سائنس اور سَينس

ايک “سائنس [Science]” ہوتی ہے اور ايک “سَينس [Sense]” ۔ سائنسدان [Scientist] سمجھ نہ آنے والی چيز کو “نان سَينس [Non-sense]” کہتا ہے اور جب وہی چيز اُسے سمجھ آ جائے تو کہتا ہے “اِٹ ميکس سَينس [It makes sense]”

جب ارشمِيدس [Archimedes] نہاتے ہوئے ننگا بھاگ نکلا اور بآوازِ بلند کہتا جا رہا تھا “پا ليا ۔ پا ليا [Got it, got it]”۔ اُس وقت لوگوں کيلئے وہ نان سَينس تھا مگر اُسے احساس نہ تھا کہ وہ کيا کر رہا ہے کيونکہ اُس کيلئے نان سَنس جو تھی وہ سائنس بن گئی تھی

ايک ايجاد [Invention] ہوتی ہے اور ايک دريافت [Discovery]۔ ايجاد وہ ہوتی ہے جو پہلے نہ تھی اور کسی نے نئے سرے سے بنا دی جبکہ دريافت وہ ہوتی ہے جو پہلے سے موجود تھی مگر معروف نہ تھی

انسان ازل سے ہی ہيرا پھيری کرتا آيا ہے ۔ سائنسدان خود ہی کہتے ہيں کہ مادہ نہ بنايا جا سکتا ہے اور نہ اسے فنا کيا جا سکتا ہے البتہ اسے ايک صورت سے دوسری صورت ميں تبديل کيا جا سکتا ہے [Matter can neither be created nor destroyed but it can change its form]۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ مادہ ايک بار اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے بنا ديا اور وہی اسے فنا کر سکتا ہے ليکن سائنسدان “ميں نہ مانوں” پر اَڑ جاتا ہے

خير چھوڑيئے مذہبی بات کو ۔ صرف سيکولر [Secular] بات جاری رکھتے ہيں ۔ اگر مادہ نہ بنايا جا سکتا ہے اور نہ فنا کيا جا سکتا ہے تو پھر ايجادات چہ معنی دارند ؟ جن کو ايجادات کہا جاتا ہے وہ دريافتيں ہی ہوئيں چنانچہ ثابت ہوا کہ انسان نے اپنی بے عِلمی پر پردہ ڈالنے کيلئے دريافت کو ايجاد کہنا شروع کيا

ارشميدس کی مثال ليجئے ۔ وہ ٹب ميں پانی بھر کر نہانے کيلئے اُس ميں گھُسا تو ٹب ميں سے کچھ پانی باہر بہہ گيا ۔ نہ تو وہ پہلی بار نہانے لگا تھا اور نہ وہ بغير ٹب کے نہاتا تھا کيونکہ اس زمانے ميں کميٹی کے نلکے نہيں تھے اور نہ اس کے گاؤں ميں کنواں اور رہٹ تھی کہ نيچے بيٹھ کر نہا ليتا جيسے ہمارے ملک ميں ديہات ميں لوگ نہاتے ہيں ۔ ثابت يہی ہوا کہ ارشميدس پہلے نان سَنس تھا کيونکہ اُس نے پہلے کبھی توجہ ہی نہ دی تھی کہ جب وہ نہانے کيلئے پانی کے ٹب ميں گھُستا تھا تو کچھ پانی ٹب سے باہر بہہ جاتا تھا يا کم از کم پانی کی سطح بُلند ہو جاتی تھی ۔ جب اُسے عِلم ہو گيا تو سائنسدان بن جانے کی خوشی ميں ننگا ہی بھاگ کر لوگوں کے سامنے نان سينس بنا

ميں نے بات طبيعات کی کی ہے کيميا کی نہيں ۔ کيميا کی بات کرتا تو ايووگيڈرو [Avogadro] کو بيچ ميں گھسيٹنا پڑتا اور ايووگيڈڈرو پادری تھا ۔ اس طرح پھر مذہب اور سيکيولرِزم کا دنگل پڑ جاتا

This entry was posted in مزاح, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

14 thoughts on “سائنس اور سَينس

  1. جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔

    ہم نے تو جی سائنس اور مذہب کو ایک ساتھ ایوالو ہوتے سنا بھی ہے، پڑھا بھی ہے اور دیکھا بھی ہے ۔ کچھ سائنسدان لوگ مذہبی لوگوں کو اور کچھ مذہبی لوگ سائنسدان لوگوں کو اپنے ذاتی بائس کی وجہ سے ہی برا بھلا کہتے آئے ہیں اور کہتے چلے جائینگے بھی ۔

  2. ابن سعید

    مجھے خود کو نان سینس کہلانے میں کوئی تکلف نہیں کیوں کہ اس مضمون کا مقصد اور مرکزی خیال سمجھنے سے قاصر ہوں۔ رہا سوال ایجادات اور دریافتوں کا تو انٹرنیٹ، بلاگ، فورم، ابلے ہوئے انڈے، مرغی کا سالن، گوگل کا کلسٹر، میرے سامنے پڑا لیپٹاپ اور ایسی بے شمار چیزیں مجھے ایجاد ہی لگتی ہیں۔ میری چارپائی ایجاد لگتی ہے گر چہ لکڑی اپنی غیر مستعمل حالت میں دریافت تھی۔ سیکڑوں میٹر لمبے تانبے کے تار ایجاد ہیں گرچہ ان کی دھات دریافت تھی اور ان میں دوڑنے والی گھریلو بجلی اور ان سے چلنے والا پنکھا اور بلب ایجاد ہیں گرچہ آسمانی بجلی دریافت ہے۔ مقناطیس دریافت ہے لیکن مقناطیس سے بنا اسپیکر ایجاد ہے۔ اب کیا کیا گنواؤں میں خود کو بھی ایجاد (وجود میں لایا گیا) ہی سمجھتا ہوں دریافت نہیں۔

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    جناب ج ج س صاحب
    مخفف اسلئے کيا ہے کہ ميں ايسے نام سے کسی کو مخاطب کرنے کی ہمت نہيں رکھتا ۔
    تشريف آوری کا شکريہ
    آپ نے درست کہا
    جو تھوڑا سا عِلم مجھے اس کے مطابق دين اسلام سائنس ہے

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    ابنِ سعيد صاحب
    شايد اپ نے ذمرہ نہيں ديکھا ۔ يہ تحرير مذاح کے ذمرے ميں لکھی گئی ہے
    ويسے بحچ کی خاطر ہر ايجاد کو دريافت ثابت کيا جا سکتا ہے

  5. محمد سعد

    چاچا جی دنگل تو اب بھی پڑے گا جب کچھ لوگ اس کو مزاح کے بجائے سنجیدہ تحریر سمجھ کر آپ پر پتھروں کی برسات کریں گے۔ اتنی عمر گزر جانے کے باوجود آپ کو ابھی تک سمجھ نہیں آئی کہ دنگل ہر جگہ ہو سکتا ہے اور اسے وجہ کی ضرورت نہیں ہوتی؟ :roll:

  6. محمد سعد

    ویسے ایک نکتے پر مجھے بھی اعتراض ہے کہ جو “میں نہ مانوں” پر اڑ جائے، وہ سائنس دان کس خوشی میں ہو گیا۔۔ :roll:

  7. محمد سعد

    ایک بار کسی سائنس دان کا بیان پڑھا تھا جس میں اس نے کائنات کو محض اتفاق در اتفاق در اتفاق کا نتیجہ قرار دینے والوں کو شیزوفرینیا (Schizophrenia) کے مریض سے تشبیہ دی تھی۔

  8. فرحان دانش

    مجھے سائنس اورسَينس کی اچھی طرح سمجھ آگئی ہے۔

    نوٹ : میرے بلاگ پر ہیکنگ اٹیک ہواتھا جس کی وجہ سے میں نے اپنا بلاگ ڈیلیٹ کر دیا ہے۔ :

  9. Pingback: Tweets that mention What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ » Blog Archive » سائنس اور سَينس -- Topsy.com

  10. ابن سعید

    @ افتخار اجمل بھوپال
    @ محمد سعد

    در اصل میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ چاچو کے بلاگ میں مزاح کا زمرہ بھی موجود ہے۔ اور میں عموماً تحریریں ماورائی فیڈر میں پڑھتا ہوں جہاں زمرہ وار پڑھنے کی سہولت نہیں ہوتی اس لئے اس چی پر توجہ نہیں گئی تھی۔ اور اب دیکھا تو پایا کہ یہ نہ صرف مزاح بلکہ “معلومات” جیسے سنجیدہ لگنے والے زمرے میں بھی ٹیگ کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)