بہتوں کا بھلا ہو گا

ہمارا ملک اور ہماری قوم تاريخ کے بد ترين سيلاب سے دوچار ہيں جس نے پونے دو کروڑ ہموطنوں کو متاءثر کيا ہے اور ملک کے بہترين زرعی علاقہ کو تباہ کر ديا ہے ۔ کھڑی فصليں ۔ برداشت کے بعد ذخيرہ کی گئی لاکھوں ٹن اجناس اور ہزاروں مويشی بھی سيلاب کی نذر ہو گئے ہيں ۔ اللہ کی طرف سے ہماری اجتماعی غلطيوں پر سرزنش ايک طرف مگر ہميں يہ نہيں بھولنا چاہيئے کہ انسان خود اپنی تباہی کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔ ہماری بے راہ روی تو سزا کی مستحق ہے ہی ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم صرف اپنے ماضی پر روتے اور گذر جانے والے اور موجود اپنے مفروضہ مخالفوں کو کوستے رہے مگر اپنے مستقبل کيلئے سوائے اپنی ذاتی جيبيں بھرنے کے کچھ نہ کيا

اب وقت ہے جاگنے کا اور دوسروں پر الزام دھرنے کی بجائے خود محنت کرنے کا ۔ يہ وقت بھی لد گيا تو پھر تباہی کے سوا کچھ نہيں

آج مجھے محمد سعد صاحب کی ايک چِٹھی ملی ۔ جو سوال انہوں نے پوچھا ہے وہ بہت سے ہموطنوں کے ذہنوں ميں کلبلا رہا ہو گا ۔ اس لئے ميں محمد سعد صاحب کی چِٹھی اور اس کا ميری طرف سے جواب نقل کر رہا ہوں

محمد سعد صاحب کی چِٹھی

السلام علیکم۔
کچھ دن پہلے آپ نے کسی کے بلاگ پر وزیرِ اعلیٰ صوبہ خيبر پختونخوا (یا شاید کسی اور عہدیدار) کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ

اگر کالاباغ ڈیم ہوتا تو فلاں فلاں علاقے ڈوب چکے ہوتے۔

اس وقت بھی ٹھیک سے سمجھ نہیں آئی اور اب تو کافی دن گزر جانے کے باعث مجھے کچھ بھی ٹھیک سے یاد نہیں۔ ذرا آسان الفاظ میں سمجھا دیجیے گا۔ شکریہ۔
والسلام۔

ميرا جواب

السلام علیکم و رحمة اللہ

جو فقرہ آپ نے مجھ سے منسوب کيا ہے اور ميں نے اسے موٹا اور

سُرخ

کر ديا ہے ۔ ايسا ميں نے نہ کبھی لکھا ہے اور نہ کبھی کہا ہے ۔ وزير اعلٰی خيبر پختونخوا امير حيدر ہوتی صاحب نے کہا تھا کہ “اگر کالا باغ ڈيم بن جاتا تو اس سے بہت زيادہ نقصان ہوتا “۔ اس بيان کا جغرافيائی اور منطقی جواز موجود نہيں ہے

شايد آپ ہی نے کبھی کہا تھا کہ آپ کو اُردو کم کم آتی ہے ۔ سو اب ميں کہہ سکتا ہوں کہ آپ کو اُردو کی سمجھ کم ہے
اچھا اب ميں آسان طريقہ سے اپنے خيالات لکھتا ہوں

پہلے آپ مندرجہ ذيل ربط پر گوگل نقشہ کھولئے

http://www.nationsonline.org/oneworld/map/google_map_pakistan.htm

اس نقشہ ميں ميانوالی تلاش کيجئے جو ہائی وے اين 60 پر ہے
ميانوالی کے مغرب ميں لکی مروت ہے
لکی مروت کے جنوب ميں ذرا دور ڈيرہ اسمٰعيل خان ہے

اگر کالا باغ ڈيم بن گيا ہوتا تو

1 ۔ صوبہ خيبر پختون خوا ميں شامل ڈيرہ اسمٰعيل خان ۔ اس کے ارد گرد کا علاقہ اور اس کے شمال ميں لکی مروت تک کا علاقہ سيلابی پانی ميں ڈوبتے سے بچ جاتا

2 ۔ صوبہ پنجاب ميں ميانوالی ۔ اس کے ارد گرد کا علاقہ اور ڈيرہ غازی خان اور ملتان سميت ميانوالی کے جنوب کا علاقہ سيلابی پانی ميں ڈوبتے سے بچ جاتا

3 ۔ کالا باغ ڈيم بنانے کی وجہ سے سندھ اور بلوچستان سيلاب سے محفوظ رہتے

اب آپ ميانوالی پر نظر رکھتے ہوئے شمال کی طرف جائيں يعنی نقشے کو نيچے کی طرف سرکاتے جائيں تو آپ کو ماڑی انڈس اور کالا باغ آمنے سامنے لکھا نظر آئے گا ۔ مزيد شمال کی طرف جائيں تو پہاڑ ہی پہاڑ ہيں آبادی نہيں ہے

نوشہرہ کالا باغ سے بہت دور ہے ۔ ایک اور اہم حقیقت یہ ہے کہ نوشہرہ کی سطح کالا باغ ڈیم کی اُونچائی کی سطح سے بہر اُوپر ہے ۔ نوشہرا تک تو پانی جائے گا ہی نہیں ۔ فی زمانہ نوشہرہ میں سیلاب آتے ہیں کیا وہ کالا باغ ڈیم کی وجہ سے ہیں ؟

فی امان اللہ
الداعی الخير
افتخار اجمل بھوپال

This entry was posted in ذمہ دارياں, روز و شب, سبق on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

5 thoughts on “بہتوں کا بھلا ہو گا

  1. محمّد نعمان

    السّلام و علیکم اجمل صاحب ،
    میں ذاتی طور پہ کالا باغ ڈیم کو تکنیکی نہیں بلکے سیاسی مسلہ سمجھتا ہوں .

    لیکن آپکی تحریر میں ایک بات سمجھنہیں آئ، کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کے سندھ پورا ہی ڈوبنے سے بچ جاتا .
    کالا باغ ڈیم کی capacity کتنی بھی ہو لیکن اتنی تو نہیں ہو سکتی نہ کہ سارا سیلاب ہی روک لے .
    کالا باغ کی capacity ٢ ملین کیوسک ہے جب کہ سیلاب اسس سے ١٠ سے ١٥ گنا زیادہ تھا
    اگر بہت بڑھا چڑھا کے بھی کہا جاۓ تو یہ کہا جا سکتا ہے کے نقصان کم ہوتا .

    اور یہی بات neutral ماہرین بھی کہ رہے ہیں .

    آخر ہم کب تک کالا باغ کو روتے رہیں گے. جن ملکوں میں دریا نہیں ہوتے …کیا وہاں بجلی نہیں ہوتی ؟
    اسی کالا باغ ڈیم بنانے کی ضد نے بد خواہوں کو موقع دیا اور ہم ابھی تک تھر کے کوئلے سے فایدہ نہیں اٹھا پاۓ.
    الله حافظ

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محمد نعمان صاحب
    يہ معاملہ تکنيکی ہے اورنہ سياسی بلکہ ذاتی ہے ۔ اين اين پی کے وڈيروں کا دريائے سندھ کی کچے کے علاقہ پر اجارہ داری تھی يعنی سرکاری زمين پر زبردستی کا قبضہ ۔ کالا باغ ڈيم وہ کچے کی زمين پانی کی جھيل ميں آ جاتی ۔ دوسری طرف ذوالفقار علی بھٹو کو مال چاہيئے تھا جو کالا باغ ڈيم بننے سے نہيں مل سکتا تھا کيونکہ اس کی منصوبہ بندی ہو چکی تھی اور لاگت کا تعين بھی ہو چکا تھا ۔ اس نے تربيلہ ڈيم کا شور سندھ کے نام پر مچايا اور اس ميں 30 کروڑ روپيہ کمايا ۔ اس 30 کروڑ کی تقسيم پر حيات محمد شير پاؤ کو اعتراض ہوا تو اسے راستہ سے ہميشہ کيلئے ہٹا ديا گيا ۔ چونکہ اے اين پی اور پی پی پی کے بڑے ايک نعرہ لگا چکے ہيں اس کی رٹ جاری ہے ۔ ايک اور بھی وجہ ہے کہ کالا باغ ڈيم بن جاتا تو صوبہ سندھ کو جانے والے پانی کی پيمائش کالا باغ ڈيم کے بيراج پر ہوتی اور سندھ وڈيرے پنجاب کے نام لگا کر پانی چوری کرتے ہيں وہ کافی مشکل ہو جاتا

    پانی کے بہاؤ کی پيمائش کيوسک ہوتی ہے ذخيرہ يا جھيل کی پيمائش ايکڑ فٹ ہوتی ہے ۔ درست ہے کہ موجودہ آنے والا سارا پانی کالا باغ ميں ميں بننے والی جھيل ميں نہ روکا جا سکتا مگر اس پانی کا بيشتر حصہ صوبہ سندھ ميں دريائے سندھ کے دونوں طرف بنائے گئے بندوں کے درميان سے گذرتا ۔ جو پانی دريا سے باہر نکلتا وہ قدرتی رُخ اختيار کرتے ہوئے کچھ دور جا کر واپش دريا ميں مل جاتا

    تباہی کا ايک اور سبب يہ ہے کہ کچے کے علاقہ ميں صرف کاشت کی اجازت ہوا کرتی تھی بينظير بھٹو کے زمانہ ميں صوبہ سندھ ميں اور پرويز مشرف کے زمانہ ميں صوبہ سندھ اور صوبہ پنجاب ميں کچے کی زمينوں پر مکان ہی نہيں بلکہ پکے مکان بنانے کی اجازت دی گئی ۔ صوبہ سندھ ميں وسيع اور دو تين منزلہ عمارات کچے ميں بنا دی گئيں ۔ اسلئے سيلاب کے پانی کو بہنے کا درست راستہ نہ ملا اور آباد علاقوں ميں داخل ہوا اور کئی جگہوں پر رخ بدل ليا

    ہم صرف کالا باغ ڈيل کو ہی نہيں اپنی قسمت کو بھی روتے رہيں گے اگر جس کا کام ہے اسے نہ کرنے ديا گيا اور جاہل اور خود غرض لوگ ہی فيصلے کرتے رہے ۔
    کوئلے اور دوسری معدنيات کو بھی وہی لوگ حاصل نہيں کرنے ديتے جنہوں نے آج تک کالا باغ ڈيل نہيں بننے ديا ۔ معاملات تکنيکی ہيں اور متعلقہ علم کے ماہر اور تجربہ کار لوگوں کے حوالے کر دينے چاہئيں ۔ کسی اور کو ان ميں دخل دينے کا کوئی حق نہيں ہ

  3. قاضی محمدیاسر

    محترم افتخار اجمل بھوپال صاحب آپ نے بجا فرمایاہے ۔
    المیہ تو یہی ہے کہ حکمران ملک میں‌ڈیمز کی تعمیر کے ہی خلاف ہیں۔اسی لئے تو کوئی نیا ڈیم بنایا ہی نہیں گیا ۔جس کے باعث آج مملکت خداداد کے باسی در بدر ہوگئے ہیں۔
    سندھ میں توظلم و بے حسی کی انتہا ہو چکی ہے ۔سیلاب کے سند ھ میں‌داخل ہونے کے چند دن بعد جو پہلی پریس کانفرنس وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے کی ۔ان میں وزیراعلیٰ حکومتی اقدامات کا اعلان کرنے کے بجائے یہ بیان داغ گئے کہ سندھ دریا پر کوئی ڈیم نہیں بننے دینگے ۔
    یعنی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہیں۔

  4. لطف الا سلام

    چین میں لکھوکھا لوگ اپنی تاریخ کے سب سے بڑے ڈیم بننے کی وجہ سے ہجرت کر رہے ہیں۔ پاکستانی عوام میں‌بھی قوم کی خاطر قربانی کا جذبہ ہونا چاہیے۔ منگلا کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے لوگ اللہ کے فضل سے بہت خوشحال ہیں۔

  5. محمد سعد

    السلام علیکم۔
    واہ چاچا جی! میری چٹھی ہو بہو نقل کر کے یوں ساری دنیا کو میرا بھلکڑ پن دکھانا ضروری تھا کیا؟
    مجھے وہ تبصرہ مل گیا ہے جس کی وجہ سے ذہن میں سوال پیدا ہوا تھا۔
    یاسر خواہ مخواہ جاپانی کے بلاگ پر “بنام وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ” پر دوسرا ہی تبصرہ ہے۔
    http://yaserjapani.co.cc/2010/08/%D8%A8%D9%86%D8%A7%D9%85-%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D8%B9%D9%84%DB%8C-%D8%AE%DB%8C%D8%A8%D8%B1-%D9%BE%D8%AE%D8%AA%D9%88%D9%86%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81/#comment-628
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    افتخار اجمل بھوپال says:
    August 19, 2010 at 9:22 am
    مجھے تو اپنی قوم کی عقل پر شک ہونے لگا ہے جو ان کی باتيں مانتے ہيں اور انہں ليڈر بناتے ہيں۔ جب نوشہرہ ڈوب چکا تھا تو وزيرِ اعلٰی خيبر پختونخواہ نے يہ بھی کہا تھا کہ اگر کالا باغ ڈيم بن گيا ہوتا تو اس سے زيادہ تباہی ہوتی ۔ ميں حيران ہوا کہ نوشہرہ کے پاس سندھ دريا نہيں بلکہ دريائے قابل ہے ۔ پھر ميں گوگل نقشہ کھول کر بيٹھ گيا اور اچھی طرح مطالعہ کيا ۔ صورتِ حال يہ بنتی ہے کہ اگر کالا باغ ڈيم بنا ہو تو نوشہرہ تک ڈيم کی وجہ سے پانی پہنچنے تک پنجاب اور سندھ پانی کے نيچے آ چکے ہوں گے ۔ اللہ بچائے ايسی صورتِ حال سے اور ان جھوٹ بولنے والوں سے بہت جلدی جان چھڑائے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس میں جو یہ جملہ ہے کہ “صورتِ حال يہ بنتی ہے کہ اگر کالا باغ ڈيم بنا ہو تو نوشہرہ تک ڈيم کی وجہ سے پانی پہنچنے تک پنجاب اور سندھ پانی کے نيچے آ چکے ہوں گے”، اسی سے ذہن میں سوال پیدا ہوا تھا کہ اس کا مطلب نوشہرہ کا مزید محفوظ ہو جانا ہے یا پنجاب و سندھ کا غیر محفوظ ہو جانا۔ لیکن چونکہ وقت پر سوال کرنا بھول گیا، اور بعد میں یاد آنے پر یہ تبصرہ نہیں مل رہا تھا، اس لیے میرے عظیم الشان بھلکڑ دماغ سے یہ غلطی ہوئی۔
    بعد والے خط میں میں نے یہ وضاحت کی بھی تھی لیکن شاید تب تک آپ یہ پوسٹ لگا چکے تھے۔
    براہِ مہربانی اب تو اس پوسٹ میں کچھ “حقیقت پسندانہ” ترامیم کر دیں اور میری پہلی پہلی چٹھی کے بجائے تمام چٹھیوں کا خلاصہ یا صرف میرے اس تبصرے میں اٹھایا جانے والا سوال ڈال دیں۔ اور جواب میں بھی صرف میرے بجائے تمام قارئین کو مخاطب کریں گے تو میرے خیال میں ان کی دلچسپی بڑھے گی۔
    شکریہ۔
    والسلام۔
    اور ہاں، عید مبارک! :)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.