What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے August, 2010

اگر يہ سچ ہے تو ؟ ؟ ؟ ؟ ؟

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 31 Aug 2010

آن لائين اخبار “ويٹيرنز ٹوڈے [Veterans Today]” کے مطابق 28 جولائی 2010ء کو ايئر بليو [Air Blue] کی ترکی سے براستہ کراچی اسلام آباد آنے والی پرواز ہائی جيکنگ کے نتيجہ ميں حادثہ کا شکار ہوئی تھی ۔ اس ہائی جيکنگ کا مقصد طيارہ کو پاکستان کی نيوکليئر فسلٹیٹی [Nuclear Facility] سے ٹکرانے کا منصوبہ تھا جو کہ ناکام ہو گيا

ويٹيرنز ٹو ڈے کے مطابق شکُوک اس وقت پيدا ہوئے جب امريکی ٹھيکيدار بليک واٹر يا زی [Blackwater/Xe] کے اہلکار حادثہ کے فوراً بعد جائے حادثہ پر ديکھے گئے اور انہوں نے بليک بکس اور دوسرے متعلقہ مواد قبضہ ميں لے ليا

ويٹيرنز ٹو ڈے کے مطابق ايک نجی ٹی وی چينل کے مطابق امريکی ٹھيکيداروں کے اس حادثہ سے تعلق کے سلسہ ميں تحقيقات ہو رہی ہيں
ويٹيرنز ٹو ڈے کے مطابق بليک واٹر کے چار مسلحہ اہلکار 2009ء ميں اسی نيوکليئر فسيليٹی کے قريب گرفتار کئے گئے تھے ۔ وہ جيپ پر سوار تھے اور اُن کے قبضہ سے اسرائيلی ساخت کے کڑی نگرانی اور جيمنگ کے جديد آلات [advanced surveillance and jamming equipment ] بھی برآمد ہوئے تھے ۔ يہ چاروں فر فر پشتو بولتے تھے اور لباس اور حُليئے سے طالبان لگتے تھے ۔ وفاقی وزيرِ داخلہ نے ان کی رہائی کا حُکم دے ديا تھا

ويٹيرنز ٹو ڈے کے مطابق حادثہ کا شکار ہونے والے طيارے ميں کم از کم دو امريکن بھی سوار تھے مگر بعد کی اطلاعات کے مطابق بليک واٹر کے کم از کم پانچ اہلکار سوار تھے مگر انہيں پہچاننا اسلئے دشوار ہے کہ وہ مقامی لوگوں کے لباس اور حُليے ميں تھے اور جعلی شناخت کے ساتھ سفر کر رہے تھے

تفصيلات يہاں کلِک کر کے پڑھی جا سکتی ہيں

زمرہ : خبر, روز و شب | 6 تبصرے »

سيلاب ۔ تحقيق ؟

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 31 Aug 2010

دریائے سندھ کے بہاؤ سے متعلق ميرے پاس 1922ء سے سال بہ سال کی رپورٹ ہے یہ انداز اور رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ ہر 9 سال میں جب 4 سال خشک سالی کے ہوں تو اگلا سال بہت زیادہ سیلاب کا ہوتا ہے۔ میں نے اسی تحقیق اور مطالعے کی بناء پر حکومت سندھ کے ذمہ داروں کو گزشتہ سال سے آگاہ کرنا شروع کردیا تھالیکن کسی نے کوئی توجہ نہ دی۔ آخری خط جنوری 2010ء میں وزیراعلیٰ سندھ کو ارسال کیا ۔ صرف سندھ اسمبلی کے اسپیکر نثار کھوڑو حرکت میں آ گئے۔ انہوں نے متعلقہ وزیر اور سیکرٹری کو اور مجھے بھی بلایا۔ ایک میٹنگ میں تفیصل سے باتیں ہوئیں لیکن اس کے بعد کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ پی پی پی سندھ کے سیکریٹری جنرل تاج حیدر کو بھی میں نے خط لکھا

جیکب آباد کے چاروں طرف پانی ہے۔ سڑک اور ریل کا راستہ مسدود ہے۔ سارا شہر خالی کروا لیا گیا ہے۔ صرف 5 فیصد کے قریب آبادی موجودہے جن میں، میں بھی شامل ہوں لیکن یہاں بجلی ہے نہ پینے کا پانی نہ دیگر ضروری اشیاء۔ ٹیلی فون لائن بھی بعض اوقات کئی کئی گھنٹے نہیں ملتی ہے۔ سندھ میں سیلاب سے اتنی بڑی تباہی پہلے کبھی نہیں ہوئی ہے کتنے شہر اور گاؤں ڈوب گئے ہیں یہ سراسر سندھ حکومت کی غفلت اور نااہلی کا نتیجہ ہے

انجینئر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ہر لحاظ سے اس کی دیکھ بھال کرے اور برسات سے پہلے اس کا باقاعدہ تفصیلی معائنہ بھی ہوتا ہے۔ اب یہ محسوس ہورہا ہے کہ اس کی دیکھ بھال کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔ بجٹ تو مخصوص تھا۔ فائلوں میں پیسے خرچ بھی ہوئے ہوں گے

پانی میں گھرے جیکب آباد میں16 روز سے محصور قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر ، سابق وفاقی وزیر اور بلحاظِ پیشہ انجینئر الٰہی بخش سومرو صاحب سندھ کی تباہی پر انتہائی دل گرفتہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اس سونے شہر میں اس لیے موجود ہوں کہ جتنے لوگ یہاں ہیں ان کی دل جوئی کر سکوں۔ حالت یہ ہے کہ واٹر پلانٹ کام نہیں کر رہا کیوں کہ اس کے اہلکاروں کو بھی شہر چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ میں یہاں اس لیے بھی بیٹھا ہوں کہ میرے شہر کے لوگوں کی دکانوں اور مال سامان کو وزیروں کے بندے لوٹ نہ سکیں

تفصيل يہاں کلک کر کے پڑھيئے

زمرہ : تاریخ, روز و شب, معلومات | ابھی تک ایک تبصرہ ہوا ہے »

چھوٹی چھوٹی باتیں ۔ اذان اور تکبير اقامت

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 30 Aug 2010

اذان کب دی جاتی ہے اور تکبير اقامت کب کہی جاتی ہے اور کب نہیں ؟

کہنے کو یہ بہت آسان سوال ہے مگر عصرِ حاضر میں سوائے مُستند دينی مدارس کے فارغ التحصیل لوگوں کے اس کا جواب بہت کم مسلمان جانتے ہیں

نماز سے قبل اذان ضروری ہے ۔ اگر نماز کا وقت ہو جانے کے باوجود اس علاقہ میں کسی جگہ بھی اذان نہ ہو ئی ہو يا کم از کم آواز نہ سُنی گئی ہو تو پہلے اذان کہہ کر پھر نماز پڑھنا چاہيئے

باجماعت نماز کيلئے تکبير اقامت ضروری ہے

مندرجہ ذيل صورتوں ميں نہ اذان کہی جائے گی اور نہ تکبير اقامت

مسجد ميں کچھ لوگ نماز پڑھی جانے کے بعد پہنچیں اور باجماعت نماز پڑھيں
مسجد ميں کچھ لوگ کسی شرعی مجبوری کی وجہ سے مثال کے طور پر مسافر مقررہ وقت سے پہلے باجماعت نماز پڑھيں
مسجد کے علاوہ کوئی بھی جگہ جہاں باجماعت نماز ادا کر دی گئی ہو

مزيد
مسجد میں جہاں معمول کے امام کھڑے ہو کر نماز پڑھاتے ہیں دوسری جماعت میں شامل نمازيوں کے امام وہاں کھڑے نہیں ہوں گے بلکہ کم از کم ايک صف پيچھے کھڑے ہوں گے

میں نے دينی مدرسہ ميں تعليم حاصل نہيں کی
اگر کسی قاری کو متذکرہ بالا بيان سے اختلاف ہو یا کوئی بات لکھنا رہ گئی ہو تو ميری رہنمائی فرمائيں

زمرہ : دین, روز و شب, معلومات | 7 تبصرے »

بے شک زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ ميں ہے

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 29 Aug 2010

آ سٹریلوی خاتون کيٹ اوگ [Kate Ogg] کے قبل از وقت پیداہونے والے بچے کو ڈاکٹروں نے مر دہ قرار دیا تاہم ڈاکٹروں کی پروا نہ کر تے ہو ئے کيٹ اوگ نے بچے کو اپنے سینے سے لگا ئے رکھا اور معجزانہ طور پر دو گھنٹے بعد بچے نے سانسیں لینا شروع کر دیا اور آنکھیں کھو ل کر اپنی ماں کی انگلی بھی پکڑ لی ۔ ڈاکٹر جو بچے کی زندگی سے مایوس ہو گئے تھے ماں کی محبت کا یہ مظاہر ہ دیکھ کر حیرا ن رہ گئے

بشکريہ ۔ جنگ

زمرہ : خبر, روز و شب | 2 تبصرے »

وہ مُجرم کيوں بنا

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 29 Aug 2010

انجنيئر احمد عثمانی صاحب کے کہنے پر ميں مندرجہ ذيل کالم نقل کر رہا ہوں

ايک اور نيچے ديئے ہوئے ربط پر پڑھا جا سکتا ہے

http://www.ummat.com.pk/2010/08/28/news.php?p=story3.gif

زمرہ : روز و شب | 8 تبصرے »