کامیاب شادی کے پہلے 7 اصول

1 ۔ يقين
شادی کا سب سے اہم عنصر خاوند اور بيوی کا اعتقاد ہے جس کی ہم آہنگی شادی کے بندھن کو مضبوط بناتی ہے ۔ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی تمنا خاوند اور بيوی کو ايک دوسرے کا احترام اور محبت کرنے پر اُکساتی ہے

2 ۔ درگذر
کسی کی طرف سے کی گئی زيادتی پر چشم پوشی عام طور پر زيادتی کرنے والے کو دوست بنا ديتی ہے ۔ خاوند اور بيوی اگر ايک دوسرے کی لغزش پر درگذر کا رويہ اختيار کريں تو اُن کی محبت ميں اضافہ ہوتا ہے

3 ۔ بھُلانا
اگر خاوند اپنی بيوی کو يا بيوی خاوند کو اُس کی غلطياں ياد کرائے تو اس کا مطلب ہے کہ غلطی پر درگذر نہيں کيا گيا ۔ گذری باتوں کو ماضی کے ساتھ ہی دفن کر دينا چاہيئے کيونکہ ان کا دہرانا نئے زخم لگاتا ہے جو مندمل ہونے ميں اصل وقت سے زيادہ مدت ليتے ہيں

4 ۔ صبر و تحمل
صبر و تحمل ايک ايسی خوبی ہے جو انسان کو اعلٰی مرتبہ پر پہنچاتی ہے ۔ بہت سے مسائل اور جھگڑے بے صبری اور چلبلے پن سے پيدا ہوتے ہيں ۔ اسلئے انسان کو صبر اور تحمل سے کام لينا چاہيئے ۔ بہت سی بری لگنے والی باتوں پر صبر اور تحمل کے ساتھ غور کيا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ اتنی بری نہ تھيں جتنا محسوس ہوئی تھيں

5 ۔ رواداری
بہت سے جوڑوں ميں چپکلش کا سبب اُن کا جمود ہوتا ہے يعنی وہ اپنے آپ ميں يا اپنی عادت ميں تبديلی نہيں لا سکتے يا لانا نہيں چاہتے ۔ حقيقت يہ کہ شادی سے پہلے جس زندگی کے خواب ديکھے ہوتے ہيں يا جو کچھ کہانيوں ميں پڑھا ہوتا ہے شادی کے بعد وہ زندگی نہيں ہوتی ۔ شادی کے بعد محبت صرف خوبصورتی اور تعريفوں کا نام نہيں رہ جاتا بلکہ ايک دوسرے کيلئے وقت کے مطابق ہمدردی اور ايثار بن جاتا ہے ۔ رواداری اس بندھن کو قائم رکھنے کيلئے انتہائی ضروری ہے

6 ۔ دوستی
اصل دوستی شادی کے بعد شروع ہوتی ہے ۔ آپس ميں دوستی کو قائم کرنا ۔ ہر آدمی اپنے دوست کی عزت کرتا ہے ۔ اس پر اعتماد کرتا ہے ۔ اس پر بھروسہ رکھتا ہے ۔ اس کا خيال رکھتا ہے باوجوديکہ دوستوں ميں باہمی اختلافات بھی ہوتے ہيں ۔ خاوند اور بيوی ميں دوستی کا رشتہ ہموار ہو جائے تو پھر اُن پر بيرونی عوامل اثر انداز نہيں ہو پائيں گے

7 ۔ دوستانہ نقطہ نظر
دوستانہ نقطہ نظر رکھنے کا مطلب ہے کہ دونوں کے ساتھ تعلق رکھنے والے سب لوگوں کے ساتھ دوستانہ رويہ رکھا جائے ۔ اس ميں خاوند کيلئے بيوی کے اور بيوی کيلئے خاوند کے والدين اور بہن بھائی اول حيثيت رکھتے ہيں ۔ يہ حقيقت بھولنا نہيں چاہيئے کہ شادی دو افراد کا نہيں دو خاندانوں کو بندھن ہوتا ہے ۔ يہ تعلقات ۔ احترام و محبت ايک دن ميں تو جنم نہيں ليتے مگر وقت کے ساتھ ساتھ پيدا ہونے چاہئيں

This entry was posted in تجزیہ, ذمہ دارياں, روز و شب, طور طريقہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

6 thoughts on “کامیاب شادی کے پہلے 7 اصول

  1. Pingback: کامیاب شادی کے پہلے 7 اصول | Tea Break

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)