قصوروار کون ۔ حکمران يا قوم يا دونوں ؟

ہمارے حکمران بشمول وزير اعظم اور بالخصوص صدر آئے دن برملا جھوٹ بولتے ہيں ۔ عوام ميں اتنا دم خم ہی نہيں کہ اس کا سدِ باب کر سکيں ۔ آج صرف ايک جھوٹ کا ذکر ہو گا جو صرف ہمارے صدر آصف علی زرداری ہی درجن سے زائد بار بر سرِ عام بول چکے ہيں ۔ وہ جھوٹ ہے “ہم نے ايک آمر پرويز مشرف کو کرسی چھوڑنے پر مجبور کيا”۔ حقيقت کھل کے سامنے آ رہی ہے آہستہ آہستہ

پہلا ثبوت
امريکا کے پچھلے صدر جارج ڈبليو بُش نے ” Decision Points ” کے نام سے ايک کتاب لکھی ہے ۔ اس کے صفحہ 217 پر لکھا ہے کہ “ميں نے اواخر 2007ء ميں پرويز مشرف سے کرسی چھوڑنے کا کہا اور اس نے وعدہ پورا کيا

دوسرا ثبوت
حاضر سروس کرنل الياس نے بتايا کہ وہ صدر کے ساتھ تعينات تھا اور صدر آصف علی زرداری نے اُسے بطور چيف سکيورٹی آفيسر ريٹائرڈ جنرل پرويز مشرف کے ساتھ لندن ميں تعينات کيا ہوا ہے ۔ کرنل الياس نے مزيد بتايا کہ اس کے علاوہ چار پانچ اور فوجی عہديدار بھی ريٹائرڈ جنرل پرويز مشرف کے ساتھ لندن ميں تعينات کئے ہوئے ہيں ۔ يہ لوگ اُن چار فوجی عہديداروں کے علاوہ ہيں جو جنرل اشفاق پرويز کيانی نے ريٹائرڈ جنرل پرويز مشرف کے ساتھ لندن ميں تعينات کئے ہوئے ہيں ۔ کرنل الياس نے يہ بھی انکشاف کيا کہ ان سب کے علاوہ چار ايس ايس جی کے کمانڈوز بھی ريٹائرڈ جنرل پرويز مشرف کے ساتھ لندن ميں تعينات کئے ہوئے ہيں جنہوں نے اب ريٹائرمنٹ لے لی ہے ۔ کرنل الياس نے وضاحت کی کہ ريٹائرڈ جنرل پرويز مشرف کے ساتھ حاضر سروس فوجی عہديدار صرف اتنے ہی تعينات کئے ہوئے ہيں البتہ ان کے علاوہ سويلين عہديدار ۔ ايک پرسنل سٹاف آفيسر ۔ ايک ڈرائيور اور ايک پکاؤتا [Cook] صدر آصف علی زرداری نے ريٹائرڈ جنرل پرويز مشرف کے ساتھ لندن ميں تعينات کئے ہوئے ہيں ۔ ان سب کو حکومتِ پاکستان تنخواہ ديتی ہے

سابق صدر رفيق تارڑ صاحب نے بتايا کہ ان کے ساتھ کوئی فوجی نہيں ہے ۔ قانون کے مطابق ايک پرسنل سٹاف آفيسر ۔ ايک ڈرائيور ۔ ايک پکاؤتا اور ايک پوليس گارڈ سابق صدر کو ديئے جاتے ہيں

مرحوم سابق صدر فاروق لغاری صاحب کے رشتہ داروں نے بھی يہی بتايا ہے ۔ مگر بتايا گيا ہے کہ يہ سٹاف صرف پاکستان ميں مہيا کيا جاتا ہے ۔ اگر سابق صدر ملک سے باہر رہے تو اُسے سٹاف دينے کا کوئی قانون نہيں ہے

سابق آرمی چيف مرزا اسلم بيگ نے بتايا ہے کہ سابق آرمی چيف کو ملک کے اندر بھی کسی قسم کا سٹاف مہيا کرنے کا کوئی قانون موجود نہيں ہے ۔ ملک کے باہر تو سوال ہی پيدا نہيں ہوتا ۔ اُنہوں نے بتايا کہ ماضی ميں آرمی چيف کو ريٹائرمنٹ کے بعد ايک پرسنل سٹاف آفيسر ۔ ايک ڈرائيور ۔ ايک بيٹ مين [Batman] اور ايک ٹيليفون ديا جاتا تھا مگر بينظير بھٹو جب دوبارہ وزير اعظم بنيں تو اُنہوں نے آرمی چيف جہانگير کرامت کو حکم ديا کہ ايسی مراعات واپس لے لی جائيں ۔ يہ حکمنامہ آج تک نافذ العمل ہے ۔ انہوں نے مزيد بتايا کہ موجودہ قوانين کے مطابق کوئی فوجی آفيسر يا جوان سابق آرمی چيف کے ساتھ تعينات نہيں کيا جا سکتا

سابق آرمی چيف عبدالوحيد کاکڑ کی پوتی نے بتايا کہ اُنہيں بھی اس قسم کی کوئی سہولت نہيں دی گئی

آخر ايسا کيوں ہے ؟

اس کا سبب صرف ايک ہے کہ قوم کی اکثريت خود بھی جھوٹ بولنا اور سننا پسند کرتے ہيں ۔ اسلئے ان ميں اتنی جراءت نہيں کہ کسی بھی جھوٹ کے خلاف آواز اُٹھا سکے

اللہ کا قانون اٹل ہے ۔ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ کم از کم قرآن شريف کو سچ سمجھے اور اس ميں ديئے گئے احکامات پر عمل کرے ۔ جب حشر کا سماں بندھے گا تو اس وقت کوئی مدد گار نہ ہو گا اور اپنے ہاتھ پاؤں بھی کہ جن کے ساتھ گناہ کا ارتکاب کيا تھا اپنے ہی خلاف گواہی ديں گے

سورت 42 الشّورٰی ۔ آيت 30 ۔ ‏ تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے ۔ اور وہ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے

سورت 13 الرعد ۔ آیت 11 ۔ اللہ اس کو جو کسی قوم کو حاصل ہے نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت کو نہ بدلے

سورت 53 النّجم ۔ آیت ۔ 39 ۔ اور یہ کہ ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی

سورت 24 النّور ۔ آيت 55 ۔ تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کئے ہیں اللہ تعالٰی وعدہ فرما چکا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یقیناً ان کے لئے ان کے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کرکے جما دے گا جسے ان کو وہ امن امان سے بدل دے گا ، وہ میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں گے ، اس کے بعد بھی جو لوگ ناشکری اور کفر کریں وہ یقیناً فاسق ہیں

This entry was posted in ذمہ دارياں, روز و شب, طور طريقہ, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

7 thoughts on “قصوروار کون ۔ حکمران يا قوم يا دونوں ؟

  1. یاسر خوامخواہ جاپانی

    ان جمہوری بچہ نچانے والوں کے کیا کیا کرتوت دیکھیں۔
    جاپان سے گیلانی کے بیٹے نے گاڑیاں خریدیں۔ابھی پورٹ اور شپ پر ہی تھیں ۔کہ قانون بنادیا کہ پانچ سال پرانی گاڑیاں امپورٹ کی جاسکتی ہیں۔پہلے خریداری کی اور پھر قانون بنا۔۔۔۔۔۔۔
    ویسے یہ یہاں کے پاکستانیوں کے درمیان گردش کرنے والی باتیں ہیں۔
    بغیر تصدیق کے بھی یقین کرنے کو دل چاھتا ھے۔
    :(

  2. Pingback: Tweets that mention What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ » Blog Archive » قصوروار کون ۔ حکمران يا قوم يا دونوں ؟ -- Topsy.com

  3. م بلال

    زبردست، اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ہو۔
    اپنی اپنی سوچ ہے لیکن میں اس سب کا قصور وار خود کو یعنی عوام کو سمجھتا ہوں۔ جب سارے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے گریز نہیں کرتے تو پھر سیاست دان بھی تو اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ جب تک ہم آواز نہیں اٹھائیں گے کوئی ہمیں ہمارا حق نہیں دے گا۔

  4. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    افراد سے قومیں بنتی ہیں۔قوموں سے حکمران چنے جاتے ہیں۔انفرادی اور اجتماعی طور پہ ہمارے اخلاق اس قدر پست ہوچکے ہیں کہ اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ کوئی معجزہ ایسا کردے جو ہمیں اس پستی سے نکال سکے۔

    ہم سبھی قصور وار ہیں۔ مانتے ہیں۔ دعائیں مانگتے ہیں۔ مگر اسے تبدیل کرنے کی سکت رکھتے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنا میرا نہیں دوسروں کا فرض ہے۔ اگر سارے عوام اسلامی اخلاق و اقدار اپنانے کا عہد کر لیں تو ایک رات میں پاکستان مسلمان بن سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)