اُسامہ مر گيا ۔ اب کيا ؟

آج صبح سويرے ميری بيگم بوليں “ٹی وی بتا رہا ہے کہ اُسامہ بن لادن کو ايبٹ آباد کے قريب ہلاک کر ديا گيا ہے ۔ ميرے مُسکرانے پر بيگم نے ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا “توبہ کرو ۔ إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَيْہِ رَاجِعُونَ کہو”۔ ميں نے اسی وقت إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَيْہِ رَاجِعُونَ پڑھا اور بيگم سے کہا “يہ امريکا والے جھوٹ بول رہے ہيں اپنی عوام کو وقفے وقفے سے اسپرين کی گولی ديتے رہتے ہيں تاکہ انہيں درد کا افاقہ رہے”

ميں کچھ لکھنا چاہتا تھا مگر ميں نے کمپيوٹر چلا کر ای ميلز پڑھی تھيں کہ بجلی غائب ۔ ايک گھنٹے بعد بجلی آئی تو ميں سوچ چکا تھا کہ دوسرے خواتين و حضرات کا ردِ عمل ديکھا جائے ۔ صرف ايک تحرير آئی ۔ وہ بھی بطور خبر کے ۔ اس تحرير پر جو لکھنے گيا تھا اُس کی بجائے لکھاری کو دلاسہ دے کر آ گيا ۔ پھر اپنے مخزن مضامين کيلئے کچھ اور تحرير لکھنے ميں مشغول ہو گيا ۔ بجلی پھر چلی گئی ۔ پھر نيچلی منزل جا کے سارا اخبار پڑھ ڈالا ۔ ظہر کی نماز کے بعد کھانا کھايا ۔ قيلولہ کيا ۔ اوپر کی منزل پر آ کر کمپيوٹر چلايا اور خُرم صاحب کی متذکرہ بالا تحرير کو دوبارہ کھولا تو وہاں کئی تبصرے ديکھے جس سے محسوس ہوا کہ ميرے ساتھ اور لوگ بھی ہيں جو اس خبر پر يقين نہيں رکھتے ۔ ابھی ميں نے اپنے خيالات قلمبند کرنا شروع کئے تھے کہ بجلی پھر چلی گئی ۔ بجلی آئی ہے تو لکھنے بيٹھا ہوں

ميرا موت ميں اتنا ہی يقين ہے جتنا اس ميں کہ ميں اس وقت لکھ رہا ہوں ۔ إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَيْہِ رَاجِعُونَ ۔ سورت ۔ 2 ۔ البقرہ ۔ آيت 156 ۔ ترجمہ ۔ ہم اللہ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔‏ مرنا بر حق ہے ۔ سوال صرف يہ ہے کہ کيا اُسامہ بن لادن مر گيا اور کب اور کہاں مرا ؟ ميرا جواب ہے کہ سوائے اللہ کے اور کوئی نہيں جانتا کہ اُسامہ بن لادن زندہ ہے يا مر گيا ۔ رہا اُس کا پاکستان ميں ہونا يا مرنا تو يہ قرينِ قياس نہيں ہے ۔ اگر وہ پاکستان ميں ہوتا يا مرتا تو اس کی خبر بالخصوص موجودہ حالات ميں پاکستان آرمی کے آئی ايس پی آر سے آتی نہ کہ امريکا سے ۔ آئی ايس پی آر خاموش ہے اور حکومتی بيان مُبہم آيا ہے

امريکا کو افغانستان ميں شکست کا سامنا ہے جہاں فتح کا اعلان امريکی اہلکار کئی بار کر چکے ہيں ۔ دسمبر 2001ء ميں جب تورا بورا پر ڈيزی کٹر پھينک کر کارپٹ بومبنگ کی گئی تھی ۔ اُس وقت کے امريکی صدر جارج بُش نے اُسامہ کو ہلاک کرنے کا دعوٰی کيا تھا ۔ دراصل امريکی حکومت اپنی عوام کے درد کو کم کرنے کيلئے وقفوں سے اسپرين کی گولی ديتی رہتی ہے ۔ اُسامہ کی موت کی اس وقت خبر دينا بھی اسپرين کی ايک گولی سے زيادہ کچھ نہيں يا پھر ايسے وقت جب پاکستان کی فوج صرف اپنی شرائط پر مزيد تعاون کرنا چاہتی ہے پاکستانی حکومت يا فوج کو دباؤ ميں لانا مقصود ہو سکتا ہے ۔ امريکی حکمرانوں ميں عقل کی کمی ہے يا وہ بوکھلائے ہوئے ہيں کہ اپنے ہی مختلف بيانات سے خبر کو مکمل مشکوک بنا ديا ہے ۔ امريکی حکمرانوں کو چاہيئے کہ بات کرنے کا ڈھنگ ق ليگ پنجاب کے صدر چوہدری پرويز الٰہی سے سيکھ ليں ۔ کس طرح اُس نے ہمارے ملک کے چالاک ترين آدمی آصف علی زرداری کو چاروں شانے چِت کر ديا ہے

حقيقت تو اللہ کو معلوم ہے اور امريکی بڑوں کو بھی معلوم ہو گی ۔ فرض کر ليتے ہيں کہ جس طرح اوبامہ نے کہا ہے امريکی ايجنسی نے کل کاروائی کر کے اُسامہ کو ايبٹ آباد ميں ہلاک کيا اور اس کاروائی ميں 2 ہيلی کاپٹروں نے حصہ ليا جن ميں سے ايک گر گيا يا گرا ليا گيا ۔ اب ان سوالوں کا کون جواب دے گا ؟

1 ۔ ايک دفاعی اہميت کے شہر “ايبٹ آباد” ميں اُسامہ قيام پذرير تھا ۔ اُسے خوراک اللہ کے فرشتے نہيں پہنچاتے تھے ۔ مگر وہ شخص جس کی شکل ٹی وی چينلز پر ديکھ ديکھ کر بوڑھوں سے بچوں تک سب کو ازبر ہو چکی ہے جان نہ سکے کہ اُسامہ اُن کے درميان رہ رہا ہے

2 ۔ حالانکہ عمارت بڑی تھی اور اس ميں کئی لوگ رہتے تھے پھر بھی فرض کر ليتے ہيں کہ کوئی نہ کبھی اس عمارت کے اندر گيا اور نہ کبھی باہر آيا ۔ پھر بھی يہ ممکن نہيں ہے کہ ايبٹ آباد کے لوگوں نے جستجو نہ کی ہو کہ اس بڑی عمارت ميں کون رہتا ہے جبکہ اگر ہميں پتہ نہ چلے کہ فلاں عمارت ميں کون رہتا ہے ؟ تو ہماری نينديں حرام ہو جاتی ہيں

3 ۔ پاکستان کی خفيہ ايجنسياں جو گڑے مُردے بھی سونگھ ليتی ہيں ۔ جہاں ان کی ذمہ دارياں سخت تھيں اسی علاقے ميں سب سے بڑا دہشتگرد مزے لُوٹ رہا تھا اور اُنہيں اس کی بھِنک نہ پڑی

4 ۔ کيا اس بات کی اجازت ہماری حکومت نے دے رکھی ہے کہ جس کا جی چاہے جہاں چاہے خُفيہ فوجی کاروائی کرے اور جسے چاہے جتنوں کو چاہے ہلاک کر دے اور اُن کے جسم بھی اُٹھا کر ليجائے ؟

5 ۔ بقول امريکی اہلکاروں کے جسم کو سمندر ميں پھينک ديا گيا ۔ کيوں ؟ اسے محفوظ کر کے امريکا ليجا کر اور اسے وہاں کے ٹی وی چينلز کو کيوں نہ دکھايا ؟ جبکہ عراق اور افغانستان ميں مارے جانے والے سينکڑوں بلکہ ہزاروں امريکی فوجيوں کی نعشوں کو اپنی عوام کے غيظ و غضب سے بچنے کيلئے کئی کئی سال تک عراق اور افغانستان محفوظ رکھا گيا اور تھوڑی تھوڑی نعشيں امريکا ليجائی جاتی رہيں

6 ۔ کيا پاکستانی حکومت اور ايجنسياں بالکل نااہل ہيں کہ ان کے ملک کے دفاعی اہميت کے شہر ميں ہيلی کاپٹروں کی مدد سے کاروائی ہوئی جو کم از کم 35 يا شايد 45 منٹ تک جاری رہی اور انہيں خبر تک نہ ہوئی ؟

7 ۔ لازمی امر ہے کہ ہيلی کاپٹر پاکستانی فضا ميں سينکڑوں کلوميٹر لمبا سفر طے کر کے ايبٹ آباد پہنچے ہوں گے ۔ کيا کسی ايجنسی کسی آرمی يا رينجرز فارميشن نے اُنہيں نہيں ديکھا ؟ گويا وہ سب بھی نشہ پی کر سوئے ہوئے تھے ؟

8 ۔ امريکا نے بقول امريکا افغانستان پر 2001ء ميں اسلئے حملہ کيا تھا کہ وہاں اُسامہ تھا جسے طالبان نے امريکا کے حوالے کرنے سے انکار کر ديا تھا اور وہ اُسامہ کو ہلاک کرنا چاہتے تھے ۔ اُسامہ ہلاک ہو گيا ۔ اب امريکا اپنا بوريا بستر گول کر کے افغانستان سے کيوں نہيں چلا جاتا ؟

بات آخر ميں يوں بنتی ہے کہ اب پاکستان کے عوام اپنے ۔ اپنے پياروں اور اپنی املاک کی حفاظت خود اپنے ہاتھ ميں لے ليں کيونکہ حکمران ۔ فوج ۔ رينجرز ۔ پوليس سب نااہل ہيں يا دشمن کے ايجنٹ ہيں ۔ ايسا نہيں ہو سکتا ايسا کبھی نہيں ہو سکتا

This entry was posted in تجزیہ, روز و شب, سیاست, طور طريقہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

12 thoughts on “اُسامہ مر گيا ۔ اب کيا ؟

  1. Pingback: اوسامہ مر گيا ۔ اب کيا ؟ | Tea Break

  2. عابد

    صحیح فرمایا amrika ke doggies ko koi na koi issue chahiye aue yeh khabar to sarasar jhoot hai aur maze ki bat ye hai ki
    “Osama bin Laden killed or photoshopped link is here see this pic http://db.tt/weBUf83 waise tasweer ke sath kafi zulm kiya hai zalimon ne

  3. خرم

    میں نے تو یہی پڑھا ہے کہ کاروائی والی ٹیم تربیلہ سے آئی تھی اور قرین از قیاس بھی یہی ہے۔ پاکستانی فوج نے اس آپریشن میں عملاَ حصہ شائد اس لئے نہیں لیا کہ کسی قسم کے منفی ردعمل سے بچا جاسکے۔ اس تمام کاروائی کی تیاری شائد ایک ہفتہ سے جاری تھی اور پاکستان اور امریکہ کی افواج کے درمیان “لڑائی” بھی شائد اسی منصوبہ کا ایک حصہ تھی۔ مجھے تو پرویز الٰہی اور زرداری کی باہم “انڈر سٹینڈنگ” بھی اسی کھیل کا ایک حصہ لگ رہی ہے کہ پاکستانی حلقوں میں کسی ممکنہ منفی ردعمل سے بچا جاسکے۔

  4. خاور

    آپ نے لکھا
    بات آخر ميں يوں بنتی ہے کہ اب پاکستان کے عوام اپنے ۔ اپنے پياروں اور اپنی املاک کی حفاظت خود اپنے ہاتھ ميں لے ليں کيونکہ حکمران ۔ فوج ۔ رينجرز ۔ پوليس سب نااہل ہيں يا دشمن کے ايجنٹ ہيں ۔ ايسا نہيں ہو سکتا ايسا کبھی نہيں ہو سکتا

    میرا سوال ہے که انہوں نے کوئ اجھا کام کیا کب هے؟
    سوائے اجھے کامیں کے اعداد شماری جھوٹ لوگوں کے ذہن میں کھسیڑنے کے
    قائد اعظم کو ایمبولینس بھیجنے والا ملٹری اتشی هی تھا ناں جی؟
    کشمیر پر حملے کے حکم کے باوجود حمله ناں کرنے والا بھی ملٹری چیف هی تھا ناں جی؟
    ملک پر قبضه کرکے فاطمه جناح سے جیتنے والا بھی ملڑی کا بندھ تھا ناں جی ؟
    سارے رقبے سارے پلاٹ ملٹری کے هیں نان جی
    کهان تک لکھوں
    قوم کی انکھیں کھولنے کے لیے فوج کی کارستانوں کا لکھنا هو گا
    لیکن
    جب پنجاب کی ریں ریں شروع هو جاتی هے تو
    لگتا ہے که میں ملک دشمنی کا تو مرتکب نهین هو رها

  5. وھاج الدین احمد

    میں نے یہ پڑھا تھا کہ تورا بورا میں اسے ھلاک کرنے کی اجازت بش صاحب نے نہیں دی تھی یعنی منع کیا تھا
    میں بھی یہی سمجھتا ہوں کہ اوسامہ کب کا فوت ہوچکا ہے اور یہ خبر صدر اوبامہ صاحب کے لءے تیار کی گئ ہے
    مگر اس بات سے خوش ہوں کہ کم از کم اب ان کا افغانستان سے نکلنے کا پروگرام تو شروع ہوگا
    باقی القاعدہ ان کی اپنی اختراع ہے جب چاہیں اسے ختم کر سکتے ہیں
    میرا اپنا خیال ہے کہ ” دانے مک گئے نے’

  6. یاسر خوامخواہ جاپانی

    ایبٹ آباد سے کے گرد و نواح ميں ايک آرڈیننس فیکٹری ہے۔ اس کا مطلب ہماری سیکورٹی اتنی کمزور ہے جو بھی جب بھی چاھے کامیاب حملہ کر سکتا ہے۔ حکمران بھی نااہل سیاستدان بھی نااہل ،اداروں کی نااہلی ثابت ہو رہی ہے۔ پاکستان کو امریکہ کے حوالہ ہی کر دینا چاھئے۔
    :twisted:

  7. افتخار اجمل بھوپال Post author

    خاور صاحب
    ساری فوج خراب نہيں ہے اور نہ ساری پوليس ۔ صرف بڑے افسروں مين کچھ خراب ہيں ۔ اسی کئے ميں نے لکھا ہے کہ ايسا نہيں ہو سکتا
    آپ نے پنجاب کی بات کی ۔ يہاں ہر طرح کے لوگ بستے ہين ليکن جب يہ کچھ کرنے پر آ جائيں تو طوفان بن جاتے ہيں ۔ تاريخ اس کی گواہ ہے ۔ ميں وسطی پنجاب کی بات کر رہا ہوں جس ميں آپ کا گاؤں تلونڈی موسٰی بھی شامل ہے ۔ ريمنڈ ڈيوس کا واقع جب ہوا تو ميں لاہور ميں تھا ۔ رات ايک اور دلچسپ واقع سُنا ہے ۔ اِن شاء اللہ جلد لکھوں گا

  8. افتخار اجمل بھوپال Post author

    بھائی وھاج الدين احمد صاحب
    آپ نے بالکل درست کہا ہے ۔ جو تورا بورا والی بات ہے امريکيوں نے بمبارمنٹ کے بود تورا بورا کی خاک چھان ماری مگر کوئی ايسی لاش نہ ملی جسے اوسامہ قرار دے سکيں ۔ اس پر مشہور کيا گيا تھا کہ بُش نے اوسامہ کو ہلاک کرنے سے منع کيا تھا

  9. افتخار اجمل بھوپال Post author

    ياسر صاحب
    آپ نے درست کہا ہے
    ميں معذرت خواہ ہوں کہ ميں نے آپ کے تبصرہ کی ميں ايڈٹنگ کر دی ہے ۔ اس ميں ايسی بات تھی جو ہر آدمی کے علم ميں نہيں جانا چاہيئے

  10. اقبال جہانگیر

    اسامہ بن لادن کے بعد

    دنیا پاکستان کو القاعدہ اور طالبان کا گڑھ اور دہشت گردی کا مرکز سمجھتی ہے اور یہ غلط بھی نہ ہے۔ دنیا بھر کے دہشت گرد ہمارے ہان موجود ہین۔ اسامہ ہماری ناک کے نیچے ایبٹ آباد مین ۵ سال سے چھپا ہیٹھا تھا اور ہمین کچھ پتا نہ تھا۔اسامہ بن لادن القاعدہ کے فکری قائد اور آپریشنل کمانڈر بھی تھے۔
    اسامہ کی موت سے القائدہ کی طرف سے شروع کیا ہوا ، دہشت گردی و قتل و غارت گری کا ایک باب اختتام پزیر ہوا۔ القائدہ اور طالبان کے وجود مین آنے پہلے پاکستان مین تشدد اور دہشتگردی نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ القائدہ نے طالبان کے ساتھ مل کر قتل و غارت گری کا ایک بازار گرم کر دیا، کاروبار کا خاتمہ ہو گیا،مسجدوں،تعلیمی اداروں اور بازاروں مین لوگوں کو اپنی جانوں کے لالے پڑ گئے اور پاکستان حیرت و یاس کی تصویر بن کر رہ گیا۔ پاکستانی معیشت تباہ ہو گئی اور اس کو ۴۵ ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
    حقیقت ہے کہ اس دہشت گردی کا زیادہ نشانہ خود مسلمان بنے۔ صرف پاکستان میں 35ہزار سے زیادہ انسان دہشت گردوں کی کارروائیوں کا نشانہ بنے۔سعودی عرب‘ یمن‘ سوڈان‘ عراق اور متعدد دیگر مسلمان ملکوں میں ان گنت افراد جان سے گئے۔ اسامہ خود تو ختم ہو گئے مگر پاکستان لئے دہشت گردی اور نفرتوں کے اثرات چھوڑ گئے‘ جو نہ جانے کب تک ہمیں مشکلات میں مبتلا رکھیں گے۔
    تشدد اور دہشت گردی کا راستہ کبھی آزادی اور امن کی طرف نہیں لے جاتا۔ تشدد کرنے والے بھی اسی طرح کے انجام اور سلوک سے دوچار ہوتے ہیں‘ جو وہ اپنے مخالفوں کے ساتھ روا ر کھتے ہیں۔
    اسامہ اور القائدہ لازم ملزوم تھے، اس کے جانے سے القائدہ کی ریڑہ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور اس کا خاتمہ یقینی ہو گیا۔ یہ کیسا جہاد ہے کہ اسامہ میدان جنگ سے دور ایبٹ ٓباد کے ایک پر تعیش بنگلے مین چھپا بیٹھا تھا۔مزید براں قتل و غارت گری کرنے والوں کی زندگی لمبی نہیں ہوتی اور ان کی موت اسی طرح واقع ہوتی ہے۔
    اُسامہ بن لادن کی یمنی بیوی اِمل نے دوران تفتیش حکام کو بتایاہے کہ2007ءمیں ایبٹ آباد میں بلال ٹاﺅن منتقل ہونے سے پہلے القاعدہ کے رہنماءاپنے خاندان کے ساتھ ضلع ہری پور میں ہزارہ کے قریب ایک گاﺅں چک شاہ محمدمیں مقیم تھاجہاں وہ سب تقریباً اڑھائی سال تک قیام پذیر رہے ۔ گویا اسامہ کم وبیش آٹھ برس سے ہری پور اور ایبٹ آباد میں رہائش پذیر تھا۔گزشتہ سوموار کو امریکی اسپیشل فورسز کی طرف سے کیا جانے والا آپریشن، جس میں اسامہ بن لادن ہلاک ہوا، اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑ گیا ہے۔
    دہشت گرد گروپوں کے ساتھ نرم رویہ اب ہرگز قابل قبول نہ ہوگا۔ صرف اور محض اس لئے کہ ان سے ریاست کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ حقائق تبدیل ہوچکے ہیں، اگر یہ عسکریت پسند کسی اور کیلئے خطرہ ہیں تو وہ ہمارے لئے بھی خطرہ ہین۔ کوئی اچھا اور برا دہشت گرد نہیں ہوتا، دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے۔ہمیں اپنی سرزمین دہشتگردی کی کارروائیوں کے لئے ہرگز ہرگز استعمال کرنےکی اجازت نہیں دینی ہوگی۔اور ہمیں جہادی عناصر کو نکیل ڈالنی ہو گی۔ایک طویل عرصے سے ہم اپنی قامت سے بڑھ چڑھ کر باتیں کرتے آ رہے ہیں، اب آئندہ یہ کسی طرح بھی ممکن نہ ہوگا۔
    بہرحال اس واقعے کے بعد پاکستان کا امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف تعاون و تعلق کو ختم نہیں ہونا چاہئے، وہ اس لئے کہ پاکستان War against Terror میں امریکہ کا Strategic partner ہے۔ پاکستان کو امریکہ کی ضرورت ہے۔
    پاکستان ایک ایسا ملک جس میں بدقسمتی اور مصائب پہلے ہی زائد از ضرورت ہین،ہم اس نام نہاد مجاہداسلام اسامہ بن لادن اور اس کی عنایات سے ہم محفوظ ہی رہتے تو اچھا تھا۔ جب تک وہ زندہ تھا تو ہمارے لیے ایک درد ِ سر تھا ، اُس کی موت کسی طوفان سے کم نہ ہے۔اسامہ نے ہمیں زندگی میں بھی نقصان پہنچایا تھا اور اُس کے موت پر آج ہم احمقوں کی طرح اپنا سا منہ لیے کھڑے ہیں۔
    اسامہ بن لاڈن سالہا سال سے پاکستان مین تھا اور طالبان نے اسے تحفظ فراہم کیا ہوا تھا۔ لگتا ہے انہیں نے پیسے کی خاطر اسامہ کی مخبری کر دی اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنے والا اپنے انجام کو پہنچا۔ اب القائدہ کے دوسرے چھوٹے موٹے لیڈران ،طالبان سے خوفزدہ رہین گے۔ طالبان نے پیسے کی خاطر اسامہ کو بیچ ڈالا اور اب ڈرامے بازی کر رہے ہین۔
    میرے خیال مین اسامہ کے ٹھکانہ کے اخفا کے معاملہ مین الاظواہری اور پاکستانی طالبان ،دونوں ملوث ہین۔ ظواہری ،اسامہ سے مصر کے معاملہ پر بیان نہ دینے کی وجہ سے ناخوش تھا۔ یاد رہے مصری ہونے کی وجہ سے ظواہری کی مصر سے جذباتی وابستگی ہے۔ ظواہری اقتدار کا بھوکا ،لالچی اور غیر وفادارشخص ہے اور ہمیشہ مصریوں کو آگے لانے کی کوشش میں رہتا ہے۔ مزید بران اگر الظواہری کی گذشتہ ۵ تقریروں کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ظواہری اپنے آپ کو ایک بڑے رول کے لئے پوزیش position)کر رہے ہین۔یہ ظواہری گروپ تھا جس نے اسامہ کو قائل کیا کہ وہ قبائلی علاقہ چھوڑ کر ایبٹ آباد منتقل ہو جائین۔ سیف العدل،کی ایران سے واپسی پر ،اسامہ کو ختم کرنے کا ایک منصوبہ بنایا گیا۔ اسامہ کی ہلاکت سے پہلے ہی القائدہ مین پھوٹ پڑ چکی تھی اور القائدہ دو گروپوں میں تقسیم ہوچکی تھی۔ القائدہ کا تکفیری گروپ اسے کنٹرول کر رہا تھا۔
    جعفر از بنگال و صادق از دکن
    ننگ ملت، ننگ دیں، ننگ وطن
    یہ شعر ملک و ملت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والے انہی دو غداروں میر جعفر اور میر صادق کے متعلق ہے، آج بھی دنیا ایسے ہی بدبخت اور روسیاہ غدار موجود ہیں جن پر یہ شعر صادق آتا ہے ۔مسلمانوں مین میر صادق اور میر جعفر جیسے لوگوں کی کمی نہ ہے، عباسی وزیر، ابن علقمی منگولوں سے مل گئے اور سقوط بغداد کا سبب بنے۔ ہمیشہ اس قبیل کے لوگوں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا۔اسامہ بن لادن بھی اپنے بھیدیوں کی وجہ سے مارا گیا۔ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے۔
    میرے خیال میں یہ لوگ ہین الظواہری اور طالبان جنہوں نے ذاتی جاہ و اقتدار ، حسد ،مخاصمت اور پیسے کے لالچ مین اسامہ کی مخبری کر دی۔اپنے آپ کو پاک صاف ظاہر کرنے کے لئے طالبان اب ڈرامہ بازی کر رہے ہین۔
    اسامہ کے جانے سے القائدہ کے مصری اور دوسرے گروپوں مین جانشینی کا جگھڑا اٹھ کھڑا ہو گا اور الظواہری ، جانشین بننے کی پوری کوشش کرے گا۔ ظواہری ، اسامہ کو عبداللہ عظام کی طرح اپنی امارت کی راہ کا روڑا سمجھتا تھا۔ وہ اسامہ سے اس لیئے ناراض تھا کہ اسامہ نے مصر کے معاملہ پر کوئی بیان جاری نہ کیا تھا۔ ظواہری، اسامہ کی طرح القائدہ کو متحد نہ رکھ سکے گا اور نہ دوسرے گروپ اس کو اپنی بیعت دیں گئے، کیونکہ وہ ظواہری کو اسامہ کی ہلاکت کا ذمہ دار سمجھتے ہین۔

  11. افتخار اجمل بھوپال Post author

    اقبال جہانگير صاحب
    آپ کی سب باتيں درست ہوں گی مگر آپ نے يہ تو بتايا نہيں کہ دورِ حاضر ميں پاکستان کے مير جعفر اور مير صادق کون ہيں ؟
    جس صدر جنرل کمانڈو اور جسں موجودہ صدر نے امريکا کو پاکستان ميں ہر قسم کی کاروائيوں کی اجازت دی جس ميں ہزاروں پاکستانی گھروں ميں بيٹھے ہلاک کئے گئے ۔ سينکڑوں اُٹھا کر غائب کئے گئے اور سينکڑوں اُٹھا کر امريکا کے حوالے کئے گئے ۔ کيا وہ مير جعفر اور مير صادق نہيں ہيں ؟
    پھر رونا کس بات کا ہے ؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)