ہم کيا ہيں ؟

ملک و قوم کبھی تباہ کُن زلزلے کا شکار ہيں تو کبھی سيلاب کا ۔ دہشتگردی کہيں خود کُش حملہ کے نام سے ۔ کہيں ٹارگٹ کِلنگ کی صورت ميں اور کہيں برسرِ عام ڈکيتی بن کر مُلک اور عوام کا گوشت نوچ رہی ہے

جن کو ووٹ دے کر قوم نے اپنا نمائندہ بنايا وہ حُکمران بن کر عوام سے وصول کئے گئے ٹيکسوں کے بل بوتے پر عياشيوں ميں مشغول ہيں

خيبر پختونخواہ ميں سيلاب بڑے علاقے کو بہا کر لے گيا اور وہاں کے وزير اعلٰی کو پانچ دن تباہ شدہ علاقے کی خبر لينے ک فرصت نہ ملی

آزاد جموں کشمير کے دارالحکومت مظفرآباد ميں زلزلے کے 5 سال بعد بھی بہت سے لوگ چھپر نما عارضی مکانوں ميں رہ رہے تھے سيلاب کا ريلا وہ بھی بہا کر لے گيا اور ساتھ 53 انسان بھی ۔ وفاقی حکومت ابھی تک اس خوشی ميں مدہوش پڑی ہے کہ اس نے اپنی مرضی کا حاکم وہاں بٹھا ديا ہے

خیبر پختونخواہ ۔ بلوچستان اور آزاد جموں کشمير کے بعد پنجاب بھی تباہی سے دو چار ہو گيا اور وزيِر اعظم کے شہر ملتان مں بھی پانی داخل ہو گيا مگر وزير اعظم صاحب کو اليکشن مہم سے فرصت نہ ملی ۔ چاروں طرف سے آوازے اُٹھنے لگے تو امدادی فنڈ کے سلسلہ ميں نيشنل بنک ميں اکاؤنٹ کھولنے کا اعلان ہوا مگر يہ نہ بتايا کہ اس ميں فنڈ آئے گا کہاں سے ؟

کراچی ميں ايک رُکن صوبائی اسمبلی ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوا ۔ اس کے بعد جو طوفان اُٹھا اس نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 37 اور اور زخميوں کی تعداد 100 پر پہنچا دی ۔ يہی نہيں اس طوفان کی گھن گرج سے حيدرآباد اور سکھر بھی محفوظ نہ رہے ۔ جنگل اور جنگل کے قانون کی مثاليں دی جاتی ہيں مگر کراچی تو ترقی يافتہ شہر ہے جہاں خواندگی کا معيار بہت اونچا ہے

کراچی کی ہمدردی ميں وزير اعلٰی نے تحقيقات کا حکم دے کر اپنا فرض پورا کر ليا اور وفاقی وزير داخلہ نے سارا ملبہ سپاہِ صحابہ کے سر ڈال کر غُسلِ صحت کر ليا

صدرِ پاکستان ملک اور عوام کو ڈوبتا اور مرتا چھوڑ کر اپنے بيٹے بلاول کی ليڈری کا اعلان کرنے براستہ فرانس لندن کے سفر پر روانہ ہو گئے

ہمارے معاشرے کا يہ حال ہے کہ کسی کو مُلا ايک آنکھ نہيں بھاتا تو کوئی دين اسلام کو موجودہ دور ميں ناقابلِ استمال قرار دينے ميں زمين آسمان کے قلابے ملا رہا ہے اور کوئی صوبائی تعصب پھيلانا فرضِ اوليں سمجھتا ہے

جو کام قوموں کے کرنے کے ہيں اُس کيلئے شايد کسی خلائی مخلوق کو لانا پڑے گا

ميں سوچتا ہوں “ہم کيا ہيں ؟”۔

This entry was posted in روز و شب, سیاست, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

7 thoughts on “ہم کيا ہيں ؟

  1. خرم ابن شبیر

    ہم خالی جسموں کو لیے کر نکل ہیں جس کے اندر دل ، دماغ، ضمیر یا س طرح کی کوئی چیز نہیں ہے ہم بت ہیں مجسمیں ہیں ہم لاشیں ہیں زندہ لاشیں ہماری زبان ہے لیکن پلاسٹک کی ہمارا دل ہے لیکن پتھر کا ہمارا دماغ ہے لیکن خالی ہم ہیں لیکن نا ہونے کے برابر

  2. فرحان دانش

    ان سب کی زمہ دار پولیس و رینجزر ہے جو اپنے فرائض میں ناکام ہوچکے ہیں۔
    ویسے موجودہ حکومت کے تحائف یہ ہیں۔ بلوچستان میں بلوچ باغی، خیبر پختونخوا میں خانہ جنگی،پنجاب میں بم دھماکے، سندھ میں ٹارگٹ / اندھا دھند کلنگ

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    فرحان دانش صاحب
    آپ نے ايک ہی سطر ميں حقيقت کا نچوڑ پيش کر ديا ہے ۔ کاش ہماری اکثريت نہيں تو کم از کم چاليس فيصد لوگوں کو يہ بات سمجھ آ جائے ۔ مجھے تو کبھی کبھی وہم ہونے لگتا ہے کہ يہ سب کچھ ہمارے دُشمنوں کی ايماء پر ہو رہا ہے اور ہمارا حکمران ٹولہ سب کچھ جانتا ہے

  4. Pingback: Tweets that mention What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ » Blog Archive » ہم کيا ہيں ؟ -- Topsy.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)