Daily Archives: April 17, 2011

معترف ۔ چاپلوس يا منافق ؟

ميں تلاش کچھ اور کر رہا تھا کہ ايک ايسے خط کا متن ہاتھ لگ گيا جس کے متعلق آدھی صدی قبل سُن رکھا تھا ۔ يہ خط ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے والد شاہنواز بھٹو کی وفات کے فوری بعد برطانيہ سے اُس وقت پاکستان کے حکمران اسکندر مرزا کے نام لکھا تھا ۔ خيال رہے کہ سکندر مرزا نے کبھی پاکستان کی فوج ميں شموليت اختيار نہيں کی تھی ۔ اُس نے برطانوی فوج ميں 1920ء ميں کميشن ليا مگر 1926ء ميں چھوڑ کر انڈين پوليٹيکل سروس سے منسلک ہو گيا تھا ۔ پاکستان ميں جب وہ سيکريٹری بنا تو خود ہی ايک نوٹيفيکيشن جاری کروا کر اپنے نام کے ساتھ ميجر جنرل لگا ليا تھا ۔ شاہنواز بھٹو 1957ء کے شروع ميں فوت ہوئے چنانچہ يہ خط اپريل 1957ء ميں لکھا گيا ہو گا ۔ اُردو ترجمہ اور خط کا انگريزی متن حاضر ہے

عزت مآب ميجر جنرل اسکندر مرزا
صدر اسلامی جمہوريہ پاکستان
کراچی
پاکستان

ميرے پيارے جناب
آپ کے علم ميں لانے کيلئے صرف چند سطور لکھ رہا ہوں کہ ميں يہاں پر اپنی بہترين قابليت کے مطابق اپنی ذمہ دارياں نباہ رہا ہوں ۔ پاکستان واپس آنے پر ميں آپ کو اپنے کام کی تفصيل سے آگاہ کروں گا ۔ مجھے يقين ہے کہ آپ ميری خدمات سے مطمئن ہوں گے جو ميں نے اپنے مُلک اور اپنے صدر کے بہترين مفاد ميں سرانجام دی ہيں

ميں اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی آپ سے گہری وفاداری کا يقين دلانا چاہتا ہوں

ميرے والد کی وفات سے ٹھيک 4 ماہ قبل اُنہوں نے مجھے نصيحت کی تھی کہ ميں آپ کا پکا وفادار رہوں کيونکہ آپ ايک فرد نہيں بلکہ ايک اتاليق ہيں

ميں محسوس کرتا ہوں کہ ميرے ملک کی بہتری کيلئے آپ کی خدمات ناگزير ہيں

جب کوئی معروضی [حقائق لکھنے والا] تاريخ دان ہمارے مُلک کی تاريخ لکھے گا تو آپ کا نام مسٹر جناح سے بھی پہلے آئے گا
جناب ۔ ميں يہ اسلئے کہہ رہا ہوں کہ ميں اس ميں يقين رکھتا ہوں نہ کہ اسلئے کہ آپ ہمارے مُلک کے سربراہ ہيں ۔ اگر ميں ايک وزيرِ اعظم کے ساتھ تنازعہ کھڑا کرنے کيلئے اعتماد اور حوصلہ رکھتا ہوں تو ميرا نہيں خيال کہ ميں چاپلوسی کا مرتکب ہو رہا ہوں

اگر آپ يا بيگم صاحبہ کو يہاں سے کسی چيز کی ضرورت ہو تو مجھے حکم دينے ميں نہ ہچکچايئے گا

آپ اور بيگم صاحبہ دونوں کيلئے دل کی گہرايئوں سے احترام کے ساتھ

آپ کا مخلص
ذوالفقار علی بھٹو

April, 1958
H.E. Major-General Iskander Mirza,
President of the Islamic Republic of Pakistan,
Karachi,
Pakistan.

My dear Sir,
Only a few lines to let you know that I am discharging my responsibilities here to the best of my ability.
I shall give you a detailed report of my work on my return to Pakistan and I am sure you will be satisfied with the manner in which I have done my humble best to serve the interests of my Country and my President.
I would like to take this opportunity to reassure you of my imperishable and devoted loyalty to you.
Exactly four months before the death of my late Father, he had advised me to remain steadfastly loyal to you as you were “not an individual but an institution”.
For the greater good of my own Country, I feel that your services to Pakistan are indispensable.
When the history of our Country is written by objective historians, your name will be placed even before that of Mr. Jinnah. Sir, I say this because I mean it and not because you are the President of my Country.
If I have the conviction and the courage to enter into a dispute with a Prime Minister, I do not think I could be found guilty of the charge of flattery.
If you and the Begum Sahiba require anything from here, please do not hesitate to order me for it.
With profoundest respects both to you and to the Begum Sahiba,
Yours sincerely,

(Zulfikar Ali Bhutto)