سيلاب ۔ تحقيق ؟

دریائے سندھ کے بہاؤ سے متعلق ميرے پاس 1922ء سے سال بہ سال کی رپورٹ ہے یہ انداز اور رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ ہر 9 سال میں جب 4 سال خشک سالی کے ہوں تو اگلا سال بہت زیادہ سیلاب کا ہوتا ہے۔ میں نے اسی تحقیق اور مطالعے کی بناء پر حکومت سندھ کے ذمہ داروں کو گزشتہ سال سے آگاہ کرنا شروع کردیا تھالیکن کسی نے کوئی توجہ نہ دی۔ آخری خط جنوری 2010ء میں وزیراعلیٰ سندھ کو ارسال کیا ۔ صرف سندھ اسمبلی کے اسپیکر نثار کھوڑو حرکت میں آ گئے۔ انہوں نے متعلقہ وزیر اور سیکرٹری کو اور مجھے بھی بلایا۔ ایک میٹنگ میں تفیصل سے باتیں ہوئیں لیکن اس کے بعد کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ پی پی پی سندھ کے سیکریٹری جنرل تاج حیدر کو بھی میں نے خط لکھا

جیکب آباد کے چاروں طرف پانی ہے۔ سڑک اور ریل کا راستہ مسدود ہے۔ سارا شہر خالی کروا لیا گیا ہے۔ صرف 5 فیصد کے قریب آبادی موجودہے جن میں، میں بھی شامل ہوں لیکن یہاں بجلی ہے نہ پینے کا پانی نہ دیگر ضروری اشیاء۔ ٹیلی فون لائن بھی بعض اوقات کئی کئی گھنٹے نہیں ملتی ہے۔ سندھ میں سیلاب سے اتنی بڑی تباہی پہلے کبھی نہیں ہوئی ہے کتنے شہر اور گاؤں ڈوب گئے ہیں یہ سراسر سندھ حکومت کی غفلت اور نااہلی کا نتیجہ ہے

انجینئر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ہر لحاظ سے اس کی دیکھ بھال کرے اور برسات سے پہلے اس کا باقاعدہ تفصیلی معائنہ بھی ہوتا ہے۔ اب یہ محسوس ہورہا ہے کہ اس کی دیکھ بھال کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔ بجٹ تو مخصوص تھا۔ فائلوں میں پیسے خرچ بھی ہوئے ہوں گے

پانی میں گھرے جیکب آباد میں16 روز سے محصور قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر ، سابق وفاقی وزیر اور بلحاظِ پیشہ انجینئر الٰہی بخش سومرو صاحب سندھ کی تباہی پر انتہائی دل گرفتہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اس سونے شہر میں اس لیے موجود ہوں کہ جتنے لوگ یہاں ہیں ان کی دل جوئی کر سکوں۔ حالت یہ ہے کہ واٹر پلانٹ کام نہیں کر رہا کیوں کہ اس کے اہلکاروں کو بھی شہر چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ میں یہاں اس لیے بھی بیٹھا ہوں کہ میرے شہر کے لوگوں کی دکانوں اور مال سامان کو وزیروں کے بندے لوٹ نہ سکیں

تفصيل يہاں کلک کر کے پڑھيئے

This entry was posted in تاریخ, روز و شب, معلومات on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

One thought on “سيلاب ۔ تحقيق ؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)