پاگل

ہاں جناب ۔ ميں پاگل ہوں ۔ کيونکہ ميرے گرد کے لوگوں نے مجھے کئی موقعوں پر يہی کہا “پاگل ہو گئے ہو کيا ؟ ” مگر میں ٹھہرا پاگل اسلئے اُن کے نصائح ميری سمجھ ميں کبھی نہ آئے ۔ مختلف انواع کی وارداتوں میں سے نمونہ کيلئے صرف ایک ايک تحرير کر رہا ہوں

ايک قسم کا نمونہ
میں جب گارڈن کالج راولپنڈی میں پڑھتا تھا ۔ 14 اگست کو سُنا کہ راجہ بازار خُوب سجايا گيا ہے ۔ اپنے دو ہم جماعت لڑکوں کے ساتھ مغرب کی نماز کے بعد راجہ بازار کی سير کا قصد ہوا ۔ مرکزی جامعہ مسجد کی طرف سے نمک منڈی جو ميوہ منڈی بھی کہلاتی تھی تک پہنچے تو دل سَير ہو گيا اور واپس لوٹے ۔ ہم تينوں تيز چلنے کے عادی تھے ۔ ہمارے سامنے تين چار لڑکياں آ گئيں جو ہمارے آگے چل رہی تھيں ۔ ابھی اُنہيں اورٹيک کرنے کا سوچا ہی تھا کہ سامنے سے تين ہٹے کٹے لڑکے آتے ہوئے نظر آئے ۔ صاف نظر آيا کہ اُن کی نيت ان لڑکيوں سے ٹکرانے کی ہے ۔ ميں جلدی سے اُچک کر اُن لڑکيوں کے سامنے پہنچا اور دونوں بازو اطراف میں پھيلا کر لڑکوں کے ساتھ سينہ بسينہ پوری قوّت سے ٹکرايا ۔ اس ناگہانی ٹکر کے نتيجہ ميں درميان والا لڑکا گر گيا ۔ ميری عمر اس وقت 16 سال تھی ۔ فوری طور پر کچھ بڑی عمر کے لوگوں نے مجھے الگ کر کے اُن لڑکوں کو پکڑ ليا

آگے بڑھے تو ميرے دو ساتھی کہنے لگے “يار ۔ تُو تَو پاگل ہے ۔ اچھا ہوا لوگوں نے اُنہيں سنبھال ليا ورنہ اُنہوں نے تمہاری ہڈيوں کا قيمہ بنا دينا تھا”

دوسری قسم کا نمونہ
ميں نے ملازمت کے دوران 1965ء میں تيرنا سيکھنا شروع کيا ۔ ابھی چند دن گذرے تھے کہ گرمی زوروں پر تھی تو میں نے دفتر سے آتے ہی اپنے کمرے سے توليہ اور سومنگ کاسٹيوم پکڑا اور سوِمِنگ پُول پہنچا ۔ غُسلخانہ ميں کپڑے تبديل کئے اور نہا کر باہر نکلا ہی تھا کہ ايک دس بارہ سالہ لڑکے نے 15 فٹ گہرے پانی میں چھلانگ لگائی مگر اُوپر آنے کی بجائے دس گيارہ فٹ پانی کے نيچے ہاتھ پاؤں مارنے لگا ۔ ميں اُسے ڈوبتے ديکھ نہ سکا اور میں نے بھاگ کر 15 فٹ گہرے پانی میں چھلانگ لگا دی ۔ نمعلوم کيسے میں سيدھا گہرائی ميں گيا ميرے پاؤں زمين سے ٹکرائے تو میں نے پوری قوّت سے زمين کو دھکا ديا اور دونوں ہاتھ سيدھے اُوپر کو اُٹھا ديئے ۔ ميں تيزی سے اُوپر کی طرف اُبھرا ۔ اسی دوران ميں نے ڈوبتے لڑکے کو نيچے سے دونوں ہاتھوں سے اُوپر کی طرف اُچھالنے کی کوشش کی ۔ اس کے بعد ميرا سر پانی سے باہر نکلا ۔ میں نے اپنے جسم کو نيچے کی طرف دھکيلا اور جب لڑکے سے نيچے ہو گيا تو اُوپر اُٹھتے ہوئے لڑکے کو پھر اُوپر کی طرف دھکيلا ۔ میں اور لڑکا دونوں پانی کی سطح پر پہنچ گئے ۔ اتنی دير میں دو تيراک تالاب میں کود چُکے تھے جو لڑکے کو کنارے پر لے آئے

اس واقعہ کے بعد کئی دن تک میں لوگوں سے سُنتا رہا “تم نے کمال پاگل پن کيا ۔عجب پاگل ہو تم ۔ ڈوب جاتے تو”۔

تيسری قسم کا نمونہ
مجھے مارچ 1983ء ميں ايک جديد ترين فنی تربيتی مدرسہ [State-of-the-art Technical Training Institute] کی منصوبہ بندی ۔ نشو و نما اور تکميل [Planning, development and completion] کا کام سونپا گيا ۔ ميں نے منصوبہ بندی کے بعد پہلے سارے نصاب جديد ضروريات کے مطابق ڈھالے پھر عملی کام کی منصوبہ بندی کی ۔ 1985ء ميں ايک سی اين سی تربيتی کارخانے کی پيشکشيں بھی طلب کيں [offers were invited for establishment of computerised numerical controled machines training workshop] ۔ جب پيشکشيں موصول ہو چکی تھيں تو اُوپر سے حُکم آيا کہ فلاں کمپنی کی پيشکش قبول کر لو ۔ يہ پہلے مجھے موصول نہ ہوئی تھی پھر بھی ميں نے اس کا مطالعہ کيا ۔ يہ ايک تو بہت مہنگی تھی دوسرے ہماری ضروريات پوری نہيں کرتی تھی تيسرے فاضل پرزہ جات کی ضمانت بھی نہ تھی ۔ قوانين کے تحت ميں اُوپر سے آنے والی پيشکش کی حمائت نہيں کر سکتا تھاسو ميں نے ساری تفصيل لکھ کر بھيجی ۔ نتيجہ يہ ہوا کہ ميرا وہاں سے تبادلہ کر ديا گيا اور ميری دو سال کی تمام محنت اور اس کے اچھے نتائج سے قطع نظر کرتے ہوئے سال کے آخر ميں ميری سالانہ رپورٹ ميں لکھا گيا not fit for promotion

ساتھی کہنے لگے ” تم بھی پاگل ہو ۔ کيا پڑی تھی قوم کا پيسہ بچانے کی ؟ صاحب بہادر کو خوش کرتے ترقی پاتے”

چوتھی قسم کا نمونہ
جب 4 اگست 1992ء کو مجھے ڈائريکٹر پی او ايف ويلفيئر ٹرسٹ بنايا گيا تو چند ماہ کے مطالعہ سے معلوم ہوا کہ عوام کی کم اور افسران کی زيادہ ويلفيئر ہوتی ہے ۔ میں نے پيچ کسنے شروع کئے تو کچھ افسران کو پريشانی ہوئی اور ميرے خلاف ہوا گرم ہونا شروع ہوئی ۔ نوبت بايں جا رسيد کہ مجھے 2 سال بعد يہ نوکری چھوڑنا پڑی جبکہ مجھے 7 سال يہ نوکری کرنے کی اُميد تھی يعنی 60 سال کی عمر تک

ساتھيوں نے کہا “تم بھی پاگل ہی ہو ۔ جو دوسرے کرتے تھے کرتے رہتے ۔ تمہيں کيا پڑی تھی ايمان داری دکھانے کی ۔ خواہ مخوا اپنے رزق پر لات مار دی”۔

This entry was posted in آپ بيتی, طور طريقہ, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

12 thoughts on “پاگل

  1. عمران اقبال

    انکل جی۔۔۔ آج کل جو بندہ اچھے کام کرتا ہے اسے پاگل ہی کہا جاتا ہے۔۔۔ نیکی کا زمانہ شاید واقعی کہیں گم گیا ہے۔۔۔ اب نا تو اخلاقیات رہیں اور نا ہی وہ قدریں۔۔۔
    مجھے بھی اکثرو بیشتر اسی لقب بلکہ کچھ مزید تلخ القابات سے نوازا جاتا ہے جو میں یہاں‌نہیں‌لکھ سکتا۔۔۔

    لیکن ایک چیز تو کنفرم ہے کہ آپ نے نیکی اور ایمانداری کے زریعے دنیا نہیں تو آخرت تو سنوار ہی لی ہے۔۔۔

    اللہ آپ کو صحت عطا فرمائے۔۔۔ آمین

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    سعد صاحب
    مگر عجيب بات نہيں کہ جب مجھے پاگل کہنے والے لوگوں کو اپنی ذات کيلئے کسی اچھے پائيدار مشورے کی ضرورت ہوتی تھی تو مجھ سے ہی آ کر مشورہ ليتے تھے ؟

  3. علی شاہ

    چاچا جی دماغ کی چوٹ بڑی خطرناک ھوتی ھے۔ اللہ آپ کو جلد صحت دے۔۔ :roll:

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    علی شاہ صاحب
    دماغ کی چوٹ اس ميں کہاں سے آ گئی ؟ سر کو چوٹ تو پچھلے سال ستمبر ميں لگی تھی جبکہ يہ واقعات تو تو کم از سولہ سے پچپن سال پرانے ہيں ۔ اور آپ کی مزيد تسلی کيلئے بتا دوں کہ يہ تحرير ميں نے پچھلے سال ستمبر سے پہلے لکھ کر محفوظ کی ہوئی تھی

  5. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    میرے بزرگوں کی یہ تربیت ہے۔ انسان اور مسلمان وہ ہے جو حق بات کے لئیے ڈٹ جائے خواہ جان و مال جائے اور پچتھاوا نہیں اس پہ فخر کیا جائے۔ آخر کار ایک دن حق کی فتح ہوتی ہے۔ سچ کہنے، سچ اپنانے کا لن شروع ہوتا ہے۔ یوں نہ ہوتا۔ اسطرح کے “پاگل” دنیا میں نہ ہوں تو دنیا کب کی جنگل بن چکی ہوتی۔

    میرا ایمان ہے کہ خدا ہر قسم کے لالچ سے پاک ایسے “پاگل پن” پر ضرور اجر دیتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ دی گئی نعمتیں کسی دوسری صورت میں ہوں ۔ بعض اوقات جن کا ہم ادراک نہ کر سکیں۔ اجر اچھی اولاد۔ عزت۔ اور دیگر بہت سی صورتوں میں بھی ہوسکتا ہے۔جبکہ ضمیر کے اطمینان کی دولت سب دولتوں پہ سوا ہوتی ہے۔

    دنیا کے کے لئیے ایک دوسرے پہ غرانے اور چھینا چھپٹی کرنے والے انسان کے مقام سے گر جاتے ہیں۔ کتا بھی پیٹ بھر راتب ملنے کے بعد دوسروں پہ غرانا اور چھینا چھپٹی چھوڑ دیتا ہے۔

  6. افتخار اجمل بھوپال Post author

    جاويد گوندل صاحب
    بالکل درست کہا آپ نے ۔ جہاں تک ميرا تعلق ہے اللہ کا مجھ پر ہميشہ اتنا کرم رہا ہے کہ جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے ۔ سختی کے دن ضرور آئے ليکن اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے بخير و خُوبی گذار ديئے

  7. م بلال

    آپ نے بالکل ٹھیک فرمایا۔ اکثر لوگ ایسے حالات میں یہی کہتے ہیں کہ ”یہ کیا پاگل پن ہے“۔ میری نظر میں اس کا بہتر جواب یہی ہے کہ ایسے ”پاگل“ ہی معاشرے میں بہتری لاتے ہیں۔
    پیوسہ رہ شجر سے امید بہار رکھ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)