معترف ۔ چاپلوس يا منافق ؟

ميں تلاش کچھ اور کر رہا تھا کہ ايک ايسے خط کا متن ہاتھ لگ گيا جس کے متعلق آدھی صدی قبل سُن رکھا تھا ۔ يہ خط ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے والد شاہنواز بھٹو کی وفات کے فوری بعد برطانيہ سے اُس وقت پاکستان کے حکمران اسکندر مرزا کے نام لکھا تھا ۔ خيال رہے کہ سکندر مرزا نے کبھی پاکستان کی فوج ميں شموليت اختيار نہيں کی تھی ۔ اُس نے برطانوی فوج ميں 1920ء ميں کميشن ليا مگر 1926ء ميں چھوڑ کر انڈين پوليٹيکل سروس سے منسلک ہو گيا تھا ۔ پاکستان ميں جب وہ سيکريٹری بنا تو خود ہی ايک نوٹيفيکيشن جاری کروا کر اپنے نام کے ساتھ ميجر جنرل لگا ليا تھا ۔ شاہنواز بھٹو 1957ء کے شروع ميں فوت ہوئے چنانچہ يہ خط اپريل 1957ء ميں لکھا گيا ہو گا ۔ اُردو ترجمہ اور خط کا انگريزی متن حاضر ہے

عزت مآب ميجر جنرل اسکندر مرزا
صدر اسلامی جمہوريہ پاکستان
کراچی
پاکستان

ميرے پيارے جناب
آپ کے علم ميں لانے کيلئے صرف چند سطور لکھ رہا ہوں کہ ميں يہاں پر اپنی بہترين قابليت کے مطابق اپنی ذمہ دارياں نباہ رہا ہوں ۔ پاکستان واپس آنے پر ميں آپ کو اپنے کام کی تفصيل سے آگاہ کروں گا ۔ مجھے يقين ہے کہ آپ ميری خدمات سے مطمئن ہوں گے جو ميں نے اپنے مُلک اور اپنے صدر کے بہترين مفاد ميں سرانجام دی ہيں

ميں اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی آپ سے گہری وفاداری کا يقين دلانا چاہتا ہوں

ميرے والد کی وفات سے ٹھيک 4 ماہ قبل اُنہوں نے مجھے نصيحت کی تھی کہ ميں آپ کا پکا وفادار رہوں کيونکہ آپ ايک فرد نہيں بلکہ ايک اتاليق ہيں

ميں محسوس کرتا ہوں کہ ميرے ملک کی بہتری کيلئے آپ کی خدمات ناگزير ہيں

جب کوئی معروضی [حقائق لکھنے والا] تاريخ دان ہمارے مُلک کی تاريخ لکھے گا تو آپ کا نام مسٹر جناح سے بھی پہلے آئے گا
جناب ۔ ميں يہ اسلئے کہہ رہا ہوں کہ ميں اس ميں يقين رکھتا ہوں نہ کہ اسلئے کہ آپ ہمارے مُلک کے سربراہ ہيں ۔ اگر ميں ايک وزيرِ اعظم کے ساتھ تنازعہ کھڑا کرنے کيلئے اعتماد اور حوصلہ رکھتا ہوں تو ميرا نہيں خيال کہ ميں چاپلوسی کا مرتکب ہو رہا ہوں

اگر آپ يا بيگم صاحبہ کو يہاں سے کسی چيز کی ضرورت ہو تو مجھے حکم دينے ميں نہ ہچکچايئے گا

آپ اور بيگم صاحبہ دونوں کيلئے دل کی گہرايئوں سے احترام کے ساتھ

آپ کا مخلص
ذوالفقار علی بھٹو

April, 1958
H.E. Major-General Iskander Mirza,
President of the Islamic Republic of Pakistan,
Karachi,
Pakistan.

My dear Sir,
Only a few lines to let you know that I am discharging my responsibilities here to the best of my ability.
I shall give you a detailed report of my work on my return to Pakistan and I am sure you will be satisfied with the manner in which I have done my humble best to serve the interests of my Country and my President.
I would like to take this opportunity to reassure you of my imperishable and devoted loyalty to you.
Exactly four months before the death of my late Father, he had advised me to remain steadfastly loyal to you as you were “not an individual but an institution”.
For the greater good of my own Country, I feel that your services to Pakistan are indispensable.
When the history of our Country is written by objective historians, your name will be placed even before that of Mr. Jinnah. Sir, I say this because I mean it and not because you are the President of my Country.
If I have the conviction and the courage to enter into a dispute with a Prime Minister, I do not think I could be found guilty of the charge of flattery.
If you and the Begum Sahiba require anything from here, please do not hesitate to order me for it.
With profoundest respects both to you and to the Begum Sahiba,
Yours sincerely,

(Zulfikar Ali Bhutto)

This entry was posted in تاریخ, سیاست on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

18 thoughts on “معترف ۔ چاپلوس يا منافق ؟

  1. عمران اقبال

    السلام علیکم انکل۔۔۔ شکر ہے کہ آپ کا بلاگ تک رسائی ممکن ہوئی۔۔۔ کافی عرصے سے دبئی میں‌باوجود کوشش کے آپ کا بلاگ کھل نہیں رہا تھا۔۔۔

    آج کی پوسٹ کے حوالے سے صرف ایک لفظ میرے زہن میں آتا ہے۔۔۔ اور وہ ہے۔۔ “منافقت”۔۔۔ وہ بھی پہنچی ہوئی۔۔۔

  2. عنیقہ ناز

    اسکندر مرزا نے چھ سال انڈین آرمی میں خدمات انجام دیں۔۔ اس نے کمیشن حاصل کیا تھا۔ بعد میں وہ انڈین سول سروس میں شامل ہوئے۔ مزید معلومات کے لئے یہ لنک دیکھیں۔
    http://www.google.com.pk/search?q=iskindar+Mirza&ie=utf-8&oe=utf-8&aq=t&rls=org.mozilla:en-US:official&client=firefox-a
    میں نے اپنی اب تک کی زندگی میں کوئ ایسا کامیاب شخص نہیں دیکھا جس نے آگے بڑھنے کے لئے چاپلوسی نہ کی ہوئ۔ کم یا زیادہ لوگ اسے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ہمارا قومی مزاج ہے اور انسانی ضرورت۔ اسی کو خوشامد کہتے ہیں۔ کہتے ہیں خوشامد سے تو خدا بھی راضی ہو جاتا ہے۔ اگر اس وقت پاکستان کی نامی گرامی شخصیات ، جو کسی بھی میدان سے تعلق رکھتے ہوں، انکے قریب رہنے کا موقع حاصل کر لیا جائے تو کچھ ایسے ہی اندوہناک صدمات کا سامنا کرنا پڑے گا کہ انکے مداحوں کا دل ٹوٹ کر چکنا چور ہو جائے۔ لیکن یہ دنیا ایسی ہی ہے۔ جو خوشامد کو برا کہتے ہیں انکا دل بھی اسی ٹانک سے شاداب رہتا ہے۔

  3. Pingback: معترف ۔ چاپلوس يا منافق ؟ | Tea Break

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عنيقہ ناز صاحبہ
    اتفاق سمجھ ليجئے کہ جو آپ نے اسکندر مرزا کے متعلق حوالے ديئے ہيں وہ ميں نے پڑھ رکھے ہيں اور اس کے علاوہ بھی زندگی ميں کافی کچھ پڑھا ہے ۔ درست کہ اسکندر مرزا برطانوی فوج ميں بھرتی ہوا تھا مگر وہ کيپٹن تھا جب چھوڑ کر سول سروس ميں چلا گيا ۔ پاکستان ميں وہ بحيثيت سول سرونٹ آيا تھا ۔ ميجر جنرل کيسے بن گيا ؟
    کسی کو جھُٹلانے سے قبل ذرا مطالعہ کر ليا کيجئے

    ہاں ۔ ہماری جوان نسل کی بدنصيبی ہے کہ اُنہوں نے اکثر اور بيشتر چاپلوس اور خودغرض لوگ ہی ديکھے ہيں
    رہی بات ” خوشامد سے تو خدا بھی راضی ہو جاتا ہے” تو يہ اختراع بھی بے کردار لوگوں نے اپنی نااہلی اور خودغرضی کو چھپانے کيلئے نکالی ہوئی ہے ۔ تعريف اور چاپلوسی ميں بہت فرق ہے ۔ اللہ کی تعريف کی جاتی ہے چاپلوسی نہيں
    آپ کا آخری فقرہ بھی بے محل ہے يا آپ کا تخيّل ہے ۔ اس کا حقيقت سے تعلق نہيں ہے

  5. عنیقہ ناز

    ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب کے مشورے پہ پوسٹ کو اپ ڈیٹ کرنے کے بعد یہ ضرور وضاحت کر دیجئیے گا کہ کس نے کس کی بات جھٹلا دی۔

  6. تانیہ رحمان

    جہاں تک مجھ کم علم کو علم ہے ۔۔۔کہ سکندر مزرا آرمی میں تھے ۔۔۔ آرمی کو چھوڑنے کے بعد وہ سول سروس میں آئے ۔۔۔۔۔۔ گورنر جنرل غلام محمد کی وفات کے بعد سنکدر مزرا نے ان کی جگہ لی ۔ 1956 کے آئین کے نفاذ کے بعد خود کو صدر پاکستان متخب کروایا ۔۔۔۔ خود ہی آئین منسوخ کیا ۔۔اور ایوب خان کے کہنے پر مارشل لا لگایا ۔۔۔۔ایوب خان نے سکندر مزرا کو ہٹا کر خود ہی صدر کی کرسی سمبھال لی ۔۔۔یہاں میں ایک بات کوٹ کرنا چاہوں گی ۔ جب غلام محمد امریکہ کا دورہ کرنے گیا ۔ وہاں گوری پسند آ گئی ۔بطورسکریٹری گورنرجنرل پاکستان کی عوام کو تفحہ دیا ۔۔۔۔(۔شہاب نامہ)اب یہاں ایک بات مجھے سمجھ نہیں آئی ، کہ اس وقت بھٹو کی اپنی کیا حیثیت تھی ۔۔اس کا کیا عہدہ تھا۔۔۔ اور پھر ایک صدر پاکستان کے نام ایک عام آدمی کا خط کا مقصد کیا تھا۔؟

  7. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    ۔ اسکندر مرزا پاکستان کا گورنر جنرل تھا اور میر جعفر کی اولاد میں سے تھا۔ اسکندر مرزا کے بیٹے ہمایوں مرزا نے اپنی کتاب ” فرام پلاسی ٹو پاکستان “ میں اپنے پڑدادا میر جعفر کے کردار سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ اس شخص کا پورا نام سّید میر محمد جعفر علی خان تھا۔ یہ سّید حسین نجفی کا پوتا تھا جو کسی زمانے میں نجف کا گورنر ہوا کرتا تھا۔ وہ اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے میں ہندوستان آ گیا اور مغلیہ دربار سے وابستہ ہو گیا۔ سّید حسین نجفی کا پوتا میر جعفر بنگال کے حکمران علی وردی خان کی فوج کا سربراہ بن گیا۔ علی وردی خان کے مرنے کے بعد اس کا نو عمر پوتا نواب سراج الدولہ بنگال کا حکمران بنا۔ انگریزوں نے اس نو عمر نواب کو خریدنے کی کوشش کی لیکن انہیں کامیابی نہ ہوئی تو انہوں نے نواب سراج الدولہ کی فوج کے سربراہ میر جعفر کو خرید لیا۔ 1757ء میں پلاسی میں انگریزوں اور نواب سراج الدولہ کی فوج کے درمیان ایک مشہور جنگ ہوئی۔ نواب سراج الدولہ یہ جنگ کیسے جیت سکتا تھا کیونکہ اس کا تو سپہ سالار دشمنوں سے ساز باز کر چکا تھا۔ غدّار سپہ سالار پیادہ فوج کو لیکر ایک جنگل میں چلا گیا لیکن نواب سراج الدولہ نے فرانسیسی سپاہیوں کی مدد سے انگریزوں پر خوب گولہ باری کی۔ قریب تھا کہ انگریز پسپائی اختیار کرتے کہ بارش شروع ہو گئی اور نواب سراج الدولہ اپنی توپوں کے بارود کو بارش سے نہ بچا سکا۔ انگریزوں نے حملہ کر دیا اور نواب یہ جنگ ہار گیا۔ بعدازاں میر جعفر کو بنگال کی حکمرانی مل گئی۔ نواب سراج الدولہ کو مرشد آباد میں سر عام قتل کیا گیا۔ کئی سال بعد اسی میر جعفر کے خاندان میں سّید اسکندر علی مرزا پیدا ہوا لیکن اس وقت تک یہ خاندان بنگال کی حکمرانی سے محروم ہو کر صرف انگریزوں کے وظیفے پر زندگی گزارتا تھا۔ انگزیروں کے وظیفہ خوار اس خاندان کا نوجوان اسکندر مرزا 1918ء میں پہلا ہندوستانی تھا جسے برطانیہ کے سینڈہرسٹ ملٹری کالج میں داخلہ ملا۔ اسکندر مرزا نے 1930ء سے 1945ء کے درمیان زیادہ عرصہ شمالی وزیرستان، مغربی وزیرستان، بنّوں، نوشہرہ اور پشاور میں گزارا۔ قیام پاکستان کے بعد اسکندر مرزا کو پاکستان کا سیکریٹری دفاع بنایا گیا۔ اس دوران مشرقی پنجاب سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والے لاکھوں مسلمانوں کی حفاظت کیلئے کچھ افسروں کو مامور کیا گیا۔ بریگیڈیئر ایوب خان مہاجرین کے تحفظ میں ناکام رہا جس پر اس کا کورٹ مارشل کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن میجر جنرل اسکندر مرزا نے اپنے دوست بریگیڈیئر کو بچا لیا۔ بعدازاں ایوب خان کو آرمی چیف بھی اسکندر مرزا نے بنایا اور آرمی چیف کی مدد سے وہ 1956ء میں پاکستان کو گورنر جنرل بن گیا لیکن 1958ء میں ایوب خان نے اسکندر مرزا کو فارغ کر کے اقتدار پر خود قبضہ کر لیا۔ اسکندر مرزا کو جلاوطن کر دیا گیا۔ اسکندر مرزا نے 1969ء میں لندن میں بہت کسمپرسی کے عالم میں انتقال کیا۔ مرتے وقت اس کے پاس بمشکل چند سو پاؤنڈ تھے۔ تاریخ نے میر جعفر کے ہاتھوں نواب سراج الدولہ کے ساتھ غدّاری کا بدلہ اسکندر مرزا سے لیا۔ یہ شخص فوج کو سیاست کا راستہ دکھانے والا تھا، اس شخص نے قائداعظم کے نظریات کو جھٹلایا اور آج پاکستان میں میر جعفر کی اولاد اسکندر مرزا کا کوئی نام لیوا نہیں۔ تاریخ غدّاروں کو کبھی معاف نہیں کرتی۔

    مآخذ از ۔ میر جعفر سے ملاقات,,,,قلم کمان …حامد میر

  8. افتخار اجمل بھوپال Post author

    تانيہ رحمان صاحبہ
    شہاب نامہ ميں درست لکھا ہے مگر تفصيل کی وہاں کنجائش نہ تھی ۔ جو ميں نے لکھا ہے مستند ہے ۔ ميں دہرا ديتا ہوں
    “اسکندر مرزا نے کبھی پاکستان کی فوج ميں شموليت اختيار نہيں کی تھی ۔ اُس نے برطانوی فوج ميں 1920ء ميں کميشن ليا مگر 1926ء ميں چھوڑ کر انڈين پوليٹيکل سروس سے منسلک ہو گيا تھا ۔ پاکستان ميں جب وہ سيکريٹری بنا تو خود ہی ايک نوٹيفيکيشن جاری کروا کر اپنے نام کے ساتھ ميجر جنرل لگا ليا تھا”۔
    ذوالفقار علی بھٹو کو اُن دنوں سکندر علی مرزا ہی نے اقوامِ متحدہ ميں پاکستان کے ليگل ڈيليگيشن کا رُکن مقرر کيا تھا

  9. ڈاکٹر جواد احمد خان

    بہت خوب جناب جاوید گوندل صاحب،
    ایک بات مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آئی کہ شیطان اپنے منصوبوں کی تکمیل کے لیے جینز پر اتنا تکیہ کیوں کرتا ہے۔

  10. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    ایک بات مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آئی کہ شیطان اپنے منصوبوں کی تکمیل کے لیے جینز پر اتنا تکیہ کیوں کرتا ہے۔

    جناب جواد احمد خان صاحب!۔
    غالبا جسطرح اللہ تعالٰی نے ایک سیل یعنی مرد کے مادے مخصوصہ کے ایک جرثومے میں ایک پوری انسانی ساخت، اٹھان، عادات، رنگ، ذہانت الغرض اس دنیا میں آنے والی نئی زندگی کے بارے میں پورا ڈیٹا فیڈ کر دیا ہوتا ہے۔جسے تبدیل کرنا پیدا ہونے والے انسان کے بس میں نہیں ہوتا۔ اسی طرح سائنسی وضاحت سے صرف نظر کرتے ہوئے غالبا جینز میں اللہ تعالٰی نے انسان کی مخصوص ساخت، سائیکی اور کیفیات بند کر دی ہیں ، جن پہ انسان عقلی و وحدانی و دینی شعور سے قابو پاسکتا ہے۔ یعنی باالفاظ دیگر جینز میں چھپی کمزوری کو شیطان اپنا نشانہ بناتا ہے اگر انسان خوف خدا کو سامنے رکھے اپنے انسان ہونے کے شرف کے پیمانے پہ پورا اترے تو شیطان کا وار خالی جاتا ہے۔
    انسان اپنی جنیاتی یا بشری کمزوریوں پہ اختیار رکھتا ہے۔ شیطان ہماری کمزور قوت ارادی کی وجہ سے حاوی ہوتا ہے۔ جیسا کہ میر جعفر سے اسکندر مرزا تک جب جنیاتی کمزوری یعنی غداری جو ان کی گھٹی میں پڑی تھی۔وہ اس جنیاتی کمزوری کے سامنے سپر ڈال دیں تو شیطان کا کام آسان ہوجاتا ہے

    بہر حال یہ میری ذاتی رائے ہے۔

  11. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    نیز یہ جو اب بھٹو کی سزائے موت کے بارے مقدمہ نئے سے ری اوپن ہونے جارہا ہے۔ یہ زرداری نان ایشوز کو ایشو بنانے کی روایتی سیاسی چالیں ہیں تانکہ عوام کی نظر اصل ایشوز سے ہٹ جائے۔ زارداری اور پیپلز پارٹی کو چاہئیے کہ وہ اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا دینے کے لئیے اسطرح کے جھگڑے اٹھا کر سندھ کارڈ کھیلنے کی بجائے عوام کے اصل مسائل غریبی، افلاس، بے روزگاری، پانی، بجلی، گیس، علاج معالجہ کی سہولتوں اور تعلیم پہ توجہ دے کر اپنی گرتی ساکھ بحال کرے۔

    پھر بھی موجودہ حکمران اگر اپنی نالائقی اور کوتاہی چھپانے کے لئیے اگر بھٹو کا مقدمہ ری اوپن کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں تو مشرقی پاکستان کا مقدمہ بھی ری اوپن ہونا چاہئیے اور اسمیں ذوالفقار علی بھٹو کے کردار کا تعین کیا جانا بھی بہت ضروری ہے۔ اور بھٹو کے اسی دور میں قتل ہونے والے نمایاں افراد جن کا الزام ذوالفقار علی بھٹو پہ لگایا جاتا ہے۔ جن میں ڈاکٹر نذیر احمد 8 جون 1972ء کو راجن پور میں قتل ہوئے۔ خواجہ رفیق 20 دسمبر 1972ء کو لاہور میں گولیوں کا نشانہ بنے ۔ اچکزئی قبیلے کے قوم پرست رہنما عبدالصمد اچکزئی 2 دسمبر 1973ء کو ایک بم کا نشانہ بنے۔ حیات محمد خان شیر پائو 8 فروری 1976ء کو دہشت گردی کی واردات میں مار ڈالا گیا۔ ان سب کے مقدمات بھی ری اوپن ہونے چاہئیں ۔ تانکہ زبردستی کے تقدس اور شہادتوں کے بارے کوئی فیصلہ ہوسکے کہ کون کس قدر شہید اور قوم کا خیر خواہ تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان توڑنے میں کس کا کیا کردار تھا ۔

  12. عدنان شاہد

    اس بندے کی میرے دل میں اچھی خاصی عزت تھی لیکن مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ بھی ابن الوقت لوگوں کی طرح رہا ہے۔

    “”جب کوئی معروضی [حقائق لکھنے والا] تاريخ دان ہمارے مُلک کی تاريخ لکھے گا تو آپ کا نام مسٹر جناح سے بھی پہلے آئے گا

    اگر یہ بندہ آج زندہ ہوتا تو میں اس شان میں وہ قصیدے لکھتا کہ اس کی نسلیں یاد رکھتیں لیکن یہ مر چکا ہے اس لئے میں اس کو کچھ نہیں کہتا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)