غُربت ايک جُرم

کيا عوامی کہنے سے عوامی ہو جاتا ہے ؟ ہمارے مُلک اور تين صوبوں پر 3 عوامی جماعتوں کی حکومت ہے ۔ پاکستان پيپلز پارٹی يعنی پاکستان عوامی پارٹی ۔ عوامی نيشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ جو اپنے آپ کو حق پرست کہتے ہيں ۔ پچھلے 3 سال ميں اِن عوام کے غم خواروں نے جو عوام کے ساتھ سلوک کيا ہے اُس کی ايک ہلکی سی جھلک

وزارت سماجی بہبود کے مطابق پاکستان کی کل آبادی 17 کروڑ 70 لاکھ ہے جس میں 11 کروڑ غریب ہیں يعنی 62.22 فيصد پاکستانیوں کی آمدن 170 روپے فی يوم یااس سے کم ہے ۔ ملک میں جب دال مونگ 150 روپے فی کلو ۔ دال مسور 95 روپے فی کلو ۔ چاول 90 روپے فی کلو ۔ آٹا 30 روپے فی کلو اور چائے 400 روپے فی کلو ہو تو پھر 170 روپے روزانہ آمدن والا شخص کیا خرید پائے گا ؟ اور اس سے کم آمدن والے پاکستانی جو 11 کروڑ کی بھاری اکثريت ہيں وہ کيا کر پائيں گے ؟

11 کروڑ پاکستانی دن بدن مزيد غربت کی پستیوں میں جائيں گے کیونکہ حکومت ہر دن 3 ارب روپے کے نوٹ چھاپتی ہے ۔ جب حکومت زيادہ نوٹ چھاپتی ہے تو افراط زر بڑھ جاتا ہے ۔ افراطِ زر بڑھنے سے ہر آدمی کی جیب میں موجود رقم کی قدر کم ہوجاتی ہے ۔ مطلب یہ ہوا کہ 3 سال بعد مزيد 57 فیصد لوگ غربت ۔ بھوک و افلاس میں دھکیل دیئے گئے ہوں گے

لوگوں کو غربت کے جال میں پھنسانے کیلئے 4 عوامل اہم ہیں
تعلیم کی کمی
بدعنوان حکمرانی
سرمایہ کاری کا رُک جانا
داخلی جھگڑے

پاکستان میں یہ چاروں عوامل اپنا کردارادا کررہے ہیں اور اس سے بچنے کیلئے کوئی کوشش دکھائی نہیں دیتی ۔ چنانچہ 11 کروڑ غریب پاکستانیوں کی اکثریت ایسی غربت کا شکار ہوگئی ہے جو نسل در نسل چلتی ہے ۔ 10 سال بعد 2021ء میں جب پاکستان کی آبادی 22 کروڑ تک پہنچ چکی ہوگی اگر غربت کو بڑھنے سے نہ روکا گیا تو پاکستان میں غربت کی زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد 13 کروڑ ہوگی اور 2030ء تک یعنی 20 سال بعد پاکستان کی آبادی 25 کروڑ ہوگی اور اس میں 15 کروڑ غریب ہوں گے

تاریخی لحاظ سے پاکستان ايک کم افراط زر والا ملک رہا ہے ۔ صارفین کا انڈکس (سی پی آئی) 1999ء ۔ 2001ء اور 2002ء بالترتیب 3.58 فيصد ۔ 4.41 فيصد اور 3.54 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا ۔ پاکستانی کم افراط زر کے عادی رہے ہیں ۔ ماضی ميں انہوں نے کبھی دو ہندسوں میں افراطِ زر برداشت نہیں کیا ۔ موجودہ سال ميں افراطِ زر 22 فيصد تک پہنچ چکی ہے ۔ غریب ہونے میں مشکل یہ ہے کہ یہ غُربت غريب کا سارا وقت لے لیتی ہے ۔ مگر ایوان اقتدار کے لوگ اور ان کے رشتہ دار امیر تر ہوتے جارہے ہیں

ماخذ ۔ تحرير ڈاکٹر فرخ سلیم

This entry was posted in تجزیہ, روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

4 thoughts on “غُربت ايک جُرم

  1. Pingback: غُربت ايک جُرم | Tea Break

  2. یاسر خوامخواہ جاپانی

    یہ عوامی پارٹیاں مزید دو سالوں میں مہنگائی ختم نہ کر سکیں تو
    کچھ آبادی ضرور کم کر جائیں گی۔۔یہ آبادی کم ہونے کا سلسلہ ان کے جانے بعد بھی چلتا رہے گا۔
    نئی آنے والی حکومت جانے والوں کو الزام دے گی اورآبادی کم ہونے کا سلسلہ چلتا رہے گا۔

  3. غلام عباس مرزا

    بہت اچھی معلومات دی ہے آپ نے۔غربت کے ذمہ دار جو چار عوامل آپ نے گنوائے ہیں مجھے لگتا ہے کہ بدعنوان حکمران ہی باقی مذکورہ تین عوامل کے ذمہ دار ہیں۔
    میں فونیٹک کی بجائے ونڈوز کا اردو کی بورڈ استعمال کرتا ہوں اس لیے مجھے آپ کے بلاگ پر تبصرہ کرتے ہوئے دشواری ہوئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)