مجھے سمجھائے کوئی

اس دنيا ميں ميرے جيسا کم عِلم ہونا بھی ايک مُشکل کام ہے ۔ جب محفلِ اجارا داراں جو اپنے آپ کو يو اين سيکيوريٹی کونسل کہتی ہے نے قراداد منظور کی کہ لبيا کو “نَو فلائی زَون” قرار دے ديا گيا ہے تو ميں سمجھا کہ اب ليبيا کی فضا ميں کوئی جہاز نہيں اُڑے گا

مگر عملی طور پر اس کا مطلب يہ نکلا کہ امريکا اور اس کے ساتھی دہشتگردوں کے جہاز لبيا کی فضا ميں نہ صرف پرواز کريں گے بلکہ بے شمار مزائل اور بم بھی لبيا کے مختلف علاقوں ميں گرائيں گے ۔ اس دہشتگردی کے نتيجہ ميں جتنے انسان ہلاک ہوں گے اُنہيں ظالم کہا جائے گا ۔ مزيد يہ کہ تباہی اتنی مچائی جائے گی کہ لبيا کا اپنا کوئی ہوائی جہاز برسوں نہ اُڑ سکے

چنانچہ “نَو فلائی زون” کا مطلب يہ نکلا کہ لبيا کا يہ حال کر ديا جائے کہ لبيا کا کوئی جہاز اگلے کئی سالوں تک نہ اُڑ پائے اور پھر کوئی اور الزام لگا کر لبيا کے تيل کے ذخائر پر قبضہ کر ليا جائے جيسے “ڈبليو ايم ڈی [Weapons of Mass Destruction]” کا الزام لگا کر عراق پر قبضہ کيا تھا اور اوسامہ بن لادن [جو شايد عرصہ قبل طبعی موت مر چکا] کا بہانہ بنا کر افغانستان پر قبضہ کيا تھا جو قبضے آج تک جاری ہيں اور ختم ہونے کی کوئی اُميد نہيں ہے

This entry was posted in روز و شب, سیاست, منافقت on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

26 thoughts on “مجھے سمجھائے کوئی

  1. عمران اقبال

    درست فرمایا آپ نے۔۔۔ لیبیا کا بھی وہی حال ہو رہا ہے جو عراق کا ہوا تھا۔۔۔ نا اسامہ ملا اور نا ہی کیمیائی ہتھیار۔۔۔

    مجھے ایک بات سمجھ نہیں‌آ رہی کہ لیبیا کے باغیوں کے پاس اتنے بھاری بھر کم ہتھیار آئے کہاں سے۔۔۔ یہ سوال شاید ویسا ہی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے پاس اور بلوچستان میں نام نہاد باغیوں کو ہتھیار سپلائی کون کر رہا ہے۔۔۔؟

  2. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    سنا ہے عرب لیگ نے کچھ اعتراضات کئیے ہیں کہ ہم نے نو فلائی زون کے لئیے اتحادیوں کی حمایت کی تھی تانکہ آزادی کے پروانے لیبیا کے عوام کی حفاظت کی جاسکے۔عوام پہ بمباری کے لئیے نہیں کہا تھا۔میر کتنے سادہ ہیں کے مصداق عرب لیگ والے کتنے سادہ لوگ بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چوزوں کی رکھوالی پہ گیدڑوں کو بٹھا کر اب ان سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ انکے احکامات کی تعمیل کریں گے۔ نیز قطر اس معاملے اپنے چار ہوائی جہاز لئیے امریکہ کے ساتھ کھڑا ہے۔

    آپ نے لکھا پھر کوئی الزام لگا کر لیبا کے تیل کی تنصیبات پہ قبضہ کر لیا جائے گا۔ الزام کی ضرورت نہیں پیش آئے گی نہ ہی اقوام متحدہ کی کسی نئی قرارداد پیش آئے گی۔ یہ سارا بندوبست تو اندرون خانہ ہوچکا ہے کہ کون کیسے اور کہاں سے اپنی فوجیں داخل کرے گا اور اس بندر بانٹ پہ کس کو کتنا حصہ بقدر جثہ ملے گا۔ یہ سب طے ہے۔یہ بات محسوس کئیے جانے کے لائق ہے کہ ادہر لیبیا کے خلاف نو فلائی زون کی قرارداد پاس ہوئی ادہر امریکہ اور اسکے اتحادی لیبیا کے گرد پہلے سے جنگی پوزیشن میں کھڑے لیبیا پہ حملہ کر دیا۔

    یہ وہی کھیل ہے جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے پردے میں انگلستان وغیرہ جیسے ملک ہندؤستان جیسے ممالک سے تجارت کے بہانے بالآخر ایسے ممالک پہ مکمل قبضہ کر تے ہوئے انکے سارے وسائل کو بلا شرکت غیرے اپنے استعمال میں لے آتے تھے۔ البتہ اب یہ ممالک ایست انڈیا کمپنی جیسے کھڑاگ کھڑے نہیں کرتے اور بلاواسطہ ہر قسم کی اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے امریکن کاؤ بوائز کی طرح اپنے تجارتی مفادات کے لئیے جھپٹ پڑتے ہیں۔ جبکہ مسلم دنیا ہے کہ غفلت اور بزدلی آمیز مصحلت کا شکار ہے جبکہ ان کے حکمران ، رہنماء ، سیاستدان، حزب مخالف کو لگتا ہے سانپ سونگھ گیا ہے۔ کوئی بیان ، مظاہرہ، احتجاج کچھ بھی تو نہیں کیا۔ ایسا کرنے سے کرنل قذافی کی حمایت نہیں بلکہ ایک مسلمان ملک پہ حملہ کی مذمت ہوتی۔

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    ياسر صاحب
    ہر ملک ميں کچھ لوگ ہوتے ہيں جنہيں دولت دے کر آپ کچھ بھی کروا سکتے ہيں ۔ امريکا ميں بھی ايسے بہت مل جائيں گے ۔ رکاوٹ صرف يہ ہے کہ مال و دولت والے سارے فرنگی ہيں يا اُن کے نرغے ميں ہيں

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    جاويد گوندل صاحب
    ميں تو کبھی سوچتا ہوں کہ مسلمان ہيں کہاں ؟ تو مجھے مُلا عمر ہی مسلمان نظر آتا ہے ۔ وہ جب پورے افغانستان کا حاکم تھا تب بھی اس کا لباس خوراک اور بود و باش وہی تھی جيسی جہاد شروع کرنے سے پہلے تھی

  5. فکرپاکستان

    جو خصوصیات اجمل صاحب نے ملا عمر صاحب کی گنوائی ہیں وہ بجا ہیں، لیکن رہبر کے لئیے یہ خصوصیات کوئی سند نہیں ہیں، مجھے ایک حدیث یاد آرہی ہے کہ۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے کے مومن اپنے عصر سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ کاش کے یہ بات ملا عمر سمیت پوری مسلم امہ کی سمجھہ میں آجائے اور وہ دکھاوے کی ڈرامے بازی سے نکل کر صحیح معنوں میں علم اور ٹیکنالوجی کی طرف آجائے تو نہ افغانستان کا یہ حال ہوتا اور نہ ہی پوری مسلم امہ یوں پٹ رہی ہوتی۔

  6. افتخار اجمل بھوپال Post author

    فکرِ پاکستان صاحب
    بلاشُبہ دين علم اور ترقی کی ترغيب ديتا ہے مگر اُس عمل کی تقليد سے منع کرتا ہے جو دين سے باہر ہو ۔ افغانستان کا حال خراب علم والے فرنگيوں نے کیا ہے ۔ مُلا عمر نے نہيں کيا

  7. عبداللہ

    اگر مسلمان ٹیکنا لوجی میں اتنے ترقی یافتہ ہوتے اگر افغانستان کے حکمرا نوں نے اپنی قوم کوعلم اور ٹیکنا لوجی سے دور نہ رکھا ہوتا،تو امریکا یوں آسانی سے ہم مسلمانوں کو تباہ و برباد نہ کرپاتا،فکر پاکستان کی بات کا بھی یہی مقصد ہے!

  8. فکرپاکستان

    یہ خراب علم کیا ہوتا ہے؟ علم کبھی خراب نہیں ہوتا اسکا استعمال کرنے والے خراب اور اچھے ہوتے ہیں۔ کفار اور مسلمان ازل سے حالت جنگ میں ہیں، کفار نے اپنی بقاء کے لئیے محنت کی اور اس مقام پر پہنچے کے آج ایک کمرے سے بیٹھہ کر بغیر پائیلٹ کے ڈرون سے اپنے دشمنوں کو تہس نہس کررہے ہیں، تو جواب میں مسلمانوں نے کیا تیاری کی ؟ اپنی قوم کو جہالت پہ رکھنا ہی ملا عمر کا سب سے بڑا قصور ہے جسکی سزا وہ قوم صدیوں سے بھگتی آرہی ہے اور اس وقت تک بھگتے گی جب تک صحیح معنوں میں علم اور ٹیکنالوجی کی طرف نہیں آئےگی۔ الٹی میٹلی قصور ملا عمر کا ہی بنتا ہے افغانستان کی اس حالت کا۔ جب حیثیت نہیں تھی تو کیوں ہاتھی سے پنگا لیا؟ یہ خراب علم کیا ہوتا ہے؟ علم کبھی خراب نہیں ہوتا اسکا استعمال کرنے والے خراب اور اچھے ہوتے ہیں۔ کفار اور مسلمان ازل سے حالت جنگ میں ہیں، کفار نے اپنی بقاء کے لئیے محنت کی اور اس مقام پر پہنچے کے آج ایک کمرے سے بیٹھہ کر بغیر پائیلٹ کے ڈرون سے اپنے دشمنوں کو تہس نہس کررہے ہیں، تو جواب میں مسلمانوں نے کیا تیاری کی ؟ اپنی قوم کو جہالت پہ رکھنا ہی ملا عمر کا سب سے بڑا قصور ہے جسکی سزا وہ قوم صدیوں سے بھگتی آرہی ہے اور اس وقت تک بھگتے گی جب تک صحیح معنوں میں علم اور ٹیکنالوجی کی طرف نہیں آئےگی۔ الٹی میٹلی قصور ملا عمر کا ہی بنتا ہے افغانستان کی اس حالت کا۔ جب حیثیت نہیں تھی تو کیوں ہاتھی سے پنگا لیا؟ محض ایک شخص کو بچانے کے لئیے لاکھوں لوگوں کو مروا دیا ایسا ہوتا ہے ویژنری رہنما؟

  9. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبداللہ صاحب
    افغانستان تو غربت کا مارا ہی رہا وہاں کيا ٹيکنالوجی آنا تھی ۔ ہمارے ملک ميں ٹيکنالوجی کسی طرح آ تو گئی مگر يتيم ہے ۔ اصل بات مسلمانوں کا اللہ سے دور ہونا ہی ہے ۔

  10. افتخار اجمل بھوپال Post author

    فکر پاکستان صاحب ۔ آپ نے ميرا لکھا ہوا فقرہ جلدی ميں پڑھ کر غلط سمجھ ليا ہے ۔ اسے دوبارہ پڑھيئے ۔ چليں ميں جہاں وقف تھا وہاں نقطہ لگا کر لکھتا ہوں
    “افغانستان کا حال خراب ۔ علم والے فرنگيوں نے کیا ہے”۔
    رہا افغانستان تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ زمينی حقائق سے ناواقف ہيں ۔ کسی نے ہاتھی کی سُونڈ ميں کھُجلی نہيں کی ۔ ہاتھی بدمست ہو چکا ہے اور ہر طرف ناچتا پھر رہا ہے کيونکہ ہمارے يعنی پاکستان اور اردگرد کے باقی مسلمان مُلکوں کے حکمران اُس کے دستِ نگر ہيں ۔

  11. عبداللہ

    چلیئے فرض کیا آپ اسکی دست نگری سے نکل آتے ہیں،اس سے کہتے ہیں کہ ہم تم سے قرض نہیں لیں گے،
    اس ملک میں جو اربوں روپیہ کرپشن کی نظرہورہا ہے اسے کیسے روکیں گے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    اسے روکیں گے تب ہی یہ ممکن ہوسکے گا،
    صرف کراچی کو نہیں پورے ملک کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے،تب یہ ممکن ہوسکے گا،
    بلاگس لکھنے سے یہ نہیں ہوگا،
    پھر آپ انکی جیسی ٹیکنا لوجی دنوں میں حاصل نہیں کر پائیں گے،تب تک آپ ان کے ہتھیاروں سے کیسے بچیں گے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

  12. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبداللہ صاحب
    بات تو آپ نے خود کہہ دی ہے ۔ حکمران جو قوم کا مال اُڑا رہے ہيں اسے بند کئے بغير آپ پوری دنيا کا خزانہ بھی لے آئين تو بھی کچھ فائدہ نہ ہو گا

    آپ کا دوسرا فقرہ غلط فہمی يا بے علمی کا نتيجہ ہے ۔ اگر آپ حقيقت جاننا چاہتے ہيں تو ٹيکس کی شرح پنجاب ميں مرکز اور باقی تمام صوبوں سے زيادہ ہے ۔ مسئلہ ٹيکس چوری ہے اور يہ متعلقہ محکموں اور حکمرانوں کی ملی بھگت سے ہوتا ہے ۔

    آپ کا تيسرا فقرہ بھی بے علمی پر منتج ہوتا ہے ۔ آج حکمران چاہيں تو نہ کوئی ڈرون حملہ ہو گا اور نہ پاکستان ميں کوئی ريمنڈ ڈيوس کام کرے گا ۔ ہمارے ملک کے پاس اللہ کے فضل سے اتنی صلاحيت ہے کہ مرنے سے قبل سُپرپاور کو بھی لولا لنگڑا کر ديں ۔ آپ نے شايد ايئر چيف کا بيان نہيں پڑھا تھا کہ “حکومت آج کہے تو کوئی ڈرون پاکستان کی سرحد ميں داخل نہيں ہو سکے گا

  13. عبداللہ

    کرپشن میں صرف حکمراں ہی نہیں عوام بھی برابر کے حصہ دارہیں،ابھی جو شاہ عالمی مارکیٹ میں آگ لگی تو پتہ چلا کہ اربوں کا کاروبار کرنے والے ٹیکس چور تھے،یہی صورت حال کراچی میں بولٹن مارکیٹ میں آگ لگی تب بھی سامنے آئی،
    ٹیکس چوری کے محکمےکہاں ہیں؟
    کراچی پورے ملک کے مقابلے میں 67 پرسنٹ ریونیو جمع کر کے دیتا ہے جس سے وفاق اور پنجاب چلتا ہے،یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے آپ تو کیا کوئی بھی جھٹلا نہیں سکتا!
    دوسری بات تو آپ امریکا سے لڑنا چاہتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    پہلے یہ وعدہ کیجیئے کہ اگر یہاں کوئی جنگ چھڑی تو آپ اپنے بیٹوں کے پاس امریکا یا دوبئی نہیں بھاگیں گے!!!

  14. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبداللہ صاحب
    کراچی ميں پورے مُلک کی درآمدات اور برآمدات پر سارے ٹيکس وصول کئے جاتے ہيں ۔ اسلئے کراچی ميں ريوينيو زيادہ اکٹھا ہوتا ہے اور آپ اور آپ جيسے اس کا رونا روتے رہتے ہيں ۔ اگر جہاں سے مال آيا ہو يا جہاں جا کے مال کی کھپت ہونا ہو وہاں سارے ٹيکس وصول کئے جائيں تو آپ کو اصل صورتِ حال کا علم ہو جائے

    آپ خود تو ملک سے باہر رہتے ہيں اور دوسروں سے ملک ميں رہنے کے وعدے مانگتے ہيں ۔ ميں يہ بھی کہہ سکتا تھا کہ آپ کون ہوتے ہيں مجھ سے وعدہ لينے والے ۔ مگر سُنيں ۔ اللہ کے فضل سے ميں 1965ء اور 1971ء کی جنگوں ميں اپنا قومی کردار ادا کر چکا ہوں اور اِن شاء اللہ آئندہ بھی کروں گا

    دسمبر 1971ء ميں جنگ شروع ہونے کے بعد ايک اہم قومی کام کی غرض سے واہ سے کراچی جانا تھا ۔ ميں کسی اور کی جان کو خطرہ ميں ڈالنے کی بجائے خود کراچی گيا جس کا ٹرين ہی ايک ذريعہ تھی ۔ ميں اُن دنوں پروڈکشن منيجر ويپنز فيکٹری تھا ۔ 3 دن اور 2 راتوں ميں کراچی پہنچا ۔ جب ميں کراچی کينٹ سٹيشن پہنچا تو کراچی کے لوگ پنجاب کو بھاگ رہے تھے ۔ ريلوے اسٹيشن پر جو ٹرين جانے کيلئے کھڑی تھی مسافروں سے کھچا کھچ بھری تھی اور سارے پليٹ فارموں پر لوگ اگلی ٹرين کی انتظار ميں اتنے زيادہ بيٹھے تھے کہ گذرنا مشکل تھا ۔ ميرے ساتھ بھاری سرکاری سامان بھی تھا جو کارگو کی بوگی ميں تھا ۔ اُس کی انتظار ميں پليٹ فارم پر چکر لگاتا رہا ۔ ميں نے ديکھا کہ بھاگنے والوں ميں کوئی پختون يا پنجابی نہيں تھا ۔ سب اُردو بولنے والے تھے

    باہر نکل کر ٹيکسی کے انتظار ميں کھڑا تھا کہ ايک صاحب نے پوچھا “آپ جا رہے ہيں کہ آ رہے ہيں ؟” ميرے کہنے پر کہ ميں راولپنڈی سے آيا ہوں وہ صاحب ہکا بکا رہ گئے اور پريشانی ميں يہ وِرد کرتے چل پڑے “کمال ہے ۔ سب جا رہے ہيں اور يہ آ رہے ہيں”

    اور سُنيئے ۔ سندھ سے پہلے پنجاب کا آخری اسٹيشن صادق آباد ہے ۔ جاتے ہوئے راولپنڈی سے صادق آباد تک کھانے کو ملتا رہا ۔ اُس کے بعد کراچی تک 24 گھنٹے سے زائد کا سفر بھوکے رہے ۔ واپسی پر کراچی سے صادق آباد تک پھر کچھ بھی کھانے کو نہ ملا ۔ صادق آباد ٹرين پہنچی تو خوانچہ والے بھی نظر آئے اور کچھ لوگ ٹرين ميں بيٹھے مسافروں ميں بھُنے ہوئے چنے اور مکئی اور دوسری خُشک اشياء بانٹ رہے تھے

    آپ کس گھمنڈ پر اتنی باتيں بناتے ہيں ؟

  15. عبداللہ

    آپ نے ایک بار پھر غلط بیانی کی ہے،شائد یہ سوچ کر کے اکہتر میں تو میں پیدا ہی نہیں ہوا ہوں گا تو جو جھوٹ سچ آپ چاہیں سنا سکتے ہیں،
    مگر میرے محلے، خاندان، دوست احباب ان کے رشتہ داروں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو اکہتر میں کراچی چھوڑ کر بھاگا ہو ہاں آپکی ایلیٹ کلاس کے کچھ بے وقوفوں نے ایسا کیا ہو تو کچھ کہہ نہیں سکتے،کیونکہ جنگ تو پورے پاکستان میں ہورہی تھی،ہاں سمندر صرف کراچی میں تھا!
    باقی میری اماں بتاتی ہیں کہ ہر گھر میں خندقیں کھودی گئیں تھیں جن میں روزانہ سائرن بجا کر چھپنے کی پریکٹس کروائی جاتی تھی،اور سب کے حوصلے بلند تھے کراچی کے لوگ نہ تو ماضی مین کبھی بزدل ثابت ہوئے ہیں اور نہ ہی آئندہ کبھی ہوں گے!
    میں بھی کویت عراق جنگ میں یہیں تھا اور میزائل ہمارے سر پر سے گزر کرسمندر میں انٹر سیپٹ کیئے جاتے تھے!
    کویت اورہمارے درمیان صرف ایک شہر کا فاصلہ ہے!

  16. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبداللہ صاحب
    آپ ہيں کيا جو ميں آپ سے ڈر کے جھوٹ بولوں گا ۔ ميں نے اپنی آنکھوں ديکھی حقيقت لکھی ہے ۔ اور سُنی سنائی بات کر رہے ہيں ۔ بہتان تراشی اور جھوٹ بولنا آپ کی اولين ترجيح ہے ۔ ميں يہ شرمناک حقيقت بيان نہيں کرنا چاہتا تھا مگر آپ نے مجھے لکھنے پر مجبور کيا ۔ بھاگنے والوں ميں بظاہر کوئی ايليٹ کلاس نہيں تھا اور کيا کراچی ميں ايليٹ کلاس کے لوگ اُن دنوں ہزاروں ميں تھے ؟ ہاں البتہ کراچی کے لوگ مخالف بے قصور انسانوں کو قتل کرنے ميں بہت دلير ہيں ۔ يہ بھی خوب کہی جنگ کويت اور عراق کی اور آپ سعودی عرب ميں بے خوف بيٹھے تھے
    :lol:

  17. عبداللہ

    دوسروں کو کم علم اور بے وقوف کہنے سے پہلے اپنے علم کا معیار چیک کر لیا کریں،
    اب اگرآپکی چھوٹی سی عقل میں یہ بات نہیں آئی تو میں کیا کرسکتا ہوں کہ آپ نے کبھی اس طرح جنگ کا سامنا جو نہیں کیا!
    میں نے صاف صاف بتایا ہے کہ میزائل ہمارے سروں پر سے گزرتے تھے جنہیں سمندر میں انٹر سیپٹ کر کے گرایا جاتا تھا،ایک میزائل تو ریاض میں گرا بھی اور کافی جانی و مالی نقصان ہوا-
    ہاں البتہ کراچی کے لوگ مخالف بے قصور انسانوں کو قتل کرنے ميں بہت دلير ہيں ۔
    اس جملے سے آپکے بھی ازلی تعصب کی نشاندہی بہت اچھی طرح ہورہی ہے،کراچی کا مال کھانے کو ملتا رہے توکراچی اچھا ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

  18. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبداللہ صاحب
    آپ نے ميرے ذاتی مشاہدہ کو جھوٹ قرار ديتے ہوئے اپنی حيثيت پر غور کيا ہوتا تو ميں آپ کو کم علم نہ کہتا
    کمال دليری ہے کہ آپ کے سر کے اوپر سے ميزائل گذر گيا اور سعودی عرب کو چھوڑ کر بھاگے نہيں
    ميرے متعلق حقائق جانے بغير آپ مجھے کئی بار جھوٹا ۔ منافق اور جانے کيا کيا کہہ چکے ہيں ۔ کيا آپ کو آصف زرداری يا الطاف حسين نے سچا ہونے کی سند دے رکھی ہے ؟
    مرکز اور صوبہ سندھ دونوں جگہ ايم کيو ايم اور پی پی پی کی حکومت ہے اور کراچی ميں ايم کيو ايم کا راج ہے ۔ پھر کراچی ميں اگر روزانہ درجن بھر آدمی ہلاک کئے جاتے ہيں تو قصور بھی ان دونوں جماعتوں کا ہے جو اس قتل و غارت کو روک نہيں سکتيں
    تعصب تو آپ کے دماغ ميں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے اسی لئے کئی بار کراچی کے قتل و غارت کا ذمہ دار آپ پنجاب کو قرار دے چکے ہيں

  19. عمران اقبال

    انکل، آپ اس فتنہ پرور، بیوقوف، تعصب پسند اور جاہل انسان، یعنی عبداللہ عرف رام داس عرف بارہ سنگھے کو بلاک کیوں‌نہیں کر دیتے۔۔۔

    یہ بندہ اس قابل نہیں کہ اس کے منہ متھے لگا جائے۔۔۔ جہاں جاتا ہے صرف اور صرف گھٹیا باتیں ہی کرتا ہے۔۔۔ لاجک تو اس بندے کے پاس سے ہو کر نہیں گزری۔۔۔ ہاں دوسروں‌کو جھوٹا، جاہل اور منافق کے فتوے دینے کا حق اسے پتا نہیں کس نے دے دیا ہے۔۔۔

    نا تو آپ اور نا ہی ہم اس جاہل سے کچھ سیکھ سکتے ہیں۔۔۔ تو کیا فائدہ۔۔۔ اپنا بلاگ اس کے بھوں بھوں سے نا پاک کرنے کا۔۔۔

    اللہ اس بارہ سنگھے جیسے نفسیاتی مریض کو دماغ عطا فرمائے۔۔۔ آمین۔۔۔

  20. عبداللہ

    آج کل جوکرمنلزپکڑے جارہے ہیں ان کی تعداد دیکھ لیں کہاں سے تعلق رکھتی ہے،پنجاب ،سرحد اور اندرون سندھ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کراچی کی تو بڑی فکر رہتی ہے اور پنجاب میں جو روزانہ بے شمار قتل اور عصمت دریاں ہوتی رہتی ہیں انکا الزام نون لیگ کو کیوں نہیں دیتے؟؟؟؟؟

  21. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبداللہ صاحب
    پکڑنے والے جو کراچی کے ہين تو وہ کراچی والے کو بھی کراچی سے باہر کا نہيں بتائيں گے تو کيا کاپنے کرتوت ظاہر کريں گے ؟ ساون کے اندھے کو ہرا ہرا ہی سوجھتا ہے ۔ پنجاب ميں آپ کو ہر طرف جرائم اس آنکھ سے نظر آتے ہيں جس کی بصيرت الطاف حسين نے سلب کر رکھی ہے

  22. Pingback: مجھے سمجھائے کوئی | Tea Break

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)