپس آ رہا تھا کہ يہی آواز ہماری گلی ميں سے سُنائی دی ۔ جب ميں اپنی گلی کی طرف مُڑا تو گلی ميں کوئی نہ تھا ۔ ميں حيران ہو کر واپس بھاگا اور اس جوان صحتمند کو ديکھا جو ايک لمحہ پہلے گلی سے نکل کر گيا تھا ۔ اگلے دن “مائی جی ۔ روٹی’ کی نحيف آواز آئی تو ميں گھر سے نکل کر جا کر وہاں کھڑا ہو گيا جہاں ہماری گلی بڑی گلی سے ملتی تھی ۔ جونہی وہ مانگنے والا اُسی طرح کمبل ڈالے نکلا ميں نے پيچھے سے کمبل پکڑ ليا ۔ اندر سے ہٹا کٹا جوان نکل آيا جو کمبل سنبھال کر بھاگ گيا ۔ اس دن کے بعد ہماری گلی ميں اُس کی آواز نہ آئی

ميں انجنيئرنک کالج لاہور ميں پڑھتا گھر سے کالج جانے کيلئے بس پر جا رہا تھا ۔ بس جہلم رُکی ۔ ميں بس سے نکل کر باہر کھڑا ہو گيا ۔ چند منٹ بعد ايک خانہ بدوش قسم کی جوان پلی ہوئی عورت آ کر بھيک مانگنے لگی ۔ کچھ فاصلے پر اسی کی طرح کی تين چار عورتيں اور تھيں ۔ خطرہ پہچانتے ہوئے ميں نے خيرات دينے کی بجائے “معاف کرو” کہا مگر وہ ميری تھوڑی پکڑ پکڑ کے مانگنے لگ گئی ۔ ميں وہاں سے ہٹ کر بس کے ساتھ لگ کے کھڑا ہوگيا ۔ وہ پيچھے آ گئی اور اتنی قريب کہ اگر ميں يکدم وہاں سے چلا نہ جاتا تو اس کی چھاتی کے اُبھار ميرے سينے سے ٹکراتے ۔ ميں بس کے اندر چلا گيا ۔ کنڈکٹر نے اُسے روک ديا اور کہنے لگا “يہ بے غيرت عورتيں ہيں اسی طرح جوان سواريوں کو تنگ کرتی ہيں

ہم 1994ء ميں اسلام آباد منتقل ہو گئے ۔ گيٹ کے باہر کی گھنٹی بجی ميں نے گھر کے اندر سے انٹرکام کا رسيور اُٹھايا ۔ آواز آئی “آپ خوش قسمت ہيں ۔ آپ سے ملنے کيلئے حضرت خود تشريف لائے ہيں”۔ ميں گيٹ پر پہنچا ۔ داڑھيوں والے 4 آدمی کھڑے تھے ۔ مدعا پوچھا تو کسی مسجد کيلئے چندہ مانگا ۔ ميں نے پوچھا “کونسی مسجد ؟” جواب ملا “يہ جی يہ ساتھ والی”۔ مزيد سوال پوچھنے پر جھوٹ ثابت ہو گيا مگر ان لوگوں کو کوئی شرمندگی نہ ہوئی

بالا کے برعکس

جب ہم 1964ء سے قبل جھنگی محلہ ميں رہتے تھے ايک آدمی صرف رمضان کے مہينہ ميں سحری کے وقت آواز لگاتا ” اللہ کے پيارو ۔ اللہ والو ۔ تيری بستی ميں بولتا سائیں نا”۔ بہت گرجدار مگر من بھاتی آواز ۔ وہ کچھ نہيں مانگتا تھا ۔ صرف ستائيسويں روزے کی سحری کے وقت کہتا “بابا اپنی بستی واپس جا رہا ۔ بابا کو کچھ دے دو”۔ ايک سحری کا مجھے ياد ہے کہ ہمارا دروازہ کھٹکھٹايا ۔ ميں باہر گيا تو کہا “سائيں بابا کو روزہ نہيں رکھواؤ گے ؟” ميں دوڑ کر اندر گيا ۔ جو پراٹھا اور سالن ميں نے کھانا تھا لا کر اُسے ديا ۔ وہ بولا ” مجھے پانی کا ايک گلاس بھی دے جاؤ ۔ پھر اپنا روزہ رکھو”۔ کئی سال وہ آتا رہا ۔ پھر ايک رمضان کا مہينہ آيا مگر سائيں بابا نہ آيا ۔ اگلے روز محلے ميں سب ايک دوسرے کو کہہ رہے تھے “سائیں بابا نہيں آيا ؟” کوئی نہيں جانتا تھا وہ سائيں بابا کہاں سے آتا تھا اور کہاں چلا گيا ۔ اُسے ديکھے 5 پانچ دہائياں ہونے کو ہيں مگر مجھے اُس کی شکل اب بھی ياد ہے اور اُس کی آواز اب بھی ميرے کانوں ميں گونجتی ہے

اسلام آباد ميں ايک مانگنے والی باقاعدہ 2 سے 6 ہفتے کے وقفے سے آتی ۔ کہتی “مدد کر ديں” ۔ ایک دن میں اُسے پيسے دينے گيا تو ديکھا تيس پينتيس سال عمر ہو گی ۔ ميلے کچيلے کپڑے ۔ چہرے پر تھکاوٹ اور پريشانی کے آثار ۔ ساتھ ايک کوئی 3 سال کی بچی اور ايک بچہ چند ماہ کا گود ميں جسے وہ اينٹی بائيوٹک شربت کی ايک خوراک پلا رہی تھی ۔ ميں نے پوچھا “ان بچوں کا باپ کہاں ہے ؟” بولی “نشہ کرتا ہے”۔ اسی حال ميں وہ کئی سال آتی رہی ۔ پيسے لے کر چلی جاتی ۔ جولائی 2009ء ميں ہم لاہور چلے گئے ۔ فروری 2011ء ميں واپس آئے ۔ جون کے شروع ميں ايک دن انٹرکام کی گھنٹی بجی ۔ ميں نے رسيور اُٹھايا ۔ ايک زنانہ آواز آئی “بچے يتيم ہيں ۔ مدد کر ديں”۔ ميں پيسے دينے گيا تو وہی عورت جو پہلے صرف “مدد کر ديں” کہتی تھی ۔ صاف ستھرے کپڑے ۔ چہرے پر پہلے جيسی ہوائياں نہيں اُڑ رہی تھيں ۔ بچے بھی ساتھ نہ تھے ۔ ميں نے پيسے ديئے ۔ وہ چلی گئی ۔ گيٹ سے واپس آتے ہوئے ميں نے سوچا “اس کا خاوند شايد اس کيلئے عذاب تھا ۔ مر گيا تو اس کا بوجھ ہلکا ہو گيا”

کچھ سال پيشتر ايک دن دوپہر کے ڈھائی بجے تھے ۔ گيٹ کی گھنٹی بجی ۔ رسيور اُٹھايا ۔ آواز آئی ” بھوکا ہوں بابا ۔ کھانا کھلا دو”۔ ميں پيسے لے کر باہر نکلا ۔ اُس نے پيسے لينے سے انکار کر ديا ۔ ميں نے کہا ” اس وقت روٹی يا چاول کچھ بھی نہيں ہے”۔ کہنے لگا “بابا ۔ 2 دن کی باسی ہو تو وہ لا دو”۔ ميں اندر گيا بيوی سے پوچھا “انڈے ہيں ؟” بولی “نہيں”۔ ميں نے کہا “اچھا روٹی پکوا دو يا پکا دو ۔ سالن ميں قريبی مارکيٹ سے لے آتا ہوں”۔ گوندھا ہوا آٹا بھی صرف ايک روٹی کا تھا ۔ ميں وہی لے کر باہر گيا ۔ اور مانگنے والے سے کہا “ميں ابھی بازار سے سالن لے کر آتا ہوں”۔ بولا “کہاں جاؤ گے ۔ بابا ۔ پانی لادو ميں پانی سے کھا لوں گا”۔ ساتھ والوں کا نوکر کھڑا سُن رہا تھا بولا “سر ۔ ميں ابھی اندر سے کچھ لے کر آتا ہوں”۔ وہ اچار سے بھری پيالی لے کر آ گيا ۔ بابا نے روٹی پر اچار اُنڈيل ليا ۔ کھا کر پانی پيا ۔ اللہ کا شکر ادا کيا اور بولا “بابا ۔ دو دن سے بھوکا تھا ۔ آج پيٹ ميں کچھ چلا گيا ۔ اللہ بھلا کرے”۔ ميں ديکھتا رہا ۔ وہ چلتا ہوا سيدھا گلی سے نکل گيا ۔ مجھے جب بھی وہ شخص ياد آتا ہے ميں آنسو بہائے بغير نہيں رہ سکتا

ہميں اللہ نے اتنی زيادہ نعمتيں دے رکھی ہيں ۔ ہم اللہ کا کتنا شکر ادا کرتے ہيں ؟ ايک وہ کہ 2 دن بعد ايک روٹی مل گئی تو شکر گذار ہوا اور مطمئن بھی

This entry was posted in آپ بيتی, روز و شب, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

5 thoughts on “مانگنے والے ۔ جو ياد رہ جاتے ہيں

  1. عدنان شاہد

    انکل جی بہت سی پرانی یادیں آپ نے تازہ کردیں ۔
    اس دنیا میں بہت سے مجبور لوگ ہیں لیکن بعض ایسے لوگ ہیں جو مجبور و لاچار ہونے کا ڈھونگ رچاتے ہیں تو ہمیں سبھی ایک سے فراڈیے ہی لگتے ہیں

  2. بلاامیتاز

    کل میرے ساتھ بھی ایک عجیب واقعہ پیش آیا میں جا رہا تحا کہ سامنے سے آنے والی دو لڑکیوں نے جو چادر کا ہی نقاب بنا کر اوڑھے ہوئے تھیں ان میں سے ایک میری طرف آئی بولی چندہ دے میں چونکہ دو قدم آگے جا چکا تھا پیچھے مڑا تو اس کے ساتھ والی لڑکی جو پیچھے ہی ٹھہر گئی تھی نے مجھے دور سے ہی اشارے کیئے کہ رکنا نہیں چلتے جائو ۔ اور وہ دونوں ہاتھ بلند کر کے اتنی زور سے گویا ٹریفک پولیس کی طرح اشارے کر رہی تھی کہ رکنا نہیں اس کے انداز میں اتنی شدت تھی کہ میں ایک نظر پڑتے ہی ایک لمحہ بھی رکے بغیر ہی اگے چل پڑا۔

  3. Pingback: مانگنے والے ۔ جو ياد رہ جاتے ہيں | Tea Break

  4. محمد یاسر علی

    بھائی خدا سے دعا کرنی چاہیے کہ خدا کسی کو کسی کا محتاج نہ کرے
    دنیا میں ہر طرح کے لوگ ہیں اچھے بھی برے بھی ضرورت مند بھی اور شوقیا بھی
    ہمارے ساتھ والے گاوں میں ایک بزرگ ہیں پتا نہیں ابھی زندہ ہیں کہ فوت ہو گے
    وہ مانگا کرتے تھے حالانکہ ان کے حالات ٹھیک تھے بلکہ ہم سے تو اچھے ہی ہوں گے ان کا بیٹا میرے خیال میں نہیں تھا بہرحال وہ لوگوں سے مانگتے رہتے تھے جس طرح فقیر مانگتے ہیں آج سے کوئی 8 یا 10 سال پہلے انہوں نے کم از کم 5 یا 6 کنال زمین مسجد بنوانے کے لیے دی اور میرے خیال میں کافی پیسے بھی دیے لوگ کہتے ہیں کہ ان سے کوئی کہہ کے مانگتے کیوں ہو تو کہتے کہ کیا کروں عادت پڑ گئی ہے جب تک مانگوں نہ سکون نہیں ملتا

  5. عبداللہ آدم

    مجھے اکثر کاغذ چننے والے بچوں کے چہرے روشن روشن سے نظر اتے ہیں، شاید یہ انتھک محنت کا نور ہوتا ہے جو ان کے چہروں پر ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے گھر بھی ایک مائی اسی طرح‌آتی ہے کہ ایک دفعہ دروازہ کھٹکھٹا کر باہر تھڑی پر ہی بیٹھ رہتی ہے، کچھ دے دو تو دعا دے کر چلی جاتی ہے، لیکن آتی ہفتے بعد ہی کہیں ہے۔۔۔۔

    دنیا بہت مجبور ہے اور ہم بہت نا شکرے ہیں جو خوامخواہ نوازے گئے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)