بدلہ انسانوں سے مگر ۔ ۔ ۔

ہم اپنی روز مرّہ کی زندگی ميں خود ہی کچھ مفروضے بنا کر اپنا اوليں حق سمجھتے ہوئے اُن پر بے دھڑک عمل کرتے ہيں ۔ ان ميں سے ايک ہے بدلہ ۔ جب ہم کوئی بھی جنس ليتے ہيں مثال کے طور پر گوشت ۔ گاجريں ۔ سيب ۔ چنے کی دال ۔ وغيرہ تو اس کے بدلے ميں وہی کچھ ديتے ہيں جو اس جنس کے برابر ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر چنے کی دال کا نرخ اگر 50 روپے فی کيلو گرام ہے تو ايک کيلو دال کے بدلہ ميں ہم 50 روپے ہی ديں گے ۔ کبھی 51 روپے يا زيادہ دينا تو کُجا دينے کا سوچيں گے بھی نہيں

جب اختيار ہمارے ہاتھ ميں آجاتا ہے تو ہمارا طرزِ عمل يکسر تبديل ہو جاتا ہے مثال کے طور پر

انسانوں کے ساتھ سلوک
اگر کسی نے ايک گالی دی تو ہم جب تک اُسے حتٰی الوسعت دو چار گلياں دو چار تھپڑ دو چار گھونسے رسيد نہيں کر ليں گے ہمار بدلہ پورا نہيں ہو گا

کسی نے غلطی سے يا جان بوجھ کر ہمارے گھر کے آس پاس کوڑا پھينک ديا ۔ يہ ان کے نوکر کی غلطی ہو سکتی ہے تو بجائے اس کے کہ ہم ہمسائے سے آرام سے بات کر کے اسے بہتری کی طرف مائل کريں ہمارا بدلہ کم از کم يہ ہوتا ہے کے ہمسائے کو بلا کر بے عزت کيا جائے يا گلی ميں اس کے مکان کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا گلا پھاڑ پھاڑ کر اُسے گالياں دی جائيں

ہم اپنے گھر کے اندر سے ديوار کے اُوپر سے کوڑا لُڑھکا ديں ۔ وہ ہمسائے کے گھر کے اندر گرے اور ہمسايہ وہ کوڑا واپس پھينک دے تو ہمارے دل کو اس وقت تک اطمينان نہيں آتا جب تک اور کچھ نہيں تو دو چار گالياں واپس پھنکنے والے کو اس کے منہ پر نہ دے ليں

مندرجہ بالا واقعات سب حقائق کی بنياد پر ہيں اور ملک کے بڑے بڑے شہروں سے متعلق ہيں ۔ اب ايک ايسا واقعہ جس نے مجھے ورطے ميں ڈال ديا تھا ۔ ہم 2005ء ميں ڈيفنس فيز 5 کراچی کی ايک کوٹھی ميں کرائے پر رہ رہے تھے ۔ ميں قريبی مارکيٹ سے ايک سرکٹ بريکر لينے گيا ۔ ميں سرکٹ بريکرز ديکھ رہا تھا کہ ايک گاہک نے آکر دکاندار سے کہا کہ “اليکٹريشن چاہيئے” ۔ دکاندار نے خشکی سے کہا کہ “نہيں ہے” ۔ گاہک نے برہمی دکھائی تو دکاندار نے اسے کھری کھری سُنا ديں ۔ نوبت گندھی گاليوں تک پہنچی ۔ جب گاہک چلا گيا تو ميں نے دکاندار کو کہا “ديکھئے آپ دکاندار ہيں ۔ آپ کو گاہک کے ساتھ ايسا سلوک نہيں کرنا چاہيئے”۔ دکاندار بولا “صاحب ۔ پچھلے ماہ انہوں نے اليکٹريشن مانگا ۔ ميں نے اُجرت طے کر کے بھيج ديا ۔ کام کرنے کے بعد اليکٹريشن نے اُجرت مانگی تو آدھے پيسے ديئے ۔ اليکٹريشن نے اسرار کيا تو اُسے تھوڑے سے اور پيسے دے کر دھکا ديا اور کہا جا اب يہاں سے ۔ اليکٹريشن نے پھر اسرار کيا تو تين بھائيوں نے مل کر اس کی درگت بنا دی اور دھکے دے کر باہر نکال ديا”

اللہ کا فرمان ۔ جسے ہم شايد زيرِ غور نہيں لاتے

سورت 16 النحل آيت 126 ۔ وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ ۖ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ

اور اگر بدلہ لو بھی تو بالکل اتنا ہی جتنا صدمہ تمہیں پہنچایا گیا ہو اور اگر صبر کر لو تو بیشک صابروں کے لئے یہی بہتر ہے

سورت 42 الشورٰی آيات 40 تا 43
وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا ۖ فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ
وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ
إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۚ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ

اور برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے اور جو معاف کردے اور اصلاح کر لے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، (فی الواقع) اللہ تعالٰی ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔

اور جو شخص اپنے مظلوم ہونے کے بعد (برابر کا) بدلہ لے لے تو ایسے لوگوں پر (الزام) کا کوئی راستہ نہیں۔‏

یہ راستہ صرف ان لوگوں پر ہے جو خود دوسروں پر ظلم کریں اور زمین میں ناحق فساد کرتے پھریں، یہی لوگ ہیں جن کے لئے دردناک عذاب ہے۔‏

اور جو شخص صبر کرلے اور معاف کر دے یقیناً یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے (ایک کام) ہے۔‏

سورت 2 البقرہ آيت 263 ۔ قَوْلٌ مَعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِنْ صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى ۗ وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ

نرم بات کہنا اور معاف کر دینا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد ایذاء رسانی ہو ، اور اللہ تعالٰی بےنیاز اور بردبار ہے۔

سورت 41 حٰمٓ السّجدہ يا فُصّلَت آيات 34 تا 36 ۔ وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ
وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ
وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی ، برائی کو بھلائی سے دفع کرو پھر وہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے ایسا ہو جائے گا جیسے دلی دوست۔
اور یہ بات انہیں نصیب ہوتی ہے جو صبر کریں ، اور اسے سوائے بڑے نصیبے والوں کے کوئی نہیں پا سکتا
اور اگر شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آئے تو اللہ کی پناہ طلب کرو ، یقیناً وہ بہت ہی سننے والا جاننے والا ہے

This entry was posted in ذمہ دارياں, روز و شب, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

7 thoughts on “بدلہ انسانوں سے مگر ۔ ۔ ۔

  1. Pingback: Tweets that mention What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ » Blog Archive » بدلہ انسانوں سے مگر ۔ ۔ ۔ -- Topsy.com

  2. عمران اشرف

    حسن سلوک کا فقدان ہے اب زمین پر۔ صبر کرنا ہر شخص کے لئے آسان بھی نہیں آجکل کے دور میں۔ اس نیک کام پر اللہ آپ کو جزآے خیر دے

  3. وھاج الدین احمد

    بدلہ کے متعلق نہایت عمدہ اور مفید آیات جمع کر کے آپ نے بڑا کام کیا ہے اللہ آپ کو اس کا اچھا اجر دے
    یہ بلکل درست ہے کہ بدلہ لیتے وقت ہم مسلمان قرآنی آیات کو بھول جاتے ہیں اللہ کرے اس سے بہت سے مسلمان سبق سیکھیں اگرچہ یہ غیر مسلم لوگوں کے لئے بھی اچھی نصیحت ہے

  4. عمران اقبال

    اجمل صاحب۔۔۔ ہمارے اس گھٹیا رویہ کی وجہ صرف اور صرف مذہب سے دوری ہے۔۔۔ اور دوری لاعلمی کی حد تک ہے۔ ۔ ۔ مجھے حیرت تو یہ ہوتی ہے کہ ھم کس منہ سے خود کو مسلمان کہتے ہیں۔۔۔ اور کس وجہ سے پاکستان کو “اسلامی مملکت” پکارتے ہیں۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)