اوباما کيلئے بڑا چيلنج

کيا امريکا کا صدر اوباما شرق الوسط کو جوھری اسلحہ خانہ سے پاک علاقہ بنا سکتا ہے ؟ يہ ايک بڑا سوال ہی نہيں بلکہ ايک بڑا چيلنچ بھی ہے

وِکی لِيکس [Wiki Leaks] کی طرف سے افغانستان ميں امريکا کی 9 سال سے جاری يلغار کے متعلق امريکی دستاويزات کے انکشاف نے تمام امريکيوں کو مبہوت کر رکھا ہے ۔ ان ميں ايسی بھی دستاويز ہے جس کے مطابق پاکستان کے خُفيہ والے افغانستان کے طالبان کو مالی امداد ۔ اسلحہ اور تربيت ديتے رہے ہيں

متذکرہ دستاويزات سے عياں ہونے والے کوائف کی درستگی ايک الگ مسئلہ ہے اور ان انکشافات کے اثرات نمودار ہونا ابھی باقی ہے مگر اس ابلاغی دھماکے نے ايک بڑی حيران کُن حقيقت کو امريکيوں اور باقی دنيا کے عوام کی نظروں سے اوجھل کر ديا ہے ۔ امريکی حکومت کے احتسابی ادارے [US Government Accountability Office (GAO)] نے مئی 2010ء ميں ايک سربستہ راز جس کی 32 سال سے حفاظت کی جارہی تھی جزوی طور پر غير مخفی [Partialy declassified] کيا جس کا عنوان ہے

‘Nuclear Diversion in the US? 13 Years of Contradiction and Confusion’,
تفصيل ميرے بلاگ “حقيقت اکثر تلخ ہوتی ہے ۔۔۔ Reality is Often Bitter ” پر يا يہاں کلِک کر کے پڑھيئے

This entry was posted in تاریخ, روز و شب, سیاست, معلومات, منافقت on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

5 thoughts on “اوباما کيلئے بڑا چيلنج

  1. جہالستان سے جاہل اور سنکی ۔

    آپ ہمارے بلاگ پر تشریف لائے، بہت خوشی ہوئی ۔ بلاگ سپاٹ کی فری سروس یا اپنی کم علمی کے کارن آپکے ہی وزٹ کے ہونے کا یقین بھی نہیں ۔ جہاں تک الفاظ کے استعمال کی بات ہے، بغیر کسی وجہ دوسروں سے کہی جانے والی بات میں الفاظ کا انتخاب تو موڈ پر ڈیپینڈنٹ ہوتا ہے نا جی ۔ ہمارے خیال میں تو سب ہی اپنی اپنی سمجھ کے حساب سے ٹھیک ہوتے ہیں ۔
    آپکی بات ٹھیک ہے، کوئی اپنی جگہ پاک کیئے بغیر کسی دوسری جگہ کو پاک کرنے کی بات کرسکتا ہے بھلا ۔
    امید ہے آنا جانا لگا رہیگا ۔ ایک دفعہ پھر آپکی آمد کا شکریہ ۔

  2. افتخار اجمل بھوپال

    قارئين ۔
    نيچے تبصرہ ميں نے نہيں لکھا بلکہ کسی بُزدل نے ميرے نام سے لکھا ہے
    افتخار اجمل بھوپال
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آپکی بات ٹھیک ہے، کوئی اپنی جگہ پاک کیئے بغیر کسی دوسری جگہ کو پاک کرنے کی بات کرسکتا ہے بھلا ۔

    آپکی آمد کا شکریہ :lol:

  3. بدتمیز

    گواچے کھوتے دی خوشی

    ہک واری ملا نصرالدین دا کھوتا گواچ گیا۔ اوہ کھوتا لبھن نکلے تے بڑے خوش خوش سیٹیاں ماردے تے ٹپوسیاں ماردے شہر وچ پھردے اپنے کھوتے دا پتہ پچھدے رہے۔ لوکاں سوچیا، کھوتا کواچ گیا سو پر ملا ایڈا خوش کیوں اے۔ اوہناں ملا کولوں پچھیا ، تہاڈا کھوتا کھڑیچ گیا اے تے تسیں بڑی موج نال سیٹیاں ماردے وتدے ہو ۔ کیوں؟
    ملا آکھیا، میں ایس لئی خوش ہاں جو کھوتے دے کھڑیچن ویلے میں کھوتے دے اُتے نہیں ساں چڑھیا ہوئیا، نہیں تاں میں وی نالے ہی گواچ جانا سی۔ :lol: :lol:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)