آسيہ ۔ عافيہ ۔ قانون ۔ انصاف

ميرے ہموطنوں کی اکثريت سنجيدہ قسم کی کُتب اور مضامين پڑھنے کيلئے وقت نکالنے سے قاصر ہيں ۔ ناول ۔ افسانے ۔ چٹخارے دار کہانياں پڑھنے اور مووی فلميں اور ڈرامے ديکھنے کيلئے اُن کے پاس وافر وقت ہوتا ہے ۔ البتہ بشمول سنجيدہ اور قانونی ہر موضوع پر تبصرہ کرنا اُن کے بائيں ہاتھ کا کھيل ہے ۔ چاہيئے تو يہ تھا کہ اس موضوع پر کوئی ماہرِ قانون جيسے شعيب صفدر صاحب قلم کاری کرتےليکن وہ شايد آجکل زيادہ اہم امور سے نپٹنے ميں مصروف ہيں

ميں قانون کا نہ تو طالب علم ہوں اور نہ ماہر مگر سرکاری ملازمت کی مختلف منازل [اسسٹنٹ منيجر ۔ منيجر ۔ پروڈکشن منيجر ۔ ورکس منيجر ۔ پرنسپل ۔ جنرل منيجر اور ڈائريکٹر] طے کرتے ہوئے اپنے تکنيکی کام کے ساتھ قانونی کاروائيوں سے بھی نبٹنا پڑتا رہا ۔ اس فرض کو بحُسن و خُوبی انجام دينے کيلئے قوانين کا مطالعہ کيا اور الحمد للہ کئی مشکل قانونی معاملات نبٹائے

آسيہ اور عافيہ کے مقدموں اور فيصلوں پر کئی خواتين و حضرات نے طويل جذباتی تحارير لکھيں ۔ ابھی تک اکثريت کے ذہنوں ميں ابہام ہے کہ دونوں کے مقدمات کے فيصلوں ميں سے کون سا درست ہے اور کون سا غلط ۔ اُميد ہے کہ مندرجہ ذيل قانونی صورتِ حال سے وضاحت ہو جائے گا

انسان کے حقيقی عمل سے اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے علاوہ کوئی واقف نہيں ۔ عدالتيں شہادتوں کی بنياد پر قانون کے مطابق فيصلہ کرنے کی پابند ہوتی ہيں ۔ اگر وہ ايسا نہيں کرتيں ہيں تو انصاف نہيں ہوتا بلکہ انصاف کا خون ہوتا ہے اور انصاف کا خون صرف وطنِ عزيز ميں ہی نہيں ہوتا رہا بلکہ دنيا کے تمام ممالک بشمول امريکا ميں ہوتا آيا ہے ۔ اس سلسلہ ميں اب امريکا انسانيت کی تمام حدود پار کر چکا ہے ۔ وہاں ملزم کو اپنی مرضی کی سزا دينے کيلئے نيا قانون بنا کر ملزم کے تمام انسانی اور قانونی حقوق سلب کر لئے جاتے ہيں

انصاف کيلئے قانون کا تقاضہ

فيصلہ کرنے کيلئے عدالت کا انحصار شہادتوں پر ہوتا ہے جو تين قسم کی ہوتی ہيں
1 ۔ مادی اور واقعاتی
2 ۔ دستاويزی
3 ۔ شخصی

آسيہ کے مقدمہ ميں چونکہ صرف زبان کا استعمال ہوا اور کوئی دستاويز يا ہتھيار استعمال نہيں ہوا اسلئے فيصلہ کا انحصار صرف شخصی شہادتوں پر تھا
واقعہ کے بعد گاؤں کے لوگوں نے سب کو اکٹھا کيا جس ميں آسيہ سے جواب طلبی کی گئی تو آسيہ نے اقرار کيا کہ اُس نے توہينِ رسالت کا جُرم کيا ہے اور معافی کی درخواست کی
جُرم کسی شخص کے خلاف نہيں کيا گيا تھا بلکہ اللہ جل شانُہُ اور اس کے رسول صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم کے خلاف کيا گيا تھا جسے معاف کرنے کا کوئی انسان مجاز نہ تھا

آسيہ کے واقعہ کے سلسلہ ميں مروجہ قانون کے مطابق مندرجہ ذيل اقدامات لازم تھے

کسی ايک آدمی کی طرف سے متعلقہ تھانے ميں رپورٹ درج کرانا جسے ايف آئی آر کہتے ہيں ۔ جو کہ دو عورتوں نے درج کرائی جو عينی شاہد تھيں
چار پانچ سال قبل مقدمہ کی کاروائی سول جج کی عدالت ميں ہوا کرتی تھی جو قانون ميں تبديلی کے بعد ڈسٹرکٹ اينڈ سيشن جج نے کرنا تھی اور ايسا ہی ہوا
چار پانچ سال قبل تفتيش متعلقہ تھانيدار کرتا تھا جو قانون ميں تبديلی کے بعد سپرنٹنڈنٹ پوليس کرتا ہے ۔ سيشن جج کے حکم پر تفتيش سپرنٹنڈنٹ پوليس نے کی جو عدالت ميں پيش کی گئی
مدعيان اور آسيہ نے عدالت ميں شہادتوں کے ذريعے اپنے آپ کو درست ثابت کرنا تھا ۔ مدعيان کی طرف سے آسيہ کے خلاف 6 گواہ پيش ہوئے جن ميں سے ايک کی گواہی عدالت نے مسترد کر دی ۔ آسيہ کی طرف سے کوئی گواہ پيش نہ ہوا
آسيہ کے وکيل نے صرف دو اعتراضات داخل کئے
تحقيقات ايس پی نے کرنا تھيں مگر ايس ايچ او نے کيں ۔ [يہ غلط تھا]
صوبائی يا وفاقی حکومت سے اجازت نہيں لی گئی [قانون کے مطابق اس کی ضرورت نہ تھی]

آسيہ کو حق حاصل ہے کہ وہ عدالتِ اعلٰی ميں اپيل کرے جو شايد وہ کر چکی ہے

آسيہ کے برعکس عافيہ کے سلسلہ ميں ہتھيار يعنی بندوق استعمال ہوئی چنانچہ اس سلسلہ ميں تينوں قسم کی شہادتيں پيش ہو سکتی تھيں
مزيد چونکہ عافيہ کو موقع پر ہی گرفتار کر ليا گيا تھا ۔ اسلئے فيصلہ ميں مادی اور واقعاتی شہادتوں کا وزن زيادہ ہونا لازم تھا

خيال رہے کہ عافيہ کو سزا القاعدہ سے تعلق يا عافيہ کے دہشتگردی ميں ملوث ہونے کی وجہ سے نہيں دی گئی

شخصی شہادت ميں جو کچھ سامنے آيا وہ يہ ہے
عافيہ نے بندوق اُٹھائی ہوئی تھی جس کا رُخ امريکی فوجی کی طرف تھا
اُس نے کارتوس چلائے مگر کوئی گولی امريکی فوجی کو نہ لگی

ميں شہادت کا باقی حصہ جو سراسر عافيہ کے حق ميں جاتا ہے فی الحال چھوڑ رہا ہوں ۔ قانون کے مطابق جو پاکستان ۔ امريکا اور باقی دنيا ميں بھی ايک ہی ہے لازم تھا کہ
عافيہ نے جو بندوق استعمال کی تھی اُسے بغير ننگے ہاتھ لگائے اس کی قسم ۔ پروڈکشن کا سال يا تاريخ اور سيريل نمبر ريکارڈ کر کے بندوق پر موجود اُنگليوں کے نشانات کے پرنٹ لے کر محفوظ کر لئے جاتے اس کے بعد بندوق کو ايک تھيلے ميں ڈال کر سربمہر کر ديا جاتا
جو کارتوس عافيہ نے چلائے تھے اُن کے خولوں کی قسم ۔ ان پر موجود پروڈکشن کا سال اور لاٹ نمبر [Lot n#] ريکارڈ کر کے محفوظ کر ليا جاتا اور پھر خولوں کو ايک تھيلی ميں ڈال کر سربمہر کر ديا جاتا

انصاف اور قانون کا تقاضہ تھا کہ مندرجہ بالا تينوں شہادتيں مقدمہ کے دوران عدالت ميں پيش کی جاتيں مگر ہوا يہ کہ جب عافيہ کے وکيل نے پوچھا “وہ بندوق کہاں ہے جو عافيہ کے ہاتھ ميں تھی ؟”
جواب ملا “وہ استعمال کيلئے فوجيوں کو دے دی گئی تھی نمعلوم اب کہاں ہے”
پھر عافيہ کے وکيل نے پوچھا “اس بندوق پر سے جو انگليوں کے نشانات لئے گئے وہ کہاں ہيں ؟”
جواب ملا “بندوق پر انگليوں کے نشانات نہيں پڑتے”۔[يہ سراسر جھوٹ تھا کيونکہ دھات ۔ پلاسٹک اور پالِشڈ لکڑی پر انگليوں کے واضح نشانات بنتے ہيں اور بندوق آجکل لوہے کی بنی ہوتی ہے جس کے فورآرم اور بٹ [Forearm & Butt] پلاسٹک کے بنے ہوتے ہيں ۔ 30 سال قبل يہ پالشڈ لکڑی کے بنے ہوتے تھے
عافيہ کے وکيل نے مزيد پوچھا “جو کارتوس عافيہ نے چلائے اُن کے خول کہاں ہيں ؟”
جواب ملا “پتہ نہيں وہ کہاں ہيں”

مندرجہ بالا جوابات کے بعد انصاف کا يہ تقاضہ تھا کہ ملزمہ عافيہ کو فوری طور پر رہا کر ديا جاتا مگر اُسے 76 سال کی قيد ہوئی جو يکے بعد ديگرے بھگتنا ہے

خيال رہے کہ ذولفقار علی بھٹو کو جن تين اہم شہادتوں کی بنا پر مجرم ٹھہرايا گيا تھا اُن ميں سے ايک جائے واردات سے ملنے والے چلائے گئے کاتوسوں کے خول تھے

مقدمہ کی مزيد خامياں
گواہ غريب افغان ہے جو گواہ بننے کی حامی بھرنے کے بعد سے امريکا ميں ہے ۔ اسے امريکا کی شہريت دے دی گئی ہے اور ساری عمر وظيفہ کا وعدہ ہے
مشکوک شہادتی بيانات
عافيہ کے ہاتھ ميں بندوق تھی جو اس نے امريکی فوجی پر تانی ہوئی تھی ۔ عافيہ کھڑی تھی
دوسرے بيان ميں وہ چارپائی پر دو زانو تھی
افغان نے عافيہ کو دھکا ديا
جب تک عافيہ پر گولياں نہيں چلائی گئيں عافيہ سے بندوق چھينی نہيں جا سکی
امريکی فوجی جو عافيہ کی حفاظت پر معمور تھا اس نے وہاں بندوق رکھی جو عافيہ نے اُٹھا لی
دوسرا بيان ہے کہ عافيہ نے حفاظت پر معمور امريکی فوجی سے بندوق چھين لی

سوالات
جس امريکی فوجی کی لاپرواہی سے بندوق عافيہ کے ہاتھ ميں گئی تھی اُس کے خلاف کيا تاديبی کاروائی کی گئی ؟
[پاکستان ميں ايسے فوجی کا کورٹ مارشل کر کے اُسے ملازمت سے برطرف کر ديا جاتا]
عافيہ عورت تھی يا کہ ہاتھی کہ افغان جو جفاکش ہوتے ہيں نے عافيہ کو دھکا ديا مگر عافيہ کا توازن قائم رہا اور بندوق چھيننے کيلئے عافيہ کے پيٹ ميں گولياں مارنا پڑيں [ٹانگوں پر نہيں]

رہی امريکا کی انسانيت سے محبت اور قانون کی پاسداری تو يہاں پر اور يہاں پر کلِک کر کے ديکھيئے کہ امريکی کتنے ظالم اور وحشی ہوتے ہيں ۔ يہ راز کھُل جانے پر امريکی حکومت نے تصاوير ميں واضح نظر آنے والے 4 فوجيوں ميں سے صرف ايک کے خلاف مقدمہ چلايا جو کہ پرائيويٹ کنٹريکٹ سولجر تھی اور اُسے صرف 3 ماہ قيد کی سزا دی جو بعد ميں کم کر کے ايک ماہ کر دی گئی

This entry was posted in تجزیہ, روز و شب, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

19 thoughts on “آسيہ ۔ عافيہ ۔ قانون ۔ انصاف

  1. یاسر خوامخواہ جاپانی

    امریکہ کیا کرتا ھے۔وہ ہم نہیں دیکھنا چاھتے۔ہم کیا کرتے ہیں۔کچھ کرتے ہی کیوں نہیں وہ بھی اور کچھ نہ کرو تو وہ بھی ہم پر ہم ہی الزام لگا کر ثابت کریں گئے۔

  2. mussa baloch

    اسلام وعلیکم بھای صاحب کیا حال ہے میرا پہلے والا ویب لاگ ہک ہو گیا ہے اور اب نیا ویب لاگ یہ ہے آہند اس کو دیکھ لینا اور اپنے دوستوں کو ارسال کرنا
    http://daaljan.wordpress.com/ دالبندین آنلاین

  3. Pingback: Tweets that mention What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ » Blog Archive » آسيہ ۔ عافيہ ۔ قانون ۔ انصاف -- Topsy.com

  4. علی عامر

    امریکہ کی تو بات ہی اور ہے … ہمارے اپنے وطن میں حصول انصاف کے لئے مختلف کٹیگریز ہیں. عافیہ اور آسیہ کے علاوہ نجانے کتنی مخلوق انصاف کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے.

  5. mussa

    رائے ونڈ…رائے ونڈ میں تین روزہ تبلیغی اجتماع کا پہلا مرحلہ اجتماعی دعا کے بعد اختتام پذیر ہوگیا ۔اجتماع میں شریک ہزاروں افراد روانہ ہوگئے۔تبلیغی اجتماع کا پہلا مرحلہ تین دسمبر کی شام شروع ہوکراتوار کی دوپہر تک جاری رہا۔آخری روز مبلغین مولانااحسان الحق،مولانامحمد زبیر،حاجی عبدالوہاب اورمولانا محمد یعقوب کے بیانات ہوئے۔اختتامی بیان اوراجتماعی دعا مولانا محمدزبیر نے کرائی ۔ان کاکہناتھاکہ ہماری نظر میں دین کی وقعت کم ہوگئی ہے اوراس پر عمل کرنا مشکل دکھائی دیتاہے لیکن نجات دین کے رستے پر چلنے میں ہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مصیبتیں ہماری بداعمالیوں کی وجہ سے نازل ہوتی ہیں۔انہوں نے ایمان ،دین اورملک کی حفاظت اورگناہوں سے بچنے کیلئے دعا کی۔

  6. mussa

    اہم خبر ۔۔۔ کافرہ آسیہ کا سر لانے والے کیلئے انعام

    آپ کے طالبان بھائیوں نے پانچ (۵) لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔ جو اس شخص کو نقد دیا جائے گا جو کافرہ آسیہ بی بی کو قتل کرے گا کہ جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی۔

    یہ انعام پشاور کی مسجد میں الشیخ مولوی یوسف قریشی حفظ اللہ سے اس شخص کو ملے گا کہ جو اس لعنتی عورت کا سر لائے گا۔

  7. mussa

    بے شک جو لوگ کافر ہوئے اور اللہ کی راہ سے اور مسجد حرام سے روکتے ہیں۔ کہ جس کو ہم نے تمام لوگوں کے لیئے مقرر کیا ہے کہ (اس میں) سب برابر ہیں۔ اس میں رہنے والا بھی اور باہر سے آنے والا بھی۔ اور جو کوئی اس میں ظلم (کفر و شرک) کے ساتھ دین سے ہٹے گا تو ہم اس شخص کو دردناک عذاب (کا مزہ) چکھائیں گے۔” (سورۃ الحج 25)

  8. کاشف نصیر

    متفق علیہ، جزاک اللہ اور اللہ تعالی آپکی کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول کرے۔

    مگر میرا ماننا ہے کہ عبداللہ بن ابی برگیڈیڈ کے نفس پرست بھیڑئے کسی بھی آرٹیکل اور منطقی و عقلی دلیل سے انسان کے پتر نہیں بنے گے۔ وہ تو کبھی اونٹ کے پیشاب والی حدیث کو بغیر سیاق و سباق کے لاکر سرکار دو عالم صلی اللہ و علیم وسلم کے زریں اقوال کا مزاق اڑایں گے تو کبھی قرآن و حدیث کی بھی من گھڑت تاویلات کریں گے۔ پورے کہ پورے قرآن اور تمام کی تمام حدیث سے صرف نظر برقتے ہوئے صرف اپنی پسند کی چند احادیث مانے گے اور باقی اس رائے کے ساتھ کہ اللہ تعالی ایسا حکم دے ہی نہیں سکتے یا رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم ایسا کہ نہیں سکتے مسترد کردیں گے۔ گویا اللہ اور محمد رسول صلی اللہ وسلم انکی محدور عقل کے تابع ہوئے۔

    اس لئے افتخٓار صاحب جن نفس کے پجاریوں کی نظر میں شریعت کی کوئی حثیت نہیں وہ عائلی قوانین اور منطقی اصول کو بھی کیا مانے گے۔

    ہمارے اسکولوں کالجوں کے اسلامیات کے نصاب کا بھی ایک مسئلہ ہے کہ اس میں سنت اور شریعت کو صحیح طور پر اور مکمل نہیں پڑھایا جاتا اس لئے مکی و مدنی دور کا فرق لوگون پر واضح نہیں رہتا حالنکہ مکی و مدنی دور کا فرق سمجھے بغیر بہت سے معاملات کو سمجھنا ناممکن ہے۔

  9. افتخار اجمل بھوپال Post author

    موسٰی صاحب
    ميں گپ لگانے کيلئے آن لائين نہيں ہوتا البتہ ميرا کمپيوٹر عام طور پر دن کے وقت چلتا رہتا ہے اور براڈ بينڈ کنکشن ہونے کی وجہ سے بظاہر ميں آن لائين ہوتا ہوں

    آپ نے اُن طالبان کا حوالہ ديا ہے جن کے متعلق ميں نہيں جانتا کہ وہ کون ہيں ؟ اور آپ نے انہيں ميرے بنا ديا ہے ۔ باقی رہا سر لانے والی بات تو يہ آج کے دور ميں جرم ہے ۔ پھر جب اسے سزا ہو چکی ہے تو اس اعلان کی ضرورت کيوں پيش آئی ؟

    آپ نے زيادہ تر جو خبريں نقل کی ہيں اُن کا ميری اس تحرير سے کوئی تعلق نہيں ہے ۔ از راہِ کرم ميری تحرير سے متعلق تبصرہ کيا کيجئے

  10. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    محترم اجمل صاحب!

    ان دونوں مقدمات میں ایک فرق ایسا ہے جسے عام آدمی دیکھنا نہیں چاہتا یا عام آنکھ سے وہ فرق نظر نہیں آرہا۔ وہ فرق ہے ایک فاتح اور مفتوح قوم کا۔ امریکہ کو بجا طور پہ ایک عالمی قوت کہا جاسکتا ہے خواہ وہ کسقدر استعمار ہی کیوں نہ ہو۔ جبکہ پاکستان ایک طفیلی ریاست ہے جو امریکہ اور دیگر کے دیے دلائے پہ گزاراہ کرتی ہے۔ ایسے میں عافیہ صدیقی کا بے گناہ ہوتے ہوئے سزا پاجانا اور ملزمہ آسیہ کا توہین رسالت کی مجرمہ ثابت ہو جانے کے باوجود کوئی عجب نہیں کہ مجرمہ کو اسکے خاندان سمیت امریکہ بجھوا دیا جائے اور کوئی گورنر یا وزیر مجرمہ کو بہ نفس نفیس ائر پورٹ چھوڑنے جائے۔ جیل میں بمعہ خاندان جا کر گورنر پنجاب ملاقات تو کر چکے ہیں اور اپنی طرف سے درخواست لکھوا کر لے گئے تھے کہ مجرمہ اس پہ دستخظ کر دے اور وہ درخواست ملک کے صدر کو معافی کے لئیے پیش کر دی جائے۔ ساتھ ھی موصوف نے قانون توہین رسالت کو کالا قانون بھی قرار دیا وغیرہ۔ جبکہ مجرمہ آسیہ کے بارے میں باتایا جاتا ہے کہ اس نے بار بار توہین رسالت کی اور پاکستان کے اندر بیرونی ممالک کے سرمایے سے چلنے والی نام نہاد روشن خیال او این جی اوز کی پشت پناہی کی وجہ سے مجرمہ توہین رسالت کے بعد اور مقدمے کے دوران بھی بارہا یہ کہتی رہی کہ کوئی اسکا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ جس سے گورنر سمیت تمام روشن خیالی چھیل چھبیلوں کی اچھل کود سمجھ میں آتی ہے کہ ملزمہ کو یہ یقین دلا دیا گیا تھا کہ اسکا بال بھی بیکا نہیں کیا جائےگا۔ اس سے یہ بات شدت سے ذہن میں آتی ہے کہ پاکستانی زعماء اور حکمرانوں کی سوچ عملا مفتوح ہے۔

    کاشف نصیر صاحب! نے احادیث صلٰی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کچھ لوگوں کے بارے میں جو بیان فرمایا ہے وہ درست ہے۔ ایسے لوگوں کو توہین رسالت سے بہت چڑ ہے جس میں پاکستان کے روشن خیالوں کے ساتھ قادیانی بھی شامل ہوگئے ہیں۔ ان کا بس نہیں چلتا کہ اس قانون کو تحلیل کر دیں۔ کیونکہ ایسے لوگ جو آج احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ٹھٹھا اڑاتے ہیں۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ کو موضوع بنا کر اپنے دل کے پھپولے محض اس لئیے نہیں پھوڑ سکتے کہ ایسا کرنے پہ انھیں توہن رسالت نامی قانون کی موجودگی میں اپنی گردن پہ پھانسی کا پھندہ محسوس ہوتا ہے اسلئیے انکی دلی خواہش ہے کہ توہین رسلت نامی کو ختم کر دیا جائے۔ تانکہ انھیں کھل کھیلنے کا موقع مل جائے اور وہ پاکستان میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم رکھنے والے پاکستانی عوام کا مذاق سر عام اڑانا چاہتے ہیں تانکہ عوام جو ذہنی لحاظ سے اپنے خواصوں کی طرح مفتوح نہیں ہوئے ۔ انھیں ناامید اور احساس شکستگی کا احساس کرواتے ہوئے زیر کیا جا سکے۔

    پاکستان کے عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کسی نے یہ احجاج نہیں کیمجرمہ آسیہ کو فورا پھانسی چڑھا دیا جائے ۔ اور نہ ہی ملزمہ آسیہ کی گردن زنی کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ بلکہ اکثریت یہ خیال کرتی ہے کہ اگر گنجائش ہو تو ملزمہ آسیہ کی طرف سے معافی وغیرہ کی صورت میں یا عدالت کی طرف سے قانونی موشگافیوں کی وجہ سے ملزمہ کی جان بخشی کر دی جائے۔ لیکن اس آڑ میں توہین رسالت نامی قانون کو مت چھیڑا جائے ۔ مگر پاکستان اور مزھب بیزار طبقے کی بے حیائی کا یہ عالم ہے کہ ایسا کچھ نہ ہونے کے باوجود دروغ گوئی ۔ڈھٹائی اور بے حیائی سے کام لیتے ہوئے بر ملا کہا جارہا ہے اور توہین رسالت نامی قانون کے تحفظ پہ زور دینے والوں کو ڈیکولا اور خون آشام درندے کہا جارہا ہے یہ تاثر پھیلانے میں یہ لوگ سخت محنت کر رہے ہیں کہ جیسے عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم آدم بُو آدم بُو کہنے والے آدم خور دیو ہوں۔

    پاکستان میں آج تک جتنے بھی مقدمات توہین رسالت کے تحت قائم ہوئے ان میں سے کسی کو پھانسی نہیں دی گئی بلکہ اعلی عدالتوں نے رہا کر دیا۔ ان مقدمات میں سے نصف سے زائد مقدمات مسلمانوں پہ قائم کئیے گئے۔ بہت ممکن ہے اگر مجرمہ آسیہ کے کیس میں استغاثے میں جرم ثابت کرنے میں کوئی کمزوری رہ گئی ہو اور اسے بناد بنا کر مدعا علیہ کو اعلٰی عدالت رہا کر دے مگر جس طرح انٹر نیٹ پہ مفت کی ڈومینز سے اپنے آپ کو علامہ بنا کر پیش کرنے والے طرح طرح کے شعبدے باز روشن خیالوں سے لیکر پاکستان کے پرنٹ میڈیا اور ٹیلی ویژنز پہ بھانت بھات کے لادین اور مذھب بیزار لوگ توہین رسلات قانون کے خلاف اچھل کود کر رہے ہیں۔ اس سے یہ تصویر بنتی ہے کہ پاکستان میں مذھب اور ملک کے خلاف بے غیرتی کی حد تک بے شرم اور ڈھیٹ بکاؤ مال وافر مقدار اور تعداد میں پایا جاتا ہے۔ پاکستانی حکمرانوں اور کرتا دھرتاؤں میں اتنی سکت نہیں کہ وہ امریکہ کے خلاف چون چرا کر سکیں معاملہ خوان توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی کیوں نہ ہو-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)