چھوٹی چھوٹی باتيں ۔ ہم مسلمان ہيں ۔ بخشے جائيں گے

اس موضوع کے تحت ايک تحرير ميں 3 سال قبل لکھ چکا ہوں ۔ آج وہی موضوع دوسرے پہلو سے

عصرِ حاضر ميں اپنے آپ کو بہت پڑھا لکھا ۔ سائنس کے رموز سے بہراور اور جديد دنيا کے تقاضے جاننے کا دعوٰی رکھنے والے ۔ اپنے آپ کو مسلمان سمجھنے والے لوگ اپنے معاملات اور اعتقادات کو سائنس اور جديد علوم کی کسوٹی پر پرکھنے کی بجائے اپنی پسند کی سان پر رگڑ کر چمکانے کی ناکام کوشش کيوں کرتے ہيں ؟ يہ بات آج تک کوئی واضح نہيں کر سکا ۔ اُردو بلاگستان پر بڑے بڑے لکھاری اور بڑے بڑے مبصر ہيں ليکن کبھی کسی نے اس گورکھ دھندے کو سُلجھانے کی کوشش نہيں کی ۔ کيوں ؟
شايد اسلئے کہ جو آج تک اُنہوں نے بھرم قائم کر رکھا ہے اُس کا راز افشاء ہو گيا تو بقول شاعر

بشر رازِ دلی کہہ کر ذليل و خوار ہوتا ہے
نکل جاتی ہے خُوشبُو تو گُل بيکار ہوتا ہے

ہم پی ايچ ڈی کی بات نہيں کرتے ۔ ماسٹرز کی بات نہيں کرتے ۔ سب سے آسان بات سکول کی ہے ۔ اسلئے پہلے سکول کی مثال ليتے ہيں ۔ ايک طالب علم ہے کوئی شرارت يا غلط حرکت کرتا ہے جس ميں کسی دوسرے طالب علم کو پِيٹنا ۔ کسی کی چيز چُرانا ۔ سکول کا کام گھر سے کر کے نہ لانا ۔ جب اُستاذ پڑھا رہے ہوں توجہ نہ دينا اِدھر اُدھر ديکھنا۔ وغيرہ شامل ہو سکتا ہے

ايسے طالب علم کو اُستاذ نے پکڑ ليا ہے ۔ سکول ميں ہر غلطی کی سزا پہلے سے مقرر ہے ۔ اب اُس طالب علم کو مقرر کردہ سزا ملے گی ۔ اگر وہ طالب علم معافی مانگے اور اُستاذ سے وعدہ کرے کہ آئيندہ ايسی غلطی نہيں کرے گا اور اس طالب کی غلطی کی وجہ سے کسی دوسرے کا نقصان نہيں ہوا يا وہ طالب علم نقصان پورا کر ديتا ہے پھر ہی اُستاذ اُسے مشروط معافی دے ديں گے کہ آئيندہ وہ ايسی غلطی نہيں کرے گا ۔ اس صورت ميں اگر وہ دوبارہ غلطی کرے گا تو سزا سے نہيں بچ سکے گا

دوسری مثال اپنے محلے کی ليتے ہيں ۔ دو لڑکے آپس ميں لڑ پڑتے ہيں ۔ ايک دوسرے پر اس قدر سخت وار کرتا ہے کہ دوسرا مر جاتا ہے يا اُسے گہرا زخم آ جاتا ہے ۔ کيا مرنے يا زخمی ہونے والے کے لواحقين يا پوليس يا عدالت قاتل يا مُجرم کو صرف يہ کہنے پر معاف کر ديں گے کہ “غلطی ہو گئی معاف کر ديں”؟ نہيں کبھی نہيں

حقيقت يہ ہے کہ ہم نام نہاد مسلمانوں کی اکثريت صرف اللہ کو مانتی ہے ۔ اللہ کا کوئی حُکم نہيں مانتی ۔ پھر بھی سينہ تان کر يا سينے پر ہاتھ مار کر ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہيں

يہ ہماری روزمرہ کی عمومی دنيا ہے ۔ جب باری دين يعنی اللہ کے احکامات پر عمل کی آتی ہے تو پھر ہماری عقل جسے ہم عقلِ کُل سمجھتے ہيں وہ اس انتہائی احمقانہ انداز سے کيوں سوچتی ہے کہ
“اللہ بڑا رحمٰن و رحيم و کريم ہے ۔ ہم معافی مانگيں گے اور وہ معاف کر دے گا”
اور اُس کے بعد پھر ہم پہلے کی طرح خرافات کرتے رہيں گے ۔ پھر معافی مانگ ليں گے

ہماری بھاری اکثريت يہ عقيدہ کيوں رکھتی ہے کہ
“ہم مسلمان ہے اُمت سيّدنا محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم ہيں اُنہوں نے اپنی اُمت کی شفاعت کرنا ہے اور اللہ کے محبوب ہونے کی وجہ سے اللہ اُن کی شفاعت کو رد نہيں کر سکتا اسلئے ہم بخشے جائيں”

ہم يہ کيوں نہيں سوچتے کہ کيا ہم سيّدنا محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم کی اُمت ہيں ؟
بات اُمت کی ہو رہی ہے قبيلے کی نہيں ۔ ايک شخص کی اُمت وہ لوگ ہوتے ہيں جو اُس کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہيں ۔ کہاں لکھا ہے قرآن شريف ميں کہ جو اپنے آپ کو مسلمان کہے گا بخشا جائے گا ؟ قرآن شريف ميں بہت سی آيات مسلمان کہلانے کے ناطے اس طرح کی معافی کی نفی کرتی ہيں ۔ صرف ان چند اور مختصر آيات پر غور کيجئے

سورت 2 ۔ البقرہ ۔ آيت 285 ۔ رسول اس کتاب پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور مومن بھی سب خدا پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں

سورت 7 ۔ الاعراف ۔ آيات 155 و 156 ۔ [سيدنا موسیٰ عليہ السلام نے کہا] ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تُو ہی ہمارا کار ساز ہے ۔ تو ہمیں [ہمارے گناہ] بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے ۔ اور ہمارے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی ۔ ہم تیری طرف رجوع ہو چکے ۔ فرمایا کہ جو میرا عذاب ہے اسے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ تمام اشیا پر محیط ہے ۔ وہ رحمت ان لوگوں کے نام ضرور لکھوں گا جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور زکٰوت دیتے ہیں اور جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں

سورت 10 ۔ يونس ۔ آيت 9 ۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو پروردگار ان کے ایمان کی وجہ سے راہ دکھائے گا

سورت 29 ۔ العنکبوت ۔ آيت 2 ۔ کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لائے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے ؟

This entry was posted in روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

5 thoughts on “چھوٹی چھوٹی باتيں ۔ ہم مسلمان ہيں ۔ بخشے جائيں گے

  1. Pingback: چھوٹی چھوٹی باتيں ۔ ہم مسلمان ہيں ۔ بخشے جائيں گے | Tea Break

  2. نورمحد

    محترم افتخار صاحب ۔ ۔
    میرا یہ مسئلہ ہے کہ آپ کے بلاگ کا فونٹ میرے پی سی پر بالکل خراب دکھائی دیتا ہے ۔ جس کی وجہ ہے میں آپ کی تحاریر چاہتے ہوئے بھی پڑھ نہیں پاتا ۔ ۔ اگر آپ مجھے یہ بتا دیں کہ آپ نے کون سا فونٹ استعمال کیا ہے تو میں اسے اپنے پی سی پر ڈاؤنلوڈ کئے دیتا ہیں ۔ ( ابھی میں یہاں پر ٹائپ کر رہا ہوں وہ تو پڑھنے کے قابل ہے ۔ مگر اوپر کی تحریرپڑھنے میں بہت دشواری ہوتی ہے ( ۔ ۔۔ برائے کرم توجہ دیں ۔

    جزاک اللہ خیرا” جزا

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    نور محمد صاحب
    ميں نفيس ويب نسخ اسرعمال کرتا ہوں
    آپ مندرجہ ذيل ربط سے نفيس ويب نسخ فونٹ ڈاؤن لوڈ کر ليجئے
    http://search.jang.com.pk/font.asp
    مندرجہ ذيل ربط سے آپ نفيس ويب نسخ اور کئی دوسرے اُردو فونٹس فونٹ ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہيں
    http://www.crulp.org/software/localization/Fonts/nafeesWebNaskh.html

  4. نورمحد

    بہت خوب محترم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔ اُنہوں نے اپنی اُمت کی شفاعت کرنا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسلئے ہم بخشے جائيں” ۔ ۔ ۔ بالکل صحیح۔۔۔ یہ تو ہمارے آقا کا کی امت سے محبت کی انتہا ہے ۔ ۔ مگر روایتوں میں یہ بھی آیا ہے : مفہوم مختصرا” یہ کہ : حوض کوثر پر آپ صلم ۔۔ جب اپنی امت کو آب کوثر پلا رہے ہونگے اس وقت فرشتے کچھ بندوں کو وہاں سے بھگا ئیں گیں ۔ ۔ تو آپ صلم فرشتوں سے پوچھیں گیں کہ یہ تو میری امت کے افراد ہیں ۔ انہیں کیوں ہٹا رہے ہو ۔ ۔ تو فرشتے جواب دیں گیں کہ ۔ ۔ یہ آپ کی امت ہی ہے مگر جب آپ کا دین اس دنیا میں مٹ رہا تھا تب انہوں نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اور اپنی موج و مستی میں مگن رہے ۔ ۔ ۔ تو ۔ ۔ یہ سن کر آپ صلم بھی ان افراد کو وہاں سے بھگانے کہیں گیں ۔ ۔ ۔
    حاصل یہ کہ صرف امتی ہونا یہ نجات کی دلیل نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ہاں امتی ہونے کا حق ادا کرے یا کم از کم اس کی کوشش کرے تو اور بات ہے

    اللہ ہم سب کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق نصیب کرے۔ آمین

    جزاک اللہ

  5. وھاج احمد

    کچھ عرصہ پہلے میں نے بھی اسی بات پرغور کیاتھا
    چلئے مان لیا کہ میں مسلمان ہوں تو کیا رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم مجھے بطور مسلمان پہچان لیں گے؟
    کیسے؟ کیا داڑھی سے یا میرے لباس سے یا جو مجھے قران یاد ہے وہ سنانے سے؟ تو یہ تو بہت سے غیر مسلمان بھی ہیں جو کہ ان تمام باتوں پر پورے اتر آئیں گے —– تو پھر؟
    اللہ تعالےا تو سب کچھ جاننے والے ہیں وہ البتہ میرے دل کی حالت سے جان لیں گے لیکن وہان ان سب باتوں کی کوئی قیمت نہ ہوگی وہاں تو صرف اور صرف اعمال ہی ہوں گے جو کام آسکیں گے
    باقی جو کہا جاتا ہے کہ وضو کرنے والوں کے وہ حصے چمک رہے ہوں گے جو وضو میں صاف کیئے جاتے ہیں تو ان کا بھی کیسے یقین کرین ہم کیا معلوم ہماری نمازیں اللہ تعالےا قبول کریں گے یا نہیں وغیرہ وغیرہ
    تو یہ سوچتے پوئے میں تو اس نتیجہ پہ پہنچا تھا کہ اللہ کی رحمت اور شفاعت رسول پہ یقین رکھئے اور اپنے اعمال اور ان کی نیت درست رکھیئے پھر اللہ کی رحمت اور رسول کی شفاعت کا سوچئے اس کے سوائے چارہ نہیں– اللہ آپ کا بھلا کرے اور ہم سب کو اللہ کی رحمت اور رسول کی شفاعت عطا فرمائے اس وقت جب انہی کی ضرورت ہوگی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)