چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ تنقید

کسی پر تنقید کرنے سے قبل

جس پر تنقيد کرنے کو ہيں کچھ دیر اس کے نقشِ قدم پر چل کر دیکھیئے

اس طرح آپ اُسے پہلے سے بہتر سمجھ چکے ہوں گے

اور تنقید کرنا ہوئی تو بہتر طریقہ سے کر سکیں گے

کيا معلوم اس طرح آپ تنقيد کے ناخوشگوار عمل سے بچ ہی جائيں

This entry was posted in روز و شب, سبق, طور طريقہ, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

4 thoughts on “چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ تنقید

  1. Pingback: Tweets that mention What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ » Blog Archive » چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ تنقید -- Topsy.com

  2. امن ایمان

    افتخار چاء آپ کی تحریر سے مجھے اشفاق احمد صاحب کی ایک تحریر یاد آگئی۔۔۔تنقید برائے اصلاح ہو تو کسی حد تک اثر کرتی ہے لیکن تنقید برائے تنقید کا عمل انسان کے اندر سے اُسکے ذاتی اوصاف تیزی سے ختم کرنے لگتا ہے۔۔۔مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے :-?

  3. ظفری

    اس میں‌ کوئی شک نہیں کہ ہم تنقید کرنے کے شائستہ آداب سے محروم ہوچکے ہیں ۔ ہم تنقید کو مخالفت بنالیتے ہیں ۔ ہمارے یہاں تنقید کا اصل مطلب عناد اور تعصب ہے ۔ جب ہم کسی پر تنقید کرتے ہیں تو ہم نے چند سیاسی اور مذہبی گالیاں ایجاد کیں ہوئیں ۔ جو ہم ایک دوسرے کو دینا شروع کردیتے ہیں ۔ ہم نے اپنے اندر کبھی یہ حوصلہ اور ذوق پیدا ہونے ہی نہیں دیا کہ کسی دوسرے کی بات کو تحمل سے سنیں اور کم از کم جیسا وہ کہتا ہے ویسا ہی اسے سمجھیں ۔ یعنی اس سے سوال کرکے ہی پوچھ لیں کہ تم کیا کہنا چاہتے ہو ۔ یہ ہمارے معاشرے کی ایک بڑی بدقسمتی ہے ۔ اور یہ بہت عام بات ہے کہ ہم اپنے ذہن میں کسی کی بات کا نقشہ تیار کرلیتے ہیں ۔ پھر اس پر تھوپ دیتے ہیں ۔ دراصل تنقید کا نصب العین یہ رویہ بن چکا ہے ۔
    آپ نے چار سطروں میں دریا کو گویا کوزے بند کردیا ۔ آپ نے بہت ہی جامع بات کہی ہے ۔ جس سے مجھے بھی چند الفاظ لکھنے کا حوصلہ ہوا ۔ شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)