تابعداری اور التماس

محترمات قاريات و محترمان قارئين
السلام و عليکم
کچھ مہربانوں کی طرف سے کبھی کبھار شکائت ملتی ہے کہ ميرا يہ بلاگ نہيں کھُلتا يا بمُشکل کھُلتا ہے
ايسا اکثر اُن قاريات اور قاريات کے ساتھ ہے جو پاکستان ميں پی ٹی سی ايل يا متحدہ عرب عمارات ميں اتصالات کا انٹرنيٹ استعمال کرتے ہيں ۔ خيال رہے کہ پی ٹی سی ايل بھی اتصالات کے زيرِ انتظام ہے ۔ ميں اس سلسلہ ميں اسلام آباد واپس آ جانے کے بعد پی ٹی سی ايل کے دفتر ميں گيا ہوں ۔ اُن کا کہنا ہے کہ ايسا پاکستان کميونيکيشن اتھارٹی [پی ٹی اے] کی کسی کاروائی کی وجہ سے ہو رہا ہے ۔ چنانچہ ميں نے مندرجہ ذيل پتہ پر پی ٹی اے کو ای ميل بھيج دی ہے
complaint@pta.gov.pk

پی ٹی سی ايل کا انٹر نيٹ استعمال کرنے والے تمام خواتين و حضرات سے ميری درخواست ہے کہ وہ بھی مندرجہ بالا ذيل پتہ پر اس سلسلہ ميں ای ميل بھيج ديں ۔ شکريہ پيشگی

محمد علی مکی صاحب کا خيال ہے کہ ميرے بلاگ کا صفحہ اول بہت بڑا ہونے کی وجہ سے ميرا بلاگ بہت سُست ہے ۔ اختصار کے نتيجہ ميں يہ تيز رفتار ہو جائے گا يعنی آسانی سے کھُلنے لگے گا ۔ اللہ کرے ايسا ہو

متذکرہ بالا حقيقت سے قطع نظر ميں نے محمد علی مکّی صاحب کی
درد بھری فرياد
يا
غم و غُصہ سے بھری ياد داشت
کے نتيجہ ميں
اپنے اس بلاگ کے صفحہ اول کو بہت مختصر کر ديا ہے

This entry was posted in گذارش on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

9 thoughts on “تابعداری اور التماس

  1. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    محض ایک کلک پہ آپ کا پیج یہاں کھل جاتا ہے تاہم ان دوستوں کے بلاگز جو یو ای اے یا متعلقہ ریاستوں سے اپلوڈ ہوتے ہیں وہ بلاگز بعض اوقات نہائت تاخیر سے کھلتے ہیں جبکہ ایسا عموما نہیں ہوتا۔ اب اصل وجہ کیا ہے ؟ واللہ علم۔

    تکنیکی طور پہ یاد رہے کہ میں بیس میگا براڈ بیند انٹر نیٹ کنکشن استعمال کرتا ہوں۔اور بعض اوقات دوسرے آفس سے اس کچھ زیادہ میگاس استعمال کرتا ہوں اور مختلف فائروال اور حفاظتی پروگرامز کی وجہ سے اسپیڈ پہ کچھ اثر پڑتا ہے بہر حال جو اتنا زیادہ نہیں ہوتا۔

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    جاويد گوندل صاحب
    ہمارے لحاظ سے تو آپ عياشی کرتے ہيں ۔ ميرے پاس اسلام آباد ميں ايک ميگابائٹ کا براڈ بينڈ کنکشن ہے مگر يہ ايک نجی کمپنی مائيکرونيٹ کا ہے ۔ اس سے ميرا بلاگ بغير کسی تاخير کے کھُل جاتا ہے ۔ مسئلہ پی ٹی سی ايل کا ہے ۔ ميرے پاس پی ٹی سی ايل کا وائرليس انٹر نيٹ بھی ہے ۔ وہ بہت تنگ کرتا ہے

  3. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    افتخار اجمل بھوپال صاحب!

    سڑکوں، پلوں، موٹر ویز، ریلویز، ہوائی اڈوں، بندرگاہوں وغیرہ کی تعمیر و ترقی جسطرح کسی قوم کی ترقی کے لئیے از بس ضروری ہے اسی طرح ماس کیمونیکیشن کے ذرائع ٹی وی، ٹیلی فون، اور انٹرنیٹ وغیرہ بھی اس ترقی میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ جبکہ ہمارے ملک میں یہ سب باتیں سوچنے اور کرنے والے ذمہ داروں کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ ایسے زمداران جو وزارت، مشاورت، سفارت کے اعلٰی عہدوں پہ ریاست پاکستان سے تنخواہ تو پوری سے بڑھ کر لیتے ہیں مگر اپنے آپ کو پاکستان کے یا اپنے اداروں کے بے تاج بادشاہ سمجھتے ہیں۔ ان کے لئیے ملک کی ترقی یا ترقی وہ ترقی ہوتی ہے جو وہ ذاتی طور پہ خود کرتے ہیں۔ انکی اولادیں کرتی ہیں۔ یا چند ایک منظور نظر ترقی کرتے ہیں۔ باقی قوم انکی طرف سے گئی بھاڑ میں۔ جس طرح پاکستان اپنے قیمتی اثاثے اونے پونے اور بڑے ذاتی کمیشنز و رشوت کی خاطر غیر ملکی اداروں اور کمپنیز کو بیچے جارہا ہے۔ اس سے پاکستان کے اثاثے جسے پاکستان کی جائیداد سمجھا جائے تو بہتر ہے وہ ہاتھ سے نکلتے جارہے ہیں اور پاکستانی ریاست اپنی حدود میں ان پہ اپنی عملداری کھو رہی ہے اس سے آگے چل کر جس طرح بدنام زمانہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھوں ہندؤستان کی صدیوں پرانے مسلمان حکمرانوں کی حکومت اور ہندؤستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، خداہ نخواستہ اسی طرح ریاست پاکستان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ پاکستانی اداروں ، پے آئی اے، ریلوے، پانی بجلی، پاک اسٹیل مل وغیرہ اسطرح کے وہ ادارے جو سلاوں سے خسارے میں جارہے ہیں اسکی ایک بڑی وجہ ان اداروں کی لوٹ کھسوٹ ہے۔ اور جب کسی گھر کی بندبانٹ شروع ہوجائے تو ہر کوئی اپنے مفاد کے لئیے حصہ بقدر جثہ سے بڑھ کر پانی کی جستجو کرنے لگتا ہے ایسے میں بد نظمی ایک دوسرا بڑا مسئلہ بن کر ابھرتی ہے۔

    اگر یہ ادارے حکومت اپنی نااہلی، کمیشنز اور رشوت خوری کی وجہ سے نہیں چلا پاتی تو اسے پاکستان کے ان دیانتدار اور قابل افراد کے خود مختار کمیشنز بنا کر انکے حوالے کئیے جائیں جو اس بارے سوجھ بوجھ رکھتے ہوں اور قومی ترقی کے جزبے سے سرشار ہوں تو مالے خسارے کے شکار یہی ادارے چند سالوں میں منافع کمانے لگیں گے اور کئی ایک مزید قومی اداروں کے قیام کی راہ ہموار کریں گے۔

    ہمارا معاشرہ اس حد تک نہیں بگڑا کے اسے سدھارا نہ جاسکے مگر اسکے لئیے وژن اور ادارک رکھنے والے دیانتدار اور قومی غیرت رکھنے والے حکمرانوں اور انتظامیہ کی ضرورت ہے۔ اگر ہم سے یہ کرنا ناممکن ہے تو پھر ہم اسی طرح جئیں گے (۔۔۔اگر تو جئے۔۔۔ کہ جس طرح سسک سسک کر ہم جی رہے ہیں۔

    قدرت کسی قوم کا نظام چلانے کے لئیے فرشتے نہیں بیجھا کرتی۔

  4. مکی

    میری درد بھری فریاد سننے اور اس پر عمل کرنا کا بہت شکریہ، یقین کریں اس سے بہت فرق پڑا ہے.. :)

    اور پی ٹی اے کو میں بھی ایک ای میل پھڑکاتا ہوں اگرچہ اس بات کا امکان کم ہے کہ وہاں کوئی سننے والے کان ہوں گے..

  5. افتخار اجمل بھوپال Post author

    مکی صاحب
    کوشش فرض ہے ۔ ميں جب لاہور گيا بجلی اور قدرتی گيس کی ترسيل کا مسئلہ پيدا ہوا ۔ جس سے بات کی وہ بولا “يہاں کوئی نہيں سنتا ہے جی ۔ کچھ نہيں ہو گا “۔ يہاں تک کہ کسی کو علم نہيں تھا کہ شکائت کا دفتر کہاں ہے ۔ ميں نے بجلی والوں کا دفتر تلاش کيا ۔ وہاں بات کی بجلی اُسی دن درست ہو گئی ۔ گيس کے بل پر ايک نمبر تھا اُس پر ٹيليفون کيا جواب ملا 48 گھنٹے کے اندر ہمارا آدمی آئے گا ۔ مگر آدمی 24 گھنٹے سے کم وقت ميں اتوار کو صبح پونے نو بجے آيا اور درستگی کر کے چلا گيا ۔
    اصل بات يہ ہے کہ ہم خود ڈھنگ سے کوشش نہيں کرتے ۔ اور اگر کرتے ہيں تو لڑنے سے شروع کرتے ہيں ۔
    ہميں ہمارے اُستاذ نے سمجھايا تھا کہ شائستہ زبان استعمال کرنے سے کوئی نقصان نہيں ہوتا مگر فائدہ ہو سکتا ہے ۔

  6. حجاب

    مکی صاحب نے واقعی صحیح نشاندہی کی ، اب میرے پاس بھی آپ کا بلاگ IE میں اوپن ہونے لگا ہے ، پہلے فائر فاکس میں ہوتا تھا وہ بھی مشکل سے ۔۔ پی ٹی سی ایل وائرلیس EVDO پہلے تنگ نہیں کرتا تھا اب ایک ہفتے سے آفت آگئی ہے اس پر ۔۔

  7. طارق راحیل

    میں انٹرنیٹ PTCL کے براڈبینڈ کے ذریعے ہی استعمال کرتا ہوں
    پچھلے چند ہفتوں آپ کا بلاگ کھل نہیں رہا تھا مگر اب فائر فاکس اور ایکسپلورر دونوں میں با آسانی کھل جاتا ہے

  8. افتخار اجمل بھوپال Post author

    طارق راحيل صاحب
    اللہ نے ايک بار پھر ميرا مسلک درست ثابت کر ديا کہ ہم لوگ کوشش نہيں کرتے اور ہر ادارے کو بُرا کہتے ہيں ۔ ميں نے پہلے کسٹمرز سروس کی سظح پر کوشش کی پھر پی ٹی سی ايل کی سطح پر اور آخر ميں پی ٹی اے کو لکھا ۔ اس کے بعد مجھے اطلاعات ملنا شروع ہو گئیں کہ بلاگ اب کھُلتا ہے

    کاش مسلمان اللہ کا فرمان ياد رکھيں “سورت 53 ۔ النّجم ۔ آیت ۔ 39 وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی ۔ ترجمہ ۔ اور یہ کہ ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی”۔
    اور “سورت 13 الرعد ۔ آیت 11 ۔ إِنَّ اللّہَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ ۔ ترجمہ ۔ اللہ اس کو جو کسی قوم کو حاصل ہے نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت کو نہ بدلے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)