Monthly Archives: June 2011

اپنی کوتاہ نظری کا ماتم

2,050 بار دیکھا گیا

يحیٰ خان کے حلفيہ بيان کا کچھ حصہ بنگلا ديش ميں شائع ہوا ہے “مجیب غدار نہیں تھا اور نہ ہی علیحدگی چاہتا تھا لیکن ۔ ۔ ۔”

لال مسجد پر فوجی کاروائی رکوانے کے سلسلہ ميں مدد کيلئے شجاعت حسين نے وزیر اعظم شوکت عزیز سے رابطہ کيا
وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا “میں اپنی بیوی کے ساتھ قُلفی کھانے جارہا ہوں”

جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے اور اس حوالے سے میں نے جتنی تحقیق کی تھی اس سے یہ تاثر بنتا تھا کہ شیخ مجیب الرحمن اپنے چھ نکات سے کسی قیمت پر ہٹنے کو تیار نہیں تھا کیونکہ اس کا کہنا تھا کہ انہی نکات پر عوام سے ووٹ لے کر اور انتخابات جیت کر وہ اس مقام پر پہنچا ہے اسلئے اب یہ چھ نکات عوام کا مقدس ٹرسٹ ہیں جس میں ردو بدل کا اسے اختیار نہیں۔ جب بھٹو صاحب اور شیخ مجیب الرحمن کے درمیان مذاکرات کا دور شروع ہوا تو رعایات دیتے دیتے بھٹو صاحب پانچ نکات ماننے پر تیار ہوگئے تھے لیکن وہ چھٹے نکتے بلکہ نصف نکتے فارن ٹریڈ(دوسرے ممالک سے براہ راست تجارت) پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں تھے کیونکہ بھٹو صاحب کا کہنا تھا کہ پانچ نکات کی روشنی میں اگر مشرقی پاکستان کو غیر ممالک سے براہ راست تجارت کا اختیار دے دیا جائے تو پھر اس کا مطلب آزادی اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی ہی ہوگا

بنگلہ دیش میں یحییٰ خان کا ایک حلفیہ بیان چھپا ہے جو یحییٰ خان نے ضیاء الحق کے دور حکومت میں لکھا اور لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرایا تھا لیکن پاکستان کے عوام عام طور پر اس سے آگاہ نہیں۔ سپریم کورٹ میں بھٹو ریفرنس کے حوالے سے یہ بیان بے نقاب ہوناچاہئے۔ غالباً یحییٰ خان کا انتقال 1980ء میں ہوا اور یہ حلفی بیان1978ء میں جمع کرایا گیا تھا

اس بیان میں یحییٰ خان نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی ذمہ داری بھٹو اور مجیب پر ڈالی ہے۔ اسکا کہنا ہے کہ مجیب غدار نہیں تھا اور نہ ہی علیحدگی چاہتا تھا لیکن ا س کے ساتھیوں مشیروں اور پارٹی عہدیداروں نے اسے یرغمال بنا رکھا تھا اور مجیب ان کے دباؤ سے آزاد نہیں ہوسکتا تھا۔ ان حضرات کی اکثریت علیحدگی پسند تھی، ان میں سے کچھ کا رابطہ ہندوستان سے تھا اور وہ مجیب کو چھ نکات سے ذرا بھی پیچھے ہٹنے نہیں دیتے تھے

مجھے علم نہیں کہ یحییٰ خان کے اس حلفی بیان کی حقیقت اور حیثیت کیا ہے لیکن اس بیان میں یحییٰ خا ن نے تسلیم کیا ہے کہ آرمی ایکشن اس کا ذاتی فیصلہ تھا کیونکہ حکومتی رٹ ختم ہوچکی تھی اور مشرقی پاکستان بغاوت کے دہانے پر کھڑا تھا، چنانچہ خالصتاً فوجی انداز میں یحییٰ خان نے حکومتی رٹ بحال کرنے کےئے مارچ 1971ء میں آرمی ایکشن کا حکم دے دیا۔ دنیا بھر کے مصنفین اور محققین اس بات پر متفق ہیں کہ دراصل مشرقی پاکستان آرمی ایکشن کے ساتھ ہی بنگلہ دیش بن گیا تھا اور یہ کہ آرمی ایکشن مشرقی پاکستان کو علیحدہ کرنے کا شاندار ”نسخہ“ تھا۔ مجھے یاد ہے کہ آرمی ایکشن پر تبصرہ کرتے ہوئے لندن کے ہفت روزہ اکانومسٹ نے لکھا تھا کہ یہ سٹاف کالج کے انداز میں پاکستان کو تباہ کرنے کی بہترین سکیم تھی

کئی لیڈران کا دعویٰ تھا کہ اگر انہیں وقت دیا جاتا تو وہ مجیب کو منا سکتے تھے اور اس کے ساتھیوں کو بھی سمجھا سکتے تھے، اگرچہ بھٹو صاحب مذاکرات سے مایوس ہوچکے تھے لیکن کئی مسلم لیگی رہنما اور این اے پی کے لیڈران ابھی تک امید کا دامن تھامے ہوئے تھے لیکن جب انہوں نے ڈھاکہ پرل کانٹینٹل کی کھڑکیوں سے گولے برستے دیکھے اور فائرنگ کی بے تحاشا آوازیں سنیں تو مایوسی کی ا تھاہ گہرائیوں میں ڈوب گئے ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ سیاستدان ابھی تک مایوس نہیں ہوئے تھے اور وہ ڈھاکہ میں حکومتی رٹ ختم ہونے کے باوجود یہ امید رکھتے تھے کہ ہم کسی نہ کسی طرح مجیب اور اس کے ساتھیوں کو کسی متفقہ حل اور وسیع تر سمجھوتے پر راضی کرلیں گے لیکن یحییٰ خان نے حکومتی رٹ بحال کرنے کے لئے گولی چلا دی اور وہ گولی متحدہ پاکستان کے جسم میں جالگی اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا باعث بن گئی

یہی فرق ہوتا ہے جرنیلی اور سیاہپانہ ذہن اور سیاسی ذہن میں۔ جرنیل کیوں جمہوریت کو تباہ کرتے ،ادارے پاؤں تلے روندتے اور مخالفین کے سر پھوڑتے ہیں۔ انہیں پھانسی چڑھاتے یا جلا وطن کردیتے ہیں کیونکہ ان کی اپروچ، ذہنی ساخت اور تربیت ناک کی سید چلنا ،بلاچوں چراں حکم ماننا اور حکم دینا ہوتی ہے۔ ان میں لچک، سیاسی بصیرت، کچھ لو کچھ دو اور صبر آزما مذاکرات کی صلاحیت اور استعداد نہیں ہوتی جبکہ سیاستدان سر تا پا لچک، دوربیں اور مذاکرات بلکہ تھکا دینے والے طویل مذاکرات کا عادی ہوتا ہے۔ وہ ہر مشکل سے مشکل صورتحال اور پیچیدگی سے راستہ نکال لیتا ہے اور دلائل سے بات منوا لیتا ہے جبکہ جرنیل دلائل سے نہیں گولی سے بات منواتا ہے۔ جرنیل کی ساری ٹریننگ میدان جنگ کی ٹریننگ ہوتی ہے جبکہ سیاستدان کی ساری ٹریننگ میدان زیست کی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جرنیل سیاسی حکمرانی کے اہل نہیں ہوتے اور وہ جب آئین و قانون کو پامال کرکے اقتدار میں آتے ہیں تو تباہی کی بارودی سرنگیں بچھا کر تشریف لے جاتے ہیں

ابھی کل کی بات ہے کہ جنرل پرویز مشرف لال مسجد کے امتحان میں پھنس گئے تھے اگرچہ اب پرویز مشرف اپنی غلطی مانتا ہے لیکن کرسی صدارت پر بیٹھ کر وہ عقل کُل بن بیٹھا تھا اور اس نے صلا ح مشورے کے دروازے بند کردئیے تھے۔ جب اس نے محسوس کیا کہ جامعہ حفصہ لال مسجد میں حکومتی رٹ چیلنج کی جارہی ہے تو اس نے معصوم بچوں، بچیوں اور شہر یوں کا خون بہانے سے دریغ نہ کیا حالانکہ چوہدری برادران کا دعویٰ ہے کہ اگر انہیں موقع دیا جاتا تو وہ اس چیلنج کا حل نکال سکتے تھے۔چوہدری برادران کے لئے لال مسجد میں نرم گوشہ اور احترام تھا وہ بات سمجھا سکتے تھے لیکن جنرل صاحب کو اقتدار کا نشہ چڑھ چکا تھا ، ان میں سیاسی لچک کا فقدان تھا اور وہ اس بصیرت سے کلی طور پر محروم تھے جو اس طرح کے خطرناک چیلنجوں سے نکلنے کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ ان کی تربیت فقط یہ تھی کہ جب کوئی حکومتی رٹ چیلنج کرے اور حکم نہ مانے تو اسے گولی مار دو۔ اللہ اللہ خیر صلاّ

چوہدری شجاعت حسین کئی بار ببانگ دہل کہہ چکے کہ انہیں لال مسجد کے سانحے سے دور رکھا گیا اور جب وہ آرمی ایکشن سے پہلے وزیر اعظم شوکت عزیز سے ملنے گئے اور اسے بیچ بچاؤ کے لئے سمجھانا چاہا تو جواب ملا کہ “میں اپنی بیوی کے ساتھ قلفی کھانے جارہا ہوں”۔ شوکت عزیز بھی مکمل طور پر بابو تھے، بیورو کرٹیک ذہن رکھتے تھے اور انہیں جامعہ حفصہ کے خون سے کوئی زیادہ ہمدردی نہیں تھی کیونکہ وہ عوام کے ووٹوں سے وزیر اعظم بنے تھے نہ اپنے آپ کو عوام کے سامنے جوابدہ سمجھتے تھے۔ شوکت عزیز اچھی طرح سمجھتا تھا کہ جب لال مسجد کاخون پکارے گا تو وہ ملک سے باہر جاچکا ہوگا اور لوٹی ہوئی دولت کے انباروں پر بیٹھ کر عیش کررہا ہوگا۔ظاہر ہے کہ یہ سوچ کسی سیاستدان کی نہیں ہوسکتی تھی جو تمام تر کمزوریوں کے باوجود عوام سے رشتوں میں بندھا ہوتا ہے اور اپنی جڑیں ملک کی دھرتی میں تلاش کرتا ہے۔ سیاستدان نالائق ہوں، لیٹرے ہوں، بدنیت ہوں یا ملکی خزانے کے چور ہوں انہیں ہمیشہ عوامی جوابدہی کا ”دھڑکا“لگا رہتا ہے جبکہ جرنیل اپنے آپ کو ان ”خرافات“ سے بلند و بالا سمجھتا ہے۔ آج مشرف اسی برتے پر بڑھکیں مارتا پھرتا ہے

مختصر یہ کہ مشرقی پاکستان ہو یا جامعہ حفصہ اور لال مسجد فوجی اور سیاسی سوچ کے درمیان اختلاف اور فاصلوں کا سمندر حائل ہوتا ہے۔ آج یہی غلطی ہم بلوچستان میں کررہے ہیں ۔ سیاستدان بظاہر بے بس نظر آتے ہیں ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سیاسی مسائل فوجی انداز سے نہیں بلکہ سیاسی حکمت عملی سے حل ہوتے ہیں۔ کتنے کوڑھ مغز، کوتاہ نظر اور نالائق ہیں ہم لوگ کہ اپنی ہی تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے ، ایک ہی غلطی کو دہراتے چلے جاتے ہیں ،کانٹے بو کر پھولوں کی تمنا کرتے ہیں اور گولی اور اغواء کے بیج بو کر محبت اور حب الوطنی کی فصل کاٹنا چاہتے ہیں۔ خدارا سمجھئے کہ قانون فطرت میں ایسا ممکن نہیں

تحرير ۔ ڈاکٹر صفدر محمود

بلاگرز ۔ مبصّرين اور مُنتظم اُردو سيّارہ کے نام

2,213 بار دیکھا گیا

محترم جوانو اور نوجوانو
السلام عليکم
ہر آدمی کسی تحرير کا مطلب اپنے ماحول ۔ تعليم اور تربيت کے زيرِ اثر سوچتا اور سمجھتا ہے ۔ اسلئے ميری آپ سب سے درخوست ہے کہ تحرير يا تبصرہ لکھنے سے قبل يا لکھ کر شائع کرنے سے قبل کم از کم ايک دو بار اسے اس نظريئے سے پرکھ ليا کيجئے کہ کوئی قاری اس کا کيا کيا مطلب لے سکتا ہے ؟

مُنتظم اُردو سيّارہ نے جس بلاگ کو اُردو سيّارہ سے ہٹانے کا اقرار کيا گيا ہے بلا شُبہ اس کی ايک تحرير نے ميرے ذہن ميں بھی ناراضگی پيدا کی تھی ۔ ميں صاحبِ بلاگ کو سمجھانے کا ارادہ رکھتا تھا مگر گھريلو سخت قسم کی مجبوری کے باعث ميں کچھ دن کمپيوٹر نہ چلا سکا ۔ آج کمپيوٹر چلايا تو معلوم ہوا کہ وہ بلاگ اُردو سيّارہ سے ہٹا ديا گيا ہے

مُنتظم اُردو سيّارہ سے درخواست ہے کہ جس اصول کو نافذ کرنا ہے انصاف اور برابری کے ساتھ نافذ کيجئے ۔ ايک بلاگ ہم مسلمانوں کے دلوں ميں زہر آلود نيزے چبھوتا اور ہمارے سروں پر ہتھوڑے مارتا رہا ۔ اس پر بہت سے بلاگرز اور قارئين پچھلے دو ماہ سے سراپا احتجاج بنے ہوئے ہيں ليکن مُنتظم اُردو سيّارہ پر اس کا کچھ اثر نہ ہوا

اور پھر مُنتظم اُردو سيّارہ نے ايک بلاگ پر اپنی غيرجانبداری ثابت کرتے ہوئے اپنے رويّئے کو آزادی اظہارِ رائے اور اُردو سيّارہ کو سيکولر قرار ديا ۔ ويسے تو ساری دنيا ہی ميں سيکولر کا عملی مطلب يہی ہے کہ مسلمانوں ۔ اُن کے دين اور اُن کے اسلاف کو رگيد کر کہو کہ يہ اظہارِ رائے کی آزادی ہے مگر رگيدنے والے کی کسی نامعقول بات يا متشدد عمل پر اعتراض کرنے والے کو انتہاء پرست يا دہشتگرد قرار دے کر اُسے اُس کے گھر ميں گھُس کر قتل کر دو

اللہ ميرے سميت سب کو حقائق کا ادراک نصيب فرمائے اور مجھے سيدھی راہ پر قائم و دائم کرے

نشانياں ہيں ۔ عقل والوں کيلئے

2,005 بار دیکھا گیا

پھُول کی پَتّی سے کَٹ سکتا ہے ہِيرے کا جِگَر
مَردِ ناداں پہ کلامِ نَرم و نازک بے اَثر

سورت 28 ۔ القَصَص ۔ آيت 55 ۔ اور جب بیہودہ بات کان میں پڑتی ہے تو اس سے کنارہ کر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے عمل ہمارے لئے اور تمہارے عمل تمہارے لئے ۔ تم پر سلام ہو ہم جاہلوں سے (الجھنا) نہیں چاہتے

سورت 6 ۔ الانعام ۔ آيت 68 ۔ اور جب آپ ان لوگوں کو دیکھیں جو ہماری آیات میں عیب جوئی کر رہے ہیں تو ان لوگوں سے کنارہ کش ہوجائیں یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں اور اگر آپ کو شیطان بھلا دے تو یاد آنے کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھیں

سورت 4 ۔ النّسآء ۔ آيت 140 ۔ اور اللہ تمہارے پاس اپنی کتاب میں یہ حُکم اتار چکا ہے کہ تم جب کسی مجلس والوں کو اللہ تعالٰی کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے اور مذاق اُڑاتے ہوئے سنو تو اس مجمع میں ان کے ساتھ نہ بیٹھو ۔ جب تک کہ وہ اس کے علاوہ اور باتیں نہ کرنے لگیں (ورنہ) تم بھی اس وقت انہی جیسے ہو ۔ یقیناً اللہ تعالٰی تمام کافروں اور سب منافقین کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے‏

سورت 109 ۔ الکافِرون ۔‏ آپ کہہ دیجئے کہ اے کافرو ۔ نہ میں عبادت کرتا ہوں اس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو ۔ نہ تم عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں ۔ اور نہ میں عبادت کرونگا جسکی تم عبادت کرتے ہو ۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں ۔ تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے

سورت 103 ۔ العَصر ۔ زمانے کی قسم ۔ بیشک (بالیقین) انسان سراسر نقصان میں ہے ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور (جنہوں نے) آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی‏

سورت 2 ۔ البَقَرہ ۔ آيت 165 ۔ اور بعض لوگ ایسے ہیں جو غیر خدا کو شریک (خدا) بناتے اور ان سے خدا کی سی محبت کرتے ہیں لیکن جو ایمان والے ہیں وہ تو خدا ہی کے سب سے زیادہ دوست دار ہیں اور اے کاش ظالم لوگ جو بات عذاب کے وقت دیکھیں گے اب دیکھ لیتے کہ سب طرح کی طاقت خدا ہی کو ہے اور یہ کہ خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

سورت 6 ۔ الانعام ۔ آيت 125 ۔ سو جس شخص کو اللہ تعالٰی راستہ پر ڈالنا چاہے اس کے سینہ کو اسلام کے لئے کشادہ کر دیتا ہے جس کو بےراہ رکھنا چاہے اس کے سینے کو بہت تنگ کر دیتا ہے جیسے کوئی آسمان پر چڑھتا ہے ۔اس طرح اللہ تعالٰی ایمان نہ لانے والوں پر ناپاکی مسلط کر دیتا ہے

سورت 10 ۔ يُونس ۔ آيات 90 تا 92 ۔ ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کر دیا پھر ان کے پیچھے پیچھے فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ظلم اور زیادتی کے ارادہ سے چلا یہاں تک کہ جب ڈوبنے لگا تو کہنے لگا “میں ایمان لاتا ہوں کہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں ۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں”
(جواب دیا گیا) اب ایمان لاتا ہے ؟ اور پہلے سرکشی کرتا رہا اور مفسدوں میں داخل رہا
سو آج ہم تیری لاش کو نکال لیں گے تاکہ تو پچھلوں کیلئے عبرت ہو۔ اور بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بےخبر ہیں

سورت 58 ۔ المجادلہ ۔ آيت 5 ۔ بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل کئے جائیں گے جیسے ان سے پہلے کے لوگ ذلیل کئے گئے تھے اور بیشک ہم واضح آیتیں اتار چکے ہیں اور کافروں کے لئے تو ذلت والا عذاب ہے‏

سورت 52 ۔ الطُّور ۔ آيات 9 تا 13 ۔ جس دن آسمان تھرتھرانے لگے گا ۔ اور پہاڑ چلنے پھرنے لگیں گے۔‏ اس دن جھٹلانے والوں کی (پوری) خرابی ہے۔‏ جو اپنی بیہودہ گوئی میں اچھل کود رہے ہیں ۔ جس دن وہ دھکے دے کر آتش جہنم کی طرف لائے جائیں گے‏

سورت 4 ۔ النِّسآء ۔ آيت 48 ۔ یقیناً اللہ تعالٰی اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سواء جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالٰی کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بہتان باندھا

مسلمانی کیا ۔ پاکستانیت کيا

2,097 بار دیکھا گیا

جب میں مسلم ہموطنوں کے طور طریقوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو سوچتا ہی رہ جاتا ہوں
کھانے کو روٹی ملے نہ ملے مگر ناک اتنی اُونچی کہ ہر وقت کٹنے يا کہيں پھنسنے کا خدشہ

رسول اللہ سیّدنا محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم کا اُمتی ہونے پر فخر مگر اطوار میں مشابہت برہمن سے ۔ کسی کو حقیر بتانا ہو تو تیلی ۔ جولاہا ۔ درزی ۔ کمہار ۔ لوہار ۔ دھوبی ۔ موچی ۔ ترکھان یا مزارع کہہ دیا

سوچتے نہیں کہ
تیلی نہ ہوتا تو مچھلی ۔ پکوڑے ۔ وغیرہ کس میں تل کر مزے لیتے ؟
جولاہا نہ ہوتا تو کیا یہ خود جولاہے بنتے یا ننگے پھرا کرتے ؟
درزی نہ ہوتا تو آئے دن کے بدلتے فيشنوں کے کپڑے کیسے پہنتے ؟
کمہار نہ ہوتا تو کھانا ہتھیلی یا درختوں کے پتوں پر رکھ کے کھاتے ؟
لوہار نہ ہوتا تو پیدل ہی چلا کرتے اور ابھی تک غاروں میں رہ رہے ہوتے
دھوبی نہ ہوتا تو اپنے تمام کپڑے خود ہی دھویا کرتے
موچی نہ ہوتا تو ننگے پاؤں کتنا چل پاتے ؟
ترکھان نہ ہوتا تو پلنگ ۔ صوفے ۔ کُرسیاں اور میز کہاں سے آتے ؟
مزارع نہ ہوتا تو پيٹ کو کيا پتھروں سے بھرتے ؟

جھاڑو لگانے اور کوڑا کباڑ اُٹھانے والے کو تو آدمی ہی نہیں سمجھتے
حالانکہ ہر آدمی روزانہ رفع حاجت کے بعد اپنے جسم سے گندگی اپنے ہی ہاتھ سے صاف کرتا ہے ۔ کیا یہ کام بھی کسی اور سے کراتے ہیں ؟
:lol:

کچھ ہموطن اپنی بڑھائی جتانے کے لئے اپنے وطن کی اشیاء کو بھی حقیر بتاتے ہیں

بچوں کو انگریزی نام کے سکول میں داخل کرايا جاتا ہے خواہ فیس پوری کرنے کے لئے جان لڑانی پڑے يا حرام کمانا پڑے
انگريزی ضرور بولنا ہوتا ہے خواہ ايک فقرہ بھی درست نہ بول سکيں
اپنے مُلک کی بنی چيز کو کوئی ولائتی کہہ کر بيچے تو دوگنا قيمت پر لينے کو تيار
مکئی کے پھُلے نہیں کھاتے مگر پوپ کورن کھاتے ہیں
:lol:

بہت لمبی فہرست ہے ۔ کہاں تک سُنيں گے ؟ کیا کیا بتاؤں ؟

اللہ کریم ہم سب کو حقیقت کو سمجھنے اور درُست فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے

اللہ کریم کے فضل اور اُسی کی دی ہی توفیق سے میں نے ہر قسم کا کام ایک بار ضرور کیا ہے ۔ اِس میں تیلی اور جولاہے کے کام [کہ جن کا موقع نہ ملا] کے سوا باقی سب کام شامل ہیں

غُربت ايک جُرم

2,170 بار دیکھا گیا

کيا عوامی کہنے سے عوامی ہو جاتا ہے ؟ ہمارے مُلک اور تين صوبوں پر 3 عوامی جماعتوں کی حکومت ہے ۔ پاکستان پيپلز پارٹی يعنی پاکستان عوامی پارٹی ۔ عوامی نيشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ جو اپنے آپ کو حق پرست کہتے ہيں ۔ پچھلے 3 سال ميں اِن عوام کے غم خواروں نے جو عوام کے ساتھ سلوک کيا ہے اُس کی ايک ہلکی سی جھلک

وزارت سماجی بہبود کے مطابق پاکستان کی کل آبادی 17 کروڑ 70 لاکھ ہے جس میں 11 کروڑ غریب ہیں يعنی 62.22 فيصد پاکستانیوں کی آمدن 170 روپے فی يوم یااس سے کم ہے ۔ ملک میں جب دال مونگ 150 روپے فی کلو ۔ دال مسور 95 روپے فی کلو ۔ چاول 90 روپے فی کلو ۔ آٹا 30 روپے فی کلو اور چائے 400 روپے فی کلو ہو تو پھر 170 روپے روزانہ آمدن والا شخص کیا خرید پائے گا ؟ اور اس سے کم آمدن والے پاکستانی جو 11 کروڑ کی بھاری اکثريت ہيں وہ کيا کر پائيں گے ؟

11 کروڑ پاکستانی دن بدن مزيد غربت کی پستیوں میں جائيں گے کیونکہ حکومت ہر دن 3 ارب روپے کے نوٹ چھاپتی ہے ۔ جب حکومت زيادہ نوٹ چھاپتی ہے تو افراط زر بڑھ جاتا ہے ۔ افراطِ زر بڑھنے سے ہر آدمی کی جیب میں موجود رقم کی قدر کم ہوجاتی ہے ۔ مطلب یہ ہوا کہ 3 سال بعد مزيد 57 فیصد لوگ غربت ۔ بھوک و افلاس میں دھکیل دیئے گئے ہوں گے

لوگوں کو غربت کے جال میں پھنسانے کیلئے 4 عوامل اہم ہیں
تعلیم کی کمی
بدعنوان حکمرانی
سرمایہ کاری کا رُک جانا
داخلی جھگڑے

پاکستان میں یہ چاروں عوامل اپنا کردارادا کررہے ہیں اور اس سے بچنے کیلئے کوئی کوشش دکھائی نہیں دیتی ۔ چنانچہ 11 کروڑ غریب پاکستانیوں کی اکثریت ایسی غربت کا شکار ہوگئی ہے جو نسل در نسل چلتی ہے ۔ 10 سال بعد 2021ء میں جب پاکستان کی آبادی 22 کروڑ تک پہنچ چکی ہوگی اگر غربت کو بڑھنے سے نہ روکا گیا تو پاکستان میں غربت کی زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد 13 کروڑ ہوگی اور 2030ء تک یعنی 20 سال بعد پاکستان کی آبادی 25 کروڑ ہوگی اور اس میں 15 کروڑ غریب ہوں گے

تاریخی لحاظ سے پاکستان ايک کم افراط زر والا ملک رہا ہے ۔ صارفین کا انڈکس (سی پی آئی) 1999ء ۔ 2001ء اور 2002ء بالترتیب 3.58 فيصد ۔ 4.41 فيصد اور 3.54 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا ۔ پاکستانی کم افراط زر کے عادی رہے ہیں ۔ ماضی ميں انہوں نے کبھی دو ہندسوں میں افراطِ زر برداشت نہیں کیا ۔ موجودہ سال ميں افراطِ زر 22 فيصد تک پہنچ چکی ہے ۔ غریب ہونے میں مشکل یہ ہے کہ یہ غُربت غريب کا سارا وقت لے لیتی ہے ۔ مگر ایوان اقتدار کے لوگ اور ان کے رشتہ دار امیر تر ہوتے جارہے ہیں

ماخذ ۔ تحرير ڈاکٹر فرخ سلیم

بلاگ ۔ قاری اور مبصّر

2,009 بار دیکھا گیا

ميں نے 2004ء ميں اپنا پہلا بلاگ بنايا اور باقاعدہ لکھنا شروع کيا ۔ 2005ء ميں اُسے صرف انگريزی کيلئے مُختص کر کے اپنا اُردو کا يہ الگ بلاگ بنا ليا ۔ مجھے ياد نہيں ميں نے انٹرنيٹ کے ذريعہ مضامين کا مطالعہ کب شروع کيا تھا البتہ بلاگز کا مطالعہ ميں 2002ء سے کرتا آ رہا ہوں ۔ ميں آج کی تحرير اسی تجربہ کی بنياد پر لکھ رہا ہوں

بلاگ

کسی اخبار يا دوسرے مجلّہ ميں “اداريہ” اس مجلّہ کے ادارہ يا مدير کا اپنا نظريہ ہوتا ہے ۔ ادارتی صفحہ پر باقی مضامين سے ادارے يا مدير کا متفق ہونا ضروری نہيں ہوتا

بلاگ لکھنے والے زيادہ تر اپنے خيالات ہی رقم کرتے ہيں ليکن بعض اوقات دوسروں کی رائے بھی تحرير کرتے ہيں
ايسا بھی ہوتا ہے کہ اپنے بلاگ پر شائع کردہ تحرير سے وہ متفق نہ ہوں اور قارئين تک پہنچانے ” کہ ايسا بھی نظريہ ہے” يا قارئين کی اس بارے ميں آرا معلوم کرنے کيلئے کوئی تحرير لکھتے يا نقل کر ديتے ہيں
کچھ بلاگر ايسے ہيں کہ وہ ہر تحرير کيلئے محنت اور مطالعہ کر کے تحرير کا مسئودہ تيار کرتے ہيں ۔ کچھ دن اس کی نوک پلک درست کرتے رہتے ہيں اور پھر شائع کرتے ہيں
کچھ بلاگر ايسے بھی ہيں کہ جنہوں نے خانہ پُری کرنا ہوتی ہے ۔ جو دماغ ميں آئے يا کہيں سے ملے چھاپ ديتے ہيں
چند ايک بلاگر ايسے ہيں جو لکھتے ہی دوسروں کو نيچا دکھانے کيلئے ہيں

قارئين

زيادہ تر قارئين صرف پڑھنے کا شغف رکھتے ہيں شايد اُن کا يا اُن کی اکثريت کا نظريہ صرف علم حاصل کرنا ہوتا ہے
کچھ سوالات پوچھ کر اپنا ذہن صاف کرتے ہيں
چند ايک ايسے قارئين بھی ہيں جن کا اُس وقت عِلم ہوتا ہے جب بلاگر کو کسی قسم کی مدد درکار ہوتی ہے اور وہ تبصرہ کے خانہ ميں مدد کی پيشکش کر ديتے ہيں
باقی قارئين مبصّرين ميں شامل ہيں

مبصّرين

مبصّر کئی قسموں کے ہيں

پہلی قسم ۔ کوئی تحرير اچھی لگے تو شکريہ لکھ ديتے ہيں يا تحرير کی تعريف کر ديتے ہيں

دوسری قسم ۔ تحرير کے متعلق مزيد معلومات حاصل کرنے کيلئے سوال کرتے ہيں

تيسری قسم ۔ تحرير کو سمجھے بغير سوال پوچھتے ہيں جبکہ اُن کے سوال کا جواب تحرير ہی ميں موجود ہوتا ہے

چوتھی قسم ۔ جو کچھ لکھا گيا اُس کے اُلٹ کے متعلق سوال کرتے ہيں

پانچويں قسم ۔ تحرير کی بجائے لکھنے والے پر سوال کرتے ہيں جس کی عمدہ مثال ميری صرف 25 الفاظ پر مشتمل مختصر تحرير “سب سے بڑا مسئلہ” پر کئے گئے 2 اعلٔی تعليم يافتہ قارئين کے تبصرے ہيں جنہوں نے يہ لکھنے کی بجائے کہ وہ اس سادہ واضح اور مختصر تحرير سے متفق ہيں يا نہيں ۔ پوچھا ہے کہ لکھنے والا کس کيٹيگری ميں ہے

چھٹی اور آخری قسم ۔ جو سب سے عجيب ہے ۔ ايسے مبصرين تعداد ميں صرف چند ہی ہوں گے مگر اکثر بلاگز پر تبصرے کرنا اپنا فرض سمجھتے ہيں ۔ يہ مبصّر اتنے سيانے ہيں کہ ان کی مثال ” لفافہ کھولے بغير خط کا جواب لکھ ديتے ہيں ” سے کم نہيں ۔ بلاگ ميں خواہ کچھ ہی لکھا ہو وہ اپنی ہی کوئی اختراع لکھ ديتے ہيں ۔ بلاگر سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ موصوف کيا کہنا چاہتے ہيں ۔ اس قسم کی مثال شايد ان دو کہانيوں سے واضح ہو جائے

پاکستان بننے سے پہلے کی بات ہے کہ ايک گورا نيا نيا ہندوستان آيا تھا ۔ اُس نے اپنے دوستوں کو کھانے پر مدعو کيا اور باورچی سے کہا ” آج رات سالم مرغی روسٹ کر کے ڈنر پر پيش کرو”۔ رات جب مہمانوں کے سامنے سب کھانے رکھے گئے تو اُسے يہ ديکھ کر شرمندگی محسوس ہوئی کہ مرغی کی ايک ٹانگ غائب ہے ۔ اگلے دن اُس نے باورچی کو بُلا کر پوچھا ” رات ڈنر ميں مرغی کا ايک ٹانگ کيا ہوا ؟”
باورچی جو ٹانگ کھا گيا تھا بولا ” صاب ۔ وہ مرغی ايک ٹانگ کا تھا ”
گورے نے کہا ” وہ کيسے ؟ ميں نے تو ايک ٹانگ کا مُرغی نہيں ديکھا ؟”
باورچی چالاک تھا بولا ” صاب ۔ ہوتا ہے ۔ ميں آپ کو دکھائے گا ”
اگلی باری روسٹ مرغی بنوانے کا سوچا تو گورا خود باورچی کے ساتھ مرغی خريدنے گيا ۔ راستہ ميں ايک مرغی ايک ٹانگ اُوپر اُٹھا کر دوسری ٹانگ پر کھڑی تھی
باورچی بولا ” صاب ۔ ديکھو ايک ٹانگ کا مرغی ”
گورے کے ہاتھ ميں چھڑی تھی ۔ اُسے مرغی کی طرف کر کے ہلايا تو مرغی دونوں ٹانگوں پر بھاگنے لگی ۔ گورے نے کہا ” کدھر ہے تمہارا ايک ٹانگ کا مرغی ؟”
باورچی بہت چالاک تھا ۔ ہار ماننے والا نہيں تھا ۔ کہنے لگا ” صاب ۔ اُس دن ڈنر پر بھی آپ چھڑی گھُماتا تو مرغی کا دوسرا ٹانگ نکل آتا ”

ايک بزرگ کے ہاں کچھ لوگ بيٹھے بابا فريد کی کافيوں [کلام] کی گہرائيوں کا جائزہ لے رہے تھے ۔ ايک شخص کسی ترقی يافتہ شہر سے آيا ہوا بيٹھا تھا ۔ اُس نے سوچا کہ ” ميں ان کم عِلم لوگوں سے کيسے پيچھے رہ سکتا ہوں “۔ اُسے يہ بھی معلوم نہ تھا کہ بابا فريد کون ہے مگر بات کرنا بھی ضروری تھی اور وہ بھی گاؤں سے متعلق ۔ جھٹ سے بولا ” راجہ صاحب کی بھينس نے لال رنگ کا بچھڑا جنا ہے”۔ سب لوگ بابا فريد کے فلسفہ کو بھُول کر حيران و پرشان اُس کی طرف ديکھنے لگ گئے

چھوٹی چھوٹی باتيں ۔ ہم مسلمان ہيں ۔ بخشے جائيں گے

1,968 بار دیکھا گیا

اس موضوع کے تحت ايک تحرير ميں 3 سال قبل لکھ چکا ہوں ۔ آج وہی موضوع دوسرے پہلو سے

عصرِ حاضر ميں اپنے آپ کو بہت پڑھا لکھا ۔ سائنس کے رموز سے بہراور اور جديد دنيا کے تقاضے جاننے کا دعوٰی رکھنے والے ۔ اپنے آپ کو مسلمان سمجھنے والے لوگ اپنے معاملات اور اعتقادات کو سائنس اور جديد علوم کی کسوٹی پر پرکھنے کی بجائے اپنی پسند کی سان پر رگڑ کر چمکانے کی ناکام کوشش کيوں کرتے ہيں ؟ يہ بات آج تک کوئی واضح نہيں کر سکا ۔ اُردو بلاگستان پر بڑے بڑے لکھاری اور بڑے بڑے مبصر ہيں ليکن کبھی کسی نے اس گورکھ دھندے کو سُلجھانے کی کوشش نہيں کی ۔ کيوں ؟
شايد اسلئے کہ جو آج تک اُنہوں نے بھرم قائم کر رکھا ہے اُس کا راز افشاء ہو گيا تو بقول شاعر

بشر رازِ دلی کہہ کر ذليل و خوار ہوتا ہے
نکل جاتی ہے خُوشبُو تو گُل بيکار ہوتا ہے

ہم پی ايچ ڈی کی بات نہيں کرتے ۔ ماسٹرز کی بات نہيں کرتے ۔ سب سے آسان بات سکول کی ہے ۔ اسلئے پہلے سکول کی مثال ليتے ہيں ۔ ايک طالب علم ہے کوئی شرارت يا غلط حرکت کرتا ہے جس ميں کسی دوسرے طالب علم کو پِيٹنا ۔ کسی کی چيز چُرانا ۔ سکول کا کام گھر سے کر کے نہ لانا ۔ جب اُستاذ پڑھا رہے ہوں توجہ نہ دينا اِدھر اُدھر ديکھنا۔ وغيرہ شامل ہو سکتا ہے

ايسے طالب علم کو اُستاذ نے پکڑ ليا ہے ۔ سکول ميں ہر غلطی کی سزا پہلے سے مقرر ہے ۔ اب اُس طالب علم کو مقرر کردہ سزا ملے گی ۔ اگر وہ طالب علم معافی مانگے اور اُستاذ سے وعدہ کرے کہ آئيندہ ايسی غلطی نہيں کرے گا اور اس طالب کی غلطی کی وجہ سے کسی دوسرے کا نقصان نہيں ہوا يا وہ طالب علم نقصان پورا کر ديتا ہے پھر ہی اُستاذ اُسے مشروط معافی دے ديں گے کہ آئيندہ وہ ايسی غلطی نہيں کرے گا ۔ اس صورت ميں اگر وہ دوبارہ غلطی کرے گا تو سزا سے نہيں بچ سکے گا

دوسری مثال اپنے محلے کی ليتے ہيں ۔ دو لڑکے آپس ميں لڑ پڑتے ہيں ۔ ايک دوسرے پر اس قدر سخت وار کرتا ہے کہ دوسرا مر جاتا ہے يا اُسے گہرا زخم آ جاتا ہے ۔ کيا مرنے يا زخمی ہونے والے کے لواحقين يا پوليس يا عدالت قاتل يا مُجرم کو صرف يہ کہنے پر معاف کر ديں گے کہ “غلطی ہو گئی معاف کر ديں”؟ نہيں کبھی نہيں

حقيقت يہ ہے کہ ہم نام نہاد مسلمانوں کی اکثريت صرف اللہ کو مانتی ہے ۔ اللہ کا کوئی حُکم نہيں مانتی ۔ پھر بھی سينہ تان کر يا سينے پر ہاتھ مار کر ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہيں

يہ ہماری روزمرہ کی عمومی دنيا ہے ۔ جب باری دين يعنی اللہ کے احکامات پر عمل کی آتی ہے تو پھر ہماری عقل جسے ہم عقلِ کُل سمجھتے ہيں وہ اس انتہائی احمقانہ انداز سے کيوں سوچتی ہے کہ
“اللہ بڑا رحمٰن و رحيم و کريم ہے ۔ ہم معافی مانگيں گے اور وہ معاف کر دے گا”
اور اُس کے بعد پھر ہم پہلے کی طرح خرافات کرتے رہيں گے ۔ پھر معافی مانگ ليں گے

ہماری بھاری اکثريت يہ عقيدہ کيوں رکھتی ہے کہ
“ہم مسلمان ہے اُمت سيّدنا محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم ہيں اُنہوں نے اپنی اُمت کی شفاعت کرنا ہے اور اللہ کے محبوب ہونے کی وجہ سے اللہ اُن کی شفاعت کو رد نہيں کر سکتا اسلئے ہم بخشے جائيں”

ہم يہ کيوں نہيں سوچتے کہ کيا ہم سيّدنا محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم کی اُمت ہيں ؟
بات اُمت کی ہو رہی ہے قبيلے کی نہيں ۔ ايک شخص کی اُمت وہ لوگ ہوتے ہيں جو اُس کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہيں ۔ کہاں لکھا ہے قرآن شريف ميں کہ جو اپنے آپ کو مسلمان کہے گا بخشا جائے گا ؟ قرآن شريف ميں بہت سی آيات مسلمان کہلانے کے ناطے اس طرح کی معافی کی نفی کرتی ہيں ۔ صرف ان چند اور مختصر آيات پر غور کيجئے

سورت 2 ۔ البقرہ ۔ آيت 285 ۔ رسول اس کتاب پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور مومن بھی سب خدا پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں

سورت 7 ۔ الاعراف ۔ آيات 155 و 156 ۔ [سيدنا موسیٰ عليہ السلام نے کہا] ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تُو ہی ہمارا کار ساز ہے ۔ تو ہمیں [ہمارے گناہ] بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے ۔ اور ہمارے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی ۔ ہم تیری طرف رجوع ہو چکے ۔ فرمایا کہ جو میرا عذاب ہے اسے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ تمام اشیا پر محیط ہے ۔ وہ رحمت ان لوگوں کے نام ضرور لکھوں گا جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور زکٰوت دیتے ہیں اور جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں

سورت 10 ۔ يونس ۔ آيت 9 ۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو پروردگار ان کے ایمان کی وجہ سے راہ دکھائے گا

سورت 29 ۔ العنکبوت ۔ آيت 2 ۔ کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لائے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے ؟