انسانيت بمقابلہ توہينِ رسالت

شايد ميرے کچھ ہموطنوں کے خيال ميں محسنِ انسانيت رسول اللہ سيّدنا محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم کی [خاکم بدہن] توہين انسانيت کے ذمرے ميں آتی ہے ۔ وہ لَبَّيْکَ اَللَّہُمَّ لَبَّيْکَ کہنے کی بجائے جب وائٹ ہاؤس سے کوئی صدا بلند ہوتی ہے تو لَبَّيْکَ اَلامريکَا لَبَّيْکَ کہتے ہوئے لپکتے ہيں اور زمينی حقائق ان کی نظروں سے اوجھل اور دماغ سے محو ہو جاتے ہيں

ميرا پاکستان نے آسيہ کے توہينِ رسالت کے متعلق تحرير لکھی ۔ زيادہ مبصرين حسبِ معمول روشن خيالی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش ميں انسانی ہمدردی کے داعی اور باعلم ہونے کی خيالی پتنگيں اُڑانے لگے ۔ چنانچہ ضرورت محسوس ہوئی کہ ريکارڈ پر موجود اور اخبار ميں چھپنے والے حقائق پيش کئے جائيں

آسيہ استغاثہ کی مختصر روداد

لاہور سے شايد 100 کلوميٹر دور ننکانہ صاحب کے ايک گاؤں اِٹن ولائی ميں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ بہت سے عيسائی رہتے ہيں۔ اِٹن ولائی ميں فالسے کے کھيت ميں آسيہ اور کئی دوسری عورتيں جن ميں مسلمان اور عيسائی دونوں شامل تھيں کام کر رہی تھيں ۔ کام کے دوران کچھ عورتوں کے درميان نبيوں عليہم السلام اور مذاہب کا تذکرہ ہو رہا تھا کہ آسيہ نے نبی صلی اللہ عليہ و سلم اور قرآن شريف کی توہين ميں زبان درازی کی

19 جون 2010ء کوگاؤں کا کٹھ کيا گيا [ميٹنگ بلائی گئی] جہاں آسيہ نے اپنا قصور مانا اور کہا کہ “مجھے معافی دے دو”۔ مگر بات تھانے تک پہنچ چکی تھی جہاں سے اعلٰی افسران تک پہنچی ۔ اور قانون کے مطابق سيشن جج صاحب نے ايس پی انويسٹيگيشن کو تفتيش کا حکم ديا
ايس پی نے 29 جون 2010ء کو دونوں پارٹيوں کو بلايا ۔ 27 آدمی مدعيوں کی طرف سے اور 5 آدمی مدعيہ عليہ آسيہ کی طرف سے آئے اور ان کے بيانات قلمبند کئے گئے
بعد ميں عدالت سے اجازت لے کر ايس پی نے 6 جولائی 2010ء کو جيل ميں آسيہ کا بيان ليا ۔ آسيہ نے مؤقف اختيار کيا کہ “وہ عورتيں اسے مسلمان بنانا چاہتی تھيں ۔ اس کے انکار پر انہوں اس پر مقدمہ بنا ديا”۔ ليکن آسيہ اپنے اس مؤقف کا کوئی ثبوت پيش نہ کر سکی

عدالت ميں آسيہ کے وکيل نے صرف دو نقطے اُٹھائے
1 ۔ قانون کے مطابق تفتيش ايس پی کو کرنا ہوتی ہے مگر اس کی بجائے ايس ايچ او نے کی
2 ۔ صوبائی يا وفاقی حکومت سے اس کيس کی اجازت حاصل نہيں کی گئی
عدالت نے پہلے نقطہ کو غيرحقيقی قرار ديا اور دوسرے کے متعلق کہا کہ ايسا کوئی قانون نہيں
عدالت نے قاری سالم کے بيان کو سُنی سنائی بات قرار ديا ۔
کوئی بيان آسيہ کے مؤقف کی تائيد ميں نہ تھا
آسيہ نے عدالت ميں نہ تو کوئی دفاع پيش کيا اور نہ Section (2) CrPC کے تحت مدعيوں کے مؤقف پر اپنا بيان ديا يا داخل کرايا

کسی مبصر نے يہ کہا کہ ” عدالت ميں 6 آدميوں نے ہاتھ کھڑا کر ديا ۔ اور فيصلہ ہو گيا”۔
حقيقت يہ ہے کہ 5 آدميوں نے آسيہ کے خلاف بيان حلفی داخل کرائے ۔ ان کے علاوہ ايک نے آسيہ کے خلاف بيان ديا کہ “ميں نے سنا تھا کہ يہ ۔ ۔ وہ” جسے عدالت نے سنی سنائی کہہ کر مسترد کر ديا

مبصر شايد اس حقيقت سے واقف نہيں کہ اسمبلی ميں لوگ ہاتھ کھڑے کرتے ہيں تو قانون بن جاتا ہے ۔ اسی طرح ہاتھ کھڑے کرنے سے آئين ميں ترميم ہو جاتی ہے يا نيا آئين بن جاتا ہے تو عدالت ميں فيصلہ کيوں نہيں ہو سکتا

يہ سوال بھی پوچھا گيا کہ باقی مسلمان ممالک ميں بھی اسی طرح غريبوں کے ساتھ کيا جاتا ہے ؟ حقيقت يہ ہے کہ جس طرح وطنِ عزيز ميں حقيقت کچھ ہو نہ ہو کراری خبريں شائع کی جاتی ہيں جس کی وجہ ميرے ہموطنوں کا مزاج ہے جو چٹخارے دار خبريں پسند کرتے ہيں ۔ دوسرے ممالک ميں ايسی سچی خبر بھی چھاپنے کی اجازت نہيں جس سے اشتعال يا نقصِ امن پيدا ہونے کا خدشہ ہو ۔ اس کيلئے باقاعدہ قانون بنائے گئے ہيں اور ان پر فوری عمل ہوتا ہے ۔ البتہ امريکا اور يورپ ميں مسلمانوں يا اسلام کے خلاف من گھڑت کہانی بھی چھاپ دی جائے تو اسے آزادی اظہار کہہ کر اس کے خلاف کوئی کاروائی نہيں کی جاتی

انسانيت اور امن کے علمبردار اور عدمِ تشدد کا پرچارک امريکا پاکستان کے قبائلی علاقہ اور افغانستان ميں جو انسانيت بکھير رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے اس سے پہلے کی انسانيت پسندی کی کچھ جھلکياں يہاں پر اور يہاں پر کلِک کر کے ديکھی جاسکتی ہيں
امريکا کی پشت پناہی اور دولت پر پلنے والے اسرائيل جسے امريکا دنيا کی بہترين جمہوريت قرار ديتا ہے ۔ اس کے نام نہاد جمہوری کردار پر طائرانہ نظر ڈالنے کيلئے يہاں پر ۔ يہاں پر اور يہاں پر نظر ڈالئے
اہنسا پرمودھرما کے پُجاری سيکولر بھات کی امن کی آشا کی ہلکی سی جھلک ديکھنے کيلئے يہاں پر ۔ يہاں پر اور يہاں پر کلِک کيجئے

اسلام توہينِ رسالت کے متعلق کيا کہتا ہے قرآن و حديث اور مستند سُنی اور شيعہ اماموں کے مسلک پڑھنے کيلے يہاں کلِک کيجئے

تبصروں ميں فرنگی دنيا کی انسانيت پرستی کا ذکر بھی آيا ۔ ان کی انسانيت پرستی اور انصاف کے کئی نمونے ميں چند سال قبل پيش کر چکا ہوں ۔ آج ايک برطانوی وکيل کی تحرير سے اقتباس پيش کرتا ہوں

Pakistan Penal Code (PPC) of 1860 dates from the British colonial period (British Raj : Sections 295 to 298 of the PPC) dealing with religious offences dates back to that period and were intended to prevent and curb religious violence.

The offences were introduced to curb religious hatred amending then s.153 of British India Act which did not include Islam and Raj Pal in 1929 could not be prosecuted for writing ‘A colourful Prophet’ which hurt scores of Muslims and the High Court was not able to provide relief and riots erupted post the writer’s murder in United India. However UK laws were never amended to grant protection to Muslims. In particular S. 295-C of the Pakistan Penal Code says, “whoever by words either spoken or written or by visible representations or in any manner whatsoever, or by any imputation, innuendo or institution, directly or indirectly defiles the sacred name of the holy Prophet Muhammad (PBUH) shall be punished with death or imprisonment for life and shall also be liable to fine.”

However these offences have little value to the West who take freedom of expression as a superior force to all other political and religious compulsions. Their Blasphemy law though covers Christianity but does not cover Islam. Article 10 of European Convention of Human Rights 1950 which is similar to Article 19 of the Constitution of Pakistan 1973 says as follows: “1. Everyone has the right to freedom of expression. This right shall include freedom to hold opinion and to receive and impart information and ideas without interference by public authority and regardless of frontiers. This article shall not prevent States from requiring the Licensing of broadcasting, television or cinema enterprises.”

During the Salman Rushdie affair in the 1980’s after writing a book ‘Satanic Verses’ Britain never prosecuted Salman Rushdie under the Blasphemy Laws of Britain for defiling the Prophet of Islam as British laws only covers Christianity. Under Ex Parte Choudhary [1991] 1 All ER 306, private prosecution was not allowed either by British Courts due to lack of legal provisions. Britain since has introduced the Racial and Religious Hatred Act 2006 which intends to curb preaching religious violence, however it still does not address the core and causes of igniting religious hatred albeit blasphemy.

However in the west denial of holocaust as to whether or not Jews were oppressed by Hitler’s Nazi regime is a criminal offence in most parts of Europe. Holocaust denial is illegal in a number of European countries: In Austria (article 3h Verbotsgesetz 1947) punishable from 6 months to 20 years, Belgium (Belgian Holocaust denial law) punishable from Fine to 1 year imprisonment, the Czech Republic under section 261 punishable from 6 months to 3 years, France (Loi Gayssot) punishable from Fine or 1 month to 2 years, Germany (§ 130 (3) of the penal code) also the Auschwitzlüge law section 185 punishable from Fine or 1 month to 5 years, Lithuania, The Netherlands under articles 137c and 137e punishable from Fine or 2 years to 10 years, Poland, Romania, Slovakia,and Switzerland (article 261bis of the Penal Code) punishable from 6 months to 3-5 years. In addition, under Law 5710-1950 it is also illegal in Israel and punishable from 1 year to 5 years. Italy enacted a law against racial and sexual discrimination on January 25, 2007 punishable from 3 years to 4 years.

Now looking at this tendency the way the West is displaying insensitivity to the Muslim World’s feelings, It will be quite illogical for Islamic countries angry with the behavior of the west to start awarding notorious leaders the highest awards of bravery or who accommodate and promote writers that challenge the myth of the ‘holocaust’. These sentiments though exist which call for serious consideration by OIC and the West to sit together and find a solution to this hugely charged issue as the common man of each society calls for peace and harmony between ancient civilizations. The irony is that East and West are grappling with the situation where each other’s criminals are seeking refugee. Salman Rushdie’s gets a knighthood for Satanic Verses and Tasleema Nasreen protection but there is no law at all to protect the long and strongly held belief of Muslims in the West.

This entry was posted in ذمہ دارياں, روز و شب, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

16 thoughts on “انسانيت بمقابلہ توہينِ رسالت

  1. جاویداقبال

    جزاک اللہ خیر۔ انکل اجمل دراصل لوگ نےاس قانون کوبھی عام قانون سمجھاہواہے۔ دراصل یہ قانون تواللہ تعالی کابیان کردہ ہےارشادربانی ہے۔
    اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو نبی کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو
    الحجرات، 49 : 2
    جب بولنےسےعمل اکارت ہوجانےکااندیشہ ہےتوانکی کوئی گستاخی کرےاورہم اسکےخلاف بولیں بھی نہ توپھرکس چیزکےمسلمان ہیں۔
    اللہ تعالی ہم پراپنارحم وکرم کردے۔ آمین ثم آمین
    والسلام
    جاویداقبال

  2. jimiwash

    Here are my comments that I gave here
    http://fikrepakistan.wordpress.com/2010/11/12/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8-%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%9F/#comment-508

    after reading your article I can well imagine your real feelings that I already told you that you are a fan of Hassan Nisar and all of your articles are nothing but his columns in new words. You should clearly say that you have allergy from Islam and Ulema e Kiram.
    Good luck (keep on copy pasting)
    I know like my previous comments you will delete this one also adn will not let it appear in front of others so that your real personality and bogus intelectualism may not be exposed.
    Thanks
    Jamdhaid Zuabiree

  3. ڈاکٹر جواد احمد خان

    نہایت اعلۍ مضمون ہے. خاص کر ملعونہ سے متعلق تفصیل نظر سے بہت کم گزری ہے. روشن خیال پروپگنڈے کا نہایت موثر جواب دیا ہے.الله سبحانه تعالہ آپکو جزائے خیر دے

  4. Pingback: Tweets that mention What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ » Blog Archive » انسانيت بمقابلہ توہينِ رسالت -- Topsy.com

  5. خرم

    انکل پاکستانی معاشرہ میں انصاف اور گواہان کی جو لوٹ سیل ہے اسے تو ہم آپ سب جانتے ہیں۔ جہاں‌تک توہین رسالت کا تعلق ہے، میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ یہ قانون صرف مسلمانوں پر ہی لاگو ہونا چاہئے اور اس کا ہر ایک پر نفاذ صرف سیاسی اثر رکھنے کے لئے ہے۔ جو بندہ نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبی ہی نہیں مانتا، اس نے رسالت کی توہین کیا کرنی ہے؟ اللہ نے تو قرآن میں‌یہ کہا کہ اوروں کے جھوٹے خداؤں کو بھی بُرا نہ کہو کہ وہ تمہارے سچے خُدا کو بُرا کہیں گے۔ اس حکم کی روشنی میں ان “عالم” خواتین کا اس “جاہل” خاتون کے ساتھ مناظرہ چہ معنی؟ اور پھر اگر اس بی بی نے معافی مانگی ہے تو پھر اس پر اتنا پھُدکنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس معاشرے میں، جہاں ملک کا بدترین شخص اس کے اعلٰی ترین رتبہ پر فائز ہے وہاں دین کے نام پر ایک اور زیادتی کو اس طرح پیش کیا جارہا ہے جیسے یہ قوم کی زندگی موت کا مسئلہ ہے۔ جانتا ہوں میری اس بات پر ابھی کوئی بھڑک کر کہے گا کہ “‌ہاں ہے زندگی موت کا مسئلہ” تو ان سے صرف ایک گزارش۔ اپنے آپ کو سن گیارہ ہجری میں حاضر سمجھیں، اس بی بی کا مقدمہ سرکار دوعالم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عدالت میں پیش کریں معہ اس کی معافی کے اور سوچیں کہ سرکار اس بی بی کے متعلق کیا فیصلہ ارشاد فرماتے؟ بس وہی راہ سچ ہے باقی سب بیان بازی۔

  6. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    خرم صاحب!

    گزارش ہے کہ توہین رسالت کی مرتکبہ آسیہ مسیح نامی ملزمہ کی سزائے موت کے بارے میں فیصلے کے درست یا صحیح ہونے کا سوال نہیں۔ نہ ہی پاکستان میں بستی مسلمان آبادی کو ایک عورت ۔(جسکے مسلم یا غیر مسلم ہونے سے کوئی تغرض نہیں(۔ کو پھانسی چڑھا کر خوشی کے شادیانے بجانا چاہتی ہے۔ اصل واقعہ یوں ہے کہ ایک فرد نے پاکستان توہیں رسالت کی۔ جب اس سے باز پرس ہوئی ۔ اس نے توہین رسالت کو تسلیم کیا۔ پھر مقدمے کے دوران الزام لگایا کہ یہ اسکے خلاف سازش ہے کیونکہ واقعے کی عینی شاہدین مسلمان بیبیاں اسے زبردستی مسلمان کرنے کے لئیے دباؤ وغیرہ ڈالتی تھیں وغیرہ وغیرہ اور آسیہ مسیح کے انکار پہ اس پہ توہین رسالت کا الزام لگا دیا۔ جب کہ ملزمہ آسیہ مسیح کا یہ عذر جھوٹا ثابت ہوا اور عدالت کے فیصلے کے مطابق ملزمہ آسیہ اس عذر کے حق میں کوئی ایک گواہ یا شہادت پیش نہ کرسکی جب کہ اسی بستی میں مسلمان اور عیسائی نسل در نسل ملکر رہ رہے ہیں اور اس سے قبل زبردستی مسیح سے مسلمان کرنے کے لئیے دباؤ ڈالنے کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ دوسرے لفظوں میں ملزمہ کو زبردستی مسلمان بنانے کے لئیے کی گئی کوششوں کی شہادت اور گواہی اس کے ہم مذھب اور برادری میں سے بھی نہیں مل سکی۔ عدالت نے مزید لکھا کہ مسلمان مدعیہ ان گھرانوں سے تعلق رکھتیں ہیں جہاں کسی طرح کے کیسوں میں کنواری لڑکیاں عدالتوں کے چکر نہیں لگاتیں ۔ جبکہ مسلمان مدعیہ نہ صرف عدالت میں گواہی وغیرہ کے لئیے حاضر ہوئیں۔ بلکہ انہوں نے پولیس وغیرہ کی تفتیش میں بھی گواہی دی۔ جو گواہوں کے سچا ہونے پہ ایک دلیل ہے۔

    اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ملزمہ آسیہ نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا۔ اس دوران تفتیش و تحقیق شروع ہوچکی تھی۔گاؤں کے اکھٹ میں توہین رسالت کے ارتکاب کا اقرار کیا اور معافی کی خواسگار ہوئی۔عدالت میں فرضی سازشی کہانی بیان کی۔ اور ایسی کہانی کے حق میں گاؤں کے مسلمانوں یا اپنے ہم مذھبوں سے کوئی ایک گواہ نہ پیش کرسکی۔ اسکے باوجود ہماری ذاتی رائے میں اسلام صلہ رحمی کا سبق دیتا ہے ۔ بہت ممکن ہے پاکستان کی توہین رسالت کی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے حسب سابق ملزمہ کی جان بخشی ہو جائے۔ واللہ علم۔ جبکہ قانون اور دین میں توہین رسالت کے مجرم کی جان بخشی کی کوئی گنجائش نہیں۔

    اسلام میں ایسے شرعی احکامات و حدود ذاتی پسند یا نا پسند سے متعلق نہیں بلکہ اسے فساد خلق خدا کے خدشے کو ٹالنے کے لئیے انکو روبہ عمل کیا جاتا ہے۔ اور اسکی بہت سی جائز وجوہات ہیں کیونکہ ایک بار کی جان بخشی اور نرم دلی سے مستقبل میں ایسا فساد کھڑا ہوتا ہے جو کئی معصوم جانوں کا نذرانہ دے کر بھی ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اور اسلئیے اس بارے دینی احکامات بہت واضح ہیں۔ جن پہ ہچر مچر سے ایک فرد اپنے ایمان سے جا سکتا ہے۔ لازمی نہیں جس حکمت کو ہم اپنی ذاتی عقل کی کسوٹی پر پرکھتے ہوئے نہ سمجھ سکھیں اسے ماننے سے ہی انکار کر دیں۔ دین کے واضح احکامات کے سامنے ذاتی عقل کے کوئی معانی نہیں اور یہ سوچ کر سپر ڈال دینی چاہئیے کہ شاید اس میں بھی کوئی حکمت ہوگی جسے سمجھنے سے ہم فل الحال قاصر ہیں۔

    پاکستان میں اصل معاملہ ملزمہ آسیہ نامی سے توہین رسالت کا نہیں ۔ نہ ہی مخصوص طبقہ اسکی ہمدردی میں شورغل کا طوفان اٹھا رہا ہے۔ بلکہ اس طبقے کو اصل تکلیف پاکستان میں رائج قانون توہین رسالت سے ہے اور اسکی آڑ میں پاکستان کی اسلامی اساس سے۔ ورنہ اسی ملک میں کئی عذرا یا فاطمہ نام کی عفت مآب بیبیاں غنڈے بدمعاش لوگوں حتی کے پولیس تھانوں میں پولیس کے اہلکاروں کے ہاتھوں اجتماعی ذیادتی کا شکار ہوتی رہتی ہیں۔عافیہ صدیقی بھی ابھی پس زنداں زندہ ہیں مگر گورنر پنجاب اور توہین رسالت نامی قانون پہ دیگر شور مچانے والوں کے منہ سے کبھی دو لفظ ایسی بیبیوں کے حق میں نہیں نکلے۔ جب کہ گورنر کے منصب کا تقاضہ تھا کہ وہ ایسی بیبیوں کے لئیے حرکت میں آتے تو کوئی عجوبہ نہ ہوتا۔ چہ جائیکہ یہ ان سے ملاقات کے لئیے بمعہ فیملی جیل جاتے جبکہ امر واقع ہے کہ توہین رسالت کی مجرمہ جس پہ یہ الزام ثابت ہوچکا ہے اس سے ملنے کے لئیے گورنر پنجاب بمع فیملی جیل جا پہنچے اور توہین رسالت قانون اور عدالت کے فیصلے پہ نامناسب رائے دی۔

    پاکستان میں توہین رسالت نامی قانون کا ایک مخصوص پس منظر ہے کہ پاکستان میں ایسا قانوں بنانا اور لاگو کرنا کیوں کر ضروری ہوا۔ یہ ایک الگ بحث ہے۔ اس قانون پہ پاکستان کے سبھی اسلامی مسلک اور مکتبہ فکر کے لوگ اتفاق کرتے ہیں پاکستان میں مسلمان لوگوں پہ بھی توہین رسالت کے مقدمات قائم ہوتے رہے ہیں۔ پاکستان میں جب بھی کوئی اسطرح کا واقعہ ہوتا ہے جس میں پاکستانی قانون کے ملزم یا مجرمہ کو سخت سست قرار دینے کی بجائے انہیں شاباش دینے کے انداز میں ان کی پذیرائی کی جاتی ہے اورانعام کے طور پہ انہیں باہر بجھوا دیا جاتا ہے۔ کچھ بیرونی طاقتیں ۔ پاکستان کے اندر ایک مخصوص طبقہ اور قادیانی ملکر ہر ایسے واقعہ پہ توہین رسالت نامی قانون پہ وہ شوروغوغا کرتے ہیں کہ کسی طرح یہ قانون ختم ہو۔ معاذ اللہ اور انھیں حیات طیبہ پہ رقیق حملے کرنے کی کھلی چھٹی مل جائے جبکہ توہین رسالت نامی قانون کی موجودگی میں ایسا کرتے ہوئے غلام ابن غلام لوگوں کو اپنی گردن پہ پھانسی کا پھندہ محسوس ہونے لگتا ہے اسلئیے وہ ہر قسم کی شرارت سے باز رہتے ہیں۔

    اسمیں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں قانون کی پاسداری بلکل نہیں کی جاتی تو پھر ایسے میں توہین رسالت کے مجرم کوکیونکر سزا دی جائے۔ اسکی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایسے قوانین کے اطلاق کا پاکستان کی نظریاتی اسلامی اساس اور سالمیت سے گہرا تعلق ہے۔ پاکستان میں بسنے والی بہت مختلف اکائیوں میں ایک بہت گہرا اور ہر تنوع پہ حاوی ایک گہرا تعلق اسلام ہے جو پاکستان کی سب اکائیوں کو ایک لڑی میں پرو کر ایک قوم بنا دیتا ہے۔ خدا نخواستہ پاکستان کے کچھ دشمن جسطرح چاہتے ہیں اگر اسلام کو ایک طرف کر دیا جائے تو پاکستان میں باقی پٹھان، پنجابی، سندھی، بلوچی، مہاجر، اور کشمیری وغیرہ بچتے ہیں۔ اور ریاست پاکستان اور پاکستانی قوم زائل ہوجاتی ہے ۔ اس نکتے کو ہمارے دشمن بھی جانتے ہیں اور وہ اپنی پوری تیاری سے ہم پہ بار بار حملہ آور ہوتے ہیں کہ اسلام سے متعلقہ سبھی قوانین کو ختم کرتے ہوئے پاکستان کے عامتہ الناس کو مایوس کر دیا جائے۔ یہ وہ نکتہ ہے جس وجہ سے پاکستانی عوام بھڑک اٹھتے ہیں اور جائز طور پہ ہر ایسی کوشش میں مزاحم ہوتے ہیں جو انکی شناخت یعنی دینی اساس کے خلاف کی جائے۔

  7. افتخار اجمل بھوپال Post author

    خُرم صاحب
    آپ دين کو الگ رہنے ديں ۔ ملک کا جو قانون ہے اس کے مطابق پوری طرح عمل ہو رہا ہے مگر پاکستان کے حکمرانوں اور روشن خيالوں کا آقا امريکا اس قانون کے خلاف ہے جبکہ خود وہ اس سے زيادہ ظلم کرتا ہے ۔ غلام قرآن و حديث کا مطالعہ کئے بغير امريکا کی ہاں ميں ہاں کيوں ملا رہے ہيں ؟
    اب آتے ہيں حقيقی معاشرہ کی طرف
    کيا آپ کسی کو اپنے والدين کی کھُلے عام تذليل کی اجازت صرف اسلئے ديں گے کہ تذليل کرنے والا شخص آپ کا رشتہ دار نہيں ہے ؟
    آپ کا يہ استدلال کہ معافی جو مانگ لی کچھ اس طرح ہے کہ ايک آدمی جُرم کرے يعنی کسی عورت کی عزت لوٹ لے اور جب تصديق کرنے کيلئے کہ اس نے يہ جرم کيا ہے يا نہيں اسے سب کے سامنے پوچھا جائے تو وہ کہے “ہاں ميں نے فلاں کی عزت لوٹی ہے ۔ مجھ سے غلطی ہو گئی ہے ۔ مجھے معاف کر ديں”۔
    پہلی بات ہے کہ کيا آپ اس کو معاف کر ديں گے ؟
    دوسری کہ کيا اس طرح معاشرے سے جرم کم ہو جائے گا يا لوگ آئے دن عزتيں لوٹتے پھريں گے ؟
    اب آتے ہيں دين کی طرف
    کيا آپ جانتے ہيں کہ مسلمان کون ہوتا ہے ؟
    وہ جسے اللہ کے رسول اور آخری نبی سيّدنا محمد صلی اللہ عليہ و آلہ و سلّم اپنی پياری سے پياری چيز حتٰی کہ اپنے والدين اور اپنی جان سے بھی زيادہ پيارے ہو جائيں

    کمال يہ ہے کہ آپ مجھے تو سن 11 ہجری ميں حاضر ہونے کو کہہ رہے ہيں مگر خود اسلام کو 1400 سال پرانا معاشرہ قرار ديا کرتے ہيں

  8. خرم

    جاوید بھائی اور افتخار انکل ۔ میں نے تو اپنی گزشتہ پوسٹ کا تمام عرق آخری دو جملوں میں رکھ دیا تھا۔ نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا تقاضا تو یہ ہے کہ جو چیز نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے پیاری تھی اس سے سب سے زیادہ پیار کیا جائے۔ توہین رسالت، جیسے کہ پہلے عرض کرچکا، غیر مسلموں پر صرف اسی وقت لاگو ہوسکتا ہے جب وہ اس عمل پر مُصر رہیں باوجود منع کرنے کے۔ آسیہ کیس میں ایسی کوئی شہادت نہیں ملتی۔ جہاں تک بات ہے امریکہ کی تو نہ مجھے امریکہ سے کوئی دلچسپی ہے نہ پاکستان سے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ میں امریکہ میں بھی رہتا ہوں اور پاکستان میں بھی رہا ہوں اور دونوں معاشروں کے درمیان فرق کو میڈیا کی آنکھ سے نہیں جانا بلکہ خود بیتا ہے۔ میرے نزدیک توہین رسالت کے قانون کو ختم کرنا بھی اسلام کے اسی قدر خلاف ہے جسقدر اس قانون کو سیرت نبوی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف نافذ کرنا۔

  9. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    خرم بھائی !۔

    قوانین مفاد عامہ کے لئیے بنائے اور لاگو کئیے جاتے ہیں۔ زرا تصور کریں ایسے قوانین کی عدم موجودگی میں جذباتی عوام خود بدلہ لینے پہ کمر بستہ ہوجائیں تو ملزمہ آسیہ مسیح کے ساتھ خدا جانے کتنے بے گناہ پس جاتے۔ اس صورت جو فساد اٹھتا اسکی لہر کہاں تک جاتی؟۔ کتنے لوگ جانوں سے جاتے؟۔ یہ نکتہ سمجھنا چاہئیے قانون تھا تو قانونی کاروائی کی گئی ۔ ملزمہ آسیہ کو کسی نے گزند نہیں پہچائی اور قانون کے حوالے کردیا۔ باقی دونوں مذاھب کے ماننے والے اسی گاؤں میں امن سے رہ ہے ہیں۔عدالتی کاروائی چل رہی ہے۔ جسطرح باقی پاکستان میں باقی دیگر فوجداری قوانین کے تحت مقدمات چلتے ہیں ویسے ملزمہ آسیہ مجرم ہوئی تو سزا ہوگی ۔ بے گناہ ہوئی تو رہا ہوگی۔ ایسے میں پاکستان کے ایک خاص قسم کے ملزمہ آسیہ ی آڑ میں قانون توہین رسالت اور پاکستان کو نشانہ بنارہے ہیں۔ یہ وہ نکتہ ہے جس پہ عام آدمی معترض ہے۔

  10. MOHAMMAD KAMRAN

    Kindly send this column to the Host of the Geo tv/Ptv/Ary or other Pakistani channels who are favoring blindly to Assia Bibi. These so called civilized peoples are big JAHAL and having slave-mind thinking about Islam and love to MOHAMMD pbuh

  11. MOHAMMAD KAMRAN

    To MR. Khurram,
    Most of the European countries US have law against insult of Jesus. Is this law implement on Christians only? The Govt. of UK recently approved the law about the respect of Queen, that who will insult the Queen he will be punished by Death. Is this law implement on Christians only or UK citizens only NO these laws implement on all the people of society
    There are no one law in our country/ or in so called civilized countries which is not used wrongly for some personal benefits. It means we should finish all the laws.
    If the corrupt man is our President, So what is mistake of a common person of Pakistan. This political game has been played by the civilized world / US. Go to the public you cannot find even 10% people who will favor MR. Zardari. The other point is this; MR. Bush was called as most hated person and most BEWAQOOF person by millions of American. So if the president is not a good man than all the country should not do anything right.
    The lady who was insulting to Prophet pbuh. Has been killed by Muslim in 11 hijri. Nobody is asking to those animals why you are insulting our Prophet, Why you are barking. Everybody is interested to forgive/ finish this rule in Pakistan because of pressure from West & US. It is so shameful …….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)