میری ہتھیلیوں ميں کانٹے

2,431 بار دیکھا گیا

ہمارے ہمسایہ عبدالمجید ریاست کی فوج میں کرنل تھے اور اُن دنوں اُن کی تعیناتی برفانی علاقہ گلگت بلتستان میں تھی ۔ آخر ستمبر 1947 ء میں پتہ چلا کہ ان کے بیوی بچے ستواری (جموں چھاؤنی) جا رہے ہیں ۔ ہمارے بزرگوں کے کہنے پر وہ لوگ ہم 6 بچوں کو ساتھ لے جانے کو تیار ہو گئے ۔ اگلی رات ایک اور دو بجے کے درمیان ایک فوجی ٹرک پر میں ۔ میری دونوں بہنیں (بڑی) ۔ دو سيکنڈ کزن اور ايک اُن کی پھوپھی [16 سولہ سال کی] ان کے ساتھ چلے گئے ۔ جو کچھ گھر ميں موجود تھا اُس ميں سے کچھ آٹا چاول ۔ دالیں ۔ ایک لٹر تیل زیتون اور کچھ پیسے ہمیں دے دیئے گئے

چھاؤنی میں بعض اوقات رات کو “جے ہند” اور” ست سری اکال” کے نعروں کی آوازیں آتیں جو کہ کبھی بہت قریب سے ہوتیں ۔ پتہ چلا کہ مسلح ہندو اور سکھ پچاس یا زیادہ کے جتھوں میں مسلمانوں پر حملے کرنے کے لئے کبھی وہاں سے بھی گذرتے ہیں ۔ حفاظت کا معقول انتظام نہ ہونے کے باعث ہم ہر وقت موت کے لئے تیار رہتے

کھانا پکانے کے لئے میں اپنے سيکنڈ کزن کے ساتھ باہر سے سوکھی تھور توڑ کے لاتا تھا جس سے میری ہتھیلیاں کانٹوں سے چھلنی ہوگئیں تھیں ۔ جب تک ہم واپس نہ آتے ہماری بہنیں ہماری خیریت سے واپسی کی دعائیں مانگتی رہتیں ۔ ايک دن تو ہم واپس آئے تو ہماری بہنوں سميت سب خواتين کو نماز جيسی حالت ميں ديکھا ۔ وجہ ہميں کسی نے نہ بتائی ۔ دروازہ ميری سيکنڈ کزن نے کھولا جو ہم چھ ميں سے سب سے بڑی [17 سال کی] تھيں ۔ مجھے پيار کيا پھر ميرے دونوں ہاتھوں کی ہتھليوں کو چوما اور چند لمحے ديکھتی ہی رہ گئيں ۔ ميں نے ديکھا اُن کی آنکھوں سے برسات جاری تھی ۔ اچانک اُنہوں نے منہ پھير کر آنسو پونچھے اور پھر اپنے بھائی کو گلے لگايا ۔ اسی لمحے کرنل عبدالمجيد صاحب کی بيوی آئيں اور ميرے اور پھر ميرے سيکنڈ کزن کے سر پر ہاتھ پھير کر دعائيں ديں

ہمارے پاس کھانے کا سامان تھوڑا تھا اور مزید لانے کا کوئی ذریعہ نہ تھا اس لئے ہم تھوڑا ہی کھاتے ۔ جب زیتون کا تیل ختم ہو گیا تو اُبلے ہوئے پھیکے چاولوں پر بغیر پیاز لہسن نمک مرچ مصالحہ صرف اُبلی ہوئی دال ڈال کر کھا لیتے

This entry was posted in آپ بيتی, تاریخ, تحريک آزادی جموں کشمير on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

14 thoughts on “میری ہتھیلیوں ميں کانٹے

  1. ڈاکٹر جواد احمد خان

    السلام و علیکم ،
    بہت اچھا لگا آپکی تحریر پڑھ کر.میں پوری دیانت داری سے کہتا ہوں کہ شخصی تجربے کا علم تاریخ کی ١٠٠ کتابوں پر بھاری ہے . کاش کچھ اور لوگ بھی ہجرت اور پاکستان بننے کی یادداشتیں نئی نسل کو منتقل کرسکیں. تاکہ جو انتشار فکر ہمارے معاشرے میں پھیلایا جا رہا ہے اسکا سدباب ہو سکے .

  2. Pingback: Tweets that mention What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ » Blog Archive » میری ہتھیلیوں ميں کانٹے -- Topsy.com

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    ڈاکٹر جواد احمد خان صاحب
    ميرے ہمعصر بہت کم پاکستانی ہيں جو کپيوٹر استعمال کرتے ہيں ۔ ميں صرف ايک ڈاکٹر وھاج الدين احمد صاحب کو جانتا ہوں جو امريکا ميں رہتے ہيں ۔ وہ عمر ميں مجھ سے کوئی 5 سال بڑے ہيں ۔ وہ اس بارے لکھ سکتے ہيں ۔ آن کے بلاگ يہ ہيں
    اُردو
    http://saugoree.blogspot.com/
    انگريزی
    http://saugoree-bsc.blogspot.com/

    دراصل ميں نے يہ سارے واقعات اپنے پہلے بلاگ پر ساڑھے پانچ سال قبل لکھے تھے ۔ وہ بلاگ اب صرف انگريزی کيلئے مختص ہے
    http://iabhopal.wordpress.com

    يہ بلاگ ميں نے مئی 2005ء ميں شروع کيا تھا ۔ اب قارئين کی فرمائش پر دوہرا رہا ہوں ۔ آپ اکٹھا مضمون پڑھنا چاہتے ہيں تو ميرے اس بلاگ کے عنوان کے نيچے جو چھوٹے عنوانات ہيں ان ميں “آپ بيتی” پر کلک کر کے ميری آپ بيتی پڑھيئے اور “تحريک آزادی جموں کشمير” پر کلک کر کے بھی پڑھيئے ۔ اس ميں 1947ء کے ارد گرد کے واقعات ميری آپ بيتی ہی ہيں

  4. نعیم اکرم ملک

    واقعی پاکستان بہت مشکل سے بنایا گیا تھا لیکن۔۔۔ پھر پاکستان کو خراب بھی انہی لوگوں نے کیا جنہوں‌نے اسے بنایا تھا۔۔۔ نئی نسل کو تو بگڑا بگڑایا پاکستان ملا ہے۔۔۔

  5. محمّد نعمان

    جناب نعیم اکرم ملک صاحب جنہوں نے پاکستان بنایا تھا انہوں نے خراب نہیں کیا ….

    بلکہ تاج برطانیہ کے نام خواروں نے پاکستان کے اقتدار پی قبضہ کر کے اسے خراب کیا … (امید ہے کہ نکتہ آپ سمجھ ہی گۓ ہوں گے )

    تصحیح اسس لئے چاہتا ہوں کے جن بانیان اور قائدین نے پاکستان بنایا تھا وہ تو اس کے لئے مر گۓ بلکہ چند تو مرتے مرتے که بھی گے الله پاکستان کی حفاظت کرے ….

  6. افتخار اجمل بھوپال Post author

    نعیم اکرم ملک صاحب
    جنہوں نے پاکستان بنايا تھا اُنہوں نے برباد نہيں کيا ۔ برطانوی راج کے پالتو نمک حلالوں نے جو اُمت اور ملک کے غدار تھے نے اس ملک کا بيڑا غرق کيا اور اب تک کر رہے ہيں ۔ چند مشہور نام ميں لکھ ديتا ہوں ۔ غلام محمد ۔ جسٹس منير ۔ سکندر مرزا ۔ ايوب خان ۔ آغا محمد يحیٰ خان ۔ ذوالفقار علی بھٹو ۔ بينظير بھٹو ۔ پرويز مشرف ۔ آصف علی زرداری وغيرہ

  7. عبداللہ

    اور ضیاء الحق کو جناب کس کھاتے میں رکھتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

  8. عبداللہ

    ایسے لوگ بھی تھے جو بڑی بڑی جائیدادیں چھوڑ کر آئے تھے اور پاکستان آکر اپنی سادہ طبیعت کی بناء پر یہاں کے ٹھگوں کی نظر اپنے کاغذات کر کے عرصے تک ابلے چنے کھا کر زندہ رہے!!!!!

  9. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبداللہ صاحب
    ضياء الحق کو ان کے ساتھ شامل کرنے کيلئے درجنوں اور لوگوں کو شامل کرنا پڑے گا جس سے فہرست بہت لمبی ہونے کے علاوہ آپ کا اعتراض کئی گنا ہو جائے گا

  10. افتخار اجمل بھوپال Post author

    عبداللہ صاحب
    پردہ نہ اُٹھائين تو بہتر ہے ۔ ميرے زخم ہرے ہو جائيں گے ۔ ميں بھی مہاجر ہوں ۔ ويسے ہم نے کئی قسم کے لوگ ديکھے تھے ۔ ايک مقامی جنہوں نے مہاجروں کی مدد کر کے انصارِ مدينہ کی ياد تازہ کی ۔ ايک جو مہاجرين کے حقوق پر قابض ہوئے ۔ مہاجر بھائيوں ميں وہ بھی تھے جن کا آپ نے ذکر کيا اور وہ بھی جنہوں نے جھوٹی قسميں کھا کر حقداروں کا حق مارا

  11. جاویداقبال

    واقعی انکل اجمل، یہ تحریریں آجکل کہاں ملتی ہیں آپ ان کونئےسرےسےچھایاکریں کیونکہ میراوطن بہت ہی مشکل حالات میں بناہےلیکن اس کی بدقسمتی ہےکہ جب قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ اورلیاقت علی خان رحمۃ اللہ علیہ اورجوکہ اسکےاس کوبنانےمیں دل وجان سےشامل سےاس دنیاسےجلدہی چلےگئےاوریہ ملک ان نوسربازوں کےہاتھ میں آگیاجوکہ انگریزکےغلام تھےجوکہ ہندوؤں کےپٹھوتھےانکودولت اوراقتدارسےپیارتھاانکادین وایمان ہی یہی تھا۔ اورآج تک یہی لوگ چہرےبدل بدل کرہم کولوٹ رہےہیں اورہم ہیں کہ ان کواپناسب کولٹاکربھی خاموش ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)